السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3199. -- باب: الرجل لا يجد نفقة امرأته
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کا نفقہ (برداشت کرنے کی استطاعت) نہ پائے۔
حدیث نمبر: 15707
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الرَّجُلِ لَا يَجِدُ مَا يُنْفِقُ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ:" يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا" قَالَ أَبُو الزِّنَادِ قُلْتُ: سُنَّةً قَالَ: سَعِيدٌ:" سُنَّةً" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي يُشْبِهُ قَوْلَ سَعِيدٍ سُنَّةً أَنْ تَكُونَ سُنَّةً مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوزناد سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی کے لیے وہ (مال) نہیں پاتا جو اس پر خرچ کرے، انہوں نے کہا: ”ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی جائے۔“ ابوزناد کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”کیا یہ سنت ہے؟“ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ سنت ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وہ جو سعید کے قول کے مشابہ ہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15707]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وہ جو سعید کے قول کے مشابہ ہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15707]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15708
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ ⦗٧٧٣⦘ الْخَزَّازُ، ح وَنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، وَعَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ قَالُوا: نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَوْدِيُّ، نا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فِي الرَّجُلِ لَا يَجِدُ مَا يُنْفِقُ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ:" يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا".
یحییٰ بن سعید، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی پر خرچ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، فرمایا: ان دونوں کے درمیان جدائی کروائی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15708]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15709
قَالَ: وَنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15709]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15710
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الزُّهْرِيُّ الْقَاضِي بِمَكَّةَ، نا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهَانِيُّ بِمَكَّةَ، نا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي مَسَرَّةَ الْمَكِّيُّ، نا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" قَالَ: وَمَنْ أَعُولُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" امْرَأَتُكَ تَقُولُ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَارِقْنِي، خَادِمُكَ يَقُولُ: أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي، وَلَدُكَ يَقُولُ: إِلَى مَنْ تَتْرُكُنِي؟" ⦗٧٧٤⦘ هَكَذَا رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَجَعَلَ آخِرَهُ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَكَذَلِكَ جَعَلَهُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو غنی ہونے کے بعد ہو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور جن کی تو عیال داری کرتا ہے ان سے ابتدا کر۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کی میں عیال داری کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری بیوی کہتی ہے: تو مجھے کھلا یا مجھے جدا کر دے، تیرا خادم کہتا ہے: مجھے کھلا اور مجھ سے کام لے، تیرا بیٹا کہے گا: تو مجھے کس کے پاس چھوڑے گا؟“ اسی طرح اس کو سعید بن ابو ایوب نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے اور اس کو ابن عیینہ اور اس کے علاوہ نے ابن عجلان سے مقبری سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15710]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15711
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، نا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، نا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَقُولُ امْرَأَتُكَ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَطَلِّقْنِي، وَيَقُولُ: خَادِمُكَ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَبِعْنِي وَيَقُولُ: وَلَدُكَ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ مِنْ رَأْيِكَ أَوْ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا بَلْ هَذَا مِنْ كَيْسِي، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْأَعْمَشِ.
ابو صالح، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افضل صدقہ وہ ہے جو بندے کو غنی چھوڑے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور ان سے ابتدا کر جن کی تو دیکھ بھال کرتا ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تیری بیوی کہے گی: تو مجھے کھلا وگرنہ مجھے طلاق دے دے۔ تیرا خادم تجھے کہے گا: مجھے کھلا یا مجھے بیچ دے اور تیرا بیٹا کہے گا: مجھے تو نے کس کے سپرد کیا ہے۔“ انہوں نے کہا: اے ابوہریرہ! یہ تو نے اپنی رائے سے کہا ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں بلکہ یہ میرا قیاس ہے۔ اس کو بخاری رحمہ اللہ نے عمر بن حفص بن غیاث سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اعمش سے صحیح میں نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15711]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3200. -- باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا
-- باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
حدیث نمبر: Q15712
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 6] فَجَعَلَ لَهُنَّ نَفَقَةً بِصِفَةٍ.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ ”اور اگر وہ حمل والی ہوں تو ان پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا حمل جن دیں۔“ [سورة الطلاق: 6]
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک خاص صفت (یعنی حمل) کی بنا پر نفقہ مقرر فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: Q15712]
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک خاص صفت (یعنی حمل) کی بنا پر نفقہ مقرر فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: Q15712]
حدیث نمبر: 15712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهَا:" لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ"، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ فَقَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
ابو سلمہ بن عبدالرحمن، سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاقِ بائنہ دے دی اور وہ غائب تھا۔ اس نے (ابو عمرو بن حفص نے) اپنا وکیل فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی طرف کچھ جو دے کر بھیجا، وہ اس (جو) پر ناراض ہوئیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میرے ذمے تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہوں نے یہ تمام قصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عدت ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاریں، پھر فرمایا: ”وہ ایسی عورت ہے جس کو میرا صحابی ڈھانپتا ہے (یعنی وہاں لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے)، تو ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہیں تو اپنے کپڑے بھی (آسانی سے) تبدیل کر سکے گی اور جب تو حلال ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ وہ کہتی ہیں: جب میں حلال ہو گئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما اور ابو جہم رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو جہم اپنا ڈنڈا اپنے کندھے پر ہی رکھتا ہے اور معاویہ فقیر آدمی ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے، تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لے۔“ وہ کہتی ہیں: میں اس کو ناپسند کرتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوبارہ) فرمایا: ”تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لے۔“ میں نے ان سے نکاح کر لیا، اللہ تعالیٰ نے اس میں خیر فرما دی اور میں رشک کیا کرتی تھی۔ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یحییٰ سے، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15712]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 1480»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15713
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ فَأَخْبَرَتْنِي: أَنَّ زَوْجَهَا الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا فَأَبَى أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَفَقَةَ لَكِ فَانْتَقِلِي وَاذْهَبِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُونِي عِنْدَهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
ابو سلمہ رحمہ اللہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، اس نے مجھے خبر دی کہ اس کے مخزومی خاوند نے اسے طلاق دے دی اور اس پر خرچ کرنے سے انکار کردیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے، تو منتقل ہوجا اور ابن ام مکتوم (رضی اللہ عنہ) کی طرف چلی جا اور اسی کے پاس رہ، وہ نابینا آدمی ہے تو اس کے پاس اپنے کپڑے بھی اتار سکے گی۔“ اس کو مسلم رحمہ اللہ نے قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15713]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ نَفَقَ عَلَيْهَا نَفَقَةً دُونَ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ قَالَتْ: وَاللهِ لَأُكَلِّمَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَتْ لِي ⦗٧٧٦⦘ نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِي يُصْلِحُنِي وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِي نَفَقَةٌ لَمْ آخُذْ شَيْئًا، قَالَتْ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا نَفَقَةَ لَكِ وَلَا سُكْنَى" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ جَمِيعًا.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کو ان کے شوہر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں طلاق دی اور وہ ان پر معمولی سا خرچہ کیا کرتا تھا، جب انہوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور بات کروں گی، پس اگر میرے لیے خرچہ ہوا تو میں وہ لوں گی جو میرے لیے درست ہے اور اگر میرے لیے خرچہ نہ ہوا تو میں کچھ بھی نہیں لوں گی۔ وہ کہتی ہیں: میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے اور تیرے لیے رہائش بھی نہیں ہے۔“ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے قتیبہ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح اس کو یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ نے ابو سلمہ رحمہ اللہ سے رہائش اور خرچہ کے بارے میں بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15714]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَهْلِهِ تَبْتَغِي النَّفَقَةَ فَقَالُوا: لَيْسَتْ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ:" لَيْسَتْ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ، وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِخْوَتُهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينِ الْأَوَّلِينَ فَانْتَقِلِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى إِنْ وَضَعْتِ ثَوْبَكِ لَمْ يَرَ شَيْئًا وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكَ" قَالَتْ: فَلَمَّا أَحَلَّتْ ذَكَرَهَا رِجَالٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيْنَ أَنْتِ عَنْ أُسَامَةَ؟" قَالَ: فَكَأَنَّ أَهْلَهَا كَرِهُوا ذَلِكَ قَالَتْ: لَا وَاللهِ لَا أَنْكِحُ إِلَّا الَّذِي قَالَ فَنَكَحَتْهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ: يَا فَاطِمَةُ اتَّقِي اللهَ فَقَدْ عَرَفْتُ مِنْ أِيِّ شَيْءٍ كَانَ ذَلِكَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ دُونَ قَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ بنو مخزوم کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں، اس نے انہیں طلاق بائنہ دے دی، انہوں نے اس کے اہل کی طرف قاصد بھیجا کہ وہ خرچہ مانگتی ہیں، انہوں نے کہا: تیرے لیے ہمارے ذمے خرچہ نہیں ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے اور تیرے ذمے عدت ہے، تو ام شریک کی طرف منتقل ہو جا۔“ پھر فرمایا: ”ام شریک ایسی عورت ہے جس کے پاس اس کے مہاجرین اولین میں سے (دینی) بھائی آتے جاتے ہیں، تو ابن ام مکتوم کی طرف منتقل ہو جا، وہ نابینا آدمی ہے، اگر تو اپنے کپڑے اتارے گی تو وہ کچھ نہیں دیکھ سکے گا اور ہم سے پوچھے بغیر اپنے بارے میں (نکاح کا) فیصلہ نہ کرنا۔“ کہتی ہیں: جب وہ حلال ہوگئی تو کچھ آدمیوں نے اس (سے نکاح) کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اسامہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ کہا: گویا کہ اس کے اہل یہ ناپسند کرتے ہیں، کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میں نکاح نہیں کروں گی مگر اسی سے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چنانچہ اس نے ان سے نکاح کر لیا۔ محمد بن عمرو نے کہا: مجھے محمد بن ابراہیم نے حدیث بیان کی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: ”اے فاطمہ! اللہ سے ڈر، میں جانتی ہوں کہ وہ (منتقلی) کس وجہ سے تھی۔“ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے علی بن حجر اور اس کے علاوہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کے بغیر اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15715]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح