السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3099. -- باب: ما يكره من ذلك
-- باب: اس (طرح کے الفاظ کہنے) کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 15147
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} [البقرة: ٢٢٨] يُقَالُ:" إِصْلَاحُ الطَّلَاقِ بِالرَّجْعَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ".
(١٥١٤٧) امام شافعی (رح) اللہ تعالیٰ کے قول: { اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا } [البقرۃ ٢٢٨] ”اگر وہ دونوں اصلاح کا ارادہ کریں۔“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ طلاق کی اصلاح رجوع ہے۔ [صحیح ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15147]
حدیث نمبر: 15148
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} [البقرة: ٢٢٨] قَالَ: يَقُولُ:" إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ تَطْلِيقَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ وَهِيَ حَامِلٌ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا مَا لَمْ تَضَعْ وَلَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَكْتُمَ حَمْلَهَا وَهُوَ قَوْلُهُ: {وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ} [البقرة: ٢٢٨] .
(١٥١٤٨) علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول: { وَ بُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا } [البقرۃ ٢٢٨] ”اور ان عورتوں کے خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح کا ارادہ رکھیں۔“ جب خاوند اپنی حاملہ بیوی کو طلاق دے دے ایک یا دو تو وہ رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک وہ وضع حمل نہ کرے اور عورت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے حمل کو چھپائے۔ اللہ کا فرمان ہے: { وَ لَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِہِنَّ } [البقرۃ ٢٢٨] ”عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا فرمایا ہے اس کو چھپائیں۔“ [ضعیف ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15148]
حدیث نمبر: 15149
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا آدَمُ، نا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ} [البقرة: ٢٢٨] " يَعْنِي فِي الْعِدَّةِ".
(١٥١٤٩) مجاہد اللہ کے اس قول: { وَ بُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذٰلِکَ } [البقرۃ ٢٢٨] کے متعلق فرماتے ہیں کہ مراد عدت کے ایام میں ہے۔ [حسن ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15149]
حدیث نمبر: 15150
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ اللَّبَّادُ، نا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، نا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَأَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ التَّفْسِيرَ إِلَى قَوْلِهِ: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ قَالَ:" وَهُوَ الْمِيقَاتُ الَّذِي يَكُونُ عَلَيْهَا فِيهِ الرَّجْعَةُ فَإِذَا طَلَّقَ وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَإِمَّا أَنْ يُمْسِكَ وَيُرَاجِعَ بِمَعْرُوفٍ، وَإِمَّا يَسْكُتَ عَنْهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَتَكُونَ أَحَقَّ بِنَفْسِهَا".
(١٥١٥٠) حضرت عبداللہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے اس قول کی تفسیر بیان کرتے ہیں: { اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ } [البقرۃ ٢٢٩] یہ وہ وقت ہے جس میں عورت سے رجوع کیا جاسکتا ہے، جب ایک یا دو طلاقیں دے یا تو وہ روک لے اور اچھائی کے ساتھ رجوع کرلے۔ یا اس سے خاموش رہے کہ اس کی عدت ختم ہوجائے تو عورت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے۔ [حسن ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15150]
حدیث نمبر: 15151
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا أَبُو مُحَمَّدٍ ⦗٦٠٢⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُرَاجِعُ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ لَيْسَ لِلطَّلَاقِ وَقْتٌ حَتَّى طَلَّقَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ امْرَأَتَهُ لِسُوءِ عِشْرَةٍ كَانَتْ بَيْنَهُمَا فَقَالَ: لَأَدَعَنَّكِ لَا أَيِّمًا وَلَا ذَاتَ زَوْجٍ، فَجَعَلَ يُطَلِّقُهَا حَتَّى إِذَا دَنَا خُرُوجُهَا مِنَ الْعِدَّةِ رَاجَعَهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ كَمَا أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] فَوَقَّتَ لَهُمُ الطَّلَاقَ ثَلَاثًا رَاجَعَهَا فِي الْوَاحِدَةِ وَفِي الثِّنْتَيْنِ وَلَيْسَ لَهُ فِي الثَّلَاثَةِ رَجْعَةٌ" فَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللهَ} [الطلاق: ١] إِلَى قَوْلِهِ: {بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩] وَحَدِيثُ رُكَانَةَ فِي الرَّجْعِيَّةِ قَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي كِتَابِ الطَّلَاقِ.
(١٥١٥١) ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد عدت کے درمیان ہی رجوع کرلیتا ہے تو یہ طلاق کا وقت نہیں ہے، ایک انصاری شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ جن کے درمیان رہن سہن اچھا نہ تھا۔ اس نے کہا: نہ تو بیوہ کروں گا اور نہ ہی خاوند والی چھوڑوں گا۔ وہ اس کو طلاق دیتا جب عدت ختم ہونے کے قریب ہوتی تو رجوع کرلیتا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: { اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ } (البقرۃ: ٢٢٩) کہ طلاق دو مرتبہ ہے، پھر اچھائی سے روکنا یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ تین طلاق ان کے لیے مقرر کردیں ایک یا دو کے بعد رجوع ہے تیسری کے بعد رجوع درست نہیں ہے۔ اللہ کا فرمان: { وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّۃَ وَاتَّقُوا اللَّہَ } إِلَی قَوْلِہِ { بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [النساء ١٩] ”جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے ایام میں دو اور عدت کو شمار کرو اور اللہ سے ڈر جاؤ۔“ اور رکانہ کی حدیث رجوع کے بارے میں پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15151]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15152
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ قَالَا: نا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، نا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا قَالَ: وَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ" قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَقُولُ: أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ عَصَيْتَ اللهَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ وَبَانَتْ مِنْكَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ.
(١٥١٥٢) نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجوع کا حکم فرمایا اور فرمایا: پھر دوسرے حیض تک مہلت دے۔ پھر پاک ہونے تک مہلت دے کر جماع سے پہلے طلاق دے دے اور فرمایا: یہ ہے وہ وقت جس میں عورتوں کو طلاق دینے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جب بھی حالتِ حیض میں عورت کو دی گئی طلاق کے بارے میں پوچھے گیا تو فرماتے: اگر ایک یا دو طلاقیں دی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رجوع کا حکم فرمایا، پھر دوسرے حیض تک مہلت دے کر طہر میں بغیر جماع کیے طلاق دے دینا اور اگر تو نے تین طلاقیں دے دیں ہیں تو تو نے اللہ کے حکم کی نافرمانی ہے جو اس نے عورتوں کے متعلق دیا ہے اور عورت تجھ سے جدا ہوگئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15152]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15153
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْمِصْرِيُّ، بِمَكَّةَ نا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ قَالَا: أنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا طَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَفْصَةَ" أُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَرَاجَعَهَا" وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ قَالَ: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا.
(١٥١٥٣) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حفصہ کو طلاق دی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رجوع کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجوع کرلیا۔
(ب) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کو طلاق دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15153]
(ب) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کو طلاق دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15153]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3100. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: {وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فأمسكوهن بمعروف أو سرحوهن بمعروف ولا تمسكوهن ضرارا}
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری ہونے کے قریب پہنچ جائیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو، اور انہیں نقصان پہنچانے کے ارادے سے نہ روکو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15154
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا} [البقرة: 231] .
اللہ کا فرمان ہے: { وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: Q15154]
حدیث نمبر: 15154
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ، أَنَا الشَّافِعِيُّ فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: إِذَا شَارَفْنَ بُلُوغَ أَجَلِهِنَّ فَرَاجِعُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ دَعُوهُنَّ تَنْقَضِي عِدَّتُهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَنَهَاهُمْ أَنْ يُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِيَعْتَدُوا فَلَا يَحِلُّ إِمْسَاكُهُنَّ ضِرَارًا.
(١٥١٥٤) امام شافعی (رح) اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب ان کی مدت پوری ہونے کے قریب ہو تو ان سے اچھائی کے ساتھ رجوع کرو یا چھوڑ دو، تاکہ ان کی عدت پوری ہوجائے اور تکلیف دینے کی غرض سے روکنے سے منع فرمایا ہے کوئی بھی اس غرض سے نہ روکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15154]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15155
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا آدَمُ، نا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا} [البقرة: ٢٣١] قَالَ:" الضِّرَارُ أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ تَطْلِيقَةً ثُمَّ يُرَاجِعَهَا عِنْدَ آخِرِ يَوْمٍ يَبْقَى مِنَ الْأَقْرَاءِ ثُمَّ يُطَلِّقَهَا ثُمَّ يُرَاجِعَهَا عِنْدَ آخِرِ يَوْمٍ يَبْقَى مِنَ الْأَقْرَاءِ يُضَارُّهَا بِذَلِكَ".
(١٥١٥٥) مجاہد اللہ کے قول: { وَ لَا تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارً } [البقرۃ ٢٣١] ”تکلیف دینے کی غرض سے تم ان کو مت روکو۔“ ضرار یہ ہے کہ خاوند بیوی کو طلاق دے کر عدت کے ختم ہونے سے ایک دن پہلے رجوع کر کے طلاق دے۔ اسی طرح وہ کرتے رہے۔ یہ تکلیف دینا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15155]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح