السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2218. -- باب: في تفسير بيع الخيار
-- باب: بیعِ خیار کی تفسیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 10454
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا الْحَاكَمُ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُعَدَّلُ، بِحَلَبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيَّ، ثنا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَرُوذِيَّ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ، فَهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ" وَكَانَ عُمَرُ أَوِ ابْنُ عُمَرَ يُنَادِي: الْبَيْعُ صَفْقَةٌ، أَوْ خِيَارٌ، وَرُوِيَ، عَنْ مُطَرِّفِ بن طَرِيفٍ تَارَةً، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُمَرَ وتَارَةً، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: الْبَيْعُ صَفْقَةٌ أَوْ خِيَارٌ وَكِلَاهُمَا مَعَ الْأَوَّلِ ضَعِيفٌ؛ لِانْقِطَاعِ ذَلِكَ فَإِنْ صَحَّ فَالْمُرَادُ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ بَيْعُ شَرْطٍ فِيهِ قَطْعُ الْخِيَارِ فَلَا يَكُونُ لَهُمَا بَعْدَ الصَّفْقَةِ خِيَارٌ، وَبَيْعٌ لَمْ يُشْتَرَطْ فِيهِ قَطْعُ الْخِيَارِ فَهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَقَدْ ذَهَبَ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى تَضْعِيفِ الْأَثَرِ عَنْ عُمَرَ وَأنَّ الْبَيْعَ لَا يَجُوزُ فِيهِ شَرْطُ قَطْعِ الْخِيَارِ، وَأنَّ الْمُرَادَ بِبَيْعِ الْخِيَارِ إِمَّا التَّخْيِيرُ بَعْدَ الْبَيْعِ، أَوْ بَيْعُ شَرْطٍ فِيهِ خِيَارُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَلَا يَنْقَطِعُ خِيَارُهُمَا بِالتَّفَرُّقِ؛ لِمَكَانِ الشَّرْطِ، ⦗٤٤٨⦘ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ أَرَادَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ التَّخْيِيرَ بَعْدَ الْبَيْعِ إِلَّا أَنَّ نَافِعًا رُبَّمَا عَبَّرَ عَنْهُ بِبَيْعِ الْخِيَارِ، وَرُبَّمَا فَسَّرَهُ وَالَّذِي يُبَيِّنُ ذَلِكَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی بیع کریں تو انھیں اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں یا ان کی بیع ہی خیار کے ساتھ ہو۔“ سیدنا عمر یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم اعلان کیا کرتے تھے: بیع یا تو پکا سودا ہے یا اختیار والی۔
مطرف بن طریف سے کبھی شعبی کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اور کبھی عطاء بن ابی رباح کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے: ”بیع یا تو پکا سودا ہے یا اختیار والی۔“ یہ دونوں روایتیں پہلی روایت سمیت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو اس سے مراد، واللہ اعلم، ایسی بیع ہے جس میں اختیار ختم کرنے کی شرط لگائی گئی ہو، تو سودے کے بعد ان دونوں کو اختیار نہ ہوگا، اور جس بیع میں اختیار ختم کرنے کی شرط نہ لگائی گئی ہو تو دونوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں۔ بہت سے اہل علم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس اثر کو ضعیف قرار دیا ہے، اور یہ کہ بیع میں اختیار ختم کرنے کی شرط لگانا جائز نہیں، اور بیع خیار سے مراد یا تو بیع کے بعد اختیار دینا ہے یا ایسی بیع جس میں تین دن کے اختیار کی شرط ہو، تو اس شرط کی وجہ سے جدا ہونے سے ان کا اختیار ختم نہ ہوگا۔ اور صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد، واللہ اعلم، بیع کے بعد اختیار دینا ہے، البتہ نافع کبھی اسے بیع خیار سے تعبیر کرتے اور کبھی اس کی وضاحت کر دیتے، اور جو چیز اسے واضح کرتی ہے وہ اگلی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10454]
مطرف بن طریف سے کبھی شعبی کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اور کبھی عطاء بن ابی رباح کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے: ”بیع یا تو پکا سودا ہے یا اختیار والی۔“ یہ دونوں روایتیں پہلی روایت سمیت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو اس سے مراد، واللہ اعلم، ایسی بیع ہے جس میں اختیار ختم کرنے کی شرط لگائی گئی ہو، تو سودے کے بعد ان دونوں کو اختیار نہ ہوگا، اور جس بیع میں اختیار ختم کرنے کی شرط نہ لگائی گئی ہو تو دونوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں۔ بہت سے اہل علم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس اثر کو ضعیف قرار دیا ہے، اور یہ کہ بیع میں اختیار ختم کرنے کی شرط لگانا جائز نہیں، اور بیع خیار سے مراد یا تو بیع کے بعد اختیار دینا ہے یا ایسی بیع جس میں تین دن کے اختیار کی شرط ہو، تو اس شرط کی وجہ سے جدا ہونے سے ان کا اختیار ختم نہ ہوگا۔ اور صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد، واللہ اعلم، بیع کے بعد اختیار دینا ہے، البتہ نافع کبھی اسے بیع خیار سے تعبیر کرتے اور کبھی اس کی وضاحت کر دیتے، اور جو چیز اسے واضح کرتی ہے وہ اگلی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10454]
حدیث نمبر: 10455
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ" قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ: أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: اخْتَرْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بیع کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک دونوں الگ الگ نہ ہوں یا اختیاری بیع ہو۔“ اور بسا اوقات نافع رحمہ اللہ نے کہا: یا ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے کہ تجھے اختیار ہے۔ [صحیح: مسلم 1531] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10455]
2219. -- باب: الدليل على أن لا يجوز شرط الخيار في البيع أكثر من ثلاثة أيام
-- باب: اس بات کی دلیل کہ خرید و فروخت میں تین دن سے زیادہ خیار (اختیار) کی شرط لگانا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10456
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتَاعَ مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے «الْمُصَرَّاةَ» ”مصراۃ“ (وہ جانور جس کا دودھ روکا گیا ہو) کو خریدا تو اس کو تین دن کا اختیار ہے، اگر واپس کرنا چاہے تو کر دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور کا بھی دے دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10456]
حدیث نمبر: 10457
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: ذَكَرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ" ⦗٤٤٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، وَرُوِيَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ اسے خرید و فروخت میں دھوکا دیا جاتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جس سے بھی بیع کرو تو کہہ دیا کرو: دھوکا نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10457]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1524»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10458
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ رَجُلًا ضَعِيفًا، وَكَانَ قَدْ سُفِعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةً، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ الْخِيَارَ فِيمَا اشْتَرَى ثَلَاثًا وَكَانَ قَدْ ثَقُلَ لِسَانُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْ وَقُلْ لَا خِلَابَةَ" فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يَقُولُ: لَا خِذَابَةَ لَا خِذَابَةَ وَكَانَ يَشْتَرِي الشَّيْءَ، فَيَجِيءُ بِهِ أَهْلَهُ فَيَقُولُونَ هَذَا غَالٍ فَيَقُولُ: إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَنِي فِي بَيْعِي.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حبان بن منقذ ایک کمزور آدمی تھے، ان کے سر پر گہرے زخم کا نشان تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو تین دن کا اختیار ہے جو چیز بھی خریدے۔“ ان کی زبان بھی درست نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فروخت کرو اور کہہ دو: دھوکا نہیں ہے۔“ میں ان سے سنتا تھا، وہ کہتے تھے: «لَا خِلَابَةَ، لَا خِلَابَةَ» ”دھوکا نہیں ہے، دھوکا نہیں ہے۔“ وہ چیز خرید کر اپنے گھر لاتے تو ان کے گھر والے کہتے: یہ مہنگی ہے، وہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیع میں مجھے اختیار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10458]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الحاكم 2/26»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10459
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَتْ بِلِسَانِهِ لُوثَةٌ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ ثُمَّ أَنْتَ بِالْخِيَارِ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْ" قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَلَكَأَنِّي الْآنَ أَسْمَعُهُ إِذَا ابْتَاعَ يَقُولُ: لَا خِلَابَةَ يَلُوثُ لِسَانُهُ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، قَالَ: كَانَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلًا قَدْ أُصِيبَ فِي رَأْسِهِ آمَّةً فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ وَنَقَضَتْ عَقْلَهُ، وَكَانَ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ، وَكَانَ لَا يَدَعُ التِّجَارَةَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِذَا أَنْتَ بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ بَيْعٍ تَبْتَاعُهُ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ، وَإِنْ سَخِطْتَ فَرُدَّ" فَبَقِيَ حَتَّى أَدْرَكَ زَمَانَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَثُرَ النَّاسُ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ فَكَانَ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا فَرَجَعَ بِهِ فَقَالُوا لَهُ: لِمَ تَشْتَرِي أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: قَدْ جَعَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ابْتَعْتُ بِالْخِيَارِ ثَلَاثًا، فَيَقُولُونَ: ارْدُدْهُ فَإِنَّكَ قَدْ غُبِنْتَ، أَوْ قَالَ: غُشِشْتَ، فَيَرْجِعُ إِلَى بَيِّعِهِ فَيَقُولُ: خُذْ سِلْعَتَكَ وَرُدَّ دَرَاهِمِي، فَيَقُولُ: لَا أَفْعَلُ قَدْ رَضِيتُ. فَذَهَبْتَ بِهِ حَتَّى يَمُرَّ بِهِ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَعَلَهُ بِالْخِيَارِ فِيمَا يَبْتَاعُ ثَلَاثًا فَيَرُدُّ عَلَيْهِ دَرَاهِمَهُ وَيَأْخُذُ سِلْعَتَهُ..
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے ایک انصاری مرد سے سنا، اس کی زبان میں رکاوٹ تھی، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیع میں دھوکا ہو جانے کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بیع کرو تو کہہ دیا کرو: دھوکا نہیں۔ پھر جو بھی سامان تو خریدے تو اس میں تجھے تین دن کا اختیار ہے؛ اگر تو پسند کرے تو رکھ لے، اگر ناپسند کرے تو واپس کر دے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اب میں اس سے سنتا ہوں، جب بھی وہ کوئی سامان خریدتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ”دھوکا نہیں۔“ اس کی زبان میں لکنت تھی۔
(ب) محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے کہا: میرے دادا منقذ بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے، ان کو سر کا زخم آیا تھا، ان کی زبان ٹوٹ گئی، زبان میں لکنت ہو گئی، عقل کم ہو گئی، ان کو بیوع میں دھوکا ہو جاتا لیکن وہ تجارت نہ چھوڑتے تھے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو سامان فروخت کرے تو کہہ دے: دھوکا نہیں، پھر تو جو بھی بیع کرے اس میں تجھے تین راتوں تک اختیار ہے، اگر تو پسند کرے تو رکھ لے، اگر ناپسند ہو تو واپس کر دو۔“
یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور تک زندہ رہے، ان کی عمر 130 سال تھی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگوں کی کثرت ہو گئی۔ وہ جب کوئی چیز خرید کر واپس آتے تو لوگ ان سے کہتے کہ آپ کیوں خریدتے ہیں؟ منقذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے کہ جو میں خریدوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین دن کا اختیار دیا ہے، لوگ کہتے: واپس کر دو، آپ کو بیع میں دھوکا دیا گیا ہے، تو وہ سامان واپس کر دیتے اور کہتے کہ اپنا سامان لے لو، میرے درہم واپس کر دو۔ وہ کہتا: لے جاؤ، آپ نے پسند کیا تھا، جب کوئی دوسرا صحابی رضی اللہ عنہ پاس سے گزرتا تو وہ کہہ دیتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تین دن کا اختیار دے رکھا ہے جو وہ سامان خریدیں۔ پھر وہ اس کے درہم واپس کر دیتا اور اپنا سامان لے لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10459]
(ب) محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے کہا: میرے دادا منقذ بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے، ان کو سر کا زخم آیا تھا، ان کی زبان ٹوٹ گئی، زبان میں لکنت ہو گئی، عقل کم ہو گئی، ان کو بیوع میں دھوکا ہو جاتا لیکن وہ تجارت نہ چھوڑتے تھے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو سامان فروخت کرے تو کہہ دے: دھوکا نہیں، پھر تو جو بھی بیع کرے اس میں تجھے تین راتوں تک اختیار ہے، اگر تو پسند کرے تو رکھ لے، اگر ناپسند ہو تو واپس کر دو۔“
یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور تک زندہ رہے، ان کی عمر 130 سال تھی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگوں کی کثرت ہو گئی۔ وہ جب کوئی چیز خرید کر واپس آتے تو لوگ ان سے کہتے کہ آپ کیوں خریدتے ہیں؟ منقذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے کہ جو میں خریدوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین دن کا اختیار دیا ہے، لوگ کہتے: واپس کر دو، آپ کو بیع میں دھوکا دیا گیا ہے، تو وہ سامان واپس کر دیتے اور کہتے کہ اپنا سامان لے لو، میرے درہم واپس کر دو۔ وہ کہتا: لے جاؤ، آپ نے پسند کیا تھا، جب کوئی دوسرا صحابی رضی اللہ عنہ پاس سے گزرتا تو وہ کہہ دیتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تین دن کا اختیار دے رکھا ہے جو وہ سامان خریدیں۔ پھر وہ اس کے درہم واپس کر دیتا اور اپنا سامان لے لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10459]
تخریج الحدیث: «حسن۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10460
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنا أَبُو الشَّيْخِ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ نَحْوَهُ.
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی اسی طرح منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10460]
حدیث نمبر: 10461
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الرَّاسِبِيَّ النِّيلِيَّ، ثنا أَبُو مَيْسَرَةَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ثنا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخِيَارُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ" قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اختیار تین دن تک ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10461]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 10462
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّهُ كَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ:" مَا أَجِدُ لَكُمْ شَيْئًا أَوْسَعَ مِمَّا جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ، إِنَّهُ كَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ فَجَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُهْدَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِنْ رَضِيَ أَخَذَ، وَإِنْ سَخِطَ تَرَكَ" وَرَوَاهُ عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ مُخْتَصَرًا، وَلَمْ يَقُلْ: ضَرِيرَ الْبَصَرِ، وَالْحَدِيثُ يَنْفَرِدُ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
طلحہ بن یزید بن رکانہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیوع کے بارے میں بات کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”میں تمہارے لیے اس سے زیادہ وسعت نہیں پاتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حبان بن منقذ کو دی تھی۔“ کیونکہ ان کی نظر کمزور تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن ان کے لیے مقرر کیے: ”اگر سامان کو پسند کریں تو رکھ لیں وگرنہ واپس کر دیں۔“
(ب) حبان بن واسع اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مختصر روایت کرتے ہیں، انہوں نے «ضَرِيرَ الْبَصَرِ» کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
اس حدیث کو بیان کرنے میں ابن لہیعہ منفرد ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10462]
(ب) حبان بن واسع اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مختصر روایت کرتے ہیں، انہوں نے «ضَرِيرَ الْبَصَرِ» کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
اس حدیث کو بیان کرنے میں ابن لہیعہ منفرد ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10462]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الدارقطني 3/54»
الحكم على الحديث: حسن
2220. -- باب: المأخوذ على طريق السوم وعلى بيع شرط فيه الخيار
-- باب: جو چیز قیمت لگوا کر (بیعِ سوم) یا ایسی بیع پر لی جائے جس میں خیار (اختیار) کی شرط ہو۔
حدیث نمبر: 10463
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ عَلَى سَوْمٍ فَحَمَلَ عَلَيْهِ رَجُلًا فَعَطِبَ عِنْدَهُ فَخَاصَمَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ عُمَرُ:" اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا"، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَإِنِّي أَرْضَى بِشُرَيْحٍ الْعِرَاقِيِّ، فَأَتَوْا شُرَيْحًا، فَقَالَ شُرَيْحٌ لِعُمَرَ: أَخَذْتَهُ صَحِيحًا سَلِيمًا وَأَنْتَ لَهُ ضَامِنٌ حَتَّى تَرُدَّهُ صَحِيحًا سَلِيمًا، فَأَعْجَبَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَبَعَثَهُ قَاضِيًا وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے گھوڑے کی قیمت متعین کی۔ اس پر ایک آدمی نے سواری کی۔ وہ گھوڑا اس کے پاس ہی ہلاک ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: چلو ایک آدمی اور اپنے درمیان فیصل مقرر کر لو، تو اس آدمی نے قاضی شریح عراقی رحمہ اللہ کا انتخاب کیا۔ وہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آئے، شریح رحمہ اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: جب گھوڑا آپ نے صحیح سلامت لیا تھا تو آپ ہی ضامن ہیں، یہاں تک کہ آپ صحیح سلامت واپس کر دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا فیصلہ اچھا لگا اور ان کو قاضی بنا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10463]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن عساكر في تاريخه 34/18»
الحكم على الحديث: ضعيف