🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3178. -- باب: من قال: امرأة المفقود امرأته حتى يأتيها يقين وفاته
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک لاپتہ شخص کی بیوی اسی کے نکاح میں رہے گی یہاں تک کہ اسے اپنے شوہر کی وفات کا یقین ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15562
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ إِذَا قَدِمَ وَقَدْ تَزَوَّجَتِ امْرَأَتُهُ هِيَ امْرَأَتُهُ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَلَا تُخَيَّرُ" وَرَوَاهُ أَبُو عُبَيْدٍ عَنْ هُشَيْمٍ عَنْ سَيَّارٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس عورت کے متعلق فرماتے ہیں جس کا خاوند گم ہو جائے کہ جب وہ آئے اور عورت نے شادی کر لی ہو تو اگر چاہے تو اسے طلاق دے دے اور اگر چاہے تو روک لے اور عورت کو اختیار نہیں دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15562]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15563
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، ثنا سِمَاكٌ، عَنْ حَنَشٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" لَيْسَ الَّذِي قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَيْءٍ يَعْنِي فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ هِيَ امْرَأَةُ الْغَائِبِ حَتَّى يَأْتِيَهَا يَقِينُ مَوْتِهِ أَوْ طَلَاقُهَا وَلَهَا الصَّدَاقُ مِنْ هَذَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَنِكَاحُهُ بَاطِلٌ" وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: هِيَ امْرَأَةُ الْأَوَّلِ دَخَلَ بِهَا الْآخَرُ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَهُوَ قَوْلُ النَّخَعِيِّ وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِمَا.
حنش سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ بات جو عمر رضی اللہ عنہ نے کہی ہے، کچھ بھی نہیں ہے یعنی گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے میں یہ اسی کی بیوی ہے جو غائب ہو گیا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت کی یقینی خبر آ جائے یا اس کی طلاق کی یقینی خبر آ جائے اور اس کے لیے حق مہر ہو گا اس مرد سے اس کی شرمگاہ کو حلال کیے جانے کی وجہ سے اور اس کا نکاح باطل ہے۔
اور ہم کو سعید بن جُبیر رحمہ اللہ نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ پہلے خاوند کی بیوی ہے، اس کے ساتھ دوسرے نے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15563]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15564
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، نا الْعَبَّاسُ هُوَ الدُّورِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ" تُلَوَّمُ وَتَصْبِرُ" وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ.
ابن شبرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے میں لکھا کہ وہ انتظار کرے اور صبر کرے۔
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15564]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15565
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ السَّقَطِيُّ، نا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ، نا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" امْرَأَةُ الْمَفْقُودِ امْرَأَتُهُ حَتَّى يَأْتِيَهَا الْبَيَانُ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ عَنْ سَوَّارِ بْنِ مُصْعَبٍ، وَسَوَّارٌ ضَعِيفٌ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت جس کا خاوند گم ہو جائے وہ اسی کی بیوی ہے حتیٰ کہ اس کے بارے میں وضاحت آ جائے۔“
اور اسی طرح زکریا بن یحییٰ واسطی نے سوار بن مصعب سے بیان کیا ہے اور سوار ضعیف راوی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15565]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3179. -- باب: من قال: تنتظر أربع سنين ثم أربعة أشهر وعشرا ثم تحل
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک وہ عورت چار سال تک انتظار کرے گی، پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے گی، پھر وہ (نکاحِ ثانی کے لیے) حلال ہو جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15566
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ فَقَدَتْ زَوْجَهَا فَلَمْ تَدْرِ أَيْنَ هُوَ فَإِنَّهَا تَنْتَظِرُ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ تَنْتَظِرُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس عورت کا خاوند گم ہو جائے اور اسے علم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے تو وہ چار سال انتظار کرے، پھر چار ماہ دس دن انتظار کرے (یعنی عدت گزارے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15566]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15567
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلَهِ زَادَ ثُمَّ تَحِلُّ وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فِيهِ قَالَ: وَقَضَى بِذَلِكَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بَعْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَرَوَاهُ أَبُو عُبَيْدٍ فِي كِتَابِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: امْرَأَةُ الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ تَعْتَدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تُنْكَحُ.
ہم کو مالک نے حدیث بیان کی، انہوں نے اسی طرح ذکر کیا ہے اور انہوں نے یہ زیادہ کیا ہے کہ پھر وہ حلال ہو جائے۔
اور اس کو یونس بن یزید نے زہری سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں یہ زیادہ کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ کیا۔
اور اس کو ابو عبیدہ نے اپنی کتاب میں محمد بن کثیر سے، اوزاعی سے، زہری سے اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما نے فرمایا: گم شدہ خاوند کی بیوی چار سال انتظار کرے، پھر وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزارے، پھر نکاح کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15567]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15568
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَجَّلَ امْرَأَةَ الْمَفْقُودِ أَرْبَعَ سِنِينَ".
ابوعمرو الشیبانی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گم شدہ خاوند کی بیوی کی مدت (انتظار) چار سال ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15568]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15569
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ شُعْبَةُ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" فِي الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ امْرَأَتُهُ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا وَلِيُّ زَوْجِهَا ثُمَّ تَرَبَّصُ بَعْدَ ذَلِكَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَزَوَّجُ" وَرَوَاهُ عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ فِي طَلَاقِ الْوَلِيِّ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُجَاهِدٌ عَنِ الْفَقِيدِ الَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الْجِنُّ فِي قَضَاءِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ، وَرَوَاهُ خِلَاسُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو الْمَلِيحِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ، وَرِوَايَةُ ⦗٧٣٢⦘ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ ضَعِيفَةٌ وَرِوَايَةُ ابْنِ الْمَلِيحِ عَنْ عَلِيٍّ مُرْسَلَةٌ وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خِلَافُ هَذَا، وَرَوَى أَبُو عُبَيْدٍ فِي كِتَابِهِ عَنْ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ شَهِدَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَذَاكَرَا امْرَأَةَ الْمَفْقُودِ فَقَالَا: تَرَبَّصُ بِنَفْسِهَا أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ تَعْتَدُّ عِدَّةَ الْوَفَاةِ، ثُمَّ ذَكَرُوا النَّفَقَةَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَهَا نَفَقَتُهَا لِحَبْسِهَا نَفْسِهَا عَلَيْهِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِذًا يَضُرُّ ذَلِكَ بِأَهْلِ الْمِيرَاثِ وَلَكِنْ لِتُنْفِقْ فَإِنْ قَدِمَ أَخَذَتْهُ مِنْ مَالِهِ وَإِنْ لَمْ يَقْدَمْ فَلَا شَيْءَ لَهَا.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں فیصلہ کیا جس کا خاوند گم ہو جائے کہ وہ چار سال انتظار کرے۔ پھر خاوند کا ولی اس کو طلاق دے۔ پھر وہ اس کے بعد چار ماہ اور دس دن انتظار کرے، پھر شادی کر لے۔ اس کو عاصم احول نے ابو عثمان رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور ابو عثمان رحمہ اللہ، عمر رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل ولی کی طلاق کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، اور اس کو خلاس بن عمرو اور ابو ملیح نے علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور خلاس کی روایت علی رضی اللہ عنہ سے ضعیف ہے اور ابو ملیح کی روایت علی رضی اللہ عنہ سے مرسل ہے اور مشہور علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف ہے اور ابو عبید نے اپنی کتاب میں یزید سے، سعید بن ابی عروبہ سے، جعفر بن ابو وحشیہ سے، عمرو بن ہزم سے اور جابر بن زید رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ وہ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ان دونوں نے آپس میں گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے میں مذاکرہ کیا۔ ان دونوں نے کہا: وہ اپنے نفس کے ساتھ چار سال انتظار کرے پھر وہ وفات کی عدت گزارے۔ پھر انھوں نے خرچے کا ذکر کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کے لیے خرچہ ہو گا، اس کے اپنے آپ کو اس مرد پر روکنے کی وجہ سے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تب تو اس سے وارثوں کو نقصان پہنچے گا، بلکہ وہ (اپنے مال سے) خرچ کرے، اگر اس کا خاوند آ جائے تو وہ اس کے مال میں سے لے لے۔ اگر وہ نہ آئے تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15569]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3180. -- باب: من قال بتخيير المفقود إذا قدم بينها وبين الصداق ومن أنكره
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جو لاپتہ شخص کی واپسی پر اسے بیوی اور مہر (واپس لینے) کے درمیان اختیار دینے کے قائل ہیں، اور جنہوں نے اس امر کا انکار کیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15570
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى" أَنَّ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الْأَنْصَارِ خَرَجَ يُصَلِّي مَعَ قَوْمِهِ الْعِشَاءَ فَسَبَتْهُ الْجِنُّ فَفُقِدَ فَانْطَلَقَتِ امْرَأَتُهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَصَّتْ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَسَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ قَوْمَهُ فَقَالُوا: نَعَمْ خَرَجَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فَفُقِدَ فَأَمَرَهَا" أَنْ تَرَبَّصَ أَرْبَعَ سِنِينَ، فَلَمَّا مَضَتِ الْأَرْبَعُ سِنِينَ أَتَتْهُ فَأَخْبَرَتْهُ فَسَأَلَ قَوْمَهَا فَقَالُوا: نَعَمْ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا يُخَاصِمُ فِي ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" يَغِيبُ أَحَدُكُمُ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ لَا يَعْلَمُ أَهْلُهُ حَيَاتَهُ"، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ لِي عُذْرًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: وَمَا عُذْرُكَ؟ قَالَ: خَرَجْتُ أُصَلِّي الْعِشَاءَ فَسَبَتْنِي الْجِنُّ فَلَبِثْتُ فِيهِمْ زَمَانًا طَوِيلًا فَغَزَاهُمْ جِنٌّ مُؤْمِنُونَ أَوْ قَالَ: مُسْلِمُونَ شَكَّ سَعِيدٌ فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ فَسَبَوْا مِنْهُمْ سَبَايَا فَسَبَوْنِي فِيمَا سَبَوْا مِنْهُمْ فَقَالُوا: نَرَاكَ رَجُلًا مُسْلِمًا وَلَا يَحِلُّ لَنَا سَبْيُكَ فَخَيَّرُونِي بَيْنَ الْمُقَامِ وَبَيْنَ الْقُفُولِ إِلَى أَهْلِي فَاخْتَرْتُ الْقُفُولَ إِلَى أَهْلِي فَأَقْبَلُوا مَعِي أَمَّا بِاللَّيْلِ فَلَيْسَ يُحَدِّثُونِي وَأَمَّا بِالنَّهَارِ فَعِصَارُ رِيحٍ أَتْبَعُهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَمَا كَانَ طَعَامُكَ فِيهِمْ؟" قَالَ: الْفُولُ وَمَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ، قَالَ: فَمَا كَانَ شَرَابُكَ فِيهِمْ؟ قَالَ: الْجَدَفُ قَالَ قَتَادَةُ: وَالْجَدَفُ مَا لَا يُخَمَّرُ مِنَ الشَّرَابِ قَالَ: فَخَيَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ الصَّدَاقِ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ" قَالَ سَعِيدٌ: وَحَدَّثَنِي مَطَرٌ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ ⦗٧٣٣⦘ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلَّا أَنَّ مَطَرًا زَادَ فِيهِ قَالَ: أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ أَرْبَعَ سِنِينَ وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی اپنی قوم کے ساتھ عشاء کی نماز کے لیے نکلا تو اسے جنوں نے قیدی بنا لیا، وہ لاپتہ ہو گیا تو اس کی بیوی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اس کا قصہ بیان کیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کی قوم سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: جی ہاں! وہ عشاء کی نماز کے لیے نکلا تھا اور پھر اسے گم پایا گیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ وہ چار سال تک انتظار کرے۔ جب چار سال گزر گئے تو وہ دوبارہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں خبر دی، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے دوبارہ سوال کیا۔ انہوں نے کہا: جی ہاں! تو اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ وہ شادی کر لے۔ چنانچہ اس نے شادی کر لی، پھر اس کا پہلا خاوند واپس آگیا، اس نے اس معاملے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عدالت میں جھگڑا پیش کیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک لمبا عرصہ غائب رہتا ہے اور اس کے اہل نہیں جانتے کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔ اس نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! میرے پاس عذر ہے۔ آپ نے پوچھا: تیرا کیا عذر ہے؟ اس نے کہا: میں عشاء کی نماز کے لیے نکلا تو مجھے جنوں نے قید کر لیا اور میں ایک طویل عرصے تک ان کے درمیان رہا، پھر مومن یا مسلم جنوں نے ان سے لڑائی کی—اس کے بارے میں سعید کو شک ہوا ہے—انہوں نے ان سے قتال کیا اور ان پر غلبہ پایا، مومن جنوں نے ان کے جنوں کو قید کیا اور مجھے بھی قیدی بنایا، پھر انہوں نے کہا: ہم تمہیں مسلمان آدمی سمجھتے ہیں اور ہمارے لیے تمہیں قیدی بنانا حلال نہیں ہے، چنانچہ انہوں نے مجھے وہاں رہنے یا اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جانے کے درمیان اختیار دیا، تو میں نے اپنے اہل کی طرف لوٹنے کو اختیار کیا، وہ میرے ساتھ آئے، رات کو وہ مجھ سے بات نہیں کرتے تھے اور دن کو ایک بگولا ہوتا جس کے پیچھے میں چلتا رہا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: ان میں تیرا کھانا کیا تھا؟ اس نے کہا: «الْفُولُ» ”لوبیا“ اور وہ چیز جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس میں تیرا پینا کیا تھا؟ اس نے کہا: «الْجَدَفُ» ”جدف“۔ قتادہ فرماتے ہیں: «الْجَدَفُ» ”جدف“ وہ شراب ہے جو سکر پیدا ہونے سے پہلے استعمال کرتے ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو حق مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دے دیا۔ سعید فرماتے ہیں: اور مجھے مطر نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے قتادہ کی حدیث کی طرح نقل فرماتے ہیں، مگر مطر نے اس میں کچھ زیادہ کیا ہے، فرماتے ہیں: اسے حکم دیا کہ وہ چار سال، چار ماہ اور دس دن انتظار کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15570]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15571
قَالَ: وَأنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَ مَا رَوَى قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ. وَرَوَاهُ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى مُخْتَصَرًا وَزَادَ فِيهِ قَالَ:" فَخَيَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ الصَّدَاقِ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ فَاخْتَارَ الصَّدَاقَ" قَالَ حَمَّادٌ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فَأَعْطَاهُ الصَّدَاقَ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ، أَخْبَرَنَاه أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ نا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ نا عَفَّانُ نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أنا ثَابِتٌ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ مُجَاهِدٌ عَنِ الْفَقِيدِ الَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الْجِنُّ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ قَالَ: إِنْ جَاءَ زَوْجُهَا وَقَدْ تَزَوَّجَتْ خُيِّرَ بَيْنَ امْرَأَتِهِ وَبَيْنَ صَدَاقِهَا فَإِنِ اخْتَارَ الصَّدَاقَ كَانَ عَلَى زَوْجِهَا الْآخَرِ وَإِنِ اخْتَارَ امْرَأَتَهُ اعْتَدَّتْ حَتَّى تَحِلَّ ثُمَّ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَكَانَ لَهَا مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَقَضَى بِذَلِكَ عُثْمَانُ بَعْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تعالى عَنْهُمَا وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُنْكِرُ رِوَايَةَ مَنْ رَوَى عَنْ عُمَرَ فِي التَّخْيِيرِ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت ہے جس طرح قتادہ رحمہ اللہ نے ابونضرہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور اس کو ثابت بنانی رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن ابولیلیٰ رحمہ اللہ سے مختصر طور پر روایت کیا ہے اور اس میں اضافہ کیا ہے کہ اس کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حق مہر اور اس کی بیوی کے مابین اختیار دیا۔ اس نے حق مہر کو اختیار کیا۔ حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ اس کو حق مہر بیت المال سے دیا۔
اس کو مجاہد رحمہ اللہ نے اس گم شدہ شخص سے روایت کیا ہے جس کو جن نے قیدی بنا لیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یونس بن یزید کی روایت میں ہے، وہ ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ گم شدہ خاوند کی عورت کے بارے میں فرماتے ہیں: اگر اس کا خاوند آ جائے اور وہ شادی کر چکی ہے تو اس کو اس کی بیوی اور اس کی بیوی کے حق مہر کے درمیان اختیار دیا جائے گا اور اگر وہ حق مہر کو اختیار کرے تو وہ (حق مہر) اس عورت کے دوسرے خاوند کے ذمے ہو گا اور اگر وہ اپنی بیوی کو اختیار کرے تو وہ عدت گزارے گی حتیٰ کہ وہ حلال ہو جائے۔ پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی طرف رجوع کرے گی اور اس کے لیے اس کے دوسرے خاوند سے حق مہر ہو گا، اس لیے کہ اس نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا اور ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا: اسی کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا اور مالک بن انس رحمہ اللہ اس کی روایت کا انکار کرتے ہیں جس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اختیار کے بارے میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15571]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں