🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2471. -- باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع
-- باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11716
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ قَالَ: صَحِبْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ سِتَّ سِنِينَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّهُ لَقِيَهُ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، قَالَ رَافِعٌ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الْحَقُّ، قَالَ:" أَرَأَيْتَ مَحَاقِلَكُمْ، مَاذَا تَصْنَعُونَ بِهَا؟" قُلْنَا: نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ، قَالَ" فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا أَوْ أَمْسِكُوهَا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
(١١٧١٦) ابونجاشی فرماتے ہیں: میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے ساتھ چھ سال رہا، انھوں نے مجھے اپنے چچا ظہیر سے بیان کیا کہ ایک دن وہ اس سے ملے اور کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کام سے منع کیا ہے جس میں ہمارے لیے نفع ہے۔ رافع کہتے ہیں: میں نے کہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ حق ہے۔ آپ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے جو تم محاقلہ کرتے ہو؟ ہم نے کہا: ہم اجرت لیتے ہیں ربع پر اور کھجور اور جو کے وسق بدلے۔ آپ نے فرمایا: ایسا نہ کرو، اس میں کھیتی باڑی کرو یا اسے چھوڑ دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11716]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو عوا نه 5144»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11717
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ" قَالَ: قُلْتُ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَرَافِعٌ سَمِعَ النَّهْيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَعْنَى مَا سَمِعَ، وَإِنَّمَا حَكَى رَافِعٌ نَهْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَائِهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، وَكَذَلِكَ كَانَتْ تُكْرَى.
(١١٧١٧) حنظلہ بن قیس نے رافع بن خدیج سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ میں نے کہا: سونے اور چاندی کے بدلے؟ رافع نے کہا: سونے اور چاندی کے بدلے کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11717]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 1425»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11718
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا ⦗٢١٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ" فَقُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ الْحَدِيثَ الَّذِي يُذْكَرُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ؟ فَقَالَ:" أَكْثَرَ رَافِعٌ، وَلَوْ كَانَتْ لِي أَرْضٌ أَكْرَيْتُهَا" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ يَكُونُ سَالِمٌ سَمِعَ عَنْ رَافِعٍ الْخَبَرَ جُمْلَةً، فَرَأَى أَنَّهُ حَدَّثَ بِهِ عَلَى الْكِرَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَلَمْ يَرَ بِالْكِرَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بَأْسًا؛ لِأَنَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَقَدْ بَيَّنَهُ غَيْرُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ رَافِعٍ أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا.
(١١٧١٨) ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میں نے کہا: رافع والی حدیث کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا رافع اکثر اپنی طرف سے بات کردیتے ہیں۔ اگر میری زمین ہوتی تو کرایہ پر دیتا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: سالم نے رافع سے حدیث سنی تو خیال کیا کہ انھوں نے سونے اور چاندی کے بارے میں بیان کی ہے۔ اس لیے وہ سونے اور چاندی کے بدلے کوئی حرج نہ سمجھتے تھے اور مالک بن انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ نے بھی رافع سے اس بات کو واضح کیا ہے کہ آپ نے زمین کو پیداوار کے بدلے کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11718]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 1392»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11719
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَإِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا" قَالَ: فَسَأَلْتُهُ عَنْ كِرَائِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِكِرَائِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ".
(١١٧١٩) حنظلہ بن قیس نے رافع بن خدیج سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیداوار کے بدلے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا: حنظلہ کہتے ہیں: میں نے سونے اور چاندی کے بدلے دینے کے بارے میں سوال کیا تو رافع نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11719]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 2073»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11720
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا لَيْثٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّايَ" أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُنْبِتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ" فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: كَيْفَ هِيَ بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَا بَأْسَ بِهَا بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنِ اللَّيْثِ.
(١١٧٢٠) رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے میرے چچاؤں نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں زمین کرایہ پر دیتے تھے، اس کے بدلے جو زمین کی پیداوار ہوتی تھیں یا اس چیز کے بدلے جسے زمین کا مالک مستثنیٰ قرار دیتا تھا۔ پھر آپ نے اس سے منع کردیا۔ میں نے رافع سے کہا: درہموں اور دیناروں کے بدلے کیسا ہے؟ تو رافع نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11720]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11721
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَإِقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَاءَ ⦗٢١٩⦘ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَكَذَا؛ فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
(١١٧٢١) حنظلہ بن قیس فرماتے ہیں: میں نے رافع سے زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں لوگ نہر کے کنارے اور نالیوں کے سروں پر اور زمین کی پیداوارپر اسے کرایہ پر دیتے تھے۔ کبھی کوئی تلف ہوجاتی اور کوئی بچ جاتی اور لوگوں کو وہی کرایہ ملتا تھا جو بچ جاتا اس لیے آپ نے اس سے منع کردیا، لیکن اگر کوئی معین چیز ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11721]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ:" كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا، فَكُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَّا الْوَرِقُ فَلَمْ يَنْهَنَا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
(١١٧٢٢) حنظلہ بن قیس نے رافع بن خدیج سے سنا کہ ہم اکثر انصاری زمین کا محاقلہ کرتے تھے۔ ہم زمین کرایہ پر دیتے اس شرط پر کہ اس میں سے ہمارے لیے یہ ہوگا اور یہ ان کے لیے۔ کبھی اس کی پیداوار ہوجاتی اور کبھی نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کردیا۔ رہا چاندی کا مسئلہ تو اس سے ہم کو منع نہیں فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11722]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11723
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ حَنْظَلَةَ بْنَ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ:" كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مُزْدَرَعًا، وَكُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ بِالنَّاحِيَةِ مِنْهَا تُسَمَّى لِسَيِّدِ الْأَرْضِ، فَرُبَّمَا يُصَابُ ذَلِكَ وَتُصَابُ الْأَرْضُ، وَرُبَّمَا يَسْلَمُ ذَلِكَ وَتَسْلَمُ الْأَرْضُ" قَالَ:" فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ فَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
(١١٧٢٣) حضرت حنظلہ بن قیس انصاری نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم اکثر اہل مدینہ زراعت کرتے تھے، ہم ایک کنارے کے عوض زمین کرایہ پر لیتے تھے جو صاحب زمین کا ہوتا تھا۔ پھر کبھی یہ زمین خراب ہوتی کبھی وہ اور کبھی یہ صحیح رہتی اور کبھی وہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ہم کو منع کردیا۔ رہا سونا اور چاندی تو یہ اس زمانہ میں نہیں ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11723]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11724
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدٍ هُوَ ابْنُ ظُهَيْرٍ ابْنُ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَاهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، وَيَشْتَرِطُ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ، وَيَشْتَرِطُ الْقُصَارَةَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ، وَكَانَ الْعَيْشُ إِذْ ذَاكَ شَدِيدًا، قَالَ: وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهَا بِالْحَدِيدِ وَبِمَا شَاءَ اللهُ، وَنُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَنْفَعَةً، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ؛ فَإِنَّهُ يَنْهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَيَقُولُ:" مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، أَوْ لَيَدَعْ"، وَيَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ الْمَالُ الْعَظِيمُ مِنَ النَّخْلِ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقِ تَمْرٍ.
(١١٧٢٤) حضرت رافع بن خدیج کے بھتیجیظہیر کے بیٹے حضرت رسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی اپنی زمین سے مستثنیٰ ہوجاتا تو وہ ثلث، ربع اور نصف پردے دیتا اور تین نالیوں کی، بھوسے کی، ربیع کے پانی کی، پیداوار کی شرط لگاتا اور حالات سخت تھے۔ ہم زمینوں میں لوہے سے کام کرتے تھے اور جس سے اللہ چاہتا ہمیں نفع مل جاتا تھا۔ ہمارے پاس رافع بن خدیج آئے اور کہا: تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کام سے منع کیا ہے جس میں تمہارے لیے نفع ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ نفع مند ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو محاقلہ سے منع کیا اور فرمایا: جو اپنی زمین سے بےبس ہو، وہ اپنے بھائی کو دے دے یا اسے چھوڑدے اور تم کو مزابنہ سے منع کیا اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی کے پاس باغ ہو، پھر ایک آدمی آئے اور کہے: میں اسے اتنے وسق کھجوروں کے عوض لیتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11724]
تخریج الحدیث: «ابن ماجه 2460»

الحكم على الحديث: ابن ماجه 2460
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11725
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَقَالَ:" إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَيَزْرَعُهَا، وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ، وَرَجُلٌ اكْتَرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ".
(١١٧٢٥) حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ سے اور مزابنہ سے منع کیا اور فرمایا: تین طرح زراعت کی جاسکتی ہے: زمین کا مالک کھیتی باڑی کرے اور وہ آدمی جسے زمین دی جائے وہ زراعت کرے اور وہ آدمی جو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11725]
تخریج الحدیث: «حسن ابوداؤد3400»

الحكم على الحديث: حسن ابوداؤد3400
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں