السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2221. جماع أبواب الربا -- باب: تحريم الربا، وأنه موضوع مردود إلى رأس المال
سود (ربا) کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: سود کے حرام ہونے اور اس کے ساقط ہونے کا بیان، اور یہ کہ (سود کی صورت میں) صرف اصل مال ہی کی طرف لوٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: Q10464
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ}.
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾ ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو، پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو، اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔“ [سورة البقرة: 278-279] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: Q10464]
حدیث نمبر: 10464
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبِي، ثنا ⦗٤٥١⦘ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخُطْبَتِهِ بِعَرَفَةَ، قَالَ: فَقَالَ: يَعْنِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا وَإنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ تَحْتَ قَدَمِيَّ هَاتَيْنِ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُهُ دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ فِي زَمَنِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُهُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج اور عرفہ کے خطبہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے خون، تمہارے مال، تم پر ایسے حرام ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں، اس مہینہ میں اس دن کی حرمت ہے اور خبردار! تمہارے جاہلیت کے دور کے تمام معاملات میرے ان قدموں کے تلے رکھ دیے گئے ہیں اور جاہلیت کے خون بھی چھوڑ دیے گئے ہیں اور سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث کا خون معاف کرتا ہوں جس کو ہذیل والوں نے قتل کر دیا تھا، جب وہ بنو سعد کے اندر دودھ پی رہے تھے اور جاہلیت کے سود بھی چھوڑ دیے گئے اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا سود معاف کرتا ہوں۔ وہ مکمل چھوڑ دیا گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10464]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1218»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10465
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبًا مِنْ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ مِنْ دَمِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُ مِنْهَا دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، اللهُمَّ قَدْ بَلَّغْتُ؟" قَالُوا: نَعَمْ، ثَلَاثًا، قَالَ:" اللهُمَّ اشْهَدْ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
سلیمان بن عمرو اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”جاہلیت کے تمام سود چھوڑ دیے گئے، تمہارے لیے تمہارا اصل مال ہے ﴿لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾ [سورة البقرة: 279] ۔ خبردار! جاہلیت کے تمام خون معاف کر دیے گئے اور پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے جو بنو لیث میں دودھ پلائے جا رہے تھے، ہذیل والوں نے ان کو قتل کر دیا تھا، «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟» ”اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟““ لوگوں نے تین مرتبہ کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ” «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! تو گواہ رہ۔““ تین مرتبہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10465]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود 3334»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 10466
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ {وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [البقرة: ٢٧٨] قَالَ:" كَانَ يَكُونُ لِرَجُلٍ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَيَقُولُ: لَكَ زِيَادَةُ كَذَا وَكَذَا وَتُؤَخِّرُ عَنِّي".
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے قول ﴿وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا﴾ [سورة البقرة: 278] ”اور تم چھوڑ دو جو باقی سود سے ہے“ کے متعلق فرماتے ہیں: کسی آدمی کا کسی پر قرض ہوتا تو وہ اس کو یہ کہتا کہ اتنے پیسے مزید دے دینا اور اتنے وقت کے بعد دے دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10466]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10467
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ:" كَانَ الرِّبَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الْحَقُّ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّ الْحَقُّ، قَالَ: أَتَقْضِي أَمْ تُرْبِي؟، فَإِنْ قَضَاهُ أَخَذَ وَإِلَّا زَادَهُ فِي حَقِّهِ وَزَادَهُ الْآخَرُ فِي الْأَجَلِ".
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی کا دوسرے پر ایک متعین مدت پر قرض ہوتا تھا۔ جب مدت ختم ہو جاتی تو قرض دینے والا کہتا: کیا ادا کرو گے یا سود دو گے؟ اگر وہ ادا کر دیتا تو لے لیتا، وگرنہ اس کے ذمہ زیادہ کر دیتا اور دوسرا مدت میں اضافہ کر لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10467]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1353»
الحكم على الحديث: صحيح
2222. -- باب: ما جاء من التشديد في تحريم الربا
-- باب: سود کی حرمت کے بارے میں وارد ہونے والی سختی کا بیان۔
حدیث نمبر: 10468
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَأنا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ" قَالَ: هُمْ سَوَاءٌ، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، سود دینے والے، اس کے لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا: ”وہ سب برابر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10468]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1598»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10469
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ، وَشَاهِدَيْهِ" أَوْ قَالَ:" شَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ".
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سود لینے والے، سود دینے والے اور اس کے دونوں گواہوں یا ایک گواہ اور اس کے لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10469]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ماجه 2277»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10470
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟" الْحَدِيثَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُسْتَوِيَةٍ أَوْ فَضَاءٍ" الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ:" فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى نَهْرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رِجَالٌ قِيَامٌ، وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى شَطِّ النَّهْرِ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَيُقْبِلُ الَّذِي فِي النَّهْرِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ رَمَاهُ الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ؛ لِيَخْرُجَ رَمَاهُ فِي فِيهِ بِحَجَرٍ، فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ فَقُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهْرِ آكِلُ الرِّبَا"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فراغت کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے رات کو خواب دیکھا ہے؟“
(ب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے رات کو دیکھا، میرے پاس دو آدمی آئے۔ انہوں نے مجھے پکڑ کر ہموار زمین یا فضا کی طرف نکالا۔“
(ج) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم خون والی نہر تک آئے، وہاں آدمی تھے اور نہر کے کنارے ایک آدمی ہاتھ میں پتھر لیے کھڑا تھا۔ جب نہر والا آدمی کی طرف متوجہ ہوتا اور نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا اور وہ شخص جو نہر کے باہر کھڑا ہے، اس کے منہ پر پتھر مارتا وہ دوبارہ اس کو نہر میں دھکیل دیتا۔ وہ جب بھی نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا تو وہ اس کے منہ پر پتھر مارتا اور واپس کر دیتا۔ میں نے ان دونوں سے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ جس شخص کو آپ نے نہر میں دیکھا ہے وہ سود کھانے والا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10470]
(ب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے رات کو دیکھا، میرے پاس دو آدمی آئے۔ انہوں نے مجھے پکڑ کر ہموار زمین یا فضا کی طرف نکالا۔“
(ج) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم خون والی نہر تک آئے، وہاں آدمی تھے اور نہر کے کنارے ایک آدمی ہاتھ میں پتھر لیے کھڑا تھا۔ جب نہر والا آدمی کی طرف متوجہ ہوتا اور نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا اور وہ شخص جو نہر کے باہر کھڑا ہے، اس کے منہ پر پتھر مارتا وہ دوبارہ اس کو نہر میں دھکیل دیتا۔ وہ جب بھی نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا تو وہ اس کے منہ پر پتھر مارتا اور واپس کر دیتا۔ میں نے ان دونوں سے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ جس شخص کو آپ نے نہر میں دیکھا ہے وہ سود کھانے والا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10470]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1320»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10471
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ أَنْزَلَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ الرِّبَا وَقَالَ الْوَاسِطِيُّ: أُنْزِلَتْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سب سے آخر میں جو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت نازل کی وہ سود کی آیت تھی اور واسطی کہتے ہیں کہ نازل کی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10471]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري4270»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10472
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي خَيْرَةَ، يُحَدِّثُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ فِيهِ الرِّبَا، فَيَأْكُلُ نَاسٌ أَوِ النَّاسُ كُلُّهُمْ، فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُمْ نَالَهُ مِنْ غُبَارِهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ وہ سود کھائیں گے“ یا فرمایا: ”تمام لوگ سود کھائیں گے، جو نہ کھائے گا وہ اس کے غبار کو ضرور پالے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10472]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 3331»
الحكم على الحديث: ضعيف