السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2348. -- باب: لا يجوز السلف حتى يكون بثمن معلوم في كيل معلوم أو وزن معلوم إلى أجل ولا يختلف إن كان إلى أجل معلوم
-- باب: بیعِ سلم اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ معلوم قیمت کے بدلے معلوم ماپ یا معلوم وزن میں ایک مقررہ مدت تک کے لیے نہ ہو، اور اگر یہ معلوم مدت تک کے لیے ہو تو اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11118
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعَ أَبَا عَبِيدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ" أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ بِسِعْرِ الْبَيْدَرِ".
ابو عبیدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کھلیان کے ریٹ کے ساتھ گندم کی بیع کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11118]
حدیث نمبر: 11119
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُنْدَارِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ إِلَى يُسْرِهِ".
عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ آدمی کوئی چیز خریدے اور کہے کہ جب میسر ہوگی تو قیمت ادا کر دوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11119]
حدیث نمبر: 11120
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ كُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: كَانَتْ لِي عَلَى رَجُلٍ دَرَاهِمُ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ:" لَيْسَ عِنْدِي، وَلَكِنِ اكْتُبْهَا عَلَى طَعَامٍ إِلَى الْحَصَادِ، قَالَ: لَا يَصْلُحُ".
کلیب بن وائل فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں نے فلاں آدمی سے کچھ درہم لینے تھے، میں اس کے پاس لینے کے لیے گیا تو اس نے کہا: میرے پاس اس وقت تو کچھ نہیں ہے، البتہ تم ان درہموں کو فصل کٹنے تک غلے کے بدلے لکھ لو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ درست نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11120]
حدیث نمبر: 11121
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قَالَتْ ⦗٤٢⦘ عَائِشَةُ: قَدِمَ تَاجِرٌ بِمَتَاعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ أَلْقَيْتَ هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ الْغَلِيظَيْنِ عَنْكَ وَأَرْسَلْتَ إِلَى فُلَانٍ التَّاجِرِ فَبَاعَكَ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ أَرْسِلْ إِلِيَّ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ"، فَقَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللهِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنِّي أَدَّاهُمْ لِلْأَمَانَةِ، وَأَخْشَاهُمْ لِلَّهِ" وَنَحْوُ هَذَا فَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ اسْتَدْعَى الْبَيْعَ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، لَا أَنَّهُ عَقَدَ إِلَيْهَا بَيْعًا، ثُمَّ لَوْ أَجَابَهُ إِلَى ذَلِكَ أَشْبَهَ أَنْ يُوَقِّتَ وَقْتًا مَعْلُومًا أَوْ يَعْقِدَ الْبَيْعَ مُطْلَقًا ثُمَّ يَقْضِيَهُ مَتَى مَا أَيْسَرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کچھ تاجر سامان لے کر آئے، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ یہ پرانے کپڑے پہننا چھوڑ دیں اور نئے خرید لیں اور جب آپ کے پاس پیسے آجائیں تو اس کی ادائیگی کرلینا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تاجر کی طرف پیغام بھیجا کہ ”دو کپڑے دے دو، میں آپ کو خوشحالی کے دنوں میں ان کی رقم واپس کر دوں گا“۔ وہ کہنے لگا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرا مال کھانا چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جانتے بھی ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ امین اور متقی ہوں“۔ یہ اس بات پر محمول ہوگا کہ آپ نے آفر کی تھی، لیکن اس نے انکار کردیا، آپ نے بیع پکی نہیں کی تھی۔ پھر اگر وہ اجازت دے بھی دیتا تو اس بات کی زیادہ توقع تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقت مقرر کرتے یا پھر مطلق بیع کرتے، پھر جب وسعت آتی تو ادا کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11121]
2349. -- باب: السلف في الحنطة والشعير والزبيب والزيت والثياب وجميع ما يضبط بالصفة
-- باب: گندم، جو، کشمش، زیتون کا تیل، کپڑے اور ہر اس چیز میں بیعِ سلم کا بیان جسے صفات کے ذریعے متعین کیا جا سکتا ہو۔
حدیث نمبر: 11122
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدٍ قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بُرْدَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ شَدَّادٍ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَسْأَلُهُ: أَكُنْتُمْ تُسْلِمُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ؟ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" كُنَّا نُسْلِمُ إِلَى نَبِيطِ الشَّامِ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ، فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ" قُلْتُ: إِلَى مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ؟ قَالَ:" مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ" قَالَ: وَبَعَثَانِي إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى فَقَالَا: سَلْهُ: هَلْ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ؟ فَقَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمُونَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ إِلَى نَبِيطِ الشَّامِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ، وَمَا كَانُوا يَسْأَلُونَ: أَلَكُمْ حَرْثٌ أَمْ لَا؟" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ. وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ فَقَالَ الزَّيْتَ بَدَلَ الزَّبِيبِ. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُجَالِدٍ فَقَالَ: وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، وَشَكَّ فِي الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ. وَرَوَاهُ زَائِدَةُ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ فَقَالَ: وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ.
محمد بن ابی مجالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد رحمہما اللہ نے ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں جا کر پوچھوں: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گندم، جو اور کشمش میں بیع سلف کرتے تھے؟ میں نے جا کر پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ہم شام کے نبطیوں سے جو، گندم اور کشمش میں معلوم وزن میں مدت مقررہ میں بیع سلم کیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: جن کی کھیتی ہوتی تھی ان سے بیع کرتے تھے؟ کہنے لگے: ہم ان سے اس بارے میں نہیں پوچھتے تھے۔ محمد بن ابی مجالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر ان دونوں نے مجھے عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے پوچھیے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ کرام گندم، جو اور کشمش میں بیع سلم کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جی! جب وزن، مقدار اور مدت معلوم ہوتی تب کیا کرتے تھے اور وہ یہ نہیں پوچھتے تھے کہ تمہارے پاس کھیتی اگ گئی ہے یا نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11122]
تخریج الحدیث: «رواه البخاري»
الحكم على الحديث: رواه البخاري
حدیث نمبر: 11123
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي السَّلَفِ فِي الْكَرَابِيسِ، قَالَ:" إِذَا كَانَ زَرْعٌ مَعْلُومٌ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ فَلَا بَأْسَ".
قاسم بن محمد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موٹے سوتی کپڑے کی بیعِ سلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب وزن اور مدت معلوم ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11123]
حدیث نمبر: 11124
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ:" لَا بَأْسَ أَنْ يُسْلِمَ فِي اللَّحْمِ".
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گوشت میں بیعِ سلم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11124]
2350. -- باب: السلف فيما يباع كيلا في الوزن مثل السمن والعسل وما أشبهه
-- باب: ان اشیاء میں بیعِ سلم کا بیان جو ماپ کے بجائے وزن کر کے فروخت کی جاتی ہیں جیسے گھی، شہد اور ان جیسی دیگر اشیاء۔
حدیث نمبر: Q11125
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: فَكَيْفَ كَانَ يُبَاعُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَا: اللهُ أَعْلَمُ، أَمَا الَّذِي أَدْرَكْنَا الْمُتَبَايِعِينَ عَلَيْهِ بِمَا قَلَّ مِنْهُ يُبَاعُ كَيْلًا، وَالْجُمْلَةُ الْكَثِيرَةُ تُبَاعُ وَزْنًا، وَدِلَالَةُ الْأَخْبَارِ عَلَى مِثْلِ مَا أَدْرَكْنَا النَّاسَ عَلَيْهِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا آكُلُ السَّمْنَ مَا دَامَ السَّمْنُ يُبَاعُ بِالْأَوَاقِ، وَتُشْبِهُ الْأَوَاقِ أَنْ تَكُونَ كَيْلًا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی کہنے والا کہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں (یہ چیز) کس طرح فروخت کی جاتی تھی؟ تو ہم کہیں گے: اللہ بہتر جانتا ہے، البتہ جس طریقے پر ہم نے خرید و فروخت کرنے والوں کو پایا ہے وہ یہ ہے کہ اس کی تھوڑی مقدار ناپ کر بیچی جاتی ہے اور بڑی مقدار وزن کر کے بیچی جاتی ہے، اور روایات کی دلالت بھی اسی طریقے کے مطابق ہے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تک گھی اواق (اوقیوں) کے حساب سے بیچا جاتا رہے گا میں گھی نہیں کھاؤں گا۔“
اور اواق اس بات کے مشابہ ہیں کہ یہ ناپ (کا پیمانہ) ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: Q11125]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تک گھی اواق (اوقیوں) کے حساب سے بیچا جاتا رہے گا میں گھی نہیں کھاؤں گا۔“
اور اواق اس بات کے مشابہ ہیں کہ یہ ناپ (کا پیمانہ) ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: Q11125]
حدیث نمبر: 11125
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ فَقَالَ:" أَمَا وَاللهِ لَتَمُرَّنَنَّ أَيُّهَا الْبَطْنُ عَلَى الْخُبْزِ وَالزَّيْتِ مَا دَامَ السَّمْنُ يُبَاعُ بِالْأَوَاقِ".
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس روٹی اور تیل لایا گیا، آپ نے فرمایا: اے پیٹ! جب تک گھی اوقیوں میں بیچا جائے گا تجھے روٹی اور تیل ہی پر گزارہ کرنا ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11125]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابن سعيد 3/314»
الحكم على الحديث: اخرجه ابن سعيد 3/314
2351. -- باب: المسك طاهر يحل بيعه وشراؤه والسلف فيه
-- باب: کستوری پاک ہے، اس کی خرید و فروخت اور اس میں بیعِ سلم جائز ہے۔
حدیث نمبر: 11126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّمَا مَثَلُ جَلِيسِ الصَّالِحِ وَجَلِيسِ السُّوءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ، حَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يَحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ. وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْجَنَائِزِ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ". وَمَضَى فِي كِتَابِ الْحَجِّ حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی مجلس اور بری مجلس کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی میں پھونکنے والے کی طرح ہے، کستوری بیچنے والا یا تو آپ کو عطر پیش کرے گا یا آپ اس سے خرید لیں گے یا کم از کم آپ کو اس سے اچھی خوشبو تو آئے گی، اور بھٹی میں پھونکنے والا یا تو آپ کے کپڑے جلائے گا یا پھر آپ کو ناگوار بو تو آئے گی۔“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کستوری سب سے پاک خوشبو ہے۔“ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں کستوری کی سفیدی کو دیکھ رہی تھی اور آپ نے احرام باندھا ہوا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11126]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کستوری سب سے پاک خوشبو ہے۔“ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں کستوری کی سفیدی کو دیکھ رہی تھی اور آپ نے احرام باندھا ہوا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11126]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2101۔5534، مسلم 2628»
الحكم على الحديث: صحيح