السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3182. -- باب: استبراء من ملك الأمة
-- باب: جو شخص کسی لونڈی کا مالک بنے اس کے لیے استبراءِ رحم کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 15592
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَارِسِيُّ الْمَشَّاطُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا مَاتَ سَيِّدُهَا وَالْأَمَةِ إِذَا أُعْتِقَتْ أَوْ وُهِبَتْ حَيْضَةٌ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: تُسْتَبْرَأُ الْأَمَةُ بِحَيْضَةٍ وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَاءٍ وَابْنِ سِيرِينَ وَعِكْرِمَةَ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَسْتَبْرِئُهَا وَإِنْ كَانَتْ بِكْرًا.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام ولد کی عدت جب اس کا سردار فوت ہو جائے یا جب لونڈی کو آزاد کر دیا جائے یا اس کو ہبہ کر دیا جائے، اسے کسی کو تحفہ میں دیا جائے، اس کی عدت ایک حیض ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمیں حدیث بیان کی گئی کہ لونڈی ایک حیض کے ساتھ استبراء رحم کرے۔
حسن، عطاء، ابن سیرین اور عکرمہ رحمہم اللہ سے ہمیں حدیث بیان کی گئی، وہ سب کہتے ہیں کہ وہ استبراء رحم کرے اگرچہ کنواری ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15592]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمیں حدیث بیان کی گئی کہ لونڈی ایک حیض کے ساتھ استبراء رحم کرے۔
حسن، عطاء، ابن سیرین اور عکرمہ رحمہم اللہ سے ہمیں حدیث بیان کی گئی، وہ سب کہتے ہیں کہ وہ استبراء رحم کرے اگرچہ کنواری ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15592]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15593
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَابْنِ سِيرِينَ فِي الرَّجُلِ يَسْتَبْرِئُ الْأَمَةَ الَّتِي لَا تَحِيضُ قَالَ:" كَانَا لَا يَرَيَانِ أَنَّ ذَلِكَ يَتَبَيَّنُ إِلَّا بِثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ".
ابو قلابہ اور ابن سیرین رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ایسی لونڈی سے استبراءِ رحم کرواتا جس کو حیض نہیں آتا تھا۔ وہ دونوں فرماتے ہیں کہ وہ تین ماہ کے ساتھ واضح ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15593]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15594
قَالَ: وَنا أَبُو بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ قَالَا:" وَإِنْ كَانَتْ لَا تَحِيضُ فَثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ".
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں ابوبکر رحمہ اللہ نے ابن علیہ رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی، وہ لیث رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ طاؤس رحمہ اللہ اور عطاء رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ اگر (لونڈی) کو حیض نہ آتا ہو تو تین ماہ اس کی عدت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15594]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15595
قَالَ: وَنا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ مُعْتَمِرٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ:" ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ" وَرُوِّينَا أَيْضًا، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَإِبْرَاهِيمَ.
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں ابوبکر نے معتمر سے حدیث بیان کی، وہ صدقہ بن یسار سے روایت کرتے ہیں اور وہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ تین ماہ ہے اور اسی طرح ہمیں مجاہد رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی روایت نقل کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15595]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3183. -- باب: ما جاء في عدة المختلعة
-- باب: خلع لینے والی عورت کی عدت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15596
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ" قَالَ الشَّيْخُ: وَهُوَ قَوْلُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَالزُّهْرِيِّ وَالشَّعْبِيِّ وَالْجَمَاعَةِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خلع کرنے والی کی عدت طلاق شدہ کی عدت کی طرح ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ قول سعید بن مسیب، سلیمان بن یسار، زہری، شعبی اور جماعت کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15596]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ قول سعید بن مسیب، سلیمان بن یسار، زہری، شعبی اور جماعت کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15596]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15597
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ ⦗٧٤٠⦘ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ، نا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عِدَّتَهَا حَيْضَةً" فَكَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْبَصْرِيُّ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مَعْمَرٍ مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، فَأَرْسَلَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی عورت نے ان سے خلع لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس کی عدت ایک حیض“ قرار دی۔
«فَكَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْبَصْرِيُّ وَغَيْرُهُمَا عَنْ هِشَامٍ عَنْ مَعْمَرٍ مَوْصُولًا» [ضعیف]
”اسی طرح اس کو علی بن بحر اور اسماعیل بن یزید بصری نے اور ان کے علاوہ نے ہشام عن معمر سے موصولاً روایت کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15597]
«فَكَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْبَصْرِيُّ وَغَيْرُهُمَا عَنْ هِشَامٍ عَنْ مَعْمَرٍ مَوْصُولًا» [ضعیف]
”اسی طرح اس کو علی بن بحر اور اسماعیل بن یزید بصری نے اور ان کے علاوہ نے ہشام عن معمر سے موصولاً روایت کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15597]
حدیث نمبر: 15598
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عِدَّتَهَا حَيْضَةً" وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ ضَعِيفَيْنِ لَا يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِمِثْلِهِمَا.
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی عورت نے ان سے خلع لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس کی عدت ایک حیض“ مقرر فرمائی اور یہ دو دوسری ضعیف سندوں سے بھی روایت کی گئی ہے، ان دونوں کی مثل کے ساتھ دلیل پکڑنا جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15598]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15599
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، نا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ" أُمِرَتْ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ".
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں خلع لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا یا انہیں حکم دیا گیا: «أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ» ”کہ وہ ایک حیض عدت گزاریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15599]
حدیث نمبر: 15600
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيلٍ الْعَنَزِيُّ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا" فَأُمِرَتْ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ" هَذَا أَصَحُّ وَلَيْسَ فِيهِ مِنْ أَمْرِهَا وَلَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الْخُلْعِ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا زَمَنَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے خاوند سے خلع کیا تو انہیں حکم دیا گیا کہ ”وہ ایک حیض عدت گزارے“۔ یہ زیادہ صحیح ہے اور اس میں نہیں ہے جس نے انہیں حکم دیا اور نہ ہی ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں“ کے الفاظ ہیں۔ ہم نے کتاب الخلع میں روایت ذکر کی کہ انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اپنے خاوند سے خلع کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15600]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15601
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ، نا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رُبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَهَبَ عَمُّهَا مُعَاذُ ابْنُ عَفْرَاءَ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ مُعَوِّذٍ قَدِ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا الْيَوْمَ أَفَتَنْتَقِلُ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" تَنْتَقِلُ وَلَيْسَ عَلَيْهَا عِدَّةٌ، أَنَّهَا لَا تُنْكَحُ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً وَاحِدَةً"، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" عُثْمَانُ أَكْبَرُنَا وَأَعْلَمُنَا" فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ تُصَرِّحُ بِأَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هُوَ الَّذِي أَمَرَهَا بِذَلِكَ وَظَاهِرُ الْكِتَابِ فِي عِدَّةِ الْمُطَلَّقَاتِ يَتَنَاوَلُ الْمُخْتَلِعَةَ وَغَيْرَهَا فَهُوَ أَوْلَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی کہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند سے عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں خلع لیا۔ ان کے چچا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف گئے، انہوں نے کہا: معوذ کی بیٹی نے آج کے دن اپنے خاوند سے خلع لیا ہے، کیا وہ منتقل ہوجائے؟ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ منتقل ہوجائے اور اس پر عدت نہیں ہے، وہ نکاح نہ کرے حتیٰ کہ ایک حیض گزار لے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ ہمارے بڑے ہیں اور ہم میں سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ یہ روایت وضاحت کرتی ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو اسی کا حکم دیا تھا اور کتاب کا ظاہر طلاق شدہ کی عدت کے بارے میں خلع والیوں اور اس کے علاوہ کو بھی شامل ہے، وہ زیادہ لائق ہے اور اللہ کی توفیق کے ساتھ اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15601]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح