السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2473. -- باب: من زرع في أرض غيره بغير إذنه أو بإذنه على سبيل المزارعة
-- باب: جس شخص نے کسی دوسرے کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر، یا اس کی اجازت سے مزارعت کے طور پر کھیتی باڑی کی۔
حدیث نمبر: 11746
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ عَطَاءً عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ مُرْسَلٌ، حَتَّى تَبَيَّنَ لِي أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ أَيْضًا عَنْ عَطَاءٍ مُرْسَلٌ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ، وَتُرَدُّ عَلَيْهِ قِيمَةُ نَفَقَتِهِ" قَالَ يُوسُفُ: غَيْرُ حَجَّاجٍ لَا يَقُولُ عَبْدَ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ الشَّيْخُ: أَبُو إِسْحَاقَ كَانَ يُدَلِّسُ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ يَقُولُونَ: عَطَاءٌ عَنْ رَافِعٍ مُنْقَطِعٌ. وَقَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ: هَذَا الْحَدِيثُ لَا يَثْبُتُ عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى عَنْ مُوسَى بْنِ هَارُونَ الْحَمَّالِ أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ هَذَا الْحَدِيثَ وَيُضَعِّفُهُ وَيَقُولُ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ غَيْرُ شَرِيكٍ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ عَطَاءٍ غَيْرُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَطَاءٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ شَيْئًا، قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ عُقْبَةُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، وَعُقْبَةُ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، ⦗٢٢٧⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ رَافِعٍ فَبُكَيْرٌ وَإِنِ اسْتَشْهَدَ بِهِ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَأَمَّا الْحَدِيثُ الثَّالِثُ فَرَوَاهُ أَبُو جَعْفَرٍ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْخَطْمِيُّ، وَلَمْ أَرَ الْبُخَارِيَّ وَلَا مُسْلِمًا احْتَجَّا بِهِ فِي حَدِيثٍ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِيَ عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَعْنَاهُ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی قوم کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر زراعت کی، اس کے لیے زراعت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور اسے اس کے خرچ کی قیمت دے دی جائے گی۔“
ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سمجھتا تھا کہ عطاء کی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، یہاں تک کہ مجھ پر واضح ہوا کہ ابو اسحاق کی عطاء سے روایت بھی مرسل ہے۔ یوسف کہتے ہیں: حجاج کے علاوہ کوئی عبدالعزیز (بن رفیع) کا ذکر نہیں کرتا، وہ کہتے ہیں: ابو اسحاق سے، وہ عطاء سے۔ ابو اسحاق تدلیس کرتے تھے اور اہل علم حدیث کہتے ہیں: عطاء کی رافع سے روایت منقطع ہے۔ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث ماہرینِ حدیث کے نزدیک ثابت نہیں ہے؛ موسیٰ بن ہارون حمال اس حدیث کا انکار کرتے اور اسے ضعیف قرار دیتے تھے اور کہتے تھے: اسے ابو اسحاق سے شریک کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور عطاء سے ابو اسحاق کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور عطاء نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اسے عقبہ بن اصم نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ ہمیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، لیکن عقبہ ضعیف ہے، اس سے حجت نہیں لی جاتی۔ رہی بکیر بن عامر بجلی کی ابن ابی نعم سے، رافع رضی اللہ عنہ سے روایت، تو بکیر سے اگرچہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں استشہاد کیا ہے، لیکن یحییٰ بن سعید قطان، حفص بن غیاث، احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور تیسری حدیث کو ابو جعفر عمیر بن یزید خطمی نے روایت کیا ہے، میں نے نہیں دیکھا کہ امام بخاری یا امام مسلم نے کسی حدیث میں اس سے حجت لی ہو، واللہ اعلم۔ اور رفاعہ بن رافع بن خدیج سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کی روایت کی گئی ہے، لیکن وہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11746]
ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سمجھتا تھا کہ عطاء کی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، یہاں تک کہ مجھ پر واضح ہوا کہ ابو اسحاق کی عطاء سے روایت بھی مرسل ہے۔ یوسف کہتے ہیں: حجاج کے علاوہ کوئی عبدالعزیز (بن رفیع) کا ذکر نہیں کرتا، وہ کہتے ہیں: ابو اسحاق سے، وہ عطاء سے۔ ابو اسحاق تدلیس کرتے تھے اور اہل علم حدیث کہتے ہیں: عطاء کی رافع سے روایت منقطع ہے۔ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث ماہرینِ حدیث کے نزدیک ثابت نہیں ہے؛ موسیٰ بن ہارون حمال اس حدیث کا انکار کرتے اور اسے ضعیف قرار دیتے تھے اور کہتے تھے: اسے ابو اسحاق سے شریک کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور عطاء سے ابو اسحاق کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور عطاء نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اسے عقبہ بن اصم نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ ہمیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، لیکن عقبہ ضعیف ہے، اس سے حجت نہیں لی جاتی۔ رہی بکیر بن عامر بجلی کی ابن ابی نعم سے، رافع رضی اللہ عنہ سے روایت، تو بکیر سے اگرچہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں استشہاد کیا ہے، لیکن یحییٰ بن سعید قطان، حفص بن غیاث، احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور تیسری حدیث کو ابو جعفر عمیر بن یزید خطمی نے روایت کیا ہے، میں نے نہیں دیکھا کہ امام بخاری یا امام مسلم نے کسی حدیث میں اس سے حجت لی ہو، واللہ اعلم۔ اور رفاعہ بن رافع بن خدیج سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کی روایت کی گئی ہے، لیکن وہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11746]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2474. -- باب: فضل الزرع والغرس إذا أكل منه
-- باب: کھیتی باڑی کرنے اور پودا لگانے کی فضیلت کا بیان جب اس میں سے کچھ کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 11747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان درخت لگاتا ہے یا کھیتی باڑی کرتا ہے، پھر اس سے پرندے کھاتے ہیں یا انسان یا کوئی جانور تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11747]
تخریج الحدیث: «مسلم 1553۔بخاري 3320»
الحكم على الحديث: مسلم 1553
حدیث نمبر: 11748
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ، امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" مَنْ غَرَسَ هَذَا، مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ؟" فَقَالُوا: مُسْلِمٌ، فَقَالَ:" لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا فَأَكَلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ طَيْرٌ أَوْ دَابَّةٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ مُسْلِمٌ: حَدَّثَنَا وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام مبشر رضی اللہ عنہا نامی انصاری عورت کے باغ میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کسی مسلمان کی شجر کاری ہے یا کافر کی؟“ انہوں نے کہا: مسلمان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان شجر کاری کرتا ہے اس سے کوئی انسان، پرندہ یا جانور کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11748]
تخریج الحدیث: «مسلم 1553»
الحكم على الحديث: مسلم 1553
حدیث نمبر: 11749
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ ⦗٢٢٨⦘ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ بِمَا أُكِلَ مِنْهُ، وَمَا سُرِقَ مِنْهُ، وَمَا أَكَلَتِ الطَّيْرُ مِنْهُ، وَمَا أَكَلَتِ الْوُحُوشُ مِنْهُ، أَوْ قَالَ: السِّبَاعُ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان شجرکاری کرتا ہے، پھر اس میں سے جو کھایا گیا اور جو چوری کیا گیا اور جو پرندوں اور چوپایوں نے کھا لیا، وہ سب صدقہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11749]
تخریج الحدیث: «مسلم 1552»
الحكم على الحديث: مسلم 1552
حدیث نمبر: 11750
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ فِي نَخْلٍ لَهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ، أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟" فَقَالَتْ: لَا، بَلْ مُسْلِمٌ، فَقَالَ:" لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا، وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا شَيْءٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے کھجوروں کے باغ میں تشریف لے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، مسلمان نے یا کافر نے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ مسلمان نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کوئی کھیتی بوتا ہے، پھر اس میں سے کوئی انسان، جانور یا کوئی بھی چیز کھاتی ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11750]
تخریج الحدیث: «مسلم»
الحكم على الحديث: مسلم
2475. -- باب: ما يستحب من حفظ المنطق في الزرع
-- باب: کھیتی باڑی کے دوران زبان (کی گفتگو) کی حفاظت کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11751
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ شَيْخٌ ثِقَةٌ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيُّ سَنَةَ سِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" لَا تَقُلْ: زَرَعْتُ وَلَكِنْ قُلْ: حَرَثْتُ، إِنَّ اللهَ هُوَ الزَّارِعُ" هَذَا مِنْ قَوْلِ مُجَاهِدٍ، وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ غَيْرُ قَوِيٍّ.
مجاہد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ تو یہ نہ کہہ کہ: ”میں نے کھیتی تیار کی“ بلکہ کہہ: ”میں نے بیج بویا، بیشک اللہ ہی بنانے والے ہیں۔“
یہ مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے، اور اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی روایت کی گئی ہے جو قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11751]
یہ مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے، اور اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی روایت کی گئی ہے جو قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11751]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11752
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ، جَارُ عُبَيْدٍ الْعِجْلِيِّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا مُسْلِمٌ الْجَرْمِيُّ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: زَرَعْتُ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: حَرَثْتُ" قَالَ مُحَمَّدٌ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} [الواقعة: ٦٤] .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے کھیتی تیار کی بلکہ یوں کہے کہ میں نے بوئی۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم سنتے نہیں کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ * أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ﴾ [سورة الواقعة: 63-64] ”پس تمہارا کیا خیال ہے جو تم بوتے ہو کیا تم اسے کھیتی بناتے ہو یا ہم اسے بنانے والے ہیں؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11752]
تخریج الحدیث: «ابن حبان 5722، الطبراني في الاوسط 8024»
الحكم على الحديث: ابن حبان 5722، الطبراني في الاوسط 8024
2476. -- باب: ما جاء في نصب الجماجم لأجل العين
-- باب: نظرِ بد سے بچنے کے لیے (کھیتوں میں) کھوپڑیاں گاڑنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11753
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ ⦗٢٢٩⦘ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِتِلْكَ الْجَمَاجِمِ تُجْعَلُ فِي الزَّرْعِ مِنْ أَجْلِ الْعَيْنِ" هَذَا مُنْقَطِعٌ وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّكُمْ تُحِبُّونَ الْمَاشِيَةَ فَأَقِلُّوا مِنْهَا؛ فَإِنَّكُمْ بِأَقَلِّ الْأَرْضِ مَطَرًا، وَاحْتَرِثُوا؛ فَإِنَّ الْحَرْثَ مُبَارَكٌ، وَأَكْثَرُوا فِيهِ مِنَ الْجَمَاجِمِ" وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ.
عمر بن علی بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھوپڑیوں کو نظرِ بد کی وجہ سے کھیتی میں رکھنے کا حکم دیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو فرمایا: ”اے قریش! تم مویشی پسند کرتے ہو، ان میں کمی کرو اس لیے کہ تمہارے پاس بارش والی زمین کم ہے اور کھیتی باڑی کرو، کھیتی باڑی میں برکت ہوتی ہے اور اس میں کھوپڑیاں زیادہ رکھا کرو۔“
پہلی روایت منقطع ہے اور یہ دوسری بھی مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11753]
پہلی روایت منقطع ہے اور یہ دوسری بھی مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11753]
2477. -- باب: ما جاء في طرح السرجين والعذرة في الأرض
-- باب: زمین میں گوبر اور غلاظت (بطور کھاد) ڈالنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11754
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا يَزِيدُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَيْهِ، هَكَذَا قَالَ يَزِيدُ، قَالَ: كَانَ سَعْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" يَحْمِلُ مِكْتَلَ عُرَّةٍ إِلَى أَرْضٍ لَهُ" قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ سَعْدٍ مِثْلَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَقَالَ سَعْدٌ: مِكْتَلُ عُرَّةٍ مِكْتَلُ بُرٍّ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الْعُرَّةُ هِيَ عَذِرَةُ النَّاسِ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ ذَلِكَ فِي الْعَذِرَةِ خَاصَّةً.
عبداللہ بن بابیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کھاد کا ٹوکرا اپنی زمین کی طرف لے جاتے تھے اور سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاد کا ٹوکرا گویا کہ گیہوں کا ٹوکرا ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْعُرَّةُ» لوگوں کی گندگی کو کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خاص طور پر انسانی فضلہ کے بارے میں اس کے خلاف منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11754]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ابي شيبه 12367»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11755
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ يَشْتَرِطُ عَلَى الَّذِي يُكْرِيهِ أَرْضَهُ أَنْ لَا يُعِرَّهَا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَدَعَ عَبْدُ اللهِ الْكِرَاءَ" وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی جو زمین کرایہ پر دیتے اس پر شرط لگاتے کہ وہ اس میں کھاد نہیں ڈالے گا، یہ اس وقت تھا جب وہ کرایہ پر زمین دیتے تھے۔
اس بارے میں ایک ضعیف حدیث بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11755]
اس بارے میں ایک ضعیف حدیث بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11755]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الام 6/241»
الحكم على الحديث: ضعيف