🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2500. -- باب: الصدقات المحرمات
-- باب: ان صدقات کے بیان میں جنہیں (فروخت کرنے یا ہبہ کرنے سے) حرام قرار دے کر وقف کر دیا گیا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11896
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي نُذَيْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْأَحْوَصِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَعَلَ سَبْعَ حِيطَانٍ لَهُ بِالْمَدِينَةِ صَدَقَةً عَلَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَنِي هَاشِمٍ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں سات باغ بنی عبدالمطلب پر اور بنی ہاشم پر صدقہ کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11896]
تخریج الحدیث: «موضوع»

الحكم على الحديث: موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11897
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَطَعَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَنْبُعَ، ثُمَّ اشْتَرَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى قَطِيعَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَشْيَاءَ، فَحَفَرَ فِيهَا عَيْنًا، فَبَيْنَا هُمْ يَعْمَلُونَ فِيهَا إِذْ تَفَجَّرَ عَلَيْهِمْ مِثْلُ عُنُقِ الْجَزُورِ مِنَ الْمَاءِ، فَأُتِيَ عَلِيٌّ وَبُشِّرَ بِذَلِكَ، قَالَ:" بَشِّرِ الْوَارِثَ" ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَفِي ⦗٢٦٦⦘ سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ وَفِي السِّلْمِ وَفِي الْحَرْبِ، لِيَوْمٍ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ؛ لِيَصْرِفَ اللهُ تَعَالَى بِهَا وَجْهِي عَنِ النَّارِ، وَيَصْرِفَ النَّارَ عَنْ وَجْهِي وَرُوِّينَا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ عُمَرَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَقَفَا أَرْضًا لَهُمَا بِتَابَتَلَا.
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ینبع میں ایک جاگیر دی، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی (دی ہوئی) جاگیر کے ساتھ کچھ اور چیزیں بھی خرید لیں، اس میں ایک چشمہ کھودا، وہ اس میں کام کر رہے تھے کہ اونٹ کی گردن کی مثل پانی پھوٹ نکلا، کوئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں خوشخبری دی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وارث کو خوشخبری دو“، پھر اس کو فقراء، مساکین، اللہ کے راستے میں، مسافر اگرچہ قریبی ہو یا دور کا، حالتِ امن میں ہو یا جنگ میں، سب کے لیے صدقہ کر دیا، اس دن کے لیے جس دن کچھ چہرے سفید اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے، تاکہ اللہ تعالیٰ میرے چہرے کو آگ سے پھیر دے اور آگ کو میرے چہرے سے پھیر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11897]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11898
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَنِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَأَحْسِبُهُ قَالَ: زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَصَدَّقَتْ بِمَالِهَا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَصَدَّقَ عَلَيْهِمْ وَأَدْخَلَ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ".
زید بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہا نے بنی ہاشم اور بنی مطلب پر اپنے مال سے صدقہ کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان پر صدقہ کیا اور ان کے علاوہ اور لوگوں کو بھی شامل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11898]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الام للشافعي 4/ 57»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11899
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْقِلٍ، ثنا حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ قَدْ" حَبَسَ دَارَهُ الَّتِي فِي الْبَقِيعِ، وَدَارَهُ الَّتِي عِنْدَ الْمَسْجِدِ، وَكَتَبَ فِي كِتَابٍ حَبَسَهُ عَلَى مَا حَبَسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" قَالَ مَالِكٌ: وَحَبَسَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عِنْدِي، قَالَ: وَكَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْكُنُ مَنْزِلًا فِي دَارِهِ الَّتِي حَبَسَ عِنْدَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مَاتَ فِيهِ، وَقَدْ كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَلَ ذَلِكَ" حَبَسَ دَارَهُ وَكَانَ يَسْكُنُ مَسْكَنًا فِيهَا".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنا وہ گھر رکھ لیا جو بقیع کے پاس تھا اور وہ گھر جو مسجد کے پاس تھا اور اسے «حُبْسَه» میں لکھ دیا، جسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے روکا تھا، امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا لکھا ہوا «حُبْس» میرے پاس ہے اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد کے پاس والے گھر میں رہے، یہاں تک کہ اسی میں فوت ہوئے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی ایسا ہی کیا، انہوں نے اپنا گھر روک رکھا جو ان کا مسکن (رہائش) تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11899]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11900
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمِهْرَجَانِيُّ الْخَطِيبُ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ قَالَ:" وَتَصَدَّقَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَارِهِ بِمَكَّةَ عَلَى وَلَدِهِ، فَهِيَ إِلَى الْيَوْمِ، وَتَصَدَّقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرُبُعِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ وَبِالثَّنِيَةِ عَلَى وَلَدِهِ، فَهِيَ إِلَى الْيَوْمِ، وَتَصَدَّقَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَرْضِهِ بِيَنْبُعَ، فَهِيَ إِلَى الْيَوْمِ، وَتَصَدَّقَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَارِهِ بِمَكَّةَ فِي الْحَرَامِيَّةِ، وَدَارِهِ بِمِصْرَ، وَأَمْوَالِهِ بِالْمَدِينَةِ عَلَى وَلَدِهِ، فَذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ، وَتَصَدَّقَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَارِهِ بِالْمَدِينَةِ وَبِدَارِهِ بِمِصْرَ عَلَى وَلَدِهِ، فَذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرُومَةَ، فَهِيَ إِلَى الْيَوْمِ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْوَهْطِ مِنَ الطَّائِفِ وَدَارِهِ بِمَكَّةَ عَلَى وَلَدِهِ، فَذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَارِهِ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ عَلَى وَلَدِهِ، فَذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ" قَالَ: وَمَا لَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُهُ كَثِيرٌ، يُجْزِئُ مِنْهُ أَقَلُّ مِمَّا ذَكَرْتُ، قَالَ: وَفِيمَا ذَكَرْتُ مِنْ صَدَقَاتِ مَنْ تَصَدَّقَ بِدَارِهِ بِمَكَّةَ حُجَّةٌ لِأَهْلِ مَكَّةَ فِي مِلْكِ بُيُوتِهَا وَكِرَاءِ ⦗٢٦٧⦘ مَنَازِلَهَا؛ لِأَنَّهُ لَا يَعْمِدُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَالزُّبَيْرُ وَعُثْمَانُ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ إِلَى شَيْءٍ النَّاسُ فِيهِ شُرَّعٌ سَوَاءٌ فَيَتَصَدَّقُونَ بِهِ عَلَى أَوْلَادِهِمْ دُونَ مَالِكِيهِ مَعَهُمْ.
ابوبکر عبداللہ بن زبیر حمیدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی مروہ اور ثنیہ والی جگہ اپنی اولاد پر صدقہ کی۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنی ینبع والی زمین صدقہ کی۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے اپنا مکہ اور مصر والا گھر اور اپنے مدینہ والے اموال اپنی اولاد پر صدقہ کیے۔ وہ آج تک اسی طرح ہیں اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنا مدینہ اور مصر والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے «بِئْرَ رُومَةَ» ”بئرِ رومہ“ صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے طائف اور مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اپنا مدینہ اور مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے؛ فرمایا: اور جو مجھے یاد نہیں وہ بہت ہے، اور جو میں نے ذکر کیا اس سے کم بھی کافی ہے۔ اور جو میں نے ذکر کیا کہ جس نے اپنا گھر مکہ میں صدقہ کر دیا، اس میں اہل مکہ کے لیے دلیل ہے ان کے گھروں کی ملکیت اور ان کو کرایہ پر دینے کی؛ اس لیے کہ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا زبیر، سیدنا عثمان، سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہم ایسی چیز کا قصد نہیں کر سکتے تھے جس میں سب لوگ برابر کے شریک ہوں کہ اسے اپنے ساتھ کے دوسرے مالکوں کو چھوڑ کر صرف اپنی اولاد پر صدقہ کر دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11900]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11901
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ" وَقَفَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ، فَكَانَ إِذَا حَجَّ مَرَّ بِالْمَدِينَةِ فَنَزَلَ دَارَهُ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مدینہ میں اپنا گھر صدقہ کیا، جب وہ حج کے لیے آتے تو اپنے گھر میں ٹھہر جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11901]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2501. -- باب: جواز الصدقة المحرمة وإن لم تقبض
-- باب: حرام (موقوفہ) صدقہ کے جواز کے بیان میں، اگرچہ اس پر قبضہ نہ کیا گیا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11902
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ وَاللهِ مَا أَصَبْتُ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهَا، فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَحَبَسْتَ أَصْلَهَا"، فَجَعَلَهَا عُمَرُ أَنْ لَا تُبَاعَ وَلَا تُوهَبَ وَلَا تُورَثَ، وَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَالرِّقَابِ، وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، وَيُطْعِمَ مِنْهَا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ، ثُمَّ أَوْصَى بِهِ إِلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ إِلَى الْأَكَابِرِ مِنْ آلِ عُمَرَ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْبَحِيرَةِ: أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ آلِ عُمَرَ وَآلِ عَلِيٍّ أَنَّ عُمَرَ وَلِيَ صَدَقَتَهُ حَتَّى مَاتَ، وَجَعَلَهَا بَعْدَهُ إِلَى حَفْصَةَ، وَإِنَّ عَلِيًّا وَلِيَ صَدَقَتَهُ حَتَّى مَاتَ، وَوَلِيَهَا بَعْدَهُ حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَتْ صَدَقَتَهَا حَتَّى مَاتَتْ. وَبَلَغَنِي عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ وَلِيَ صَدَقَتَهُ حَتَّى مَاتَ. قَالَ فِي الْقَدِيمِ: وَوَلِيَ الزُّبَيْرُ صَدَقَتَهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ، وَوَلِيَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ صَدَقَتَهُ حَتَّى قَبْضَهُ اللهُ، وَوَلِيَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ صَدَقَتَهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے اور اس جیسی پسندیدہ چیز مجھے کبھی نہیں ملی، آپ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اس کی اصل روک لے اور اس کی پیداوار صدقہ کر دے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ شرط لگائی کہ نہ اسے بیچا جائے گا، نہ ہبہ ہوگا اور نہ وارث بنایا جائے گا اور فقراء، مساکین، مسافر، اللہ کے راستے میں اور گردن آزاد کرنے میں صدقہ کر دیا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں اس پر جو اس کا والی بنے کہ اس سے معروف طریقے سے کھائے اور (دوسروں کو) کھلا دے، بشرطیکہ اس سے مال جمع نہ کرے۔“ پھر سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے لیے وصیت کر دی، پھر آلِ عمر میں سے جو بڑے (معزز) ہوں ان کے لیے وصیت کی۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب البحیرہ میں فرمایا: مجھے خبر ملی ہے آلِ عمر اور آلِ علی رضی اللہ عنہم کی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صدقہ کے والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے اور اس کے بعد سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو بنا دیا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ صدقہ کے والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے اور ان کے بعد حسن بن علی رضی اللہ عنہما اس کے والی بنے، اور سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہا اپنے صدقے کی والی رہیں یہاں تک کہ فوت ہو گئیں۔ اور مجھے کئی انصار کے بارے میں خبر پہنچی ہے کہ وہ اپنے صدقے کے والی رہے یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔
(ج) ایک روایت ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ صدقہ کے والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے، اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے، اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11902]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" فُرِغَ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْخَلْقِ، وَالْخُلُقِ، وَالرِّزْقِ، وَالْأَجَلِ، فَلَيْسَ أَحَدٌ أَكْسَبَ مِنْ أَحَدٍ، وَالصَّدَقَةُ جَائِزَةٌ قُبِضَتْ أَوْ لَمْ تُقْبَضْ".
قاسم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: چار چیزوں سے فارغ کر دیا گیا ہے: خلق سے (مخلوق)، اخلاق سے، رزق سے اور موت سے۔ کوئی کسی سے کمانے والا نہیں ہے اور صدقہ جائز ہے، لیا جائے یا نہ لیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11903]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2502. -- باب: وقف المشاع
-- باب: مشترکہ (غیر تقسیم شدہ) جائیداد کو وقف کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11904
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ اشْتَرَاهَا، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ:" حَبْسُ الْأَصْلِ، وَسَبْلُ الثَّمَرَةِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خیبر میں ایک سو حصوں کے مالک بنے، اسے خریدا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے مال پہنچا ہے جس جیسی کوئی چیز نہیں ملی اور میرا ارادہ ہے کہ اس سے اللہ کا تقرب حاصل کروں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اصل کو روک لے اور پھل کو اللہ کے راستے میں وقف کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11904]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11905
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ مُنْذُ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ سَنَةً قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا لَمْ أُصِبْ قَطُّ مِثْلَهُ، تَخَلَّصْتُ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ، وَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهَا إِلَى اللهِ تَعَالَى، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَبْسُ الْأَصْلِ وَسَبْلُ الثَّمَرَةِ" قَالَ أَبُو يَحْيَى السَّاجِيِّ: وَرُوِيَ أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، وَقَفَ أَحَدَهُمَا، أَشْقَاصًا مِنْ دُورِهِ، فَأَجَازَ ذَلِكَ الْعُلَمَاءُ، وَتَصَدَّقَ ابْنُ عُمَرَ بِالسَّهْمِ بِالْغَابَةِ الَّذِي وَهَبَتْ لَهُ حَفْصَةُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایسا مال ملا ہے جس جیسی کبھی کوئی چیز نہیں ملی، خیبر میں ایک سو حصوں کا مالک ہوں اور میرا ارادہ ہے کہ اس سے اللہ کا قرب حاصل کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اصل کو روک لے اور پھل اللہ کے راستے میں وقف کر دے۔“
ابویحییٰ فرماتے ہیں: سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما میں سے ایک نے اپنے گھر کے حصے وقف کیے، علماء نے اس کی اجازت دی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہبہ کیے ہوئے حصے وقف کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11905]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں