السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2287. -- باب: كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا أو ثمن المحرم
-- باب: اس شخص کے ساتھ خرید و فروخت کرنے کی کراہت جس کا اکثر مال سود یا حرام چیزوں کی قیمت پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 10821
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ ⦗٥٤٧⦘ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، عَنِ الْأَعْرَابِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَلِّمْنِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَكَانَ فِي آخِرِ مَا حَفِظْتُ أَنْ قَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللهِ إِلَّا أَبْدَلَكَ اللهُ بِهِ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ".
حمید بن ہلال رحمہ اللہ اپنی قوم کے ایک دیہاتی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سکھاؤ۔ جو میں نے یاد کیا اس کے آخر میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آپ اللہ کے ڈر سے کوئی چیز چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ اس کے بدلے اس سے بہتر چیز عطا کردیتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10821]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10822
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ أَبِي جَلَّابُ الْغَنَمِ وَإِنَّهُ مُشَارِكٌ الْيَهُودِيَّ وَالنَّصْرَانِيَّ، قَالَ:" لَا نُشَارِكْ يَهُودِيًّا، وَلَا نَصْرَانِيًّا، وَلَا مَجُوسِيًّا"، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ:" لِأَنَّهُمْ يُرْبُونَ وَالرِّبَا لَا يَحِلُّ".
ابو حمزہ عمران بن ابی عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میرا والد بکریوں کا تاجر ہے، وہ یہودیوں اور عیسائیوں سے شراکت کرتا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم یہودی، عیسائی اور مجوسی سے شراکت نہیں رکھتے، میں نے کہا: کیوں؟ اس لیے کہ وہ سود لیتے ہیں اور سود جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10822]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبه 1998»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، سَمِعَ رَجُلًا، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ: إِنَّ لِي جَارًا يَأْكُلُ الرِّبَا، أَوْ قَالَ: خَبِيثُ الْكَسْبِ، وَرُبَّمَا دَعَانِي لِطَعَامِهِ أَفَأُجِيبُهُ؟، قَالَ:" نَعَمْ".
ربیع بن عبداللہ نے ایک آدمی کو سنا، اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہمارا ہمسایہ سود کھاتا ہے یا اس کی کمائی حرام کی ہے اور بعض اوقات مجھے کھانے کی دعوت دیتا ہے، کیا میں قبول کر لیا کروں؟ فرمایا: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10823]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10824
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ جَوَّابٍ التَّمِيمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارًا، وَلَا أَعْلَمُ لَهُ شَيْئًا إِلَّا خَبَثًا، أَوْ حَرَامًا وَأَنَّهُ يَدْعُونِي، فَأُحْرَجُ أَنْ آتِيَهُ وَأَتَحَرَّجُ أَنْ لَا آتِيَهُ، فَقَالَ:" ائْتِهِ، أَوْ أَوْجِبْهُ فَإِنَّمَا وِزْرُهُ عَلَيْهِ" قَالَ الشَّيْخُ: جَوَّابٌ التَّيْمِيُّ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَهَذَا إِذَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّ الَّذِي قُدِّمَ إِلَيْهِ حَرَامٌ فَإِذَا عَلِمَ حَرَامًا لَمْ يَأْكُلْهُ، كَمَا لَمْ يَأْكُلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي قُدِّمَتْ إِلَيْهِ.
حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کہ میرا ایک ہمسایہ ہے مجھے تو اس کی کمائی حرام یا خبیث کا علم ہی ہے، وہ مجھے دعوت دیتا ہے کہ میں اس کے پاس کھانا کھاؤں لیکن میں ممنوع خیال کرتا ہوں اس کے پاس آنے کو اور میں پریشانی سے بچنا چاہتا ہوں کہ میں نہ آؤں۔ انہوں نے کہا: تم اس کی دعوت قبول کرو، اس کا گناہ اس پر ہے۔
نوٹ: یہ اس وقت ہے جب اس کو معلوم نہ ہو کہ اس کو حرام پیش کیا گیا ہے لیکن جب معلوم ہو کہ حرام ہے پھر نہ کھائے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کو کھانے سے انکار کر دیا تھا۔
جواب تیمی قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10824]
نوٹ: یہ اس وقت ہے جب اس کو معلوم نہ ہو کہ اس کو حرام پیش کیا گیا ہے لیکن جب معلوم ہو کہ حرام ہے پھر نہ کھائے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کو کھانے سے انکار کر دیا تھا۔
جواب تیمی قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10824]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10825
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، أنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ:" أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ" فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِي امْرَأَةٍ فَجَاءَ وَجِيءَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهُ ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ، فَأَكَلُوا فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فَمِهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا" فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ يَشْتَرِي لِي شَاةً فَلَمْ تُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارِي قَدِ اشْتَرَى شَاةً أَنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلِيَّ بِثَمَنِهَا فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَرْسَلَتْ إِلِيَّ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْعِمِيهِ الْأُسَارَى".
عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ انصار کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ قبر کھودنے والے کو نصیحت فرما رہے تھے: ”پاؤں اور سر کی جانب سے وسیع کرو۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو ایک عورت نے دعوت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھانے میں رکھا اور لوگوں نے بھی کھانا شروع کیا، ہمارے آباء نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقمے کو منہ میں چبا رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت ایسی بکری کا ہے جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر حاصل کی گئی ہے۔“ اس عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بقیع میں کسی کو بکری خریدنے بھیجا تھا، لیکن بکری نہ ملی، پھر میں نے اپنے ہمسائے کی جانب کسی کو بھیجا کہ وہ اتنی قیمت کی بکری لے کر دے لیکن نہ ملی، پھر میں نے اس کی عورت کی طرف کسی کو روانہ کیا تو اس نے بکری لا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ کھانا) قیدیوں کو کھلا دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10825]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 33322»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10826
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَزِينٍ السُّلَمِيُّ، ثنا ⦗٥٤٨⦘ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ شُرَحْبِيلَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنِ اشْتَرَى سَرِقَةً وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سَرِقَةٌ فَقَدْ أُشْرِكَ فِي عَارِهَا وَإثْمِهَا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں: ”جس نے چوری کا مال خریدا اور وہ جانتا ہے کہ یہ چوری کا ہے، وہ اس کی عار اور گناہ میں برابر کا شریک ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10826]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الحاكم 2/ 41»
الحكم على الحديث: منكر
2288. -- باب: الشرط الذي يفسد البيع
-- باب: اس شرط کا بیان جو بیع کو فاسد کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 10827
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ وَكِيعٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هِشَامٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شروط کتاب اللہ میں نہیں اگر وہ سو بھی ہوں تو باطل ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10827]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2060»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10828
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مِنْهَالٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ، وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ، وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ".
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض اور بیع، ایک بیع میں دو شرطیں کرنے، ایسی چیز کو فروخت کرنے جو آپ کے پاس نہ ہو، اور اس چیز کے نفع سے فائدہ اٹھانے جس کے نقصان کی ذمہ داری نہ ہو، سے منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10828]
تخریج الحدیث: «حسن۔ مضر سابقاً، نقدم برقم 10419»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10829
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اشْتَرَى جَارِيَةً مِنِ امْرَأَتِهِ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ فَاشْتَرَطَتْ عَلَيْهِ أَنَّكَ إِنْ بِعْتَهَا فَهِيَ لِي بِالثَّمَنِ الَّذِي تَبِيعُهَا بِهِ، فَاسْتَفْتَى فِي ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:" لَا تَقْرَبْهَا وَفِيهَا شَرْطٌ لِأَحَدٍ".
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے ایک لونڈی خریدی، اس نے شرط لگا دی کہ اگر آپ اس کو فروخت کرنا چاہیں تو اتنی قیمت مجھ سے لے لیں جتنی میں آپ فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے اس کے بارے میں کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فتویٰ طلب کیا تو فرمانے لگے: اس کے قریب نہ جانا کیونکہ اس میں کسی کے لیے شرط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10829]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك 1275۔ عبدالرزاق 14291»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10830
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" لَا يَطَأُ الرَّجُلُ وَلِيدَةً إِلَّا وَلِيدَةً إِنْ شَاءَ بَاعَهَا، وَإِنْ شَاءَ وَهَبَهَا، وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهَا مَا شَاءَ".
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی لونڈی سے مجامعت نہ کرے سوائے اس لونڈی کے جسے اگر چاہے تو فروخت کر دے، چاہے تو ہبہ کر دے اور چاہے تو اس کے ساتھ جو چاہے کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10830]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1272»
الحكم على الحديث: صحيح