السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3104. -- باب: الرجل يشهد على رجعتها ولم تعلم بذلك حتى تزوج زوجا آخر
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی سے رجوع کرنے پر گواہ بنا لے اور عورت کو اس کا علم نہ ہو یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کر لے۔
حدیث نمبر: 15186
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ فِي مَسْكَنِ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَكَانَ طَرِيقُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَكَانَ يَسْلُكُ الطَّرِيقَ الْآخَرَ مِنْ أَدْبَارِ الْبُيُوتِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ عَلَيْهَا حَتَّى رَاجَعَهَا" وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُمَا قَالَا:" لَا يَحِلُّ لَهُ مِنْهَا شَيْءٌ مَا لَمْ يُرَاجِعْهَا".
(١٥١٨٦) نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی جب وہ حضرت حفصہ کے گھر میں تھی۔ یہ مسجد کی جانب ان کا راستہ تھا تو وہ دوسرے راستے گھروں کے پیچھے سے چلے گئے۔ اس سے اجازت کو مکروہ جانتے ہوئے یہاں تک کہ اس سے رجوع کرلیا۔
(ب) عطاء بن ابی رباح اور عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ جب تک وہ رجوع نہ کرے مرد کے لیے کچھ بھی اس سے جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15186]
(ب) عطاء بن ابی رباح اور عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ جب تک وہ رجوع نہ کرے مرد کے لیے کچھ بھی اس سے جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15186]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3105. -- باب: ما جاء في الإشهاد على الرجعة
-- باب: رجوع کرنے پر گواہ بنانے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15187
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هِيَ زَوْجَةُ الْأَوَّلِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ"، وَقَدْ مَضَى هَذَا الْحَدِيثُ بِأَسَانِيدِهِ.
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: یہ پہلے کی بیوی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو ولی نکاح کردیں تو پہلے کا زیادہ حق ہے۔ یہ حدیث مختلف سندوں سے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: Q15187]
حدیث نمبر: 15187
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُشْهِدُ عَلَى رَجْعَتِهَا وَلَمْ تَعْلَمْ بِذَلِكَ قَالَ:" هِيَ امْرَأَةُ الْأَوَّلِ دَخَلَ بِهَا الْآخَرُ أَمْ لَمْ يَدْخُلْ".
(١٥١٨٧) سعید بن جبیر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ پھر اس نے رجوع پر گواہ بنا لیے۔ لیکن عورت کو علم نہ تھا، فرماتے ہیں: یہ پہلے کی بیوی ہے دوسرے نے دخول کیا یا نہ کیا ہو۔
(٦) باب مَا جَائَ فِی الإِشْہَادِ عَلَی الرَّجْعَۃِ
رجوع پر گواہ بنانے کا بیان
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { فَاَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ اَوْ فَارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُمْ }
اللہ کا فرمان: { فَاَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ اَوْ فَارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُمْ } [الطلاق: ٢] ”ان کو اچھائی سے روک لو یا بھلائی سے جدا کر دو اور دو عدل والے گواہ بنا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15187]
(٦) باب مَا جَائَ فِی الإِشْہَادِ عَلَی الرَّجْعَۃِ
رجوع پر گواہ بنانے کا بیان
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { فَاَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ اَوْ فَارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُمْ }
اللہ کا فرمان: { فَاَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ اَوْ فَارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُمْ } [الطلاق: ٢] ”ان کو اچھائی سے روک لو یا بھلائی سے جدا کر دو اور دو عدل والے گواہ بنا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15187]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15188
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَتَهُ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ" فَكَانَ لَا يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِلَّا بِإِذْنٍ، فَلَمَّا رَاجَعَهَا أَشْهَدَ عَلَى رَجْعَتِهَا وَدَخَلَ عَلَيْهَا".
(١٥١٨٨) عبیداللہ نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی صفیہ بنت ابی عبید کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں تو ان کے پاس اجازت لے کر جاتے تھے اور جب رجوع کر کے اس پر گواہ بنا لیے تو پھر ان کے پاس بغیر اجازت کے چلے جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15188]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15189
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، نا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَأَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُشْهِدْ وَرَاجَعَ وَلَمْ يُشْهِدْ قَالَ عِمْرَانُ:" إِنْ طَلَّقَ فِي غَيْرِ عِدَّةٍ وَرَاجَعَ فِي غَيْرِ سُنَّةٍ فَلْيُشْهِدِ الْآنَ".
(١٥١٨٩) ابن سیرین فرماتے ہیں کہ عمران بن حصین سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے کر گواہ نہیں بنایا تھا اور رجوع کیا تب بھی گواہ نہیں بنایا تو عمران بن حصین فرماتے ہیں: اس نے بغیر عدت کے طلاق دی اور سنت طریقے کے علاوہ رجوع کیا وہ اب گواہ بنا لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15189]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3106. -- باب: نكاح المطلقة ثلاثا
-- باب: تین طلاقیں پانے والی عورت کے (دوسرے) نکاح کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15190
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الطَّلْقَةِ الثَّالِثَةِ: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] ، فَاحْتَمَلَتِ الْآيَةُ حَتَّى يُجَامِعَهَا زَوْجٌ غَيْرُهُ وَدَلَّتْ عَلَى ذَلِكَ السُّنَّةُ فَكَانَ أَوْلَى الْمَعَانِي بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا دَلَّتْ عَلَيْهِ سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اللہ کا فرمان: { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ”اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔“
اور آیت میں [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: Q15190]
اور آیت میں [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: Q15190]
حدیث نمبر: 15190
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ"، قَالَتْ: وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَى يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَجْهَرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ وَفِي رِوَايَةِ الزَّعْفَرَانِيِّ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ:" لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ" لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
(١٥١٩٠) عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میں رفاعہ قرظی کے نکاح میں تھی تو اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کرلیا، اس کے پاس کپڑے کا پھندا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: کیا تو رفاعہ کے پاس واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ نہیں ہوسکتا جب تک تو اس سے جماع نہ کرے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے اور خالد بن سعید دروازے پر کھڑے اجازت کے منتظر تھے، انھوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز دی: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! کیا سن رہے ہو؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کس بات کا اظہار کر رہی ہے۔
(ب) زعفرانی کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رفاعہ قرظی کی عورت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، پھر اس نے حدیث کو اس کی مثل ذکر کیا ہے، اس قول تک ”یہاں تک کہ وہ تجھ سے لطف اندوز ہو اور تو اس سے جماع کرلے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15190]
(ب) زعفرانی کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رفاعہ قرظی کی عورت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، پھر اس نے حدیث کو اس کی مثل ذکر کیا ہے، اس قول تک ”یہاں تک کہ وہ تجھ سے لطف اندوز ہو اور تو اس سے جماع کرلے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15190]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15191
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلَاقَهَا فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخَرُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَأَنَّهُ وَاللهِ مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ، وَأَخَذَتْ بِهُدْبَةٍ مِنْ جِلْبَابِهَا قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا وَقَالَ:" لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ"، قَالَتْ: وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
(١٥١٩١) عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اس عورت نے بعد میں عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کرلی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگی کہ وہ رفاعہ کے نکاح میں تھی، اس نے تین طلاقیں دے دی ہیں۔ اس کے بعد اس نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کی۔ اس کے پاس کپڑے کی جھالر ہے اور اس نے اپنی چادر کی جھالر کو پکڑا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: شاید کہ تو رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے، یہ ممکن نہیں جب تک تو اس سے جماع نہ کرے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہو لے۔ کہتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور خالد بن سعید بن عاص حجرہ کے دروازہ پر بیٹھے تھے، ان کو اجازت نہ ملی تھی تو خالد نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز دی آپ اس عورت کو ڈانٹتے نہیں ہیں یہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کس چیز کا اظہار کر رہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15191]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15192
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نا هِشَامٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ مِنْهُمْ فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا آخَرُ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ فَقَالَ:" لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ.
(١٥١٩٢) ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: بنو قریظہ کی عورت نے ان کے کسی مرد سے شادی کی، اس نے طلاق دے دی تو دوسرے نے اس سے شادی کرلی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس کے ساتھ تو کپڑے کا جھالر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ممکن نہیں، یہاں تک کہ تو اس کا اور وہ تیرا مزہ چکھ لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15192]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15193
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ عَنِ الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ فَيُطَلِّقُهَا ثَلَاثًا، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَهَا وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
(١٥١٩٣) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ عورت پہلے خاوند کے لیے جائز نہیں یہاں تک دوسرا شوہر اس کا مزہ چکھے اور یہ عورت اس کا مزہ چکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15193]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح