🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2500. -- باب: الصدقات المحرمات
-- باب: ان صدقات کے بیان میں جنہیں (فروخت کرنے یا ہبہ کرنے سے) حرام قرار دے کر وقف کر دیا گیا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11886
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، ح وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَشْهَلُ يَعْنِي ابْنَ حَاتِمٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ أَبُو عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا وَاللهِ مَا أَصَبْتُ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهَا، فَمَا تَأْمُرُنِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَحَبَسْتَ أَصْلَهَا"، قَالَ: فَجَعَلَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَدَقَةً لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ وَلَا تُورَثُ، تَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ، وَلِذَوِي الْقُرْبَى، وَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَفِي الرِّقَابِ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَالضَّيْفِ، وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ، وَيُطْعِمَهُ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ. لَفْظُهُ حَدِيثُ ابْنِ بِشْرَانَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے زیادہ پسندیدہ چیز میرے نزدیک کوئی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے تو پیداوار صدقہ کر دے اور اصل زمین روک لے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شرط پر اسے صدقہ کر دیا کہ نہ اسے بیچا جائے گا، نہ اسے ہبہ کیا جائے گا اور نہ ہی اس کا کوئی وارث بنے گا، اسے فقراء، مساکین، رشتہ داروں، اللہ کے راستے میں اور گردن آزاد کرانے میں صدقہ کیا جائے گا۔ ابن عون کا خیال ہے کہ مہمان اور جو اس کا والی ہو وہ بھی معروف طریقے سے کھا لے اور محتاج کو دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11886]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري 2737۔ مسلم 4223»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري 2737
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11887
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا"، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنْ لَا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلَا يُورَثَ وَلَا يُوهَبَ، لِلْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيلِ، وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسی کوئی چیز میرے نزدیک اچھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس بارے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے تو اصل زمین روک لے اور پیداوار صدقہ کردے۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقہ کردیا اس شرط پر کہ اسے نہ بیچا جائے گا نہ اس کا کوئی وارث بنے گا اور نہ ہبہ کی جائے گی۔ فقراء کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، گردن آزاد کرنے میں، اللہ کے راستے میں، مہمان کے لیے، مسافر کے لیے صدقہ کردیا اور اس کا والی اگر معروف طریقے سے کھالے یا کسی محتاج کو کھلا دے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11887]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11888
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَأْمُرُ بِهِ؟ فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا"، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنْ لَا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلَا يُورَثَ وَلَا يُوهَبَ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا، فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذَا الْمَكَانَ: غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالًا، قَالَ مُحَمَّدٌ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ قَرَأَ هَذَا الْكِتَابَ أَنَّ فِيهِ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، مشورہ مانگا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں ہے، آپ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس کی اصل روک لو اور اس کی پیداوار صدقہ کر دو۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صدقہ کر دیا اس شرط پر کہ اس کی اصل کو نہ بیچا جائے گا، نہ اس کا کوئی وارث بنے گا اور نہ اسے ہبہ کیا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے فقراء، رشتہ داروں، گردنیں آزاد کرنے، اللہ کے راستے میں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا اور کہا: جو اس کا والی ہو وہ معروف طریقے سے کھا لے یا کسی محتاج دوست کو کھلا دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11888]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11889
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالًا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، قَالَ:" إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا"، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لَا تُبَاعَ وَلَا تُوهَبَ وَلَا تُورَثَ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَالْأَقْرَبِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَفِي الرِّقَابِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِي الضَّيْفِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا يَأْكُلُ بِالْمَعْرُوفِ وَيُعْطِي بِالْمَعْرُوفِ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَذَكَرْتُهُ لِابْنِ سِيرِينَ، فَقَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الْحَفَرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے خیبر میں زمین ملی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ مانگا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اس سے پسندیدہ چیز میرے نزدیک کوئی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے تو اس کی پیداوار کو صدقہ کر دے اور اصل زمین اپنے پاس رکھ۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شرط پر صدقہ کر دیا کہ نہ وہ بیچی جائے گی، نہ ہبہ کی جائے گی اور نہ اسے وارث بنایا جائے گا، پس فقراء، رشتہ دار، اللہ کے راستے میں، گردن آزاد کرنے میں، مسافر اور مہمان کے لیے اسے صدقہ کر دیا اور کہا: جو اس کا والی ہو، اگر وہ معروف طریقے سے اس میں سے کھا لے یا اپنے محتاج دوست کو کھلا دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11889]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11890
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ بِشْرٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَحَبَّ إِلِيَّ مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ:" إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهِ، وَإِنْ شِئْتَ أَمْسَكْتَ أَصْلَهُ"، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ مَالًا، أَوْ مُتَأَثِّلٍ مِنْهُ مَالًا ⦗٢٦٤⦘ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَأَرْسَلَهُ جَمَاعَةٌ عَنْ حَمَّادٍ وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ آخِرَهُ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ حَمَّادٍ مَوْصُولًا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اس سے محبوب چیز میرے نزدیک کوئی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تو چاہے تو صدقہ کر دے اور اصل کو روک لے، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کمزوروں، مساکین اور مسافر پر صدقہ کر دیا اور کہا: جو اس کا والی ہو وہ معروف طریقے سے کھا لے یا محتاج دوست کو کھلا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11890]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11891
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي هَارُونُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثنا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَصَدَّقَ بِمَالٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: ثَمْغٌ، وَكَانَ نَخْلًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي اسْتَفَدْتُ مَالًا وَهُوَ عِنْدِي نَفِيسٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقْ بِأَصْلِهِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ وَلَا يُورَثُ، وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرُهُ، فَتَصَدَّقَ بِهِ عُمَرُ، فَصَدَقَتُهُ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَفِي الرِّقَابِ وَالْمَسَاكِينِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَلِذِي الْقُرْبَى، وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَه أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُؤْكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ بِهِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مال صدقہ کیا، اسے «ثَمْغٌ» کہا جاتا تھا۔ وہ ایک باغ تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے مال ملا ہے جو بڑا پسندیدہ ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اسے صدقہ کر دوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی اصل صدقہ کر دے، نہ بیچا جائے نہ ہبہ کیا جائے، نہ وارث بنایا جائے، لیکن اس کا پھل صدقہ کر دے۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں، گردن آزاد کرنے میں، مساکین، مہمان، مسافر اور رشتہ داروں کے لیے صدقہ کر دیا اور کہا: جو اس کا والی ہو وہ اس سے معروف طریقے سے کھا لے یا اپنے دوست کو کھلا دے اور جو محتاج ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11891]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11892
وَبِهَذَا الْمَعْنَى رُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ الَّذِي بِثَمْغٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقْ بِثَمَرِهِ وَاحْبِسْ أَصْلَهُ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُورَثُ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ بِلَالٍ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فَذَكَرَهُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا، اپنا ثمغ والا مال صدقہ کرنے کے بارے میں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پھل صدقہ کر دے اور اصل روک لے۔ نہ اسے بیچا جائے اور نہ اس کا وارث بنایا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11892]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11893
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ صَدَقَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: نَسَخَهَا لِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي ثَمْغٍ، أَنَّهُ إِلَى حَفْصَةَ مَا عَاشَتْ تُنْفِقُ ثَمَرَهُ حَيْثُ أَرَاهَا اللهُ، فَإِنْ تُوُفِّيَتْ فَإِنَّهُ إِلَى ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا، لَا يُشْرَى أَصْلُهُ أَبَدًا، وَلَا يُوهَبُ، وَمَنْ وَلِيَهُ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِي ثَمَرِهِ إِنْ أَكَلَ أَوْ أَكَّلَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، فَمَا عَفَا عَنْهُ مِنْ ثَمَرِهِ فَهُوَ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَالضَّيْفِ وَذَوِي الْقُرْبَى وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ، تُنْفِقُهُ حَيْثُ أَرَاهَا اللهُ مِنْ ذَلِكَ، فَإِنْ تُوُفِّيَتْ فَإِلَى ذِي الرَّأْيِ مِنْ وَلَدِي، وَالْمِائَةُ الْوَسْقِ الَّذِي أَطْعَمَنِي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوَادِي بِيَدِي لَمْ أُهْلِكْهَا، فَإِنَّهُ مَعَ ثَمْغٍ عَلَى سُنَنِهِ الَّتِي أَمَرْتُ بِهَا، وَإِنْ شَاءَ وَلِيُّ ثَمْغٍ اشْتَرَى مِنْ ثَمَرِهِ رَقِيقًا لِعَمَلِهِ. وَكَتَبَ مُعَيْقِيبٌ، وَشَهِدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَرْقَمِ:" بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ ⦗٢٦٥⦘ عَبْدُ اللهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ أَنَّ ثَمْغًا، وَصِرْمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، وَالْعَبْدَ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ السَّهْمِ الَّذِي بِخَيْبَرَ، وَرَقِيقَهُ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ، يَعْنِي الْوَسْقَ الَّذِي أَطْعَمَهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلِيهِ حَفْصَةُ مَا عَاشَتْ، ثُمَّ يَلِيهِ ذُو الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا، لَا يُبَاعُ وَلَا يُشْتَرَى، يُنْفِقُهُ حَيْثُ رَأَى مِنَ السَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَذَوِي الْقُرْبَى، وَلَا حَرَجَ عَلَى وَلِيِّهِ إِنْ أَكَلَ أَوْ أَكَّلَ، أَوِ اشْتَرَى لَهُ رَقِيقًا مِنْهُ".
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ثمغ والا مال حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے تھا، جب تک وہ زندہ رہیں، اس کا پھل خرچ کریں گی، جتنا اللہ نے لگایا، پس اگر وہ فوت ہو جائیں تو وہ ان کے خاندان میں سے زیادہ عقل مند کی طرف منتقل ہو جائے گا، اس کی کبھی بیع نہیں کی جائے گی اور نہ ہبہ کیا جائے گا اور جو اس کا والی ہو گا، اس پر اس کا پھل کھانا معروف طریقے سے یا اپنے محتاج دوست کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہو گا، جو پھل بچے وہ سائل، محروم، مہمان، رشتہ داروں، مسافر اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے گا۔ پس اگر (حفصہ) فوت ہو جائیں تو میری اولاد میں سے عقل مند کی طرف لوٹ جائے گا اور ایک سو وسق جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی میں کھلائے انہیں کبھی ختم نہیں کروں گا اور وہ ثمغ کے ساتھ اسی طریقے پر رہیں گے جس کا میں نے حکم دیا ہے۔ اگر ثمغ کا والی چاہے اس کے پھل سے کام کرنے کے لیے غلام خرید سکتا ہے اور معیقیب نے لکھا، عبداللہ بن ارقم اس پر گواہ تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے، یہ وہ ہے جو اللہ کے بندے عمر نے وصیت کی: اگر وہ فوت ہو جائے بیشک ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور وہ بندہ جو اس میں ہو اور ایک سو حصے خیبر والے اور اس کا غلام اور ایک سو وسق جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلایا، حفصہ کے پاس ہے۔ جب تک وہ زندہ ہے پھر اس کو ملے گا جو اس کے اہل میں سے عقل مند ہو۔ نہ بیچا جائے گا اور نہ خریدا جائے گا۔ وہ اس سے خرچ کرے گا، جب دیکھے گا کہ کوئی سائل، محروم، رشتہ دار ہو اور اس کے والی پر کوئی حرج نہیں کہ اس سے کھا لے یا کوئی غلام خرید لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11893]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11894
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ قَالَ:" لَمْ يَتْرُكْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بَغْلَةً بَيْضَاءَ وَسِلَاحًا وَأَرْضًا، جَعَلَهَا صَدَقَةً".
سیدنا عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفید خچر، اپنی زرہ اور زمین ترکہ کے طور پر چھوڑی، اس کو صدقہ کر دیا گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11894]
تخریج الحدیث: «ابن الجعد 2534۔ ابن سعد 2/ 316»

الحكم على الحديث: ابن الجعد 2534
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11895
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ خَتَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخِي امْرَأَتِهِ قَالَ:" وَاللهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً، وَلَا شَيْئًا، إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَسِلَاحَهُ وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَأَبِي الْأَحْوَصِ وَالثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
سیدنا عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ غلام، نہ لونڈی اور نہ کوئی اور چیز سوائے سفید خچر کے اور اپنی زِرہ اور زمین کے، اس کو بھی صدقہ کر دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11895]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں