🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2353. -- باب: من عجل له أدنى من حقه قبل محله فقبله ووضع عنه طيبة به أنفسهما
-- باب: جس شخص کو اس کی مقررہ مدت سے پہلے اس کے حق سے کچھ کم دے کر جلدی ادائیگی کی گئی تو اس نے اسے قبول کر لیا اور ان دونوں نے باہمی خوش دلی سے بقیہ حق معاف کر دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11137
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ جَزْرَةُ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِخْرَاجِ بَنِي النَّضِيرِ مِنَ الْمَدِينَةِ جَاءَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَمَرْتَ بإخْرَاجِهِمْ وَلَهُمْ عَلَى النَّاسِ دُيُونٌ لَمْ تَحِلَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا"، أَوْ قَالَ:" وَتَعَاجَلُوا" وَرَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ فِي سِيَرِهِ عَنِ ابْنِ أَبِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو مدینہ سے جلا وطن کرنے کا حکم دیا تو ان کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ نے انھیں نکالنے کا حکم دیا ہے اور انھوں نے لوگوں سے قرض لینا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”کچھ قرض معاف کر دو اور جلدی وصول کر لو“ یا فرمایا: ”اپنے لین دین جلدی نمٹا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11137]
تخریج الحدیث: «الطبراني في الاوسط 817»

الحكم على الحديث: الطبراني في الاوسط 817
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2354. -- باب: لا خير في أن يعجله بشرط أن يضع عنه
-- باب: اس بات میں کوئی بھلائی نہیں کہ وہ اس شرط پر جلدی ادائیگی کرے کہ حقدار اس کا کچھ حق معاف کر دے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11138
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى السَّفَّاحِ أَنَّهُ قَالَ: بِعْتُ بُرًّا مِنْ أَهْلِ السُّوقِ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى الْكُوفَةِ، فَعَرَضُوا عَلَيَّ أَنْ أَضَعَ عَنْهُمْ وَيَنْقُدُونِي، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" لَا آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَ هَذَا وَلَا تُؤْكِلَهُ".
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے بازار میں گندم بیچی اور اس کی ادائیگی کا وقت مقرر کیا۔ پھر میں نے کوفہ جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے مجھ سے شرط لگائی کہ میں کچھ قرض معاف کر دوں تو وہ وقت سے پہلے ادائیگی کردیں گے۔ میں نے یہ بات حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: ”میں تجھے اس بات کا حکم نہیں دیتا کہ تو ایسا مال کھائے یا دوسروں کو کھلائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11138]
تخریج الحدیث: «موطا امام مالك 1351»

الحكم على الحديث: موطا امام مالك 1351
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11139
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ ⦗٤٧⦘ عُثْمَانَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ عَلَى رَجُلٍ إِلَى أَجَلٍ، فَيَضَعُ عَنْهُ صَاحِبُهُ وَيُعَجِّلُ لَهُ الْآخَرُ، قَالَ:" فَكَرِهَ ابْنُ عُمَرَ ذَلِكَ، وَنَهَى عَنْهُ".
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی سے مدتِ مقررہ تک قرض لینا ہو اور قرض لینے والا کچھ قرض معاف کر کے وقت سے پہلے لے لیتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ناپسند کیا اور اس سے منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11139]
تخریج الحدیث: «موطاامام مالك 1352»

الحكم على الحديث: موطاامام مالك 1352
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11140
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ: لِرَجُلٍ عَلَيَّ دَيْنٌ، فَقَالَ لِي: عَجِّلْ لِي وَأَضَعُ عَنْكَ فَنَهَانِي عَنْهُ وَقَالَ: نَهَى أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنْ نَبِيعَ الْعَيْنَ بِالدَّيْنِ" وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
ابو منہال رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ مجھ سے اپنے ایک قرضہ لینے والے نے کہا: تم مجھے قرضہ وقت سے پہلے دے دو، میں تجھے کچھ قرضہ معاف کر دوں گا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے روکا اور فرمایا: امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے روکا ہے کہ ہم قرضہ کے بدلے میں نقد چیز بیچیں۔
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی روایت کی گئی ہے جس کی سند میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11140]
تخریج الحدیث: «مصنف عبدالرزاق 14359»

الحكم على الحديث: مصنف عبدالرزاق 14359
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11141
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا غَانِمُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ السَّعْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: أَسْلَفْتُ رَجُلًا مِائَةَ دِينَارٍ، ثُمَّ خَرَجَ سَهْمِي فِي بَعَثٍ بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: عَجِّلْ لِي تِسْعِينَ دِينَارًا وَأَحُطُّ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَكَلْتَ رِبًا يَا مِقْدَادُ، وَأَطْعَمْتَهُ".
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سو دینار ادھار دیے، پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ایک لشکر میں میرا نام نکل آیا تو میں نے اس سے کہا: مجھے نوے دینار جلدی دے دو اور میں دس دینار چھوڑ دیتا ہوں، تو اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی تو آپ نے فرمایا: ”اے مقداد! تو نے خود بھی سود کھایا ہے اور اسے بھی کھلایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11141]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو نعيم في المرفة 6171»

الحكم على الحديث: اخرجه ابو نعيم في المرفة 6171
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2355. -- باب: من كره أن يقول: أسلمت عند فلان في كذا، وليقل: سلفت
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ کہنے کو مکروہ سمجھا کہ ”میں نے فلاں کے پاس فلاں چیز میں اسلمت (بیع سلم کی) ہے“، بلکہ اسے یوں کہنا چاہیے کہ ”میں نے سلفت (بیع سلف کی) ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11142
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ: أَسْلَمَ كَذَا وَكَذَا، وَيَقُولُ:" إِنَّمَا الْإِسْلَامُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ کہنا کہ میں فلاں چیز کے سپرد کیا گیا ہوں مکروہ ہے، آپ فرماتے تھے کہ سپردگی صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11142]
تخریج الحدیث: «مصنف عبدالرزق 14115»

الحكم على الحديث: مصنف عبدالرزق 14115
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2356. -- باب: التسعير
-- باب: تسعیر (اشیائے خوردونوش کی قیمت مقرر کرنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11143
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، سَعِّرْ، قَالَ:" بَلِ ادْعُ اللهَ"، ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، سَعِّرْ، قَالَ:" بَلِ اللهُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللهَ وَلَيْسَتْ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلِمَةٌ" وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، وَرَوَاهُ أَيْضًا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلَاءِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ریٹ مقرر کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔“ پھر ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا: ریٹ مقرر کر دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی نرخ بڑھاتا اور کم کرتا ہے، اور میں تمنا اور امید کرتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کو اس حالت میں ملوں کہ میں نے کسی پر ظلم نہ کیا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11143]
تخریج الحدیث: «مسند احمد 8243،8635»

الحكم على الحديث: مسند احمد 8243،8635
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11144
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ الْفَامِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِهِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدْ غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ غَلَا السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ:" إِنَّ اللهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نرخ بڑھ گئے ہیں، آپ ہمارے لیے کوئی نرخ مقرر کر دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، وہی نرخ کم کرنے والا اور بڑھانے والا اور رزق دینے والا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو اس حالت میں ملوں گا کہ مجھ سے کوئی ایک بھی خون یا مال کے بارے میں حق لینے والا نہیں ہو گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11144]
تخریج الحدیث: «مسند احمد 2863،14103»

الحكم على الحديث: مسند احمد 2863،14103
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11145
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ الْمُسَعِّرُ" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَفَّانَ. وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي.
گزشتہ حدیث کی طرح ہے، اس میں صرف یہ زیادتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے، وہی روزی تنگ اور فراخ کرنے والا ہے، رزق دینے والا اور نرخ مقرر کرنے والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11145]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11146
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ وَهُوَ يَبِيعُ زَبِيبًا لَهُ بِالسُّوقِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِمَّا أَنْ تَزِيدَ فِي السِّعْرِ وَإِمَّا أَنْ تَرْفَعَ مِنْ سُوقِنَا" فَهَذَا مُخْتَصَرٌ، وَتَمَامُهُ فِيمَا رَوَى الشَّافِعِيُّ عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ بِحَاطِبٍ بِسُوقِ الْمُصَلَّى، وَبَيْنَ يَدَيْهِ غَرَارَتَانِ فِيهِمَا زَبِيبٌ، فَسَأَلَهُ عَنْ سِعْرِهِمَا، فَسَعَّرَ لَهُ مُدَّيْنِ لِكُلِّ دِرْهَمٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَدْ حُدِّثْتُ بِعِيرٍ مُقْبِلَةٍ مِنَ الطَّائِفِ تَحْمِلُ زَبِيبًا، وَهُمْ يَعْتَبِرُونَ بِسِعْرِكَ، فَإِمَّا أَنْ تَرْفَعَ فِي السِّعْرِ، وَإِمَّا أَنْ تُدْخِلَ زَبِيبَكَ الْبَيْتَ فَتَبِيعَهُ كَيْفَ شِئْتَ، فَلَمَّا رَجَعَ عُمَرُ حَاسَبَ نَفْسَهُ، ثُمَّ أَتَى حَاطِبًا فِي دَارِهِ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ الَّذِي قُلْتُ لَيْسَ بِعَزْمَةٍ مِنِّي، وَلَا قَضَاءٍ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ أَرَدْتُ بِهِ الْخَيْرَ لِأَهْلِ الْبَلَدِ، فَحَيْثُ شِئْتَ فَبِعْ، وَكَيْفَ شِئْتَ فَبِعْ وَهَذَا فِيمَا كَتَبَ إِلِيَّ أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أَنَّ أَبَا عَوَانَةَ أَخْبَرَهُمْ قَالَ: ثنا الْمُزَنِيُّ، ثنا الشَّافِعِيُّ، فَذَكَرَهُ.
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ بازار میں کشمش بیچ رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یا تو آپ نرخ بڑھائیں یا پھر ہمارے بازار سے چلے جائیں۔“ یہ مختصر ہے، یہ تمام حدیث امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کی ہے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ عید گاہ کے بازار میں حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، ان کے سامنے دو ٹوکریاں کشمش کی بھری پڑی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کا نرخ پوچھا تو انھوں نے کہا: ”دو مد ایک درہم میں دے رہا ہوں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے: ”مجھے طائف سے آنے والے ایک قافلے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ آپ کے نرخ کا اعتبار کرتے ہیں، یا تو آپ نرخ بڑھائیں یا پھر گھر میں بیٹھ کر بیچیں جیسے چاہیں۔“ چنانچہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھر آئے اور سوچ بچار کی تو پھر حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کے گھر ان سے ملنے گئے اور ان سے کہا: ”جو کچھ میں نے آپ سے کہا وہ میری طرف سے کوئی زبردستی نہیں اور نہ میری طرف سے وہ فیصلہ تھا، میں نے یہ بات صرف شہریوں کی بھلائی کے لیے کی تھی۔ اب آپ جہاں چاہیں بیچیں اور جتنے میں چاہیں بیچیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11146]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں