السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2409. -- باب: وجوب الحق بالضمان
-- باب: ضمانت کے ذریعے حق واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11392
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الزَّعِيمُ غَارِمٌ" قَالَ الْمُزَنِيُّ: وَالزَّعِيمُ فِي اللُّغَةِ هُوَ الْكَفِيلُ قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَاهُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ السُّدِّيِّ.
(١١٣٩٢) حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضمانت دینے والا اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے۔ مزنی کہتے ہیں: زعیم لغت میں کفیل کو کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11392]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 11393
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَنَا زَعِيمٌ، وَالزَّعِيمُ: الْحَمِيلُ، لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ".
(١١٣٩٣) فضالۃ بن عبید فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ میں ضمانت دیتا ہوں اور ضمانت دینے والا اپنا ذمہ لینے والا ہوتا ہے۔ اس شخص کے لیے جو میرے ساتھ ایمان لایا اور مسلمان ہوا اور ہجرت کی جنت کے آخری مقام کی بشارت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11393]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 11394
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَنَا زَعِيمٌ، وَالزَّعِيمُ: الْحَمِيلُ، لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَأَنَا زَعِيمٌ لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى غُرَفِ الْجَنَّةِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلَمْ يَدَعْ لِلْخَيْرِ مَطْلَبًا، وَلَا مِنَ الشَّرِّ مَهْرَبًا، يَمُوتُ حَيْثُ يَشَاءُ أَنْ يَمُوتَ" وَذَكَرَ الْمُزَنِيُّ هَا هُنَا حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الضَّمَانِ، وَإِسْنَادُ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ ضَعِيفٌ، فَالْأَوْلَى بِنَا أَنْ نُقَدِّمَ مَا.
(١١٣٩٤) فضالۃ بن عبید فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ میں ضامن ہوں اور ضامن ذمہ دار ہوتا ہے، اس شخص کے لیے جو مجھ پر ایمان لایا اور اسلام قبول کیا اور ہجرت کی جنت کے آخری مقام میں گھر کی بشارت ہے اور جنت کے درمیان میں گھر کی اور جنت کے اعلیٰ مقام پر گھر کی اور جس نے یہ کیا اس نے خیر کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا اور شر سے واسطہ نہیں بنانا چاہا وہ جس جگہ بھی فوت ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11394]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 11395
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَ:" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" فَقَالُوا: لَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ. وَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ:" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ. وَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ:" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هُوَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ.
(١١٣٩٥) حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس انصار کے ایک آدمی کا ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز ے جنازہ پڑھادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس پر قرض تو نہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ انھوں نے ہاں میں جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے بھائی کی نماز ے جنازہ پڑھ لو۔ حضرت ابو قتادہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11395]
تخریج الحدیث: «بخاري 2297، مسلم 1619»
الحكم على الحديث: بخاري 2297، مسلم 1619
حدیث نمبر: 11396
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا أَبُو مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهِ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: لَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا. ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، قَالَ:" ثَلَاثَ كَيَّاتٍ". قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثِ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَصَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ. قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ هَكَذَا فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَفِي رِوَايَةِ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجِنَازَةِ الْأُخْرَى قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ. فَصَلَّى عَلَيْهَا.
(١١٣٩٦) حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس پر نماز جنازہ پڑھادیں۔ آپ نے پوچھا: کیا اس پر قرض تو نہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس کی نماز جنازہ پڑھادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ انھوں نے ہاں میں جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ انھوں نے کہا: تین دینار۔ آپ نے فرمایا: تین دینار مختصر سازوسامان، پھر ایک تیسرے آدمی کا جنازہ لایا گیا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں آپ نے فرمایا: تم اپنے بھائی کی نماز ے جنازہ پڑھ لو انصار کے ایک آدمی جسے ابو قتادہ کہا جاتا تھا۔ حضرت ابو قتادہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11396]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11397
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى أَحَدٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَقَالَ:" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، دِينَارَانِ، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ".
(١١٣٩٧) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جس پر قرض ہوتا تھا۔ ایک میت لائی گئی۔ آپ نے پوچھا: اس پر قرض ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں دو دینار۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے بھائی کی نمازِجنازہ پڑھ لو۔ ابو قتادہ نے کہا: میں ان کا ذمہ دار ہوں، پھر آپ نے اس کی نماز پڑھائی۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات عطا فرمائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مومن کا زیادہ حق دار ہوں اس کی جان سے۔ جو مقروض فوت ہو اس کا قرض مجھ پر اور جو مال چھوڑے تو وہ اس کے ورثا کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11397]
تخریج الحدیث: «صحيح۔أخرجه احمد22963،14205،14206»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11398
وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْجَوْهَرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَتَقَدَّمَ لِيُصَلِّيَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ:" هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ لَهُ مِنْ وَفَاءٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَقَالَ:" جَزَاكَ اللهُ يَا عَلِيُّ خَيْرًا كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ فَكَّ رِهَانَ أَخِيهِ إِلَّا فَكَّ اللهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" وَرَوَاهُ عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ، وَفِيهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَرِئَ مِنْ دَيْنِهِ وَأَنَا ضَامِنٌ لِمَا عَلَيْهِ وَرَوَاهُ زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ الْوَصَّافِيِّ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَنَا ضَامِنٌ لِدَيْنِهِ وَالْحَدِيثُ يَدُورُ عَلَى عُبَيْدِ اللهِ الْوَصَّافِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا. وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.
(١١٣٩٨) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ نے ہماری طرف دیکھا اور کہا: کیا یہ مقروض تو نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اسے پورا کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے اس نے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تم اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ حضرت علی نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس کے قرض کا ذمہ دار ہوں، آپ آگے ہوئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور فرمایا: اے علی! اللہ تجھے بہتر جزادے جس طرح سے تو نے اپنے بھائی سے قرض کا بوجھ ہلکا کیا۔ جو بھی مسلمان اپنے بھائی سے بوجھ ہلکا کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے بوجھ ہلکا کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11398]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11399
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِجِنَازَةٍ لَمْ يَسْأَلْ عَنْ شَيْءٍ مِنْ عَمَلِ الرَّجُلِ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ عَنْ دَيْنِهِ، فَإِنْ قِيلَ عَلَيْهِ دَيْنٌ كَفَّ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، وَإِنْ قِيلَ: لَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ صَلَّى عَلَيْهِ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَلَمَّا قَامَ سَأَلَ أَصْحَابَهُ:" هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: عَلَيْهِ دِينَارَانِ دَيْنٌ، فَعَدَلَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، هُمَا عَلَيَّ، بَرِئَ مِنْهُمَا، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" يَا عَلِيُّ، جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا، فَكَّ اللهُ رِهَانَكَ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ إِلَّا وَهُوَ مُرْتَهَنٌ بِدَيْنِهِ، فَمَنْ فَكَّ رِهَانَ مَيِّتٍ فَكَّ اللهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هَذَا لِعَلِيٍّ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ فَقَالَ:" لَا، بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً" عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ ضَعِيفٌ، وَالرِّوَايَاتُ فِي تَحَمُّلِ أَبِي قَتَادَةَ دَيْنَ الْمَيِّتِ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١١٣٩٩) حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی جنازہ لایاجاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں صرف یہ سوال کرتے کہ کیا یہمقروض تو نہیں تھا۔ پس اگر کہا جاتا: ہاں تو آپ جنازہ پڑھانے سے رک جاتے۔ اگر کہا جاتا: نہیں تو آپ جنازہ پڑھا دیتے۔ پس ایک جنازہ لایا گیا، آپ کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تمہارے اس بھائی پر قرض تو نہیں تھا؟ انھوں نے کہا: اس پر دو دینار قرض کے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہٹ گئے اور فرمایا: تم اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ حضرت علی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ دونوں میرے ذمہ ہیں اور یہ میت اس سے بری ہے۔ آپ آگے ہوئے اور نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: اے علی! اللہ تجھے بہتر جزادے۔ اللہ تعالیٰ تیرا بوجھ ہلکا کرے جس طرح تو نے اپنے بھائی کا قرض والا بوجھ ہلکا کیا ہے۔ جو کوئی فوت ہو اور اس پر قرض ہو تو وہ اس قرض کے ساتھ گروی رکھ دیا جاتا ہے۔ پس جس نے کسی میت کا قرض اتارا اللہ اس سے قیامت کے دن بوجھ اتاریں گے۔ بعض صحابہ نے کہا: کیا یہ علی کے لیے خاص ہے یا مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11399]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11400
وَأَمَّا حَدِيثُ الْحَمَالَةِ الَّتِي احْتَجَّ بِهَا الْمُزَنِيُّ فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبُحْتُرِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِي حَمَالَةٍ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ لِيُمْسِكْ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ أَوْ فَاقَةٌ حَتَّى تَكَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِلْمِ مِنْ قَوْمِهِ فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَهُوَ سُحْتٌ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ.
(١١٤٠٠) حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تاکہ تاوان (کے سلسلہ) میں (مدد کے لیے) سوال کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین صورتوں کے سوا سوال کرنا حرام ہے: ایک وہ آدمی جس پر تاوان (چٹی) پڑگیا۔ اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کے وہ اسے ادا کر دے۔ پھر (سوال کرنے سے) رک جائے، دوسرا وہ آدمی جسی اچانک آفت آجائے اور وہ (آفت) اس کا مال تباہ کر دے، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کی گزر بسر مضبوط ہوجائے یا یہ کہا: اس کی گزر بسر سیدھی ہوجائے، پھر وہ مانگنے سے رک جائے اور تیسرا وہ آدمی جو ضرورت مند بن جائے یا اس (کی حالت) فاقوں تک پہنچ جائے اور اس کی قوم کے تین آدمی اس کے متعلق گواہی دیں تو اس کے لیے سوال کرنا (مانگنا) جائز ہے۔ اس کے علاوہ سوال کرنا (مانگنا) ناجائز اور حرام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11400]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1044»
الحكم على الحديث: صحيح
2410. -- باب: ما يستدل به على أن الضمان لا ينقل الحق بل يزيد في محل الحق فيكون لرب المال أن يأخذهما وكل واحد منهما
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضمانت حق کو منتقل نہیں کرتی بلکہ حق کے محل میں اضافہ کرتی ہے، پس مال کے مالک کو اختیار ہے کہ ان دونوں (مقروض اور ضامن) سے یا ان میں سے کسی ایک سے اپنا حق وصول کر لے۔
حدیث نمبر: 11401
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ: قَالَ جَابِرٌ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَتَخَطَّى خُطًى ثُمَّ قَالَ:" عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قُلْنَا: نَعَمْ، دِينَارَانِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: الدِّينَارَانِ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَقُّ الْغَرِيمِ، وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ"، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَقَالَ: بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ:" مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ؟" فَقَالَ: إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ، فَعَادَ عَلَيْهِ كَالْغَدِ فَقَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ" فَأَخْبَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ أَنَّهُ بِالْقَضَاءِ بَرَدَ عَلَيْهِ جِلْدُهُ، وَقَوْلُهُ:" حَقُّ الْغَرِيمِ وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ"، إِنْ كَانَ حَفِظَهُ ابْنُ عَقِيلٍ، فَإِنَّمَا عَنَى بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ لِلْغَرِيمِ مُطَالَبَتُكَ بِهِمَا وَحْدَكَ إِنْ شَاءَ، كَمَا لَوْ كَانَ لَهُ عَلَيْكَ حَقٌّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، وَالْمَيِّتُ مِنْهُ بَرِيءٌ، كَانَ لَهُ مُطَالَبَتُكَ بِهِ وَحْدَكَ إِنْ شَاءَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١١٤٠١) (الف) عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی فوت ہوگیا، ہم نے اسے غسل دیا اور کفن دیا۔ پھر ہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ قدم چلے اور پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ ہم نے کہا: ہاں دو دینار ہیں۔ آپ واپس پھرگئے۔ ابو قتادہ نے دو دینار اپنے ذمہ لے لیے۔ پھر ہم آپ کے پاس آئے۔ ابو قتادہ نے کہا: دونوں دینار میرے ذمہ ہیں۔ آپ نے فرمایا: قرض کی ذمہ داری حق ہے اور میت ان دیناروں سے بری ہے۔ اس نے کہا: ہاں، پھر آپ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک دن اس کے بعد ارشاد فرمایا: کیا کیا ان دو دیناروں کا؟ آپ نے فرمایا: وہ فوت ہوگیا ہے کل اور وہ آئندہ کل اس پر لوٹ آئیں گے۔ قتادہ نے کہا: میں نے وہ دونوں ادا کردیے تھے، آپ نے فرمایا: تو نے اس کے چمڑے کو اس پر ٹھنڈا کردیا ہے۔
(ب) ایک روایت میں ہے کہ قضاکیساتھ اس کی جلد اس پر ٹھنڈی ہوگئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11401]
(ب) ایک روایت میں ہے کہ قضاکیساتھ اس کی جلد اس پر ٹھنڈی ہوگئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11401]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف