🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1946. -- باب: تقبيل الحجر
-- باب: حجرِ اسود کو چومنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9220
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ ⦗١٢٠⦘ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ، وَلَا تَنْفَعُ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا" لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ: لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَقَالَ: عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَقَالَ:" إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ"، ثُمَّ ذَكَرَ الرِّوَايَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَالْتَزَمَهُ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کو بوسہ دیتے اور فرماتے: ”میں یقیناً جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے، نہ نقصان دے سکتا ہے نہ نفع، لیکن میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بہت اہتمام کرتے دیکھا ہے۔“
(ب) ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”میں تجھے چوم رہا ہوں اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے۔“ پھر باقی روایت ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9220]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1271۔ وانظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9221
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" دَخَلْنَا مَكَّةَ عِنْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابَ الْمَسْجِدِ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَبَدَأَ بِالْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، وَفَاضَتْ عَيْنَاهُ بِالْبُكَاءِ ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا حَتَّى فَرَغَ فَلَمَّا فَرَغَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم چاشت کے وقت مکہ میں داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے پر آئے، اپنی اونٹنی کو بٹھایا، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور حجر اسود سے آغاز فرمایا، اس کو چھوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسو بہانے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین چکر دوڑے اور چار چلے حتیٰ کہ جب فارغ ہوئے تو حجر اسود کو بوسہ دیا اور اپنے ہاتھ اس پر رکھے اور ان کو اپنے چہرے پر پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9221]
تخریج الحدیث: «منكر۔ حاكم 1/ 625»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9222
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ"، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إنْ زُحِمْتُ؟ أَرَأَيْتَ إنْ غُلِبْتُ؟ قَالَ:" اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے حجر اسود کو چھونے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوتے اور بوسہ دیتے تھے، تو اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے بھیڑ ہو جائے اور میں مغلوب ہو جاؤں؟ تو انہوں نے فرمایا: اس خیال کو یمن میں ہی رہنے دے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور بوسہ دیتے دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9222]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1533۔ ترمذي 761»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1947. -- باب: السجود عليه
-- باب: اس (حجرِ اسود) پر سجدہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9223
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَسَجَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ⦗١٢١⦘ رَأَيْتُ خَالَكَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُقَبِّلُهُ وَيَسْجُدُ عَلَيْهِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبَّلَهُ، وَسَجَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَكَذَا فَفَعَلْتُ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ، وَفِي رِوَايَةِ الطَّيَالِسِيِّ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ لَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهُ مَا قَبَّلْتُهُ، وَجَعْفَرٌ هَذَا هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ نَسَبَهُ الطَّيَالِسِيُّ إِلَى جَدِّهِ.
جعفر بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (الف) میں نے محمد بن عباد بن جعفر کو دیکھا کہ اس نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس پر سجدہ کیا پھر فرمایا: ”میں نے تیرے ماموں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کا بوسہ دیتے اور اس پر سجدہ کرتے دیکھا ہے۔“
(ب) اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اسے بوسہ دیتے اور اس پر سجدہ کرتے دیکھا ہے اور انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تو میں نے ایسا کیا ہے۔“
(ج) مسند ابوداود الطیالسی کے الفاظ ہیں: پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9223]
تخریج الحدیث: «منكر۔ طيالسي 28۔ دارمي 1865»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9224
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَاءَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ مُسَبِّدًا رَأْسَهُ فَقَبَّلَ الرُّكْنَ، ثُمَّ سَجَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَبَّلَهُ، ثُمَّ سَجَدَ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ترویہ والے دن آتے دیکھا، انہوں نے رکن کو بوسہ دیا، پھر اس پر سجدہ کیا، پھر بوسہ دیا، پھر تین مرتبہ سجدہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9224]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ شافعي 591»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9225
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا أَبُو الزِّنْبَاعِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ عَلَى الْحَجَرِ" قَالَ سُلَيْمَانُ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا ابْنُ يَمَانٍ، وَابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود پر سجدہ کرتے دیکھا۔
سلیمان (طبرانی) رحمہ اللہ نے کہا: اسے سفیان سے ابن یمان کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا، اور ابن ابی حسین سے مراد عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9225]
تخریج الحدیث: «منكر۔ حاكم 1/ 646۔ دارقطني 2/ 289»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1948. -- باب: تقبيل اليد بعد الاستلام
-- باب: استلام کے بعد ہاتھ کو چومنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9226
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِيَدِهِ وَقَبَّلَ يَدَهُ، وَقَالَ:" مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے حجرِ اسود کو اپنے ہاتھ سے چھوا اور اپنے ہاتھ کو بوسہ دیا اور کہا: ”جب سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اس وقت سے اسے نہیں چھوڑا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9226]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1268»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9227
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ وَأَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، وَابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ إِذَا اسْتَلَمُوا الْحَجَرَ قَبَّلُوا أَيْدِيَهُمْ" قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: وَابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: وَابْنُ عَبَّاسٍ حَسِبْتُ كَثِيرًا.
عطاء فرماتے ہیں: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، جب وہ حجرِ اسود کو چھوتے تو اپنے ہاتھوں کو بوسہ دیتے۔
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء سے کہا: اور ابن عباس رضی اللہ عنہما؟ انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی، میرا خیال ہے کہ بہت مرتبہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9227]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه 14555»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1949. -- باب: ما ورد في الحجر الأسود، والمقام
-- باب: حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9228
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُسَافِعٍ الْحَجَبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرُّكْنُ، وَالْمَقَامُ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَوَاقِيتِ الْجَنَّةِ طَمَسَ اللهُ نُورَهُمَا، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَأَضَاءَتَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رکن اور مقام جنت کے ہیروں میں سے ہیرے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کا نور ختم کر دیا ہے، اگر ایسا نہ کیا ہوتا تو یہ مشرق و مغرب کو روشن کر دیتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9228]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن خزيمه 2731۔ حاكم 1/636»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9229
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسَافِعٌ الْحَجَبِيُّ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرُّكْنَ، وَالْمَقَامَ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ، وَلَوْلَا مَا مَسَّهُمَا مِنْ خَطَايَا بَنِي آدَمَ لَأَضَاءَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، وَمَا مَسَّهُمَا مِنْ ذِي عَاهَةٍ، وَلَا سَقِيمٌ إِلَّا شُفِيَ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رکن اور مقام جنت کے یاقوت ہیں، اگر ان کو بنی آدم کے گناہ نہ لگتے تو یہ مشرق و مغرب کو روشن کر دیتے اور کوئی بھی بیماری یا مصیبت والا ان کو چھوتا تو شفا یاب ہو جاتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9229]
تخریج الحدیث: «منكر۔ فتح الباري 3/ 462»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں