🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2419. -- باب: التوكيل في المال، وطلب الحقوق وقضائها، وذبح الهدايا وقسمها، والبيع والشراء والنفقة، وغير ذلك
-- باب: مال، حقوق طلب کرنے اور ان کی ادائیگی، ہدی (قربانی کے جانور) ذبح کرنے اور انہیں تقسیم کرنے، خرید و فروخت، خرچ کرنے اور دیگر امور میں کسی کو وکیل (نمائندہ) مقرر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11432
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ قَالَ: أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَقَالَ" إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا؛ فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يَدَكَ عَلَى تَرْقُوَتِهِ".
(١١٤٣٢) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے خیبر کی طرف جانے کا ارادہ کیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے سلام کہا اور کہا کہ میں خیبر کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو میرے وکیل کے پاس جائے تو اس سے پندرہ وسق کھجور لے لینا۔ پس اگر وہ تجھ سے کوئی نشانی مانگے تو اپنا ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11432]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 3632»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11433
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرَقِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ عَلَى الْبُدْنِ فَأَمَرَنِي فَقَسَمْتُ لُحُومَهَا، ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَسَمْتُ جِلَالَهَا وَجُلُودَهَا".
(١١٤٣٣) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ میں قربانیوں پر کھڑا ہوں اور مجھے ان کا گوشت تقسیم کرنے کا، ان کی جھول اور ان کا چمڑا تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11433]
تخریج الحدیث: «بخاري 1940، مسلم 1317»

الحكم على الحديث: بخاري 1940، مسلم 1317
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبُدْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قِصَّةِ الرَّجُلِ الَّذِي تَقَاضَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنًّا كَانَتْ لَهُ عَلَيْهِ:" اشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ"، وَفِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ بَيْعِ بَعِيرِهِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ، اقْضِهِ وَزِدْهُ" فَأَعْطَاهُ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ، وَزَادَهُ قِيرَاطًا.
(١١٤٣٤) ایک روایت کے الفاظ ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانیوں پر مقرر کیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت اس آدمی کے قصہ میں ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹوں کا تقاضا کیا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تھے کہ اس کے لیے اونٹ خریدو اور اسے وہی دے دو۔ ایک روایت کے الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو دو اور زیادہ بھی دینا۔ چنانچہ انھوں نے چار دینار اور ایک قیراط زائد دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11434]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ الْهَوْزَنِيُّ يَعْنِي أَبَا عَامِرٍ الْهَوْزَنِيَّ قَالَ: لَقِيتُ بِلَالًا مُؤَذِّنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَلَبَ، فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ، حَدِّثْنِي كَيْفَ كَانَتْ نَفَقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا كَانَ لَهُ شَيْءٌ إِلَّا أَنَا الَّذِي كُنْتُ أَلِي ذَلِكَ مِنْهُ مُنْذُ بَعَثَهُ اللهُ إِلَى أَنْ تُوُفِّيَ، فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ الْمُسْلِمُ فَرَآهُ عَارِيًا يَأْمُرُنِي فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَقْرِضُ فَأَشْتَرِيَ الْبُرْدَةَ وَالشَّيْءَ فَأَكْسُوَهُ وَأُطْعِمَهُ، حَتَّى اعْتَرَضَنِي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: يَا بِلَالُ، إِنَّ عِنْدِي سَعَةً، فَلَا تَسْتَقْرِضْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مِنِّي، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ تَوَضَّأْتُ ثُمَّ قُمْتُ لِأُؤَذِّنَ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا الْمُشْرِكُ فِي عِصَابَةٍ مِنَ التُّجَّارِ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: يَا حَبَشِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا لَبَيَّهِ، فَتَجَهَّمَنِي وَقَالَ قَوْلًا غَلِيظًا، فَقَالَ: أَتَدْرِي كَمْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الشَّهْرِ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَرِيبٌ، قَالَ: إِنَّمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَرْبَعُ لَيَالٍ، فَآخُذُكَ بِالَّذِي لِي عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَمْ أُعْطِكَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ مِنْ كَرَامَتِكَ، وَلَا مِنْ كَرَامَةِ صَاحِبِكَ، وَلَكِنْ أَعْطَيْتُكَ لِتَجِبَ لِي عَبْدًا؛ فَأَرُدُّكَ تَرْعَى الْغَنَمَ كَمَا كُنْتَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَأَخَذَ فِي نَفْسِي مَا يَأْخُذُ فِي أَنْفُسِ النَّاسِ، فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ أَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ، حَتَّى إِذَا صَلَّيْتُ الْعَتَمَةَ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنَّ الْمُشْرِكَ الَّذِي ذَكَرْتُ لَكَ أَنِّي كُنْتُ أَتَدَيَّنُ مِنْهُ قَدْ قَالَ كَذَا وَكَذَا، وَلَيْسَ عِنْدَكَ مَا تَقْضِي عَنِّي، وَلَا عِنْدِي، وَهُوَ فَاضِحِي، فَأَذِنَ لِي أَنْ آتِيَ إِلَى بَعْضِ هَؤُلَاءِ الْأَحْيَاءِ الَّذِينَ قَدْ أَسْلَمُوا حَتَّى يَرْزُقَ اللهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقْضِي عَنِّي، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَنْزِلِي، فَجَعَلْتُ سَيْفِي وَجِرَابِي وَرُمْحِي وَنَعْلِي عِنْدَ رَأْسِي وَاسْتَقْبَلْتُ بِوَجْهِيَ الْأُفُقَ، فَكُلَّمَا نِمْتُ انْتَبَهْتُ فَإِذَا رَأَيْتُ عَلَيَّ لَيْلًا نِمْتُ، حَتَّى انْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ الْأَوَّلِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ، فَإِذَا إِنْسَانٌ يَسْعَى يَدْعُو: يَا بِلَالُ، أَجِبْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَإِذَا أَرْبَعُ رَكَائِبَ عَلَيْهِنَّ أَحْمَالُهُنَّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنْتُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرْ؛ فَقَدْ جَاءَكَ اللهُ بِقَضَائِكَ"، فَحَمِدْتُ اللهَ، وَقَالَ:" أَلَمْ تَمُرَّ عَلَى الرَّكَائِبِ الْمُنَاخَاتِ الْأَرْبَعِ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ لَكَ رِقَابَهُنَّ وَمَا عَلَيْهِنَّ"، وَإِذَا عَلَيْهِنَّ كِسْوَةٌ وَطَعَامٌ أَهْدَاهُنَّ لَهُ عَظِيمُ فَدَكٍ،" فَاقْبِضْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اقْضِ دَيْنَكَ"، قَالَ: فَفَعَلْتُ فَحَطَطْتُ عَنْهُنَّ أَحْمَالَهُنَّ ثُمَّ عَقَلْتُهُنَّ ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَى تَأْذِينِ صَلَاةِ الصُّبْحِ، حَتَّى إِذَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتُ إِلَى الْبَقِيعِ فَجَعَلْتُ أُصْبُعِي فِي أُذُنِي، فَنَادَيْتُ وَقُلْتُ: مَنْ كَانَ يَطْلُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنًا فَلْيَحْضُرْ، فَمَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَقْضِي وَأَعْرِضُ وَأَقْضِي حَتَّى لَمْ يَبْقَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى فَضُلَ عِنْدِي أُوقِيَّتَانِ أَوْ أُوقِيَّةٌ وَنِصْفٌ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَقَدْ ذَهَبَ عَامَّةُ النَّهَارِ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحْدَهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي:" مَا فَعَلَ مَا قِبَلَكَ؟" قَالَ: قُلْتُ: قَدْ قَضَى اللهُ كُلَّ شَيْءٍ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ، فَقَالَ:" فَضُلَ شَيْءٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ دِينَارَانِ، قَالَ:" ⦗١٣٤⦘ انْظُرْ أَنْ تُرِيحَنِي مِنْهُمَا، فَلَسْتُ بِدَاخِلٍ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِي حَتَّى تُرِيحَنِي مِنْهُمَا"، فَلَمْ يَأْتِنَا، فَبَاتَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَصْبَحَ، وَظَلَّ فِي الْمَسْجِدِ الْيَوْمَ الثَّانِي حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ النَّهَارِ جَاءَ رَاكِبَانِ فَانْطَلَقْتُ بِهِمَا فَكَسَوْتُهُمَا وَأَطْعَمْتُهُمَا، حَتَّى إِذَا صَلَّى الْعَتَمَةَ دَعَانِي فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الَّذِي قِبَلَكَ؟" قُلْتُ: قَدْ أَرَاحَكَ اللهُ مِنْهُ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللهَ شَفَقًا مِنْ أَنْ يُدْرِكَهُ الْمَوْتُ وَعِنْدَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَاءَ أَزْوَاجَهُ فَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ امْرَأَةٍ حَتَّى أَتَى فِي مَبِيتِهِ، فَهَذَا الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ.
(١١٤٣٥) ابو عامر عبداللہ ہوزنی فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن بلال کو حلب مقام پر ملا۔ میں نے کہا: اے بلال! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے بارے میں آگاہ کرو۔ بلال کہنے لگے: جب سے اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا، اس وقت سے وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی چیز ایسی نہیں جس کا میں والی نہ بنا ہوں۔ جب آپ کے پاس کوئی مسلمان آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ننگا دیکھ لیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے حکم دیتے، میں جاتا اور قرض لے کر چادر خرید کر لاتا یا کوئی چیز اور میں اسے پہنادیتا اور اسے کھلاتا۔ یہاں تک کہ مشرکین کے ایک آدمی نی مجھ پر اعتراض کیا اور کہا: اے بلال! بیشک میں اتنی وسعت والا ہوں۔ میرے علاوہ کسی اور سے قرض نہ لینا، چنانچہ میں نے اس سے قرض لینا شروع کردیا۔ ایک دن میں نے وضو کیا، نماز کے لیے اذان کہنے لگا تو وہ مشرک آدمی تاجروں کی ایک جماعت میں سے نمودار ہوا۔ مجھے دیکھا تو کہنے لگا: اے حبشی! میں نے ہاں کہا تو وہ مجھپر متوجہ ہوا اور سخت باتیں کرنے لگا۔ کہنے لگا: کیا تجھے پتہ ہے تیرے مہینہ کے وعدے میں کتنے دن رہ گئے ہیں۔ میں نے کہا: وعدہ قریب ہے۔ اس نے کہا: چار راتیں رہ گئیں ہیں۔ میں تجھ سے اپنا قرض لے لوں گا، پھر میں تجھے نہیں دوں گا جو میں تیری یا تیرے صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزت میں دیتا تھا بلکہ اس لیے دوں گا تاکہ تو میرا غلام بن جائے۔ پھر میں تجھے بکریاں چرانے پرلوٹا دوں گا، جس طرح تو پہلے تھا، اس نے مجھ پر دباؤ ڈالا جس طرح وہ دوسرے لوگوں پر دباؤ ڈالتا تھا۔ میں چلا میں نے نماز کے لیے اذان کہی یہاں تک کہ میں نے عشا کی نماز پڑھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر لوٹ آئے۔ میں نے آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ مجھے اجازت ملی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ بیشک وہ مشرک آدمی جس کا میں نے آپ کو بتایا تھا جس سے میں قرض لیتا تھا اس نے اس اس طرح کہا ہے۔ آپ کے پاس بھی قرض دینے کے لیے کچھ نہیں اور نہ میرے پاس کوئی چیز ہے اور وہ مجھے ملامت کررہا تھا۔ مجھے اجازت دیں میں ان قبیلوں کے پاس جاؤں جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے یہاں تک کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رزق دے جس سے وہ میرا قرض اتاریں۔ میں نکلا اپنے گھر آیا میں نے اپنی تلوار، موزہ، نیزہ اور جوتا اپنے سر پر رکھا اور اپنے آپ کو ایک کونے کی طرف متوجہ کیا۔ جب مجھے نیند آنے لگتی تو میں چونک جاتا۔ جب میں نے رات محسوس کی تو سو گیا یہاں تک کہ صبح کی روشنی پھوٹی۔ میں نے جانے کا ارادہ کیا پس ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔ اور وہ پکار رہا تھا: اے بلال! تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلایا ہے، میں آپ کے پاس آیا تو دیکھا کہ چار جانور لدے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے اندر داخل ہونے کی اجازت لی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوش ہوجا اے بلال! اللہ نے تیرے قرضے کو ادا کرنے کے لیے مال بھیجا ہے۔ بعد میں فرمایا: کیا تو نے وہ چار جانور لدے ہوئے نہیں دیکھے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جا وہ جانور بھی تو لے لے اور ان پر لدا ہوا سامان بھی۔ ان پر کپڑا اور غلہ لدا ہوا ہے، یہ مجھے فدک کے رئیس نے بھیجا ہے، ان کو لے جا اور اپنا قرض ادا کر۔ بلال فرماتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا، میں ان کا سامان اتارا اور سمجھ کے ساتھ اس کو ادا کیا۔ پھر میں نے صبح کی اذان کا ارادہ کیا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ میں بقیع کی طرف گیا، میں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں، میں نے پکارا اور میں نے کہا: جس نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرض لینا ہے وہ آجائے، پھر میں بیچتا رہا اور قرض ادا کرتا رہا اور پیش کرتا رہا اور قرض بھی ادا کرتا رہا حتیٰ کہ زمین پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی قرض نہ رہا، یہاں تک کہ دو یا ڈیڑھ اوقیہ بچ گیا۔ پھر میں مسجد میں گیا اور دن کا اکثر حصہ بیت چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلے ہی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کہا: اس مال کا تجھے کیا فائدہ ہوا؟ میں نے کہا: اللہ نے ہر چیز ادا کردی ہے جو اس کے رسول پر تھی، آپ پر باقی کچھ نہیں بچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس مال سے کچھ بچا ہے؟ میں نے کہا: ہاں دو دینار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جلدی اسیخرچ کر دے اور مجھے بےفکر کر۔ میں اس وقت تک گھر داخل نہیں ہوں گا جب تک تو مجھے بےفکر نہ کردے گا۔ پس ہمارے پاس کوئی بھی سائل نہ آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں ہی رات گزاری۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرا دن بھی مسجد میں رہے حتیٰ کہ دن کے آخری حصہ میں دو سوار آئے۔ میں ان کے پاس گیا، میں نے ان کو پہنا دیا اور کھلا دیا۔ جب عشاء کی نماز پڑھی تو آپ نے مجھے بلایا، آپ نے پوچھا: اس مال کا کیا بنا؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بےفکر کردیا ہے۔ پس آپ نے تکبیر کہی اور اللہ کی حمد بیان کی۔ آپ کو ڈر تھا کہ کہیں وہ مال میرے پاس ہو اور موت نہ آجائے۔ پھر میں آپ کے پیچھے ہوا، آپ اپنی بیویوں کے پاس آئے۔ ایک ایک کو سلام کہا، یہاں تک کہ سونے والی جگہ پر تشریف لائے۔ یہی تھا وہ جس کے بارے میں تو نے مجھ سے سوال کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11435]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2420. -- باب: التوكيل في الخصومات مع الحضور والغيبة
-- باب: جھگڑوں (مقدمات) میں حاضری اور غیاب کی صورت میں کسی کو وکیل مقرر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11436
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، أَوْ حَدَّثَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ فِي حَاجَةٍ، فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ مُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَا أَمْرَ صَاحِبِهِمَا، فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَتَكَلَّمَ، وَكَانَ أَقْرَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ" قَالَ يَحْيَى: لِيَلِي الْكَلَامَ الْكُبْرُ، فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَوَارِيرِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ.
(١١٤٣٦) عبداللہ بن سہل اور محیصۃ بن مسعود دونوں کسی کام کی غرض سے خیبر گئے، ایک کھجوروں کے باغ میں علیحدہ علیحدہ ہوگئے۔ عبداللہ بن سھل مار دیے گئے۔ ان کے بھائی عبدالر حمن بن سھل اور ان کے چچا کے بیٹے محیصہ اور حویصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے۔ انھوں نے دونوں کا معاملہ بیان کیا۔ عبدالر حمن بات کرنے لگے، وہ زیادہ قریبی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بڑا زیادہ حق دا رہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: کلام کا آغاز بڑے آدمی کی طرف ہو، پس ان دونوں نے کلام کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11436]
تخریج الحدیث: «بخاري 6142، مسلم 1669»

الحكم على الحديث: بخاري 6142، مسلم 1669
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11437
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ: حَدَثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ جَهْمِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ:" كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَكْرَهُ الْخُصُومَةَ، فَكَانَ إِذَا كَانَتْ لَهُ خُصُومَةٌ وَكَّلَ فِيهَا عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَمَّا كَبِرَ عَقِيلٌ وَكَّلَنِي".
(١١٤٣٧) عبداللہ بن جعفر سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب جھگڑے کو ناپسند کرتے تھے، جب کوئی معاملہ در پیش ہوتا تو عقیل بن ابی طالب کو وکیل مقرر کرتے۔ جب وہ بوڑھے ہوگئے تو مجھے وکیل بنادیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11437]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11438
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ جَهْمٌ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ وَكَّلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ بِالْخُصُومَةِ فَقَالَ: إِنَّ لِلْخُصُومَةِ قَحْمًا" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ أَبُو الزَّيَّادِ: الْقَحْمُ: الْمَهَالِكُ.
(١١٤٣٨) محمد بن اسحاق مدینہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں، اس کا نام جہم تھا، وہ حضرت علی سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن جعفر کو جھگڑے میں وکیل مقرر کیا، پس کہا: جھگڑے میں ہلاکت ہے۔ ابو زیاد کہتے ہیں: قحم ہلاک کی جگہ کو کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11438]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2421. -- باب: فضل النيابة عمن لا يهدي
-- باب: جو شخص (نابینا ہونے وغیرہ کی وجہ سے) خود راستہ نہ پا سکتا ہو اس کی جانب سے نیابت (رہنمائی) کرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11439
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ فِيمَا أَظُنُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللهِ"، قَالَ: فَأِيُّ الْعَتَاقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْفَسُهَا"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ؟ قَالَ:" فَتُعِينُ الصَّانِعَ، وَتَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" تَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّكَ؛ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخَرْجَاهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ.
(١١٤٣٩) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا، اس نے پوچھا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مالک کی نظر میں زیادہ پسندیدہ ہو۔ اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ایسا نہ پاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کاریگر کی مدد کر یا کسی اخرق کی۔ اس نے کہا: اگر میں اس کی بھی طاقت نہ رکھوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے، یہ بھی صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11439]
تخریج الحدیث: «بخاري 2518، مسلم 84»

الحكم على الحديث: بخاري 2518، مسلم 84
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11440
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالْأَجْرِ، فَقَالَ:" أَلَسْتُمْ تُصَلُّونَ وَتَصُومُونَ وَتُجَاهِدُونَ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، وَهُمْ يَفْعَلُونَ كَمَا نَفْعَلُ، يُصَلُّونَ وَيَصُومُونَ وَيُجَاهِدُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، قَالَ:" إِنَّ فِيكَ صَدَقَةً كَثِيرَةً، إِنَّ فِي فَضْلِ بَيَانِكَ عَنِ الْأَرْتَمِ تُعَبِّرُ عَنْهُ حَاجَتَهُ صَدَقَةٌ، وَفِي فَضْلِ سَمْعِكَ عَلَى السَّيِّئِ السَّمْعِ تُعَبِّرُ عَنْهُ حَاجَتَهُ صَدَقَةٌ، وَفِي فَضْلِ بَصَرِكَ عَلَى ضَرِيرِ الْبَصَرِ تَهْدِيهِ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ، وَفِي قُوَّتِكَ عَلَى الضَّعِيفِ تُعِينُهُ صَدَقَةٌ، وَفِي إِمَاطَتِكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَفِي مُبَاضَعَتِكَ أَهْلَكَ صَدَقَةٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيُؤْجَرُ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ جَعَلْتَهُ فِي غَيْرِ حِلِّهِ أَكَانَ عَلَيْكَ وِزْرٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَفَتَحْتَسِبُونَ بِالشَّرِّ وَلَا تَحْتَسِبُونَ بِالْخَيْرِ؟" وَرُوِّينَا هَذَا مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
(١١٤٤٠) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ! مالدار لوگ اجر میں بڑھ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نماز، روزہ اور جہاد نہیں کرتے ہو؟ عرض کیا: کیوں نہیں، وہ بھی ایسے ہی کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں۔ وہ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور جہاد کرتے ہیں اور وہ صدقہ بھی کرتے ہیں۔ ہم صدقہ نہیں کرتے۔ آپ نے فرمایا: تجھ میں بیشمار صدقات ہیں: بیشک تیرا کسی نہ بولنے والے کی طرف سے بول دینا جس سے اس کی حاجت پوری ہو صدقہ ہے اور تیرا کسی ناسننے والے کی طرف سے سن لینا جس سے اس کی کوئی حاجت پوری ہو صدقہ ہے اور کسی نابینے کو راستہ دکھا دینا صدقہ ہے اور تیری طاقت کا کمزور آدمی کی مدد میں لگ جانا صدقہ ہے اور تیرا راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے اور تیرا اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی صدقہ ہے۔ ابو ذر کہتے ہیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت کو آئے اور اسے اجر بھی ملے آپ نے فرمایا: تیرا کیا خیال ہے اگر تو اسے غیر محل میں پورا کرے تو تجھے گناہ ہوگا؟ کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم شر کا خیال کرتے ہو اور بھلائی کا خیال نہیں کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11440]
تخریج الحدیث: «بخاري 843، مسلم 595»

الحكم على الحديث: بخاري 843 ، مسلم 595
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2422. -- باب: إثم من خاصم أو أعان في خصومة بباطل
-- باب: ناحق جھگڑا کرنے والے یا ناحق جھگڑے میں مدد کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11441
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ فَقَدْ ضَادَّ اللهَ فِي مُلْكِهِ، وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ، ⦗١٣٦⦘ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ حُبِسَ فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ".
(١١٤٤١) ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے آگے حائل ہوگئی تو اس نے اللہ کی بادشاہت میں اس کی نافرمانی کی اور جو مقروض حالت میں فوت ہوا تو وہاں کوئی دینار اور درھم نہ ہوگا، بلکہ نیکیاں اور برائیاں ہوں گی اور جس نے جاننے کے باوجود باطل میں جھگڑا کیا تو وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہے گا حتی کہ الگ ہوجائے اور جس نے کسی مومن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہ تھی تو وہ ردغۃ الخبال میں قید رہے گا حتی کہ اس سے نکل جائے جو کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11441]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»