🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3185. -- باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم
-- باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15615
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لَكَ فِي دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ؟ قَالَ:" فَأَفْعَلُ مَاذَا؟" قَالَتْ: قُلْتُ: تَنْكِحُهَا قَالَ:" أَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟" قُلْتُ: لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ يَشْرَكُنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي قَالَ:" فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ" قُلْتُ: فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ:" ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" فَوَاللهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي لَقَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ، وَقَالُوا فِيهِ عَنْ هِشَامٍ: دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ وَكَذَلِكَ قَالَهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ وَقَالَ: أَنْكِحْ أُخْتِي عَزَّةَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے لیے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی درہ میں کوئی رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیا کروں؟“ فرماتی ہیں: میں نے کہا: آپ اس سے نکاح کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو یہ پسند کرتی ہے؟“ میں نے کہا: میں آپ کے لیے علیحدہ ہونے والی نہیں ہوں اور میں پسند کرتی ہوں کہ جو مجھے ملے اس میں میری بہن بھی شریک ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ میں نے کہا: مجھے تو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ کی بیٹی؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری پرورش میں میری ربیبہ نہ بھی ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ مجھے اور اس کے باپ کو «ثُوَيْبَةَ» نے دودھ پلایا ہے۔ تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ پر پیش نہ کیا کرو۔“ اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں حمیدی سے روایت کیا ہے اور اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند عن ہشام سے نکالا ہے، انہوں نے کہا کہ اس میں ہشام سے روایت ہے، درہ بنت ابی سلمہ کے الفاظ ہیں اور اسی طرح اس کو زہری رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے اور کہا: آپ میری بہن عزہ سے نکاح کر لیں اور بعض نے زہری رحمہ اللہ سے کہا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”مجھے اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو «ثُوَيْبَةَ» لونڈی نے دودھ پلایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15615]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15616
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ:" قَالَ لَا تَنْكِحْ مَنْ أَرْضَعَتْهُ امْرَأَةُ أَبِيكَ، وَلَا امْرَأَةُ ابْنِكَ، وَلَا امْرَأَةُ أَخِيكَ".
ایاس بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تو اس سے نکاح نہ کر جس کو تیرے باپ کی بیوی نے دودھ پلایا ہو اور نہ جس کو تیرے بیٹے کی بیوی نے دودھ پلایا ہو اور نہ جس کو تیرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15616]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15617
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَأَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا غُلَامًا وَأَرْضَعَتِ الْأُخْرَى جَارِيَةً فَقِيلَ يَتَزَوَّجُ الْغُلَامُ الْجَارِيَةَ، فَقَالَ:" لَا اللِّقَاحُ وَاحِدٌ".
عمرو بن شرید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس کی دو بیویاں ہیں، ان میں سے ایک نے لڑکے کو دودھ پلایا اور دوسری نے لڑکی کو دودھ پلایا، کیا لڑکا اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ کیونکہ ان کا نطفہ یا ان کو حاملہ کرنے والا ایک ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15617]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15618
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُعَلَّى، نا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ" وَرُوِّينَا هَذَا الْمَذْهَبُ مِنَ التَّابِعِينَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَعَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالزُّهْرِيِّ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رضاعت سے وہ (رشتے) حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“
اور ہم کو یہ مذہب تابعین میں سے قاسم بن محمد، جابر بن زید ابو شعثاء، عطاء، طاؤس، مجاہد اور زہری سے نقل کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15618]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3186. -- باب: من قال: لا يحرم من الرضاع إلا خمس رضعات
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک حرمت صرف پانچ مرتبہ دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15619
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، قَالُوا: أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، نا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْأَزْرَقِيُّ، نا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، نا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ قَالَا: نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ ⦗٧٤٧⦘ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ" وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ يُوسُفَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نازل فرمایا کہ «عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ» ”دس معلوم (گھونٹ)“، پھر یہ «خَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ» ”پانچ معلوم گھونٹوں“ والی آیت سے منسوخ کر دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تک قرآن میں اس کی تلاوت کی جاتی تھی۔ ابن یوسف کی روایت میں ہے کہ ”پانچ معلوم گھونٹوں کے ساتھ وہ حرام ہوتی ہے“ اور مسلم نے اس کو یحییٰ بن یحییٰ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15619]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ 1452»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15620
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" أُنْزِلَ فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ ثُمَّ تُرِكْنَ بَعْدُ بِخَمْسٍ أَوْ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”قرآن میں دس معلوم گھونٹ والی آیت نازل کی گئی، پھر بعد میں پانچ کے ساتھ چھوڑ دی گئیں“ یا یہ فرمایا: ”پانچ معلوم رضاعات ترک کردی گئیں۔“ اس کو مسلم نے محمد بن مثنی سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15620]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15621
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ" نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ عَشَرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ صُيِّرْنَ إِلَى خَمْسٍ يُحَرِّمْنَ" وَكَانَ لَا يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ إِلَّا مَنِ اسْتَكْمَلَ خَمْسَ رَضَعَاتٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قرآن میں دس معلوم گھونٹوں والی آیات نازل ہوئیں، وہ حرام کرتی تھیں، پھر پانچ معلوم گھونٹوں والی رہ گئیں، وہ حرام کرتی ہیں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس وہی داخل ہوتا تھا جس نے پانچ گھونٹوں کو مکمل کیا ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15621]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15622
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٧٤٨⦘ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَلَا الْمَصَّتَانِ".
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک گھونٹ اور نہ ہی دو گھونٹ (رضاعت کو) حرام نہیں کرتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15622]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ 1450»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15623
أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، فَذَكَرَهُ قَالَ الرَّبِيعُ: فَقُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسَمِعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ وَحَفِظَ عَنْهُ وَكَانَ يَوْمَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ تِسْعِ سِنِينَ، قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِلَّا أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا أَخَذَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہمیں انس بن عیاض نے خبر دی، انہوں نے حدیث کو اسی طرح ذکر کیا۔
ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا: کیا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اور انہوں نے ان سے یاد کیا ہے اور وہ وہی دن تھا جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور وہ نو سال کے لڑکے تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح جس طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے مگر ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15623]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15624
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا أَبُو عُبَيْدٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ابن زبیر رضی اللہ عنہما عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل نقل فرماتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15624]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں