🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2409. -- باب: وجوب الحق بالضمان
-- باب: ضمانت کے ذریعے حق واجب ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11392
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الزَّعِيمُ غَارِمٌ" قَالَ الْمُزَنِيُّ: وَالزَّعِيمُ فِي اللُّغَةِ هُوَ الْكَفِيلُ قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَاهُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ السُّدِّيِّ.
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضمانت دینے والا اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے۔ امام مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: «الزَّعِيمُ» لغت میں «الْكَفِيلُ» کو کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11392]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11393
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَنَا زَعِيمٌ، وَالزَّعِيمُ: الْحَمِيلُ، لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ".
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ضمانت دیتا ہوں اور ضمانت دینے والا اپنا ذمہ لینے والا ہوتا ہے، اس شخص کے لیے جو میرے ساتھ ایمان لایا اور مسلمان ہوا اور ہجرت کی، جنت کے آخری مقام کی بشارت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11393]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11394
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَنَا زَعِيمٌ، وَالزَّعِيمُ: الْحَمِيلُ، لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَأَنَا زَعِيمٌ لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى غُرَفِ الْجَنَّةِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلَمْ يَدَعْ لِلْخَيْرِ مَطْلَبًا، وَلَا مِنَ الشَّرِّ مَهْرَبًا، يَمُوتُ حَيْثُ يَشَاءُ أَنْ يَمُوتَ" وَذَكَرَ الْمُزَنِيُّ هَا هُنَا حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الضَّمَانِ، وَإِسْنَادُ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ ضَعِيفٌ، فَالْأَوْلَى بِنَا أَنْ نُقَدِّمَ مَا.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ: میں ضامن ہوں اور ضامن ذمہ دار ہوتا ہے، اس شخص کے لیے جو مجھ پر ایمان لایا اور اسلام قبول کیا اور ہجرت کی؛ (اس کے لیے) جنت کے آخری مقام میں گھر کی بشارت ہے اور جنت کے درمیان میں گھر کی اور جنت کے اعلیٰ مقام پر گھر کی، اور جس نے یہ (عمل) کیا اس نے خیر کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا اور شر سے واسطہ نہیں بنانا چاہا، وہ جس جگہ بھی فوت ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11394]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11395
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَ:" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" فَقَالُوا: لَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ. وَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ:" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ. وَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ:" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هُوَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے ایک آدمی کا ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس پر قرض تو نہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11395]
تخریج الحدیث: «بخاري 2297، مسلم 1619»

الحكم على الحديث: بخاري 2297، مسلم 1619
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11396
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا أَبُو مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهِ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: لَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا. ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، قَالَ:" ثَلَاثَ كَيَّاتٍ". قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثِ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَصَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ. قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ هَكَذَا فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَفِي رِوَايَةِ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجِنَازَةِ الْأُخْرَى قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ. فَصَلَّى عَلَيْهَا.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس پر نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس پر قرض تو نہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ انہوں نے کہا: تین دینار۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دینار مختصر سازوسامان۔ پھر ایک تیسرے آدمی کا جنازہ لایا گیا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ انصار کے ایک آدمی جنہیں ابو قتادہ (رضی اللہ عنہ) کہا جاتا تھا، سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11396]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11397
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى أَحَدٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَقَالَ:" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، دِينَارَانِ، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جس پر قرض ہوتا تھا۔ ایک میت لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس پر قرض ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، دو دینار۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کا ذمہ دار ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز پڑھائی۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات عطا فرمائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مومن کا زیادہ حق دار ہوں اس کی جان سے۔ جو مقروض فوت ہو اس کا قرض مجھ پر اور جو مال چھوڑے تو وہ اس کے ورثا کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11397]
تخریج الحدیث: «صحيح۔أخرجه احمد22963،14205،14206»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11398
وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْجَوْهَرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَتَقَدَّمَ لِيُصَلِّيَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ:" هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ لَهُ مِنْ وَفَاءٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَقَالَ:" جَزَاكَ اللهُ يَا عَلِيُّ خَيْرًا كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ فَكَّ رِهَانَ أَخِيهِ إِلَّا فَكَّ اللهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" وَرَوَاهُ عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ، وَفِيهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَرِئَ مِنْ دَيْنِهِ وَأَنَا ضَامِنٌ لِمَا عَلَيْهِ وَرَوَاهُ زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ الْوَصَّافِيِّ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَنَا ضَامِنٌ لِدَيْنِهِ وَالْحَدِيثُ يَدُورُ عَلَى عُبَيْدِ اللهِ الْوَصَّافِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا. وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا: کیا یہ مقروض تو نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اسے پورا کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے اس نے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کے قرض کا ذمہ دار ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہوئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور فرمایا: اے علی! اللہ تجھے بہتر جزا دے جس طرح سے تو نے اپنے بھائی سے قرض کا بوجھ ہلکا کیا، جو بھی مسلمان اپنے بھائی سے بوجھ ہلکا کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے بوجھ ہلکا کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11398]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11399
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِجِنَازَةٍ لَمْ يَسْأَلْ عَنْ شَيْءٍ مِنْ عَمَلِ الرَّجُلِ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ عَنْ دَيْنِهِ، فَإِنْ قِيلَ عَلَيْهِ دَيْنٌ كَفَّ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، وَإِنْ قِيلَ: لَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ صَلَّى عَلَيْهِ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَلَمَّا قَامَ سَأَلَ أَصْحَابَهُ:" هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: عَلَيْهِ دِينَارَانِ دَيْنٌ، فَعَدَلَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، هُمَا عَلَيَّ، بَرِئَ مِنْهُمَا، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" يَا عَلِيُّ، جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا، فَكَّ اللهُ رِهَانَكَ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ إِلَّا وَهُوَ مُرْتَهَنٌ بِدَيْنِهِ، فَمَنْ فَكَّ رِهَانَ مَيِّتٍ فَكَّ اللهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هَذَا لِعَلِيٍّ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ فَقَالَ:" لَا، بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً" عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ ضَعِيفٌ، وَالرِّوَايَاتُ فِي تَحَمُّلِ أَبِي قَتَادَةَ دَيْنَ الْمَيِّتِ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں صرف یہ سوال کرتے: کیا یہ مقروض تو نہیں تھا؟ پس اگر کہا جاتا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ پڑھانے سے رک جاتے۔ اگر کہا جاتا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ پڑھا دیتے۔ پس ایک جنازہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تمہارے اس بھائی پر قرض تو نہیں تھا؟ انہوں نے کہا: اس پر دو دینار قرض کے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹ گئے اور فرمایا: تم اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ دونوں میرے ذمہ ہیں اور یہ میت اس سے بری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور فرمایا: اے علی! اللہ تجھے بہتر جزا دے۔ اللہ تعالیٰ تیرا بوجھ ہلکا کرے جس طرح تو نے اپنے بھائی کا قرض والا بوجھ ہلکا کیا ہے۔ جو کوئی فوت ہو اور اس پر قرض ہو تو وہ اس قرض کے ساتھ گروی رکھ دیا جاتا ہے۔ پس جس نے کسی میت کا قرض اتارا، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن بوجھ اتاریں گے۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیا یہ علی (رضی اللہ عنہ) کے لیے خاص ہے یا مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11399]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11400
وَأَمَّا حَدِيثُ الْحَمَالَةِ الَّتِي احْتَجَّ بِهَا الْمُزَنِيُّ فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبُحْتُرِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِي حَمَالَةٍ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ لِيُمْسِكْ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ أَوْ فَاقَةٌ حَتَّى تَكَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِلْمِ مِنْ قَوْمِهِ فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَهُوَ سُحْتٌ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ.
سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تاکہ تاوان (کے سلسلہ) میں (مدد کے لیے) سوال کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین صورتوں کے سوا سوال کرنا حرام ہے: ایک وہ آدمی جس پر تاوان (چٹی) پڑ گیا، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے، پھر (سوال کرنے سے) رک جائے؛ دوسرا وہ آدمی جسے اچانک آفت آ جائے اور وہ (آفت) اس کا مال تباہ کر دے، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کی گزر بسر مضبوط ہو جائے یا یہ کہا: اس کی گزر بسر سیدھی ہو جائے، پھر وہ مانگنے سے رک جائے؛ اور تیسرا وہ آدمی جو ضرورت مند بن جائے یا اس (کی حالت) فاقوں تک پہنچ جائے اور اس کی قوم کے تین آدمی اس کے متعلق گواہی دیں تو اس کے لیے سوال کرنا (مانگنا) جائز ہے، اس کے علاوہ سوال کرنا (مانگنا) ناجائز اور حرام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11400]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1044»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2410. -- باب: ما يستدل به على أن الضمان لا ينقل الحق بل يزيد في محل الحق فيكون لرب المال أن يأخذهما وكل واحد منهما
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضمانت حق کو منتقل نہیں کرتی بلکہ حق کے محل میں اضافہ کرتی ہے، پس مال کے مالک کو اختیار ہے کہ ان دونوں (مقروض اور ضامن) سے یا ان میں سے کسی ایک سے اپنا حق وصول کر لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11401
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ: قَالَ جَابِرٌ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَتَخَطَّى خُطًى ثُمَّ قَالَ:" عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قُلْنَا: نَعَمْ، دِينَارَانِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: الدِّينَارَانِ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَقُّ الْغَرِيمِ، وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ"، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَقَالَ: بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ:" مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ؟" فَقَالَ: إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ، فَعَادَ عَلَيْهِ كَالْغَدِ فَقَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ" فَأَخْبَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ أَنَّهُ بِالْقَضَاءِ بَرَدَ عَلَيْهِ جِلْدُهُ، وَقَوْلُهُ:" حَقُّ الْغَرِيمِ وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ"، إِنْ كَانَ حَفِظَهُ ابْنُ عَقِيلٍ، فَإِنَّمَا عَنَى بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ لِلْغَرِيمِ مُطَالَبَتُكَ بِهِمَا وَحْدَكَ إِنْ شَاءَ، كَمَا لَوْ كَانَ لَهُ عَلَيْكَ حَقٌّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، وَالْمَيِّتُ مِنْهُ بَرِيءٌ، كَانَ لَهُ مُطَالَبَتُكَ بِهِ وَحْدَكَ إِنْ شَاءَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی فوت ہو گیا، ہم نے اسے غسل دیا اور کفن دیا، پھر ہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ قدم چلے اور پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، دو دینار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹ گئے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے وہ دو دینار اپنے ذمہ لے لیے، پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: دونوں دینار میرے ذمہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا قرض خواہ کا حق ثابت ہو گیا اور میت ان دیناروں سے بری ہو گئی؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر اس کے ایک دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان دو دیناروں کا کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کل فوت ہوا ہے اور وہ آئندہ کل اس پر لوٹ آئیں گے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے وہ دونوں ادا کر دیے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدَتُهُ» اب تم نے اس کے چمڑے کو اس پر ٹھنڈا کر دیا ہے۔
(ب) ایک روایت میں ہے کہ قضا کے ساتھ اس کی جلد اس پر ٹھنڈی ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11401]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں