🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2152. -- باب: نَحْرِ الإِبِلِ، وَذَبْحِ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ
-- اونٹ کو نحر کرنا گائے اور بکری کو ذبح کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10221
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" ضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا ⦗٣٩١⦘ قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے قربان کیے۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گردنوں پر اپنے قدم رکھے ہوئے تھے، پھر «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”بسم اللہ واللہ اکبر“ کہا اور ان دونوں کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10221]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1319»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10222
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَقَرَةً يَوْمِ النَّحْرِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جانب سے ایک گائے ذبح کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10222]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1218»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2153. -- باب: ما يستحب من ذبح صاحب النسيكة نسيكته بيده وجواز الاستنابة فيه ثم حضوره الذبح؛ لما يرجى من المغفرة عند سفوح الدم
-- باب: قربانی کرنے والے کے لیے اپنے ہاتھ سے اپنی قربانی ذبح کرنے کے مستحب ہونے کا بیان، اور اس میں کسی کو نائب بنانے اور پھر ذبح کے وقت وہاں موجود ہونے کے جواز کا بیان، اس مغفرت کی امید میں جو خون بہتے وقت متوقع ہوتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10223
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمُوسَوِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي صِفَةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ وَنَحَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا غَبَرَ وَكَانَتْ مَعَهُ مِائَةُ بَدَنَةٍ ثُمَّ أُخِذَ مِنْ لَحْمِ كُلِّ بَدَنَةٍ بَضْعَةٌ وَطُبِخَ جَمِيعًا فَأَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَشَرِبَا مِنَ الْمَرَقِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا طریقہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن 63 اونٹ خود نحر کیے اور باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نحر کیے۔ آپ کی سو قربانیاں تھیں۔ پھر ہر قربانی سے گوشت کا ایک ٹکڑا لیا گیا اور ان تمام کو اکٹھا پکا دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے گوشت کھایا اور شوربہ پیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10223]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 1764»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10224
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدٌ، وَيَعْلَى، ابْنَا عُبَيْدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ فَنَحَرَ ثُلُثَيْنِ بِيَدِهِ وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا" قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَرِوَايَةُ جَعْفَرٍ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ نحر کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تہائی اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر کیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے باقی تمام کو نحر کر دیا۔
اسی طرح محمد بن اسحاق بن یسار نے روایت کیا ہے، اور جعفر کی روایت زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10224]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الحاكم: 4/ 247»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10225
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُشْتَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ إِمَامُ مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ ⦗٣٩٢⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا فَاطِمَةُ، قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِهِ، وَقُولِي: {إنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} [الأنعام: ١٦٣] " قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكَ خَاصَّةً فَأَهْلُ ذَلِكَ أَنْتُمْ أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ:" بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ لَمْ نَكْتُبْهُ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ولَيْسَ بِقَوِيٍّ، وَرُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَمْرُو بْنُ خَالِدٍ مَتْرُوكٌ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أنه قَالَ:" لَا يَذْبَحُ نَسِيكَةَ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ"، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَذْبَحَ نَسِيكَةَ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ"، وَنَحْنُ نَكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ مَا كَرِهَا وَإِنْ فَعَلَ فَلَا إِعَادَةَ عَلَى صَاحِبِهِ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ} [المائدة: ٥] يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ ذَبَائِحَهُمْ وَنَحْنُ نَذْكُرُهُ بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِ الذَّبَائِحَ.
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ! اٹھو اور اپنی قربانی کے پاس حاضر ہو جاؤ، کیوں کہ اس کے خون کے پہلے قطرہ کے ساتھ ہی تمہارے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے جو تم سے سرزد ہوئے، اور کہو: میری نماز، میری قربانی اور میرا جینا، مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا فرمان بردار ہوں [سورة الأنعام: 163] “، کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ اور آپ کے گھر والوں کے لیے خاص ہے، کیونکہ آپ ہی اس کے اہل ہیں، یا عام مسلمانوں کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ عام مسلمانوں کے لیے۔“
ہم نے اسے عمران رضی اللہ عنہ کی حدیث سے صرف اسی سند سے لکھا ہے اور یہ قوی نہیں ہے۔ یہ عمرو بن خالد سے بھی ان کی سند کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور عمرو بن خالد متروک ہے۔
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی ذبح نہ کرے۔
(ج) ابن عباس رضی اللہ عنہما ناپسند کرتے تھے کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی ذبح کرے، اور ہم بھی اس کو مکروہ خیال کرتے ہیں جس کو ان دونوں نے مکروہ خیال کیا، اگر کسی نے ایسا کیا تو اس قربانی والے پر اعادہ نہیں یعنی دوبارہ قربانی نہیں کرنی پڑے گی، اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ﴾ [سورة المائدة: 5] ”اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے“، یعنی، واللہ اعلم، ان کے ذبیحے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10225]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه احمد 4/ 82»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2154. -- باب: النحر يوم النحر وأيام منى كلها
-- باب: یومِ نحر (قربانی کے دن) اور منیٰ کے تمام ایام میں قربانی (نحر) کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10226
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، أنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ، وَكُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منیٰ کا میدان مکمل قربان گاہ ہے اور ایام تشریق (11، 12، 13 ذوالحجہ) تمام ذبح کے ایام ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10226]
تخریج الحدیث: «منكر۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10227
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيَّامُ التَّشْرِيقِ كُلُّهَا ذَبْحٌ" الْأَوَّلُ مُرْسَلٌ وَهَذَا غَيْرُ قَوِيٍّ؛ لِأَنَّ رَاوِيَهُ سُوَيْدٌ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو مَعْبَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جُبَيْرٍ وَهُوَ قَوْلُ عَطَاءٍ، وَالْحَسَنِ، وَنَحْنُ نَذْكُرُهُ بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ فِي كِتَابِ الضَّحَايَا.
نافع بن جبیر بن مطعم اپنے والد (سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایامِ تشریق تمام ذبح کے دن ہیں۔“
پہلی روایت مرسل ہے اور یہ قوی نہیں ہے، کیونکہ اس کا راوی سوید ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10227]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1218»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2155. -- باب:: الحرم كله منحر
-- باب: پورا حرم ہی قربان گاہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10228
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَأنا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا ⦗٣٩٣⦘ أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَقَفْتُ هَا هُنَا بِعَرَفَةَ وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هَا هُنَا بِجَمْعٍ، وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَنَحَرْتُ هَا هُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِيهِ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عرفہ میں یہاں قیام کیا ہے اور عرفہ تمام قیام کی جگہ ہے اور میں نے مزدلفہ میں یہاں قیام کیا ہے اور مزدلفہ تمام قیام کی جگہ ہے اور میں نے یہاں قربانی نحر کی اور منیٰ مکمل قربانی کرنے کی جگہ ہے، تم اپنی قیام گاہوں میں قربانی کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10228]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 937»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10229
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ" قَالَ يَعْقُوبُ: أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عِنْدَ أَهْلِ بَلَدِهِ الْمَدِينَةِ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام عرفہ وقوف کی جگہ ہے اور تمام مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے اور تمام منیٰ قربان گاہ ہے اور مکہ کی تمام گھاٹیاں راستہ بھی ہیں اور قربانی کی جگہ بھی۔“
یعقوب کہتے ہیں: اسامہ بن زید اپنے شہر مدینہ والوں کے نزدیک ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10229]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10230
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" مَنَاحِرُ الْبُدْنِ بِمَكَّةَ وَلَكِنَّهَا نُزِّهَتْ عَنِ الدِّمَاءِ وَمِنًى مِنْ مَكَّةَ".
حضرت عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اونٹ کو نحر کرنے کی جگہ مکہ ہے، لیکن اس کو خونوں سے پاک کر دیا گیا ہے اور منیٰ بھی مکہ ہی سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10230]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں