السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2412. -- باب: الضمان عن الميت
-- باب: میت کی طرف سے (اس کے قرض کی) ضمانت دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11412
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ".
(١١٤١٢) مسلمان کی جان اس وقت تک لٹکی رہتی ہے جب تک اس پر دین ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11412]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد»
الحكم على الحديث: منكر الاسناد
2413. -- باب: ما جاء في الكفالة ببدن من عليه حق
-- باب: جس پر کوئی حق (قرض وغیرہ) ہو اسے خود پیش کرنے کی ضمانت (کفالۃ بالبدن) کے بارے میں کیا وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11413
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ" أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ، قَالَ: ائْتِنِي بِالشُّهُودِ أُشْهِدْهُمْ عَلَيْكَ، قَالَ: كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا، قَالَ: فَأْتِنِي بِكَفِيلٍ، قَالَ: كَفَى بِاللهِ كَفِيلًا، قَالَ: فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، قَالَ: فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ وَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ الْتَمَسَ مَرْكَبًا يَقْدَمُ عَلَيْهِ لِلْأَجَلِ الَّذِي أَجَّلَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مَرْكَبًا، فَأَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا الدَّنَانِيرَ، وَصَحِيفَةً مِنْهُ إِلَى صَاحِبِهَا، ثُمَّ سَدَّ مَوْضِعَهَا، ثُمَّ أَتَى بِهَا الْبَحْرَ فَقَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي تَسَلَّفْتُ مِنْ فُلَانٍ أَلْفَ دِينَارٍ، وَسَأَلَنِي كَفِيلًا فَقُلْتُ: كَفَى بِاللهِ كَفِيلًا، فَرَضِيَ بِكَ، وَسَأَلَنِي شُهُودًا فَقُلْتُ: كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا، فَرَضِيَ بِكَ، وَقَدْ جَهِدْتُ أَنْ أَجِدَ مَرْكَبًا أَبْعَثُ إِلَيْهِ الَّذِي لَهُ، فَلَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُكَهَا، فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ حَتَّى وَلَجَتْ فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُوَ فِي ذَلِكَ يَطْلُبُ مَرْكَبًا يَخْرُجُ إِلَى بَلَدِهِ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ سَلَّفَهُ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ مَرْكَبٌ قَدْ جَاءَ بِمَالِهِ، وَإِذَا هُوَ بِالْخَشَبَةِ، فَأَخَذَهَا لِأَهْلِهِ حَطَبًا، فَلَمَّا كَسَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ، ثُمَّ قَدِمَ الرَّجُلُ فَأَتَاهُ بِأَلْفِ دِينَارٍ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا زِلْتُ جَاهِدًا فِي طَلَبِ مَرْكَبٍ لِآتِيَكَ بِمَالِكَ، فَمَا وَجَدْتُ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي أَتَيْتُ فِيهِ، فَقَالَ: هَلْ كُنْتَ بَعَثْتَ إِلِيَّ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَدَّى عَنْكَ، فَانْصَرِفْ بِالْأَلْفِ دِينَارٍ رَاشِدًا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ.
(١١٤١٣) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا تذکرہ کیا، اس نے بنی اسرائیل کے ایک دوسرے شخص سے ہزار دینار قرض مانگے۔ اس نے کہا: ایسے گواہ پیش کر جن پر مجھے اعتبار ہو، قرض مانگنے والا بولا گواہ تو اللہ ہی کافی ہے، پھر اس نے کہا: کوئی ضامن لا، اس نے کہا: ضامن بھی اللہ ہی کافی ہے۔ اس نے ایک مقرر وقت کے لیے اسے قرض دے دیا۔ یہ قرض لے کر دریائی سفر پر روانہ ہوا۔ تلاش شروع کی تاکہ اس سے دریا پار کر کے اس مقرر مدت تک قرض دینے والے کے پاس پہنچ سکے، جو اس سے طے پائی تھی۔ لیکن کوئی سواری نہ ملی۔ آخر اس نے ایک لکڑی لی۔ اس میں ایک سوراخ کیا، پھر ایک ہزار دینار اور ایک خط رکھ دیا اور اس کا منہ بند کردیا اور اسے دریا پر لے آیا، پھر کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لیے تھے، اس نے مجھ سے ضامن مانگا تو میں نے کہا: میرا ضامن اللہ ہے اس نے مجھ سے گواہ مانگا تو میں نے یہی جواب دیا۔ وہ تجھ پر راضی ہوا اور میں نے بڑی کوشش کی کہ کوئی سواری ملے جس کے ذریعے میں اس کا قرض اس تک پہنچا سکوں، لیکن مجھے سواری نہ ملی۔ اس لیے میں اب اسے تیرے حوالے کرتا ہوں چنانچہ اس نے وہ لکڑی دریا میں بہا دی۔ اب وہ دریا میں تھی اور وہ واپس آگیا اور وہ اسی فکر میں تھا کہ کوئی کشتی ملے تاکہ وہ اپنے شہر جاسکے۔ دوسری طرف وہ آدمی جس نے قرض دیا تھا، اس تلاش میں آیا کہ ممکن ہے کوئی جہاز اس کا مال لایا ہو، لیکن وہاں اسے ایک لکڑی ملی اس نے وہ لکڑی گھر کے ایندھن کے لیے لے لی۔ جب اسے چیرا تو اس میں سے دینار نکلے اور ایک خط بھی۔ پھر قرض خواہ اس کے گھر میں آیا اور ایک ہزار دینار اسے دیے اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے کوشش کی کہ کوئی سواری مل جائے اور تمہارا مال تمہیں واپس کر دوں لیکن اس دن سے پہلے جب میں یہاں پہنچا ہوں مجھے کوئی سواری نہ ملی۔ پھر اس آدمی نے پوچھا: تو نے پہلے میرے نام کوئی چیز بھیجی تھی؟ مقروض نے جواب دیا: ہاں۔ پھر اس نے کہا: اللہ نے آپ کا وہ قرض ادا کردیا ہے جو آپ نے لکڑی میں بھیجا تھا۔ چنانچہ وہ اپنا ہزار دینار لے کر واپس آگیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11413]
تخریج الحدیث: «صحيح۔أخرجه احمد 1/2348، 8571»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11414
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَخَذَ مِنْ مُتَّهَمٍ كَفِيلًا تَثَبُّتًا وَاحْتِيَاطًا" إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمٍ ضَعِيفٌ.
(١١٤١٤) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت میں روکا اور دوسری مرتبہ تہمت والے سے احتیاط کے طور پر ضمانت لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11414]
حدیث نمبر: 11415
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ:" صَلَّيْتُ الْغَدَاةَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَذَكَرَ قِصَّةَ ابْنِ النَّوَّاحَةِ وَأَصْحَابِهِ وَشَهَادَتِهِمْ لمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ بِالرِّسَالَةِ، وَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَ بِقَتْلِ ابْنِ النَّوَّاحَةِ، ثُمَّ إِنَّهُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي أُولَئِكَ النَّفَرِ، فَقَامَ جَرِيرٌ وَالْأَشْعَثُ فَقَالَا: اسْتَتِبْهُمْ وَكَفِّلْهُمْ عَشَائِرَهُمْ، فَاسْتَتَابَهُمْ فَتَابُوا، فَكفَّلَهُمْ عَشَائِرَهُمْ" ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ بِلَا إِسْنَادٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا، فَوَقَعَ رَجُلٌ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَأَخَذَ حَمْزَةُ مِنَ الرَّجُلِ كُفَلَاءَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى عُمَرَ، وَكَانَ عُمَرُ قَدْ جَلَدَهُ مِائَةً، فَصَدَّقَهُمْ وَعَذَرَهُ بِالْجَهَالَةِ.
(١١٤١٥) (الف) حارثہ بنمضرّفرماتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، اس نے ابن نواحہ اور اس کے ساتھیوں کا قصہ بیان کیا اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ ان کی شہادت بھی بیان کی اور ابن مسعود نے ابن نواحہ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ پھر اس جماعت کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا۔ جریر اور اشعث کھڑے ہوئے اور دونوں نے کہا: ان سے توبہ کراؤ اور ان کے قبیلے سے ضمانت مانگو۔ پھر انھوں نے توبہ کرلی اور ان کے قبیلے نے ان کی ضمانت دے دی۔
(ب) قال البخاری: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حمزہ کو صدقہ وصول کرنے بھیجا، وہاں پہ ایک آدمی اپنی بیوی کی لونڈی پر واقع ہوا۔ حمزہ نے آدمی سے ضمانت لی یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ عمر نے اسے ١٠٠ کوڑے لگائے، پھر اس نے قبول کیا اور جہالت کا عذر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11415]
(ب) قال البخاری: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حمزہ کو صدقہ وصول کرنے بھیجا، وہاں پہ ایک آدمی اپنی بیوی کی لونڈی پر واقع ہوا۔ حمزہ نے آدمی سے ضمانت لی یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ عمر نے اسے ١٠٠ کوڑے لگائے، پھر اس نے قبول کیا اور جہالت کا عذر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11415]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 1/384 2، 3642»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا السَّرَّاجُ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الرَّجُلِ عَلَى شَهَادَةِ الرَّجُلِ فِي حَدٍّ، وَلَا كَفَالَةَ فِي حَدٍّ" وَرُوِّينَاهُ أَيْضًا عَنْ شُرَيْحٍ وَمَسْرُوقٍ وَإِبْرَاهِيمَ، وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.
(١١٤١٦) شعبی سے روایت ہے کہ حد میں کسی آدمی کی گواہی جائز نہیں اور نہ حد میں ضمانت جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11416]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11417
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامَغَانِيُّ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْكَلَاعِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْحِمْصِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا كَفَالَةَ فِي حَدٍّ" ⦗١٢٨⦘ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: عُمَرُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الدِّمَشْقِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ عَنِ الثِّقَاتِ قَالَ الشَّيْخُ: تَفَرَّدَ بِهِ بَقِيَّةُ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عُمَرَ بْنِ أَبِي عُمَرَ الْكَلَاعِيِّ، وَهُوَ مِنْ مَشَايِخِ بَقِيَّةَ الْمَجْهُولِينَ، وَرِوَايَاتُهُ مُنْكَرَةٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١١٤١٧) عمر بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حد میں ضمانت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11417]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11418
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبًا الَّذِي كَانَ يُقَدِّمُ الْخُصُومَ إِلَى شُرَيْحٍ قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ ابْنًا لِشُرَيْحٍ إِلَى شُرَيْحٍ كَفَلَ لَهُ بِرَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَحَبَسَهُ شُرَيْحٌ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ قَالَ:" اذْهَبْ إِلَى عَبْدِ اللهِ بِفِرَاشٍ وَطَعَامٍ" وَكَانَ ابْنُهُ يُسَمَّى عَبْدَ اللهِ.
(١١٤١٨) سلیمان شیبانی فرماتے ہیں: میں نے حبیب سے سنا، وہ جھگڑوں کو شریح کی طرف لے جاتے تھے۔ اس نے کہا: ایک آدمی اپنے بیٹے کو لے کر شریح کے پاس گیا، وہ ایک آدمی کے قرض کا ضامن تھا۔ اسے شریح نے روک لیا۔ جب رات ہوئی تو کہا: جاؤ عبداللہ کے پاس سونے اور کھانے کے لیے اور اس کے بیٹے کا نام عبداللہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11418]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11419
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا مُعَاذٌ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ، أَنَّهُمَا قَالَا فِي رَجُلٍ تَكَفَّلَ بِنَفْسِ رَجُلٍ فَمَاتَ الرَّجُلُ، قَالَ أَحَدُهُمَا:" يَضْمَنُ الدَّرَاهِمَ"، وَقَالَ الْآخَرُ:" لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ".
(١١٤١٩) شعبہ بن حجاج حکم اور حماد سے نقل فرماتے ہیں، دونوں نے ایک آدمی کے بارے میں کہا جو کسی کا ضامن بنا تھا، دونوں میں سے ایک نے کہا: وہ درہموں کا ضامن ہے اور دوسرے نے کہا: اس پر کوئی چیز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11419]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح