السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2543. -- باب: التقاط المنبوذ وأنه لا يجوز تركه ضائعا
-- باب: پھینکے گئے لاوارث بچے کو اٹھانے اور اسے ضائع ہونے کے لیے نہ چھوڑنے کے وجوب کے بیان میں
حدیث نمبر: 12128
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ ⦗٣٣١⦘ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے اکیلا چھوڑتا ہے۔ جو اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتے ہیں۔ جو کسی مسلمان سے مصیبت دور کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی مصیبتوں کو دور فرمائیں گے اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12128]
تخریج الحدیث: «بخاري 2442۔ مسلم 2580»
الحكم على الحديث: بخاري 2442
حدیث نمبر: 12129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے اور جو قرض چھوڑے وہ ہمارے ذمہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12129]
تخریج الحدیث: «بخاري 2398»
الحكم على الحديث: بخاري 2398
حدیث نمبر: 12130
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ فِي كِتَابِ اللهِ، فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَادْعُونِي؛ فَإِنِّي وَلِيُّهُ، وَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ مَالًا فَلْيُؤْثِرْ بِمَالِهِ عَصَبَتَهُ مَنْ كَانَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں لوگوں میں سے مومنوں کے زیادہ قریب ہوں، اللہ کی کتاب میں۔ پس تم میں جو کوئی قرض یا بے سہارا اہل و عیال چھوڑے تو مجھے بلاؤ، میں اس کا ولی ہوں اور جو تم میں سے مال چھوڑے تو اس کا مال اس کے عصبہ (قریبی رشتہ داروں) کو ملے، وہ جو بھی ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12130]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12131
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ، فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ عُمَرُ هَذِهِ الْآيَةَ" {إِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ} [التوبة: ١١١] الْآيَةَ، فَجَعَلَ لَهُ الصَّفْقَتَيْنِ جَمِيعًا، وَاللهِ لَوْلَا أَنَّ اللهَ أَمَدَّكُمْ بِخَزَائِنَ مِنْ قِبَلِهِ لَأَخَذْتُ فَضْلَ مَالِ الرَّجُلِ عَنْ نَفْسِهِ وَعِيَالِهِ فَقَسَمْتُهُ بَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ".
معرور بن سوید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قصہ بیان کیا، پھر قرآن پاک کی یہ آیت ﴿بیشک اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں، مالوں کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے﴾ [سورة التوبة: 111] پڑھی، پھر کہا: اللہ نے سودے کے دونوں حصے اپنے لیے کر لیے، اور کہا: اللہ کی قسم! اگر اللہ نے اپنی طرف سے خزانوں کو نہ کھولا ہوتا تو میں آدمی سے اس کے اور اس کے گھر والوں سے زائد مال لے لیتا اور مہاجرین فقراء کے درمیان تقسیم کر دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12131]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12132
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَيَانٍ، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ فِيلِ بْنِ عَرَادَةَ، عَنْ حِرَادِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ: جِئْتُ أَوْ أَقْبَلْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي السُّوقِ فَسَمِعَ صَوْتَ صَبِيٍّ مَوْلُودٍ يَبْكِي حَتَّى قَامَ عَلَيْهِ، فَإِذَا عِنْدَهُ أُمُّهُ، فَقَالَ لَهَا:" مَا شَأْنُكِ؟" قَالَتْ: جِئْتُ إِلَى هَذَا السُّوقِ لِبَعْضِ الْحَاجَةِ، فَعَرَضَ لِيَ الْمَخَاضُ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، قَالَ: وَهِيَ إِلَى جَنْبِ دَارِ قَوْمٍ فِي السُّوقِ، فَقَالَ:" هَلْ شَعَرَ بِكِ أَحَدٌ مِنَ أَهْلِ هَذِهِ الدَّارِ؟" وَقَالَ:" مَا ضَيَّعَ اللهُ أَهْلَ هَذِهِ الدَّارِ، أَمَا أَنِّي لَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُمْ شَعَرُوا بِكِ ثُمَّ لَمْ يَنْفَعُوكِ فَعَلْتُ بِهِمْ وَفَعَلْتُ"، ثُمَّ دَعَا لَهَا بِشَرْبَةِ سَوِيقٍ فَقَالَ:" اشْرَبِي هَذِهِ تَقْطَعُ الْحَشَا، وَتَعْصِمُ الْأَمْعَاءَ، وَتُدِرُّ الْعُرُوقَ" ثُمَّ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ⦗٣٣٢⦘ قَالَ الصَّعْقُ: حَدَّثَنِي أَزْهَرُ عَنْ فِيلٍ قَالَ: وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُمْ شَعَرُوا بِكِ ثُمَّ لَمْ يَنْفَعُوكِ بِشَيْءٍ لَحَرَّقْتُ عَلَيْهِمْ.
جراد بن طارق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں صبح کی نماز کے وقت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، ابھی وہ بازار میں ہی تھے کہ ایک نوزائیدہ بچے کے رونے کی آواز سنی، وہ اس کے پاس کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ اس کی ماں بھی اس کے پاس ہے، انہوں نے اس سے پوچھا: تیرا کیا معاملہ ہے؟ اس عورت نے کہا: میں اس بازار میں کسی کام کی غرض سے آئی تھی تو مجھے حمل نے آ لیا اور میں نے بچے کو جنم دیا، راوی کہتے ہیں: وہ عورت بازار میں لوگوں کے ایک گھر کے پاس تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس گھر والوں نے تیری خبر لی ہے؟ اور کہا: اللہ ان گھر والوں کو برباد نہ کرے، اگر مجھے علم ہو جائے کہ ان کو تیری خبر ملی پھر انہوں نے تجھے کوئی فائدہ نہ دیا ہو تو میں ان کے ساتھ کچھ معاملہ کرتا، پھر انہوں نے ستو والا پانی منگوایا اور کہا: اسے پی، یہ سانس کی بیماری کو دور کر دے گا، آنتوں کو صاف اور وریدوں کو صحیح کر دے گا، پھر ہم نے مسجد میں داخل ہو کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اگر مجھے علم ہو کہ انہوں نے تیری خبر لی لیکن تجھے نفع نہ دیا تو ان کو آگ لگا دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12132]
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اگر مجھے علم ہو کہ انہوں نے تیری خبر لی لیکن تجھے نفع نہ دیا تو ان کو آگ لگا دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12132]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12133
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُنَيْنٍ أَبِي جَمِيلَةَ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، أَنَّهُ وَجَدَ مَنْبُوذًا زَمَانَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى أَخْذِ هَذِهِ النَّسَمَةِ؟" فَقَالَ: وَجَدْتُهَا ضَائِعَةً فَأَخَذْتُهَا، فَقَالَ لَهُ عَرِيفِيٌّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّهُ رَجُلٌ صَالِحٌ، قَالَ:" كَذَلِكَ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ:" اذْهَبْ فَهُوَ حُرٌّ، وَلَكَ وَلَاؤُهُ، وَعَلَيْنَا نَفَقَتُهُ" لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، وَحَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مُخْتَصَرًا أَنَّهُ الْتَقَطَ مَنْبُوذًا فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: هُوَ حُرٌّ، وَوَلَاؤُهُ لَكَ، وَنَفَقَتُهُ عَلَيْنَا مِنْ بَيْتِ الْمَالِ.
بنو سلیم کے ایک آدمی ابوجمیلہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک لاوارث بچہ پایا تو وہ اسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے۔ انہوں نے کہا: تجھے اس جان کو اٹھانے پر کس نے ابھارا؟ اس نے کہا: میں نے اسے ضائع ہوتے ہوئے پایا تو میں نے اسے پکڑ لیا۔ ان کو میرے قبیلے کے سردار نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ نیک آدمی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واقعی ایسا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو جا، پس وہ آزاد ہے اور تیرے لیے اس کی ولاء ہے اور ہم پر اس کا خرچ ہے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اس کو ایک بچہ ملا، وہ اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: وہ آزاد ہے اور اس کی ولاء تیرے لیے ہے اور اس کا خرچ ہم پر ہے، بیت المال سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12133]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الموطا 1448»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12134
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ: قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ سُنَيْنًا أَبَا جَمِيلَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ: وَنَحْنُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ جُلُوسٌ، قَالَ: وَزَعَمَ أَبُو جَمِيلَةَ أَنَّهُ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ خَرَجَ مَعَهُ عَامَ الْفَتْحِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَنْبُوذًا فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَهُ، قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ عَرِيفِيٌّ، فَلَمَّا رَآنِي عُمَرُ قَالَ:" عَسَى الْغُوَيْرُ أَبْؤُسًا، مَا حَمَلَكَ عَلَى أَخْذِكَ هَذِهِ النَّسَمَةَ؟" قَالَ: قُلْتُ: وَجَدْتُهَا ضَائِعَةً فَأَخَذْتُهَا، فَقَالَ عَرِيفِيٌّ: إِنَّهُ رَجُلٌ صَالِحٌ، قَالَ:" كَذَلِكَ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاذْهَبْ بِهِ فَهُوَ حُرٌّ، وَلَكَ وَلَاؤُهُ، وَعَلَيْنَا نَفَقَتُهُ".
ابو جمیلہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ایک بچہ راستے سے پایا، انہوں نے اسے پکڑ لیا اور انہوں نے کہا: میرے قبیلے کے سردار نے بتایا کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ایسا نہ ہو کہ یہ غارِ آفت کا غار ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھے یہ جان اٹھانے پر کس نے ابھارا؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں نے اسے ضائع ہوتے ہوئے پایا تو میں نے اٹھا لیا، میرے قبیلے کے سردار نے کہا: وہ نیک آدمی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا واقعی ایسا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو جا، وہ آزاد ہے اور تیرے لیے اس کی ولاء ہے اور ہم پر اس کا خرچ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12134]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2544. -- باب: من قال: اللقيط حر، لا ولاء عليه
-- باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا: لاوارث بچہ آزاد ہے اور اس پر کسی کی ولاء (حقِ ملکیت) نہیں ہے
حدیث نمبر: Q12135
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے: ”ولاء (کا حق) صرف اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: Q12135]
حدیث نمبر: 12135
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَابْنُ كَثِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ" قَضَى فِي اللَّقِيطِ أَنَّهُ حُرٌّ، وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ} [يوسف: ٢٠] ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے لقیط کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ آزاد ہے اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ﴾ [سورة يوسف: 20] ”پھر انہوں نے اسے تھوڑی قیمت چند گنتی کے درہموں کے بدلے میں بیچ ڈالا اور وہ اس (یوسف) میں بے رغبتی کرنے والے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12135]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12136
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا جُهَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْعَبْدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ وَسُئِلَ عَنِ اللَّقِيطِ: أَيُبَاعُ؟ فَقَالَ:" أَبَى اللهُ ذَلِكَ، أَمَا تَقْرَأُ سُورَةَ يُوسُفَ؟".
جہیر بن یزید عبدی فرماتے ہیں: میں نے حسن رحمہ اللہ سے سنا، ان سے لقیط کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اسے بیچا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ نے اس سے انکار کیا ہے، کیا آپ نے سورہ یوسف نہیں پڑھی؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12136]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن