السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2224. -- باب: تحريم التفاضل في الجنس الواحد مما يجري فيه الربا مع تحريم النساء استدلالا بما مضى
-- باب: جن اشیاء میں سود جاری ہوتا ہے، ان میں سے ایک ہی جنس کی چیزوں میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کی حرمت اور ادھار کی حرمت کا بیان، گزشتہ (احادیث) سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 10493
وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الْمُزَنِيِّ عَنْهُ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ الصَّائِغِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا خَطَأٌ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ وَرْدَانَ الرُّومِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أَصُوغُ الْحُلِيَّ، ثُمَّ أَبِيعُهُ وَأَسْتَفْضِلُ فِيهِ قَدْرَ أُجْرَتِي، أَوْ عَمَلِ يَدِي، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ صَاحِبِنَا إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي بِصَاحِبِنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْأَرْمَوِيُّ، أنا شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ سَلَامَةَ، ثنا الْمُزَنِيُّ، ثنا الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ.
وردان رومی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں زیورات بناتا ہوں۔ پھر میں اس کو فروخت کرتا ہوں اور اپنی مزدوری یا ہاتھ کا کام اس کی بنا پر کچھ زیادہ لیتا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے، اس میں «تَفَاضُلٌ» نہیں، یہ عہد ہم سے ہمارے صاحب نے لیا اور یہی ہمارا تمہاری طرف عہد ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صاحب سے مراد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے مزنی کی روایت میں سنار کا قصہ تفصیل سے بیان کر کے فرمایا: یہ غلطی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10493]
امام شافعی رحمہ اللہ نے مزنی کی روایت میں سنار کا قصہ تفصیل سے بیان کر کے فرمایا: یہ غلطی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10493]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10494
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي الْقَعْنَبِيَّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ مِنْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ"، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ:" مَا أَرَى بِهَذَا بَأْسًا"، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ:" مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ؟ أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ، لَا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ أَنْتَ بِهَا"، ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنْ لَا يَبِيعَ ذَلِكَ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّبِيعُ، عَنِ الشَّافِعِيِّ فِي هَذَا قَدُومَ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ، وَقَدْ ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الْمُزَنِيِّ.
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے سونے یا چاندی کا برتن اس کے وزن سے زائد میں فروخت کیا۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، ”آپ اس جیسے سے منع فرماتے تھے ماسوائے برابر، برابر“، معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتا۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے: کون میرا عذر پیش کرے معاویہ کو کہ میں اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دے رہا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے سے خبر دے رہے ہیں، میں اس سر زمین میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا جس میں تم ہو۔ پھر ابودرداء رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے سامنے یہ تذکرہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ اس کو فروخت نہ کریں مگر برابر وزن کے ساتھ، لیکن ربیع نے امام شافعی رحمہ اللہ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10494]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه المالك 1302»
الحكم على الحديث: صحيح
2225. -- باب: من قال: الربا في النسيئة
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”سود صرف ادھار میں ہے“۔
حدیث نمبر: 10495
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَجَمَاعَةٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ طَاوُسٌ، وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”سود ادھار میں ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10495]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1596»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10496
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، وَالدِّينَارُ بِالدِّينَارِ مِثْلًا بِمِثْلٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا فَضْلٌ" قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي تَقُولُ أَشَيْءٌ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللهِ أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَنْتُمْ أَعْلَمُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي وَلَكِنْ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ" ⦗٤٦١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرٍو.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”درہم درہم کے بدلے، دینار دینار کے بدلے برابر برابر ہو، ان کے درمیان تفاضل جائز نہیں۔“ میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس میں حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی۔ میں نے ان سے کہا: آپ مجھے بتائیں جو آپ کہتے ہیں، کیا آپ نے کتاب اللہ یا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کو پایا ہے جو آپ کہتے ہیں؟ وہ فرمانے لگے: نہ تو میں اسے کتاب اللہ میں پاتا ہوں اور نہ ہی میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، لیکن تم مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جانتے ہو۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سود صرف ادھار میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10496]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2069»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10497
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو عَاصِمٍ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَا: كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ:" مَا كَانَ مِنْهُ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ، وَمَا كَانَ مِنْهُ نَسِيئَةً فَلَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ دُونَ ذِكْرِ عَامِرِ بْنِ مُصْعَبٍ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، مع ذِكْرِ عَامِرِ بْنِ مُصْعَبٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرْقَاءَ بِنَسِيئَةٍ إِلَى الْمَوْسِمِ، أَوْ إِلَى الْحَجِّ، فَذَكَرَهُ وَبِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَرُوِيَ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي بِالْكُوفَةِ دَرَاهِمَ بِدَرَاهِمَ بَيْنَهُمَا فَضْلٌ، عِنْدِي أَنَّ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَهُوَ الْمُرَادُ بِمَا أُطْلِقَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَيَكُونُ الْخَبَرُ وَارِدًا فِي بَيْعِ الْجِنْسَيْنِ أَحَدُهُمَا بِالْآخَرِ، فَقَالَ: مَا كَانَ مِنْهُ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ وَمَا كَانَ مِنْهُ نَسِيئَةً فَلَا، وَهُوَ الْمُرَادُ بِحَدِيثِ أُسَامَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء بن عازب اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے سونے کے بارے میں سوال کیا، وہ دونوں کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تاجر تھے، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دست بدست نقد ہو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن جو ادھار ہو وہ جائز نہیں ہے۔“
(ب) ابومنہال کہتے ہیں کہ میرے ایک شریک نے موسم یا حج تک ادھار پر چاندی فروخت کی۔
(ج) حمیدی کی روایت میں ہے کہ میرے ایک شریک نے کوفہ میں درہموں کو درہموں کے عوض کمی بیشی کے ساتھ فروخت کیا، میرے نزدیک یہ غلطی ہے اور صحیح وہ ہے جو علی بن مدینی اور محمد بن حاتم نے روایت کیا ہے، اور ابن جریج کی روایت میں بھی یہی مراد ہے کہ وہ حدیث جس میں تذکرہ ہے کہ ایک جنس کو دوسری کے عوض فروخت کرنا، جب نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور جو ادھار ہو وہ جائز نہیں ہے، یہی سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مراد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10497]
(ب) ابومنہال کہتے ہیں کہ میرے ایک شریک نے موسم یا حج تک ادھار پر چاندی فروخت کی۔
(ج) حمیدی کی روایت میں ہے کہ میرے ایک شریک نے کوفہ میں درہموں کو درہموں کے عوض کمی بیشی کے ساتھ فروخت کیا، میرے نزدیک یہ غلطی ہے اور صحیح وہ ہے جو علی بن مدینی اور محمد بن حاتم نے روایت کیا ہے، اور ابن جریج کی روایت میں بھی یہی مراد ہے کہ وہ حدیث جس میں تذکرہ ہے کہ ایک جنس کو دوسری کے عوض فروخت کرنا، جب نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور جو ادھار ہو وہ جائز نہیں ہے، یہی سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مراد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10497]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1955»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10498
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي حَبِيبٌ هُوَ ابْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، عَنِ الصَّرْفِ، فَكِلَاهُمَا يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا" ⦗٤٦٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عُمَرَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
ابومنہال رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صرف کے متعلق سوال کیا گیا تو دونوں رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چاندی کو سونے کے عوض ادھار فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10498]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2070»
الحكم على الحديث: صحيح
2226. -- باب: ما يستدل به على رجوع من قال من الصدر الأول: لا ربا إلا في النسيئة عن قوله ونزوعه عنه
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے قرونِ اولیٰ کے ان لوگوں کے اپنے قول ”سود صرف ادھار میں ہے“ سے رجوع کرنے اور اس سے باز آنے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 10499
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا وَإِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ:" مَا زَادَ فَهُوَ رِبًا"، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ لِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ صَاحِبُ نَخْلَةٍ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ طَيِّبٍ، وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الدُّونَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّى لَكَ هَذَا؟" قَالَ: انْطَلَقْتُ بِصَاعِي وَاشْتَرَيْتُ بِهِ هَذَا الصَّاعَ فَإِنَّ سِعْرَ هَذَا بِالسُّوقِ كَذَا وَسِعْرَ هَذَا بِالسُّوقِ كَذَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَيْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ فَبِعْ تَمْرَكَ بِسِلْعَةٍ، ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِكَ أِيَّ تَمْرٍ شِئْتَ" فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ رِبًا، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ بَعْدُ فَنَهَانِي وَلَمْ آتِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: فَحَدَّثَنِي أَبُو الصَّهْبَاءِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهُ فَكَرِهَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَقَالَ: وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا اللَّوْنَ.
ابونضرہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صرف کے متعلق سوال کیا، وہ دونوں اس میں حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے صرف کے متعلق سوال کیا تو فرمانے لگے: جو زیادہ ہو وہ سود ہے، میں نے ان دونوں (سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما) کے قول کی وجہ سے انکار کر دیا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں صرف تمہیں وہ بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ ایک کھجوروں والا ایک صاع عمدہ کھجوریں لے کر آیا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوریں ردی قسم کی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کہاں سے؟“ اس نے کہا: میں اپنی کھجوروں کا ایک صاع لے کر گیا اور میں نے یہ ایک صاع خرید لیا اور کہنے لگا: بازار میں اس کا یہ ریٹ ہے اور اس کا یہ۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے سود کا کام کیا ہے، جب تیرا یہ ارادہ تھا تو اپنی کھجوریں قیمت میں فروخت کرتا، پھر اس قیمت کے عوض جونسی مرضی کھجوریں خریدتا۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کھجور کھجور کے عوض یہ زیادہ حق ہے کہ وہ سود ہو یا چاندی چاندی کے عوض۔ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے منع کر دیا اور میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نہ آیا۔
(ب) ابوصہباء کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔
(ج) اسحاق بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوریں اس رنگت کی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10499]
(ب) ابوصہباء کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔
(ج) اسحاق بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوریں اس رنگت کی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10499]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1594»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10500
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ أَبُو عَلِيٍّ الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا جَدِّي أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ ابْنَةِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا جَدِّي الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي الْقَعْقَاعِ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْجَوْزَاءِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَخْدُمُ ابْنَ عَبَّاسٍ تِسْعَ سِنِينَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ دِرْهَمٍ بِدِرْهَمَيْنِ فَصَاحَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَقَالَ:" إنَّ هَذَا يَأْمُرُنِي أَنْ أُطْعِمَهُ الرِّبَا"، فَقَالَ نَاسٌ حَوْلَهُ: إِنْ كُنَّا لَنَعْمَلُ هَذَا بِفُتْيَاكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" قَدْ كُنْتُ أُفْتِي بِذَلِكَ حَتَّى حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، وَابْنُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، فَأَنَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ".
سیدنا ابوالجوزاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نو سال خدمت کی۔ اچانک ایک آدمی آیا، اس نے ایک درہم کے عوض دو درہم لینے کے بارے میں سوال کیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما چیخ پڑے اور فرمانے لگے: یہ مجھے حکم دیتا ہے کہ میں اس کو سود کھلاؤں۔ ان کے اردگرد جو لوگ تھے وہ کہنے لگے: ہم تو آپ کے فتوے کی بنیاد پر یہ کام کرتے تھے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اس کا فتویٰ دیا کرتا تھا، یہاں تک کہ مجھے سیدنا ابوسعید اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس سے منع کیا تھا“ اس وجہ سے میں بھی تمہیں منع کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10500]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن عساكر في تاريخ 14/ 292»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10501
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي شَمْخِ بْنِ فَزَارَةَ سَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَرَأَى أُمَّهَا فَأَعْجَبَتْهُ فَطَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَيَتَزَوَّجُ أُمَّهَا؟ قَالَ:" لَا بَأْسَ" فَتَزَوَّجَهَا الرَّجُلُ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ وَكَانَ يَبِيعُ نِفَايَةَ بَيْتِ الْمَالِ يُعْطِي الْكَثِيرَ وَيَأْخُذُ الْقَلِيلَ، حَتَّى قَدِمَ ⦗٤٦٣⦘ الْمَدِينَةَ فَسَأَلَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا:" لَا يَحِلُّ لِهَذَا الرَّجُلِ هَذِهِ الْمَرْأَةُ، وَلَا تَصْلُحُ الْفِضَّةُ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ"، فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ اللهِ انْطَلَقَ إِلَى الرَّجُلِ فَلَمْ يَجِدْهُ وَوَجَدَ قَوْمَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الَّذِي أَفْتَيْتُ بِهِ صَاحِبَكُمْ لَا يَحِلُّ"، فَقَالُوا: إِنَّهَا قَدْ نَثَرَتْ لَهُ بَطْنَهَا، قَالَ: وَإِنْ كَانَ وَأَتَى الصَّيَارِفَةَ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الصَّيَارِفَةِ إِنَّ الَّذِي كُنْتُ أُبَايِعُكُمْ لَا يَحِلُّ، لَا تَحِلُّ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو شمخ بن فزارہ کے ایک آدمی نے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے ایک عورت سے شادی کی، پھر اس کی والدہ کو دیکھا، وہ اس کو پسند آئی اور اچھی لگی تو اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ کیا وہ اس کی والدہ سے شادی کر لے؟ انہوں نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔ اس مرد نے شادی کر لی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیت المال کے محکمے میں تھے، وہ بیت المال کی ردی چیزیں زیادہ دے کر تھوڑی لے لیتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ آئے۔ انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا، انہوں نے کہا: اس شخص کے لیے یہ عورت جائز نہیں ہے اور چاندی کی فروخت بھی برابر برابر وزن میں کی جائے وگرنہ درست نہیں ہے۔ جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو اس آدمی کی طرف گئے، اس کو نہ پایا، لیکن اس کی قوم موجود تھی۔ انہوں نے کہا: جو فتویٰ میں نے تمہارے ساتھ کر دیا تھا وہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حاملہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے فرمایا: اگرچہ وہ حاملہ بھی ہو چکی ہو۔ پھر وہ صرافوں (سکے تبدیل کرنے والے) کے پاس آئے اور فرمایا: اے صرافوں کی جماعت! بے شک وہ لین دین جو میں تمہارے ساتھ کیا کرتا تھا وہ جائز نہیں اور چاندی چاندی کے بدلے فروخت کرنا جائز نہیں مگر صرف برابر برابر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10501]
تخریج الحدیث: «اخرجه الفسوي في المعرفه 1/ 88»
الحكم على الحديث: اخرجه الفسوي في المعرفه 1/ 88
2227. -- باب: جواز التفاضل في الجنسين، وأن البر والشعير جنسان مع تحريم النساء إذا جمعتهما علة واحدة في الربا
-- باب: دو مختلف جنسوں میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کے جواز اور اس بات کا بیان کہ گندم اور جَو دو الگ الگ جنسیں ہیں، نیز ادھار کی حرمت جب ان میں سود کی علتِ واحدہ جمع ہو جائے۔
حدیث نمبر: 10502
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِيَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ، وَنَشْتَرِيَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا" قَالَ: فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَدًا بِيَدٍ؟، فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِّ.
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی چاندی کے عوض، سونا سونے کے بدلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ماسوائے برابر، برابر اور ہمیں حکم دیا کہ ہم چاندی کو سونے کے بدلے اور سونے کو چاندی کے بدلے جیسے ہم چاہیں خریدیں۔ ایک آدمی نے ان (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: ”نقد بنقد؟“ انہوں نے فرمایا: اسی طرح میں نے سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10502]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2071»
الحكم على الحديث: صحيح