السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2541. -- باب: لا تحل لقطة مكة إلا لمنشد
-- باب: مکہ مکرمہ کا لقطہ صرف اعلان کرنے والے کے لیے حلال ہے
حدیث نمبر: 12118
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ:" إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ، حَرَّمَهُ اللهُ، لَمْ يَحِلَّ فِيهِ الْقَتْلُ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً، فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ"، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ؛ فَإِنَّهُ لِبُيُوتِهِمْ، فَقَالَ:" إِلَّا الْإِذْخِرَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ.
(١٢١١٨) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے دن یہ شہر حرمت والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے حرمت والا بنایا ہے اس میں قتل کرنا حلال نہیں ہے۔ کسی کے لیے مجھ سے پہلے اور بیشک وہ حرمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک حرمت والا بنایا ہے، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور نہ اس کے کانٹوں کو کاٹا جائے اور نہ اس کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا جائے مگر وہ شخص اٹھائے جو اس کا اعلان کرے اور نہ اس کے درختوں کو اکھاڑا جائے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مگر اذخر وہ گھروں کی چھتوں کے کام آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اذخر کی اجازت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12118]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12119
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ عِضَاهُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ"، فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَقَالَ:" إِلَّا الْإِذْخِرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ رَوْحٍ.
(١٢١١٩) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی گھاس کو نہ کاٹا جائے اور نہ اس کے درختوں کو کاٹا جائے اور نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے اور اس کا لقطہ اٹھانا حلال نہیں مگر اعلان کرنے والے کے لیے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! اذخر کے علاوہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اذخر کی اجازت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12119]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12120
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ:" لَيْسَ لِلْحَدِيثِ عِنْدِي وَجْهٌ إِلَّا مَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، أَنَّهُ لَيْسَ لِوَاجِدِهَا مِنْهَا شَيْءٌ إِلَّا الْإِنْشَادَ أَبَدًا، وَإِلَّا فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَمَسَّهَا".
(١٢١٢٠) ابوعبید نے کہا: حدیث کی موجودگی میں میرے پاس اور کچھ نہیں مگر جو عبدالرحمن بن مہدی نے کہا کہ اس (لقطہ) کو پانے والا آدمی اس پر ہمیشہ اعلان کرنا ضروری ہے، ورنہ اس کے لیے چھونا حلال نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12120]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12121
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
(١٢١٢١) حضرت عبدالرحمن بن عثمان تیمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاجیوں لقطہ کا اٹھانے سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12121]
تخریج الحدیث: «مسلم 1724»
الحكم على الحديث: مسلم 1724
2542. -- باب: الجعالة
-- باب: جعالہ (مقررہ کام پر انعام مقرر کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 12122
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَهْطًا مِنَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا، فَنَزَلُوا بِحَيٍّ مِنَ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ، قَالَ: فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحِيِّ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ، قَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ نَزَلُوا بِكُمْ؛ لَعَلَّ يَكُونُ عِنْدَ بَعْضِهِمْ مَا يَنْفَعُ صَاحِبَكُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَيُّهَا الرَّهْطُ، إِنَّ سَيِّدَنَا لَدِيغٌ فَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَا يَنْفَعُ صَاحِبَنَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: نَعَمْ، إِنِّي لَأَرْقِي، وَلَكِنِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا، وَمَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّى تَجْعَلُوا لِي جُعْلًا، فَجَعَلُوا لَهُ قَطِيعًا مِنَ الشَّاةِ، قَالَ: فَأَتَاهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ أُمَّ الْكِتَابِ وَيَتْفِلُ عَلَيْهِ، حَتَّى بَرَأَ كَأَنَّهُ نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ، قَالَ: فَأَوْفَاهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اقْسِمُوا، فَقَالَ الَّذِي رَقَى: لَا تَفْعَلُوا؛ نَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَسْتَأْمِرُهُ، فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟" وَقَالَ:" أَحْسَنْتُمْ، فَاقْتَسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، وَهُوَ فِي هَذَا كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْجُعَلَ إِنَّمَا يَكُونُ مُسْتَحَقًّا بِالشَّرْطِ.
(١٢١٢٢) حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کا ایک گروہ سفر پر گیا، وہ ایک قبیلے کے پاس اترے عرب کے قبائل میں سے۔ ان سے مہمان نوازی طلب کی۔ لیکن انھوں نے مہمان نوازی کرنے کا انکار کردیا، ان کے سردار کو کسی کیڑے نے ڈس لیا۔ انھوں نے اس کے لیے کوشش کی، لیکن اسے فائدہ نہ ہوا۔ ان کے بعض لوگوں نے کہا: اگر تم ان اترنے والوں (صحابہ) کے پاس جاؤ تو ہوسکتا ہے ان میں کوئی ایسا ہو جو سردار کو نفع دے سکے۔ اب کچھ لوگوں نے کہا: اے قافلے والو! ہمارے سردار کو کسی موزی چیز نے ڈس لیا ہے ہم نے اس کے لیے کوشش کی ہے کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو ہمارے سردار کو آرام پہنچا سکے؟ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: ہاں میں دم کرسکتا ہوں، لیکن ہم نے تم سے مہمان نوازی چاہی تھی تم نے انکار کردیا تھا۔ اس لیے میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا، جب تک تم میرے لیے کوئی اجرت مقرر نہیں کردیتے، انھوں نے بکری کا کچھ حصہ معاوضہ طے کرلیا۔ وہ صحابی اس کے پاس آئے اور اس پر سورة فاتحہ پڑھی اور اس پر تھوکا۔ یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوگیا جیسا کہ وہ رسی سے آزاد ہوگیا، انھوں نے اسے پورا بدلہ جو طے کیا تھا وہ دیا، ایک نے کہا: اس (اجرت) کو تقسیم کرلو۔ جس نے دم کیا تھا اس نے کہا نہ کرو، یہاں تک کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر اس بارے میں دریافت کرلیں، صبح کے وقت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور قصہ بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے معلوم کیا کہ وہ دم ہے اور فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ اسے تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھنا۔
یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اجرت کا مستحق شرط کے ساتھ بن سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12122]
یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اجرت کا مستحق شرط کے ساتھ بن سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12122]
تخریج الحدیث: «بخاري 2276۔ مسلم 2201»
الحكم على الحديث: بخاري 2276
حدیث نمبر: 12123
فَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَحْمُودٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ الشَّاهِدُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ الْعَطَّارُ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا خُصَيْفٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَبْدِ الْآبِقِ يُوجَدُ فِي الْحَرَمِ بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ" فَهَذَا ضَعِيفٌ، وَالْمَحْفُوظُ حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَا: جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْآبِقِ يُوجَدُ خَارِجًا مِنَ الْحَرَمِ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ. وَذَلِكَ مُنْقَطِعٌ.
(١٢١٢٣) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھاگے ہوئے غلام کے بارے میں دس درہموں کا فیصلہ کیا جو حرم سے پایا جائے۔
ابن ابی ملیکہ اور عمرو بن دینارفرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس درہم مقرر کیے ہیں اس غلام میں جو بھاگا ہوا اور حرم سیباہرپایا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12123]
ابن ابی ملیکہ اور عمرو بن دینارفرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس درہم مقرر کیے ہیں اس غلام میں جو بھاگا ہوا اور حرم سیباہرپایا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12123]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12124
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ:" فِي جُعْلِ الْآبِقِ دِينَارٌ، قَرِيبًا أُخِذَ أَوْ بَعِيدًا" وَعَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ.
(١٢١٢٤) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھاگے ہوئے غلام پر ایک دینار مقرر کیا ہے اگرچہ قریب سے ملے یا دور سے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتی تھے، جب وہ مصر سے نکلے تو اس کی چٹّیچالیس ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12124]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتی تھے، جب وہ مصر سے نکلے تو اس کی چٹّیچالیس ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12124]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12125
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: أَصَبْتُ غِلْمَانًا أُبَّاقًا بِالْعَيْنِ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" الْأَجْرُ وَالْغَنِيمَةُ"، قُلْتُ: هَذَا الْأَجْرُ، فَمَا الْغَنِيمَةُ؟ قَالَ:" أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا مِنْ كُلِّ رَأْسٍ" وَهَذَا أَمْثَلُ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَبْدُ اللهِ عَرَفَ شَرْطَ مَالِكِهِمْ لِمَنْ رَدَّهُمْ، عَنْ كُلِّ رَأْسٍ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٢١٢٥) ابوعمرو شیبانی فرماتے ہیں: مجھے بھاگے ہوئے غلام ملے، میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بیان کیا، انھوں نے کہا: اجر اور غنیمت ہے، میں نے کہا: اجر تو ہے لیکن غنیمت کیسے ہے؟ انھوں نے کہا: ہر ایک کی طرف سے چالیس درہم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12125]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12126
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْقَسِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا جَدِّي، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، وَعُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ خَثْعَمٍ يُقَالُ لَهُ حَزْنٌ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَالَ: جِئْتُ بِعَبْدٍ آبِقٍ مِنَ السَّوَادِ، فَانْفَلَتَ مِنِّي، فَخَاصَمُونِي إِلَى شُرَيْحٍ، فَضَمَّنَنِيهُ، قَالَ: فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" كَذَبَ شُرَيْحٌ وَأَخْطَأَ الْقَضَاءَ، يَحْلِفُ الْعَبْدُ الْأَسْوَدُ لِلْعَبْدِ الْأَحْمَرِ لَانْفَلَتَ مِنْهُ انْفِلَاتًا، ثُمَّ لَا شَيْءَ عَلَيْهِ".
(١٢١٢٦) حضرت عمرو بن سعید خثعم کے ایک آدمی سے جسے حزن کہا جاتا تھا بیان کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں لشکر میں سے بھاگا ہوا ایک غلام لایا، لیکن وہ مجھ سے بھی بھاگ گیا، انھوں نے مجھے شریح پر پیش کیا، شریح نے مجھے ذمہ دار ٹھہرایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف یہ بات پہنچی تو انھوں نے کہا: شریح نے جھوٹ بولا ہے اور فیصلہ کرنے میں غلطی کی ہے۔ سیاہ غلام سے سرخ غلام کے لیے قسم لی جائے گی۔ اگر واقعی اس سے بھاگ گیا ہے تو اس پر کوئی چیز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12126]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12127
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْفَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: قَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَرَمِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" فِي الرَّجُلِ يَجِدُ الْآبِقَ فَيَأْبَقُ مِنْهُ: لَا يَضْمَنُهُ" وَضَمَّنَهُ شُرَيْحٌ، وَنَحْنُ نَقُولُ بِقَوْلِ عَلِيٍّ إِنْ كَانَ الْآبِقُ أَبِقَ مِنْ دُونِ تَعَدِّيهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٢١٢٧) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں منقول ہے جو بھاگا ہوا غلام پائے، پھر وہ غلام اس سے بھی بھاگ جائے تو علی رضی اللہ عنہ اسے ذمہ دار نہ ٹھہراتے تھے جبکہ شریح اسے ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12127]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف