🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2825. -- باب: استئذان المملوك والطفل في العورات الثلاث، واستئذان من بلغ الحلم منهم في جميع الحالات
-- باب: غلام اور بچے کا تین پردے کے اوقات میں اجازت مانگنے کا بیان، اور ان میں سے جو بالغ ہو جائیں ان کا ہر حال میں اجازت مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13558
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ:" أَسْتَأْذِنُ يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى أُمِّي؟ فَقَالَ:" نَعَمْ"، فَقَالَ: إِنِّي مَعَهَا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ:" اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا"، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي خَادِمُهَا، فَقَالَ:" أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْيَانَةً؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا".
عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا میں اپنی ماں سے بھی اجازت لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!“ تو اس نے کہا کہ میں اس کے ساتھ رہتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی اجازت لے۔“ آدمی نے کہا کہ میں اس کی خدمت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تو اس کو ننگی دیکھے؟“ تو اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اجازت لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13558]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13559
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ سَأَلَاهُ عَنِ الِاسْتِئْذَانِ فِي الثَّلَاثِ عَوْرَاتٍ الَّتِي أَمَرَ اللهُ بِهَا فِي الْقُرْآنِ، فَقَالَ لَهُمَا ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنَّ اللهَ سِتِّيرٌ يُحِبُّ السَّتْرَ، كَانَ النَّاسُ لَيْسَ لَهُمْ سُتُورٌ عَلَى أَبْوَابِهِمْ، وَلَا حِجَالٌ فِي بُيُوتِهِمْ، فَرُبَّمَا فَاجَأَ الرَّجُلَ خَادِمُهُ، أَوْ وَلَدُهُ، أَوْ يَتِيمُهُ فِي حِجْرِهِ وَهُوَ عَلَى أَهْلِهِ، فَأَمَرَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَسْتَأْذِنُوا فِي تِلْكَ الْعَوْرَاتِ الَّتِي سَمَّى الله عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ جَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدُ بِالسُّتُورِ، وَبَسَطَ عَلَيْهِمْ فِي الرِّزْقِ، فَاتَّخَذُوا السُّتُورَ، وَاتَّخَذُوا الْحِجَالَ، فَرَأَى النَّاسُ أَنَّ ذَلِكَ قَدْ كَفَاهُمْ مِنَ الِاسْتِئْذَانِ الَّذِي أَمَرَ اللهُ بِهِ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: حَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ وَعَطَاءٍ يُضَعِّفُ هَذِهِ الرِّوَايَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے قرآن مجید میں تین اوقات میں اجازت کے بارے میں پوچھا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پردہ پوش ہے اور پردہ کو پسند کرتا ہے۔“ لوگوں کے دروازوں پر پردے نہیں تھے اور نہ ہی پردے ان کے گھروں میں تھے، تو کبھی کبھی اچانک آدمی کا غلام یا بچہ یا وہ یتیم بچہ جو اس کی پرورش میں ہوتا، اچانک سامنے آجاتا جبکہ وہ اپنی بیوی کے پاس ہوتا، تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ ان اوقات میں اجازت لے کر آئیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے، پھر ان کو اللہ تعالیٰ نے پردے بھی عطا کیے اور ان کے رزق میں کشادگی ہو گئی، انہوں نے پردے بھی بنا لیے تو لوگوں نے سمجھا کہ یہی اجازت کے لیے کافی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبیداللہ بن ابی یزید اور عطاء کی حدیث اس روایت کو ضعیف قرار دیتی ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13559]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2826. -- باب: كيف الاستئذان
-- باب: اجازت مانگنے کا طریقہ کیسا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13560
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي ⦗١٥٨⦘ نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَلَّمَ عَبْدُ اللهِ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَرَجَعَ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أَثَرِهِ، فَقَالَ: لِمَ رَجَعْتَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُجَبْ، فَلْيَرْجِعْ"، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنِّي عَلَى مَا تَقُولُ بَيِّنَةً، أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ كَذَا غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ أَوْعَدَهُ قَالَ: فَجَاءَ أَبُو مُوسَى مُنْتَقِعًا لَوْنُهُ، وَأَنَا فِي حَلْقَةٍ جَالِسٌ، فَقُلْنَا: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: سَلَّمْتُ عَلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَنَا خَبَرَهُ، فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، كُلُّنَا قَدْ سَمِعَهُ قَالَ: فَأَرْسَلُوا مَعَهُ رَجُلًا مِنْهُمْ حَتَّى أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ سلام کیا، لیکن انہوں نے اجازت نہ دی، پھر وہ لوٹ آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا، جب وہ آگئے تو انہوں نے پوچھا: تو نے یہ کام کیوں کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم میں کوئی تین مرتبہ سلام کرے اور جواب نہ ملے تو وہ لوٹ آئے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس اس کی دلیل لے کر آؤ، ورنہ تیرے ساتھ میں ایسے ایسے کروں گا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ آئے تو ان کا رنگ تبدیل تھا، میں بھی اس حلقے میں موجود تھا، ہم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سلام کیا ہے تو انہوں نے ایسے ایسے کہا ہے، کیا تم میں سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم سب نے یہ حدیث سنی ہے، تو انہوں نے اس گروہ میں سے ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا، یہاں تک کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو اس حدیث کی خبر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13560]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2062۔ مسلم 3153»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2827. -- باب: الرجل يخلو بذات محرمه يسافر بها
-- باب: آدمی اپنی محرم عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کر سکتا ہے اور اس کے ساتھ سفر کر سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13561
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، وَعَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا، أَوْ ذَا مَحْرَمٍ"، زَادَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي رِوَايَتِهِ ثَلَاثًا، وَقَالَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَبِي خَيْثَمَةَ، وَقَالَ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى: عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ، لَمْ يَقُلْ ثَلَاثًا كَذَا فِي نُسْخَتِي لِمُسْلِمٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! کوئی مرد عورت کے پاس رات نہ گزارے، سوائے اس کے جس سے نکاح ہو یا وہ محرم ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13561]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2171»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13562
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَثَنًا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُسَافِرِ امْرَأَةٌ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَصَاعِدًا إِلَّا مَعَ أَبِيهَا أَوِ ابْنِهَا أَوْ أَخِيهَا أَوْ زَوْجِهَا أَوْ ذِي مَحْرَمٍ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرُهُ عَنْ وَكِيعٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت اکیلی تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر نہ کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا بیٹا ہو یا بھائی ہو یا خاوند ہو یا کوئی اور محرم ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13562]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 827»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2828. -- باب: ما جاء في الرجل ينظر إلى عورة الرجل والمرأة تنظر إلى عورة المرأة ويفضي كل واحد منهما إلى صاحبه
-- باب: مرد کا مرد کے ستر کو دیکھنے اور عورت کا عورت کے ستر کو دیکھنے اور ان میں سے ہر ایک کا دوسرے کے ساتھ ایک ہی کپڑے میں لیٹنے کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13563
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ ⦗١٥٩⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ السِّنْدِيُّ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاشِرَ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ أَجْلَ أَنْ تَصِفَهَا لِزَوْجِهَا حَتَّى كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَنَهَانَا إِذَا كُنَّا ثَلَاثًا أَنْ يُنَاجِيَ اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ مِنْ أَجْلِ أَنْ يُحْزِنَهُ حَتَّى يَخْتَلِطَ النَّاسُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَنَّادِ بْنِ السَّرِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ مَنْصُورٍ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ: ”کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک ہی کپڑے میں نہ لیٹے، پھر وہ اپنے خاوند کو اس کے اوصاف بیان کرے، گویا کہ وہ مرد اس عورت کو دیکھ رہا ہے، اور منع فرمایا کہ جب تم تین ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ بات اس کو غم میں ڈال دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ لوگوں کے ساتھ مل جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13563]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5240۔ مسلم 2184»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13564
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا الضَّحَّاكُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا تَنْظُرُ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَيْرِهِ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی کسی آدمی کی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ عورت عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھے اور نہ آدمی آدمی کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13564]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 338»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13565
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أنبأ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الطُّفَاوَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ، وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ إِلَّا وَلَدٌ أَوْ وَالِدٌ" قَالَ: فَذَكَرَ الثَّالِثَةَ فَنَسِيتُهَا".
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی آدمی کے ساتھ نہ لیٹے اور نہ عورت عورت کے ساتھ لیٹے، علاوہ اولاد کے یا والد کے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بات ذکر کی، لیکن میں اسے بھول گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13565]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13566
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَعَنَ اللهُ النَّاظِرَ وَالْمَنْظُورَ إِلَيْهِ"، هَذَا مُرْسَلٌ وَاللهُ سُبْحَانَهُ أَعْلَمُ.
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ دیکھنے والے (بدنظری کرنے والے) اور جس کی طرف دیکھا جا رہا ہے اس پر لعنت کرتا ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13566]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2829. -- باب: ما جاء في النظر إلى الغلام الأمرد بالشهوة
-- باب: بے ریش لڑکے کی طرف شہوت سے دیکھنے کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q13567
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ} [النور: 30] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ﴾ ”مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔“ [سورة النور: 30] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13567]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں