السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2155. -- باب:: الحرم كله منحر
-- باب: پورا حرم ہی قربان گاہ ہے۔
حدیث نمبر: 10231
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ أَبُو الْحَسَنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِنَّمَا النَّحْرُ بِمَكَّةَ وَلَكِنْ نُزِّهَتْ عَنِ الدِّمَاءِ" قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ الْقَائِلُ وَمَكَّةُ مِنْ مِنًى.
عطا رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نحر کی جگہ تو مکہ ہے لیکن اس کو خونوں سے پاک کیا گیا ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مکہ بھی منیٰ سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10231]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10232
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَنْحَرُ بِمَكَّةَ وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَمْ يَكُنْ يَنْحَرْ بِمَكَّةَ كَانَ يَنْحَرُ بِمِنًى".
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما مکہ میں اونٹ کو نحر کرتے لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ میں نحر نہ کرتے بلکہ منیٰ میں کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10232]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10233
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنا أَبُو سَهْلٍ، أنا أَحْمَدُ، ثنا عَلِيٌّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ،" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَنْحَرُ بِالْمَنْحَرِ".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نحر کی جگہ پر ہی نحر کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10233]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10234
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا ⦗٣٩٤⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بِمِثْلِهِ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: يَعْنِي مَنْحَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَقَدْ رُوِّينَا فِيمَا مَضَى عَنْ عَبْدِ اللهِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَنْحَرُ بِمَكَّةَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ وَيَنْحَرُ بِمِنًى عِنْدَ الْمَنْحَرِ".
عبیداللہ بن عمر سے بھی اسی طرح منقول ہے، عبیداللہ کہتے ہیں: یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نحر کی جگہ۔
(ب) نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ میں قربانی کو مروہ کے نزدیک نحر کرتے اور منیٰ میں قربان گاہ کے پاس نحر کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10234]
(ب) نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ میں قربانی کو مروہ کے نزدیک نحر کرتے اور منیٰ میں قربان گاہ کے پاس نحر کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10234]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1218»
الحكم على الحديث: صحيح
2156. -- باب: الأكل من الضحايا والهدايا التي يتطوع بها صاحبها
-- باب: ان قربانیوں (ضحایا اور ہدایا) کا گوشت کھانے کا بیان جو قربانی کرنے والا بطورِ نفل کرے۔
حدیث نمبر: Q10235
قَالَ اللهُ تَعَالَى {فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا} [الحج: 28] .
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا﴾ ”پس تم ان میں سے خود بھی کھاؤ اور (دوسروں کو بھی) کھلاؤ۔“ [سورة الحج: 28] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10235]
حدیث نمبر: 10235
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ فِي صِفَةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً وَأَعْطَى عَلِيًّا، فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، ثُمَّ أَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 63 اونٹ نحر کیے اور باقی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا کیے، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نحر کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی ہدی میں شریک کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قربانی سے گوشت کا ٹکڑا لینے کا حکم دیا، اسے ایک ہنڈیا میں ڈال کر پکایا گیا، دونوں نے اس کا گوشت کھایا اور شوربہ پیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10235]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 1/314»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 10236
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ مِائَةَ بَدَنَةٍ نَحَرَ مِنْهَا بِيَدِهِ سِتِّينَ، وَأَمَرَ بِبَقِيَّتِهَا فَنُحِرَتْ، فَأَخَذَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِضْعَةً فَجُمِعَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلَ مِنْهَا وَحَسَا مِنْ مَرَقِهَا" قِيلَ لِمُحَمَّدٍ: لِيَكُونَ قَدْ أَكَلَ مِنْ كُلِّهَا؟، قَالَ مُحَمَّدٌ: نَعَمْ.
مقسم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر سو اونٹ نحر کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے 60 اونٹ نحر کیے اور باقی کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، ان کو نحر کر دیا گیا، پھر ہر قربانی سے گوشت کا ایک ٹکڑا لیا گیا، ایک ہنڈیا میں جمع کیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا اور شوربہ پیا۔ (راوی) محمد (بن عبدالرحمن) سے کہا گیا: تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام میں سے کھا لیا ہو؟ محمد نے کہا: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10236]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم1971»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10237
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، أنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَهَيْتَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ حَضْرَةَ الْأَضْحَى، فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
عمرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانیوں کے گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع کیا ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں فاقہ کشوں کی قوم کی وجہ سے منع کیا تھا جو قربانی کے وقت حاضر ہوتی تھی“، فرمایا: ”کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ بھی کرو“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10237]
حدیث نمبر: 10238
وَرُوِّينَا عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: بَعَثَ مَعِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِهَدْيٍ تَطَوُّعًا، فَقَالَ لِي:" كُلْ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ ثُلُثًا، وَتَصَدَّقْ بِثُلُثٍ، وَابْعَثْ إِلَى أَهْلِ أَخِي عُتْبَةَ ثُلُثَا" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ فَذَكَرَهُ.
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ نفلی ہدی روانہ کی اور فرمایا: تم اور تمہارے ساتھی ایک تہائی کھاؤ، ایک تہائی صدقہ کر دو اور ایک تہائی میرے بھائی عتبہ کے گھر والوں کو بھیج دو۔ (یعنی قربانی کے گوشت کے تین حصے کر کے تقسیم کیا جائے) [صحیح۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 9702] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10238]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 10214»
الحكم على الحديث: صحيح
2157. -- باب: ترك الأكل والتخلية بينها وبين الناس
-- باب: (اس کا گوشت) خود کھانا ترک کر دینے اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10239
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرْطٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ وَهُوَ الَّذِي يَلِيهِ" قَالَ: وَقُدِّمْنَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ لِلَّذِي يَلِينِي: مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قَالَ:" مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ".
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک تمام دنوں سے عظیم دن قربانی کا ہے، پھر قر کا دن اور وہ اس کے بعد والا دن ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ لائے گئے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونا شروع ہوئے کہ ان میں سے کس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابتدا کرتے ہیں، جب وہ اپنے پہلوؤں کے بل گر پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے بات کی۔ میں اس کو سمجھ نہ پایا، میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ تو اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا دل چاہے کاٹ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10239]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح