🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2652. جماع أبواب الأنفال -- باب: السلب للقاتل
باب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12763
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی کو قتل کرے تو مقتول کا سامان قاتل کے لیے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12763]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12764
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنِ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَجَلَسَ فَتَحَدَّثَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ ثُمَّ انْسَلَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اطْلُبُوهُ فَاقْتُلُوهُ". قَالَ: فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ زَادَ الْبِرْتِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: فَنَفَّلَنِي إِيَّاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مشرکوں کا ایک جاسوس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے، وہ بیٹھ گیا، صحابہ سے باتیں کرنے لگا، پھر وہ بھاگ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پکڑو اور قتل کر دو۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سبقت لے گیا، میں نے اسے قتل کردیا اور میں نے اس کا سامان لے لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12765
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى، عَامَّتُنَا مُشَاةٌ فِينَا ضَعْفٌ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقْوِ الْبَعِيرِ؛ فَقَيَّدَ بِهِ جَمَلَهُ، ثُمَّ مَالَ إِلَى الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأَى ضَعْفَهُمْ أَطْلَقَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ يَرْكُضُ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى ⦗٥٠١⦘ نَاقَةٍ وَرْقَاءَ مِنْ ظَهْرِ الْقَوْمِ، فَخَرَجْتُ أَعْدُو فَأَدْرَكْتُهُ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْبَعِيرِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ، فَلَمَّا صَارَتْ رُكْبَتُهُ بِالْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَأَضْرِبُهُ، فَنَدَرَ رَأْسُهُ، فَجِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ وَمَا عَلَيْهَا أَقُودُهُ، وَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ مُقْبِلًا فَقَالَ:" مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟" قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ:" لَهُ السَّلَبُ أَجْمَعُ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ..
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ہوازن کیا، ہم ناشتہ کر رہے تھے، ہم میں کمزور اور پیدل چلنے والے بھی تھے۔ ایک آدمی سرخ رنگ کے اونٹ پر آیا۔ اس نے ایک تسمہ اونٹ کی کمر سے کھینچا۔ پھر اس سے اسے باندھ دیا۔ پھر قوم میں آیا، جب ان کی کمزوری کو دیکھا تو اونٹ کا تسمہ کھولا۔ پھر اسے بٹھایا اور اس پر سوار ہو کر بھاگ گیا، قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے ایک خاکی رنگ کی اونٹنی پر اس کا پیچھا کیا۔ میں بھی دوڑتا ہوا نکلا، پس میں نے اسے پا لیا جبکہ (اسلمی کی) اونٹنی کا سر اس کے اونٹ کے پچھلے حصے کے پاس تھا، پھر میں آگے بڑھا۔ میں نے اس کے اونٹ کی لگام کو پکڑا اور اسے بٹھایا، جب اس کے گھٹنے زمین پر لگ گئے تو میں نے اپنی تلوار نکالی، اسے ماری اور اس کا سر علیحدہ کر دیا، پھر میں اس کی اونٹنی اور جو اس پر تھا لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کس نے قتل کیا ہے؟“ انھوں نے کہا: سیدنا ابن اکوع رضی اللہ عنہما نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے سارا سامان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12765]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قَمَّاشٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ وَمَا عَلَيْهَا وَسِلَاحَهُ.
عکرمہ بن عمار نے حدیث ذکر کی کہ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی سواری اور جو اس پر اسلحہ وغیرہ تھا دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12767
وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" لَقِينَا الْعَدُوَّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَعَنْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَمْدُونَ الْأَعْمَشُ مِنْ أَصْلِهِ الْعَتِيقِ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ فَذَكَرَهُ. وَهَذَا غَرِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمن سے ملے، میں نے ایک آدمی کو نیزہ مارا اور میں نے اسے قتل کر دیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا سامان دیا۔
یہ اس سند کے ساتھ غریب ہے، اور ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12767]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" خَرَجْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَلَقِينَا الْعَدُوَّ، فَشَدَدْتُ عَلَى رَجُلٍ فَطَعَنْتُهُ فَقَطَرْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ، فَنَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں گیا، ہم دشمن سے ملے، میں نے ایک آدمی کو سختی سے پکڑا، اسے نیزہ مارا اور اس کا خون بہا دیا اور اس کا سامان لے لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12768]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَعْقِلِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ ⦗٥٠٢⦘ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَحْشٍ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ:" أَلَا نَأْتِي نَدْعُو اللهَ" فَخَلَوْا فِي نَاحِيَةٍ، فَدَعَا سَعْدٌ قَالَ: يَا رَبِّ، إِذَا لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا، فَلَقِّنِي رَجُلًا شَدِيدًا بَأْسُهُ شَدِيدًا حَرْدُهُ؛ فَأُقَاتِلَهُ فِيكَ وَيُقَاتِلُنِي، ثُمَّ ارْزُقْنِي عَلَيْهِ الظَّفَرَ حَتَّى أَقْتُلَهُ وَآخُذَ سَلَبَهُ، فَأَمَّنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَحْشٍ ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ ارْزُقْنِي غَدًا رَجُلًا شَدِيدًا حَرْدُهُ، شَدِيدًا بَأْسُهُ، أُقَاتِلُهُ فِيكَ وَيُقَاتِلُنِي، ثُمَّ يَأْخُذُنِي فَيَجْدَعُ أَنْفِي، فَإِذَا لَقِيتُكَ غَدًا قُلْتَ: يَا عَبْدَ اللهِ، فِيمَ جُدِعَ أَنْفُكَ وَأُذُنُكَ؟ فَأَقُولُ: فِيكَ وَفِي رَسُولِكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَقُولُ: صَدَقْتَ"، قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: يَا بُنِيَّ، كَانَتْ دَعْوَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ خَيْرًا مِنْ دَعْوَتِي، لَقَدْ رَأَيْتُهُ آخِرَ النَّهَارِ وَإِنَّ أُذُنَهُ وَأَنْفَهُ لَمُعَلَّقَانِ فِي خَيْطٍ.
اسحاق بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے احد کے دن کہا: ”آؤ اللہ کو پکار لیں“، پس ہم ایک کنارے پر چلے گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی: ”اے میرے رب! جب کل ہم دشمن سے ملیں تو مجھے ایسے آدمی سے ملانا جو انتہائی سخت ارادے والا ہو، میں اس سے تیری خاطر لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے۔ پھر مجھے اس پر کامیابی دینا حتیٰ کہ میں اس کو قتل کر دوں اور اس کا سامان لے لوں۔“ پس عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آمین کہا۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میرے رب! مجھے کل ایسے آدمی سے ملانا جو انتہائی سخت ارادے والا ہو، میں تیری خاطر اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے اور میرا ناک کاٹ دے، جب میں کل کو تجھ سے ملوں تو تو کہے: اے عبداللہ! تیرا ناک، کان کیوں کاٹے گئے؟ میں کہوں: تیری اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر، تو تو کہے: تو نے سچ کہا۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میرے بیٹے! عبداللہ رضی اللہ عنہ کی دعا میری دعا سے بہتر تھی، میں نے دن کے آخر میں دیکھا کہ ان کا کان اور ناک ایک دھاگے میں لٹک رہے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12769]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ حاكم 530»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12770
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْخَفَّافُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ يَحْيَى بْنِ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ الْمَدَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَبِيعَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَقُولُ: إِنَّهُ طَلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُحُدٍ وَهُوَ يَشْتَدُّ، وَفِي يَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ التُّرْسُ فِيهِ مَاءٌ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ وَجْهَهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ، فَقَالَ لَهُ حَاطِبٌ: مَنْ فَعَلَ بِكَ هَذَا؟ قَالَ:" عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، هَشَّمَ وَجْهِيَ، وَدَقَّ رَبَاعِيَتِي بِحَجَرٍ رَمَانِي"، قُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ صَائِحًا يَصِيحُ عَلَى الْجَبَلِ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَأَتَيْتُ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ رُوحِي، قُلْتُ: أَيْنَ تَوَجَّهَ عُتْبَةُ؟ فَأَشَارَ إِلَى حَيْثُ تَوَجَّهَ، فَمَضَيْتُ حَتَّى ظَفَرْتُ بِهِ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ فَطَرَحْتُ رَأْسَهُ فَهَبَطَتْ، فَأَخَذْتُ رَأْسَهُ وَسَلَبَهُ وَفَرَسَهُ وَجِئْتُ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ ذَلِكَ إِلِيَّ وَدَعَا لِي فَقَالَ:" رَضِيَ اللهُ عَنْكَ، رَضِيَ اللهُ عَنْكَ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں پانی کا برتن تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پانی سے اپنا چہرہ دھو رہے تھے، حاطب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کس نے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عتبہ بن ابی وقاص نے میرے چہرے پر مارا اور پتھر کے ساتھ میرے دانت نکال دیے۔“ میں نے عرض کیا: میں نے پہاڑ پر یہ آواز سنی تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیے گئے ہیں اور میں اس حال میں آیا گویا کہ میری روح نکل رہی ہے، میں نے پوچھا: عتبہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا: ”فلاں طرف ہے۔“ میں اس کی طرف گیا یہاں تک کہ میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے اسے تلوار ماری، پس میں نے اس کا سر اتار دیا۔ پھر میں نے اس کا سر اور اس کا سامان اور اس کا گھوڑا پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے دے دیا اور میرے لیے دعا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رَضِيَ اللّٰهُ عَنْكَ، رَضِيَ اللّٰهُ عَنْكَ» ”اللہ تجھ سے راضی ہو، اللہ تجھ سے راضی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12770]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12771
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ: وَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، وَعُثْمَانَ بْنِ يَهُوذَا، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالُوا: فَذَكَرَ قِصَّةَ الْخَنْدَقِ، وَقَتْلَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَجْهُهُ يَتَهَلَّلُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" هَلَّا اسْتَلَبْتَ دِرْعَهُ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلْعَرَبِ دِرْعٌ خَيْرٌ مِنْهَا"، فَقَالَ:" ضَرَبْتُهُ فَاتَّقَانِي بِسَوَادِهِ فَاسْتَحْيَيْتُ ابْنَ عَمِّي أَنْ أَسْتَلِبَهُ".
محمد بن کعب اور عثمان بن یہودا نے اپنی قوم کے لوگوں سے بیان کیا، انہوں نے کہا: پس خندق کا قصہ ذکر کیا اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا عمرو بن عبد کو مارنے کا، پھر علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے اور ان کا چہرہ چمک رہا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے کیوں نہ اسے ہلاک کر کے اس کی زرہ لی، وہ عرب کی سب سے بہترین زرہ تھی؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسے مارا، وہ ڈر کر اپنے لشکر کی طرف گیا، مجھے شرم آئی کہ اس کی زرہ لے لوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12771]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12772
وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي حِصْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ حِينَ خَنْدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ صَفِيَّةُ:" فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ مَنْ يَهُودَ، فَجَعَلَ يُطِيفُ بِالْحِصْنِ، فَقُلْتُ لِحَسَّانَ: إِنَّ هَذَا ⦗٥٠٣⦘ الْيَهُودِيَّ يُطِيفُ بِالْحِصْنِ كَمَا تَرَى، وَلَا آمَنُهُ أَنْ يَدُلَّ عَلَى عَوْرَتِنَا، فَانْزِلْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ"، فَقَالَ: يَغْفِرُ اللهُ لَكِ يَا بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَاللهِ لَقَدْ عَرَفْتِ مَا أَنَا بِصَاحِبِ هَذَا، قَالَتْ صَفِيَّةُ:" فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ احْتَجَزْتُ وَأَخَذْتُ عَمُودًا، ثُمَّ نَزَلْتُ مِنَ الْحِصْنِ إِلَيْهِ فَضَرَبْتُهُ بِالْعَمُودِ حَتَّى قَتَلْتُهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الْحِصْنِ فَقُلْتُ: يَا حَسَّانُ، انْزِلْ فَاسْتَلِبْهُ؛ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَسْتَلِبَهُ إِلَّا أَنَّهُ رَجُلٌ"، فَقَالَ: مَا لِي بِسَلَبِهِ مِنْ حَاجَةٍ يَا بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.
یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ میں تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودی تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہمارے پاس سے یہودیوں کا ایک آدمی گزرا، وہ قلعہ کے اردگرد گھوم رہا تھا، میں نے حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ یہودی قلعہ کے اردگرد گھوم رہا ہے، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اور مجھے اس سے امن نہیں ہے کہ وہ ہماری عورتوں کا پتہ بتائے گا، پس آپ اتریں اور اسے قتل کر دیں، حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عبدالمطلب کی بیٹی! اللہ تجھے معاف کرے، اللہ کی قسم! تم نے (میرا حال) پہچان لیا ہے، لیکن میں یہ نہیں کر سکتا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب حسان رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو میں نے خود تیاری کی اور لکڑی پکڑی، پھر میں قلعہ سے (نکل کر) اس کی طرف بڑھی اور اسے مارتی رہی یہاں تک کہ میں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر میں واپس پلٹی اور میں نے حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: جائیے اور اس کا سامان لے آئیے، مجھے لانے سے صرف یہ چیز روکتی ہے کہ وہ ایک (نامحرم) آدمی ہے۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بنت عبدالمطلب! مجھے اس مال کی کوئی ضرورت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12772]
تخریج الحدیث: «حسن۔ حاكم 6969»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں