السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2507. -- باب: الصدقة في ولد البنين والبنات ومن تناوله اسم الولد والابن منهم
-- باب: بیٹوں اور بیٹیوں کی اولاد پر صدقہ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے ہر اس شخص پر صدقہ کرنا جس پر اولاد اور بیٹے کا اطلاق ہوتا ہو
حدیث نمبر: 11926
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطَ، أنبأ شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟" فَقُلْتُ: حَرْبًا، فَقَالَ:" بَلْ هُوَ حَسَنٌ"، ثُمَّ وُلِدَ الْحُسَيْنُ فَسَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟" فَقُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ:" بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ"، فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فَقَالَ:" أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟" قُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ:" بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ"، ثُمَّ قَالَ:" سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ: شَبَّرَ وَشَبِيرَ وَمُشَبَّرَ" رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" إِنِّي سَمَّيْتُ بَنِيَّ هَؤُلَاءِ بِتَسْمِيَةِ هَارُونَ بَنِيهِ"، وَرُوِيَ فِي هَذَا الْمَعْنَى أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا: ”مجھے دکھاؤ میرا بیٹا، تم نے کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے کہا: حرب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ وہ حسن ہے۔“ پھر جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ وہ حسین ہے۔“ جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھنے آئے تو فرمایا: ”مجھے دکھاؤ میرا بیٹا، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟“ میں نے کہا: حرب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ محسن ہے۔“ پھر فرمایا: ”میں نے ان کے نام ہارون کی اولاد کے ناموں پر رکھے ہیں: شبر، شبیر اور مشبر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11926]
تخریج الحدیث: «احمد 771۔ الطيالسي 131»
الحكم على الحديث: احمد 771
2508. -- باب: الصدقة في العترة
-- باب: عترت (خاندان اور اہل بیت) پر صدقہ کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر: Q11927
قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: هِيَ لِوَلَدِهِ وَوَلَدِ وَلَدِهِ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ وَلِعَشِيرَتِهِ الْأَدْنَيْنَ، يَدُلُّكَ عَلَى ذَلِكَ قَوْلُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَحْنُ عِتْرَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا، وَبَيْضَتُهُ الَّتِي تَفَقَّأَتْ عَنْهُ.
قتیبی (ابن قتیبہ) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(عترت سے مراد) آدمی کی اولاد، اس کی اولاد کی اولاد، مذکر و مؤنث، اور اس کے قریبی رشتہ دار ہیں، اور اس پر تمہاری رہنمائی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ قول کرتا ہے: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عترت (خاندان) ہیں جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ انڈا ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھوٹا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل اور خاندان ہیں)۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: Q11927]
حدیث نمبر: 11927
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَرْبٍ اللَّيْثِيُّ، ثنا هَاشِمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ هَاشِمٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو دَغْفَلٍ الْهُجَيْمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ يَقُولُ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عِتْرَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بَعْضُ مَنْ يُجْهَلُ، وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ السَّقِيفَةِ: نَحْنُ عِتْرَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سنا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کنبہ ہیں۔
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سقیفہ کے دن کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کنبہ ہیں۔
اس سند میں بعض راوی مجہول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11927]
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سقیفہ کے دن کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کنبہ ہیں۔
اس سند میں بعض راوی مجہول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11927]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2509. -- باب: الصدقة في الذرية ومن يتناوله اسم الذرية
-- باب: ذرّیت (نسل) پر صدقہ کرنے کا بیان اور ہر اس شخص پر جس پر ذرّیت کے نام کا اطلاق ہوتا ہو
حدیث نمبر: 11928
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا ⦗٢٧٥⦘ شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلَ يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ عَلَى الْحَجَّاجِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ الْهَاشِمِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ التَّمِيمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ النَّحَّاسُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، ثنا عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ قَالَ: اجْتَمَعُوا عِنْدَ الْحَجَّاجِ، فَذُكِرَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَقَالَ الْحَجَّاجُ: لَمْ يَكُنْ مِنْ ذُرِّيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ، فَقَالَ لَهُ:" كَذَبْتَ أَيُّهَا الْأَمِيرُ"، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنِّي عَلَى مَا قُلْتَ بِبَيِّنَةٍ مِنْ مِصْدَاقٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ أَوْ لَأَقْتُلَنَّكَ، قَالَ" {وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَارُونَ} إِلَى قَوْلِهِ {وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى} [الأنعام: ٨٥] ، فَأَخْبَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ عِيسَى مِنْ ذُرِّيَّةِ آدَمَ بِأُمِّهِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ مِنْ ذُرِّيَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّهِ، قَالَ: صَدَقْتَ"، فَمَا حَمَلَكَ عَلَى تَكْذِيبِي فِي مَجْلِسِي؟ قَالَ:" مَا أَخَذَ اللهُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ {لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ} [آل عمران: ١٨٧] ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ١٨٧] " قَالَ: فَنَفَاهُ إِلَى خُرَاسَانَ.
عاصم بن بہدلہ فرماتے ہیں کہ وہ سب حجاج کے پاس جمع ہوئے، حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا گیا، حجاج نے کہا: وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت نہیں ہیں، یحییٰ بن یعمر بھی پاس تھے، انہوں نے حجاج سے کہا: اے امیر! آپ نے جھوٹ بولا ہے، حجاج نے کہا: جو تو نے کہا ہے اس کی سچائی کے لیے کتاب اللہ سے دلیل لا ورنہ تجھے قتل کر دوں گا۔ یحییٰ نے کہا: ﴿وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَارُونَ﴾ [سورة الأنعام: 84] «إِلَىٰ قَوْلِهِ» ﴿وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ﴾ [سورة الأنعام: 85] ، اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ عیسیٰ آدم کی ذریت ہیں اپنی ماں کے ساتھ اور حسین بن علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت ہیں اپنی ماں (فاطمہ رضی اللہ عنہا) کے ساتھ، حجاج نے کہا: تو نے سچ کہا، لیکن میری مجلس میں میری تکذیب پر تجھے کسی چیز نے ابھارا ہے؟ یحییٰ نے کہا: اللہ نے انبیاء پر جو وعدہ لیا ہے اس نے ابھارا ہے: ﴿لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ﴾ [سورة آل عمران: 187] ”تم لوگوں کے لیے اس کو واضح کرو گے اور اسے نہ چھپاؤ گے۔“ پس انہوں نے اسے پشت کے پیچھے ڈال دیا اور اسے تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ ڈالا۔ حجاج نے یحییٰ کو خراسان کی طرف برطرف کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11928]
تخریج الحدیث: «الحاكم 4756»
الحكم على الحديث: الحاكم 4756
2510. -- باب: الصدقة على ما شرط الواقف من الأثرة والتقدمة والتسوية
-- باب: واقف کی شرط کے مطابق صدقہ کرنے کا بیان، خواہ وہ کسی کو ترجیح دینے، مقدم رکھنے یا سب کو برابر رکھنے کی شرط ہو
حدیث نمبر: 11929
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ وَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان اپنی شرطوں کو پورا کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11929]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ احمد 8770۔ ابوداود 3594»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 11930
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو يُوسُفَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ الزُّبَيْرَ جَعَلَ دُورَهُ صَدَقَةً، قَالَ:" وَلِلْمَرْدُودَةِ مِنْ بَنَاتِهِ أَنْ تَسْكُنَ غَيْرَ مُضِرَّةٍ وَلَا مُضَرٍّ بِهَا، فَإِنِ اسْتَغْنَتْ بِزَوْجٍ فَلَا شَيْءَ لَهَا" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الْمَرْدُودَةُ: الْمُطَلَّقَةُ.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھروں کو صدقہ کیا اور فرمایا: لوٹائی جانے والی بیٹی کے لیے یہ ہے کہ وہ بغیر نقصان دیے رہے گی اور نہ اسے نقصان دیا جائے گا، اور اگر وہ خاوند کی وجہ سے مستغنی ہو جائے تو اس کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصمعی نے کہا: «الْمَرْدُودَةُ» کا مطلب «الْمُطَلَّقَةُ» (طلاق یافتہ) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11930]
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصمعی نے کہا: «الْمَرْدُودَةُ» کا مطلب «الْمُطَلَّقَةُ» (طلاق یافتہ) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11930]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2511. -- باب: اتخاذ المسجد والسقايات وغيرها
-- باب: مسجد، پانی پلانے کی جگہیں (سبیلیں) اور ان جیسی دیگر اشیاء بنانے کے بیان میں
حدیث نمبر: 11931
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللهِ الْخَوْلَانِيَّ يَذْكُرُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَى مَسْجِدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ قَدْ أَكْثَرْتُمْ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٢٧٦⦘ يَقُولُ:" مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا"، قَالَ بُكَيْرٌ: أَحْسِبُهُ قَالَ:" يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللهِ بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
عبید اللہ خولانی رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے لوگوں کی باتوں کے وقت سنا جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد بنا رہے تھے کہ تم نے (باتیں) زیادہ کی ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی“—بکیر راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی رضا کی خاطر—اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11931]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11932
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ كَرِهَ النَّاسُ ذَلِكَ وَأَرَادُوا أَنْ يَدَعَهُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى الله لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اسے ناپسند کیا اور انہوں نے چاہا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے (پہلے کی طرح) رہنے دیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کا گھر مسجد بنائے گا تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11932]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11933
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، أنبأ عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ حُوصِرَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ، وَلَا أَنْشُدُ إِلَّا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَفَرَ بِئْرَ رُومَةَ فَلَهُ الْجَنَّةُ"، فَحَفَرْتُهَا؟ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَلَهُ الْجَنَّةُ"، فَجَهَّزْتُهُمْ؟ فَصَدَّقُوهُ بِمَا قَالَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ.
ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ چھت پر چڑھ کر گئے اور فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں اور صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو قسم دیتا ہوں۔ تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو «بِئْرَ رُومَةَ» ”بئرِ رومہ“ کھودے گا، اس کے لیے جنت ہے۔“ پس میں نے اسے کھودا۔ کیا تم جانتے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو «جَيْشَ الْعُسْرَةِ» ”جیش العسرہ“ (تنگی والا لشکر، جنگ تبوک) کو تیار کرے گا، اس کے لیے جنت ہے۔“ پس میں نے اس کو تیار کیا۔ انہوں نے آپ کی تصدیق کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11933]
تخریج الحدیث: «بخاري 2778»
الحكم على الحديث: بخاري 2778
حدیث نمبر: 11934
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأُحِيطَ بِدَارِهِ أَشْرَفَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى جَبَلِ حِرَاءَ فَقَالَ:" اسْكُنْ حِرَاءُ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ"؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ الْعُسْرَةِ:" مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً؟" وَالنَّاسُ يَوْمَئِذٍ مُعْسِرُونَ مَجْهُودُونَ، فَجَهَّزْتُ ثُلُثَ ذَلِكَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ. ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا بِثَمَنٍ، فَابْتَعْتُهَا بِمَالِي فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ وَابْنِ السَّبِيلِ؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ فِي أَشْيَاءَ عَدَّدَهَا.
حضرت ابوعبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا اور ان کے گھر کو گھیر لیا گیا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرا پہاڑ پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرا، ٹھہر جا! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید ہے“؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔
پھر کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ تبوک میں فرمایا: ”کون خرچ کرے گا اور یہ خرچ قبول کیا جائے گا؟“ اور لوگ اس دن تنگی میں تھے، میں نے اپنے مال سے لشکر کا ایک تہائی خرچ برداشت کیا۔ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر کہا: میں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس دن پانی خرید کر پیا جاتا تھا تو میں نے بئرِ رومہ خرید کر سب کے لیے غنی، فقراء اور مسافر کے لیے وقف کر دیا؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا، کتنی ہی چیزیں گنوائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11934]
پھر کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ تبوک میں فرمایا: ”کون خرچ کرے گا اور یہ خرچ قبول کیا جائے گا؟“ اور لوگ اس دن تنگی میں تھے، میں نے اپنے مال سے لشکر کا ایک تہائی خرچ برداشت کیا۔ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر کہا: میں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس دن پانی خرید کر پیا جاتا تھا تو میں نے بئرِ رومہ خرید کر سب کے لیے غنی، فقراء اور مسافر کے لیے وقف کر دیا؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا، کتنی ہی چیزیں گنوائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11934]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح