السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3101. -- باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء
-- باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15176
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ، وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ" هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي أَصْلِ كِتَابِهِ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
(١٥١٧٦) شعبی حضرت عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے جبکہ عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15176]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15177
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، نا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا عَبَّادٌ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" السُّنَّةُ بِالنِّسَاءِ فِي الطَّلَاقِ وَالْعِدَّةِ" هَكَذَا قَالَ.
(١٥١٧٧) عمرو بن دینار حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نق فرماتے ہیں کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ طلاق وعدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15177]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15178
وَقَدْ أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، نا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ".
(١٥١٧٨) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے جبکہ عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔
(ب) عطاء حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے جبکہ عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15178]
(ب) عطاء حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے جبکہ عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15178]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15179
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ:" الطَّلَاقُ لِلرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ لِلنِّسَاءِ" وَقَدْ رَوَيْنَا حَدِيثَ عِكْرِمَةَ مَرَّةً عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا" إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ" وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٥١٧٩) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے اور عدت عورتوں کے متعلق ہے۔
(ب) عکرمہ کبھی ابن عباس رضی اللہ عنہ اور کبھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق اس کے ذمہ ہے جو مالک بنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15179]
(ب) عکرمہ کبھی ابن عباس رضی اللہ عنہ اور کبھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق اس کے ذمہ ہے جو مالک بنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15179]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15180
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَمْشَاذٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ فَبَانَتْ مِنْهُ، ثُمَّ إِنَّهُمَا أُعْتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ هَلْ يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَخْطُبَهَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" نَعَمْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِذَلِكَ" وَكَذَلِكَ قَالَهُ هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ، وَقَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ وَكَذَلِكَ قَالَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُمَرَ، وَذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ لِمَعْمَرٍ: مَنْ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً يُرِيدُ بِهِ إِنْكَارَ مَا جَاءَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ.
(١٥١٨٠) بنو نوفل کے غلام ابو حسن نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں لونڈی تھی، اس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں تو وہ جدا ہوگئیں، پھر دونوں کو آزاد کردیا گیا تو کیا مرد کے لیے درست ہے کہ وہ اس عورت کو نکاح کا پیغام دے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہاں؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح فیصلہ فرمایا تھا۔
(ب) ابن مبارک نے معمر سے کہا کہ ابوالحسن کون ہے؟ تو اس نے ایک بہت بڑی چٹان اٹھانے کی ضمانت دی وہ اس کی بیان کردہ حدیث کا انکار چاہتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15180]
(ب) ابن مبارک نے معمر سے کہا کہ ابوالحسن کون ہے؟ تو اس نے ایک بہت بڑی چٹان اٹھانے کی ضمانت دی وہ اس کی بیان کردہ حدیث کا انکار چاہتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15180]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15181
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرَاءُ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَسُئِلَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ الَّذِي رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةٌ فَقَالَ مَجْهُولٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ يَحْيَى، ⦗٦٠٩⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَامَّةُ الْفُقَهَاءِ عَلَى خِلَافِ مَا رَوَاهُ وَلَوْ كَانَ ثَابِتًا قُلْنَا بِهِ إِلَّا أَنَّا لَا نُثْبِتُ حَدِيثًا يَرْوِيهِ مَنْ تُجْهَلُ عَدَالَتُهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ مِنْ قَوْلِهِمَا بِخِلَافِ ذَلِكَ.
(١٥١٨١) ابوالحسن ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غلام کا فیصلہ فرمایا جس کے نکاح میں لونڈی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15181]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15182
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي عَبْدٍ مَمْلُوكٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ أُعْتِقَتْ قَالَ:" لَا يَتَزَوَّجُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ".
(١٥١٨٢) ابراہیم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک غلام کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دی تھیں، پھر اس عورت کو آزاد کردیا گیا۔ فرماتے ہیں کہ وہ غلام اس آزاد کردہ عورت سے شادی نہیں کرسکتا یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15182]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15183
قَالَ: وَنا أَبُو بَكْرٍ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" إِذَا أُعْتِقَتْ فِي عِدَّتِهَا فَإِنَّهُ يَتَزَوَّجُهَا وَتَكُونُ عِنْدَهُ عَلَى وَاحِدَةٍ".
(١٥١٨٣) ابو سلمہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب عدت کے ایام میں اسے آزاد کردیا جائے تو وہ اس عورت سے شادی کرسکتا ہے اور یہ عورت اس کے پاس ایک طلاق پر رہے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15183]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3102. -- باب: ائتمان المرأة على فرجها وتصديقها متى ادعت انقضاء عدتها في مدة يمكن في مثلها أن تنقضي العدة
-- باب: عورت کو اس کی شرم گاہ کے معاملے میں امین ماننے اور اس کی تصدیق کرنے کا بیان جب وہ اتنی مدت میں اپنی عدت گزر جانے کا دعویٰ کرے جس میں عدت گزر جانا ممکن ہو۔
حدیث نمبر: 15184
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، نا يَزِيدُ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مِنَ الْأَمَانَةِ ائْتِمَانُ الْمَرْأَةِ عَلَى فَرْجِهَا".
(١٥١٨٤) حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ حمل کے بارے میں عورت پر اعتماد کرنا امانت داری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15184]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3103. -- باب:: الرجعية محرمة عليه تحريم المبتوتة حتى يراجعها
-- باب: اس بیان میں کہ رجعی طلاق والی عورت اس (شوہر) پر طلاقِ بائن والی عورت کی طرح حرام رہتی ہے جب تک کہ وہ اس سے رجوع نہ کر لے۔
حدیث نمبر: 15185
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ} [البقرة: ٢٢٨] قَالَ:" يَعْنِي الْحَبَلَ، يَقُولُ: لَا تَقُولَنَّ الْمَرْأَةُ لَسْتُ بِحُبْلَى وَلَا تَقُولَنَّ إِنِّي حُبْلَى وَلَيْسَتْ بِحُبْلَى" وَرَوَاهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ مُجَاهِدٍ فِي الْحَيْضِ وَالْحَبَلِ جَمِيعًا.
(١٥١٨٥) ابن ابی نجیح حضرت مجاہد سے اس قول: { وَ لَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِہِنَّ } [البقرۃ ٢٢٨] ”کہ عورتوں کے لیے جائز نہیں کہ جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا فرمایا ہے اس کو چھپائیں۔“ یعنی اگر حاملہ ہوں تو حمل کا انکار کردیں یا حاملہ نہ ہوں تو حمل کا اظہار کردیں۔
لیث بن ابی سلیم حضرت مجاہد سے حیض و حمل کے بارہ میں نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15185]
لیث بن ابی سلیم حضرت مجاہد سے حیض و حمل کے بارہ میں نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15185]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح