🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2471. -- باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع
-- باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11726
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، ثنا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا، فَسَأَلَهُ:" لِمَنِ الزَّرْعُ؟ وَلِمَنِ الْأَرْضُ؟" فَقَالَ: زَرْعِي بِبَذْرِي وَعَمَلِي، لِي الشَّطْرُ وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ، فَقَالَ:" أَرْبَيْتُمَا"، فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ".
(١١٧٢٦) حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ زمین میں کھیتی باڑی کرتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاس سے گزرے اور وہ پانی لگا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کس کے لیے زراعت کر رہے ہو اور زمین کس کی ہے؟ رافع نے جواب دیا: میری زراعت، میرے بیج اور میرے کام کی وجہ سے نصف میرا اور نصف بنی فلاں کا ہے۔ آپ نے کہا: تم نے سودی لین دین کیا ہے۔ تو زمین اس کے مالک پر لوٹا دے اور اپنا خرچ لے لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11726]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداؤد 3402»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ يَعْلَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" كَانَ النَّاسُ يُكْرُونَ الْمَزَارِعَ بِمَا يَكُونُ عَلَى السَّاقِي، وَبِمَا صَعِدَ بِالْمَاءِ مِمَّا حَوْلَ النَّبْتِ كَانَ مِنَ الزَّرْعِ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُكْرُوا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ".
(١١٧٢٧) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگ پانی پر کھیتی باڑی کرتے تھے اور جو کنویں کے کنارے پر ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کردیا اور حکم دیا کہ سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11727]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2472. -- باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا
-- باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11728
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ" قُلْتُ: وَمَا الْمُخَابَرَةُ؟ قَالَ:" أَنْ يَأْخُذَ الْأَرْضَ بِنِصْفٍ أَوْ ثُلُثٍ أَوْ رُبُعٍ".
(١١٧٢٨) حضرت زید بن ثابت سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخابرہ سے منع کیا۔ میں نے سوال کیا: مخابرہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جو زمین نصف، ثلث یا ربع پر حاصل کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11728]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 21970»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11729
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ: زَعَمَ ثَابِتٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ، أَمَرَنَا بِالْمُؤَاجَرَةِ وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ.
(١١٧٢٩) عبداللہ بن سائب فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، ہم نے اس سے زراعت کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے کہا: ثابت کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزارعت سے منع کیا اور ہمیں اجرت کا حکم دیا اور کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11729]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 16502»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11730
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" إِنَّ أَمْثَلَ مَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ أَنْ تَسْتَأْجِرُوا الْأَرْضَ الْبَيْضَاءَ لَيْسَ فِيهَا شَجَرٌ".
(١١٧٣٠) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جو تم صاف زمین میں جس میں کوئی درخت نہ ہو کام کرتے ہو اس پر اجرت لو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے زمین کے کرایہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: میرا اونٹ اور میری زمین برابر ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11730]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11731
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ اسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ" قَالَ: وَأَنْبَأَ مَالِكٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ شَبِيهًا بِهِ، قَالَ: وَأَنْبَأَ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابِ عَنْ سَالِمٍ مِثْلَهُ.
(١١٧٣١) ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے زمین کرایہ پر لینے کے بارے میں سوال کیا سونے اور چاندی کے بدلے تو انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(٤) باب مَنْ أَبَاحَ الْمُزَارَعَۃَ بِجُزْئٍ مَعْلُومٍ مَشَاعٍ وَحَمَلَ النَّہْیَ عَنْہَا عَلَی التَّنْزِیہِ أَوْ عَلَی مَا لَوْ تَضَمَّنَ الْعَقْدُ شَرْطًا فَاسِدًا
جس نے مزارعت کو مشترک معلوم حصے کے عوض مباح کیا اور نہی کو تنزیہی پر محمول کیا یا یہ کہ معاملہ میں شرط فاسد ہو [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11731]
تخریج الحدیث: «مالك 1319»

الحكم على الحديث: مالك 1319
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11732
أَخْبَرَنَا أَبُوْ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّ مُجَاهِدًا قَالَ لِطَاوُسٍ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَأَسْمَعَ مِنْهُ الْحَدِيثَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فَانْتَهَرَهُ وَقَالَ: إِنِّي وَاللهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ مَا فَعَلْتُهُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
(١١٧٣٢) مجاہد نے طاؤس سے کہا: ہمارے ساتھ رافع کے بیٹے کی طرف چلو، اس سے حدیث سنیں، وہ اپنے والد سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں۔ طاؤس نے اس کو ڈانٹا اور کہا: اگر میں جانتا ہو تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے تو میں نہ کرتا، لیکن اس نے حدیث بیان کی ہے جو ان میں سے زیادہ عالم ہے یعنی ابن عباس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو زمین ہدیہ کرے تو اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس سے کرایہ لے لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11732]
تخریج الحدیث: «مسلم 1550»

الحكم على الحديث: مسلم 1550
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11733
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: مَا كُنَّا نَكْرَهُ الْمُزَارَعَةَ حَتَّى سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَارَعَةِ" وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنِ الْمُزَارَعَةِ وَقَالَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ شَيْئًا مَعْلُومًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ دُونَ رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَافِعٍ وَأَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ عَنْ سُفْيَانَ.
(١١٧٣٣) عمرو بن دینارفرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا: ہم مزارعت کو مکروہ نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ میں نے رافع سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزارعت سے منع کیا۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزارعت سے منع نہیں کیا اور فرمایا: اگر آدمی اپنے بھائی کو زمین دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس سے کرایہ لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11733]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو عوانه 5181»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11734
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ: لَوْ تَرَكْتَ الْمُخَابَرَةَ؛ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، قَالَ: أَيْ عَمْرُو، إِنِّي أُعْطِيهِمْ وَأُعِينُهُمْ، وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ أَخْبَرَنِي، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ وَلَكِنْ قَالَ:" أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
(١١٧٣٤) عمر وبن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے کہا: اگر آپ مخابرہ چھوڑ دیں! وہ گمان کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے، عمر ونے کہا: میں ان کو دیتا تھا اور ان کی حدود کرتا تھا اور میں سب سے زیادہ جانتاہوں۔ مجھے ابن عباس نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا بلکہ فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو زمین دے تو اس سے کرایہ لے لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11734]
تخریج الحدیث: «بخاري2330»

الحكم على الحديث: بخاري2330
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11735
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ لَمَّا سَمِعَ إِكْثَارَ النَّاسِ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا مَنَحَهَا أَخَاهُ"، وَلَمْ يَنْهَ عَنْ كِرَائِهَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ.
(١١٧٣٥) حضرت ابن عباس منقول ہے کہ میں نے جب اکثر لوگوں سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے سنا تو کہا: سبحان اللہ بیشک رسول اللہ نے فرمایا: خبردار! اپنے بھائی کودے دو اور آپ نے کرایہ سے منع نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11735]
تخریج الحدیث: «بخاري و مسلم»

الحكم على الحديث: بخاري و مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں