🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3199. -- باب: الرجل لا يجد نفقة امرأته
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کا نفقہ (برداشت کرنے کی استطاعت) نہ پائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15707
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الرَّجُلِ لَا يَجِدُ مَا يُنْفِقُ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ:" يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا" قَالَ أَبُو الزِّنَادِ قُلْتُ: سُنَّةً قَالَ: سَعِيدٌ:" سُنَّةً" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي يُشْبِهُ قَوْلَ سَعِيدٍ سُنَّةً أَنْ تَكُونَ سُنَّةً مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(١٥٧٠٧) ابو زناد سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن مسیب سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی کے لیے نہیں پاتا جو وہ اس پر خرچ کرے۔ کہا: ان دونوں کے درمیان جدائی کروائی جائے۔ ابو زناد کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا یہ سنت ہے؟ سعید فرماتے ہیں: یہ سنت ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں: وہ جو سعید کے قول کے مشابہ ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15707]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15708
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ ⦗٧٧٣⦘ الْخَزَّازُ، ح وَنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، وَعَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ قَالُوا: نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَوْدِيُّ، نا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فِي الرَّجُلِ لَا يَجِدُ مَا يُنْفِقُ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ:" يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا".
(١٥٧٠٨) یحییٰ بن سعید، سعید بن مسیب سے اس آدمی کے بارے روایت کرتے ہیں میں جو اپنی بیوی پر خرچ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، فرمایا: ان دونوں کے درمیان جدائی کروائی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15708]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15709
قَالَ: وَنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
(١٥٧٠٩) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15709]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15710
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الزُّهْرِيُّ الْقَاضِي بِمَكَّةَ، نا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهَانِيُّ بِمَكَّةَ، نا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي مَسَرَّةَ الْمَكِّيُّ، نا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" قَالَ: وَمَنْ أَعُولُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" امْرَأَتُكَ تَقُولُ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَارِقْنِي، خَادِمُكَ يَقُولُ: أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي، وَلَدُكَ يَقُولُ: إِلَى مَنْ تَتْرُكُنِي؟" ⦗٧٧٤⦘ هَكَذَا رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَجَعَلَ آخِرَهُ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَكَذَلِكَ جَعَلَهُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
(١٥٧١٠) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو غنی ہونے کے بعد ہو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور جن کی تو عیال داری کرتا ہے ان سے ابتدا کر۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کی میں اعیال داری کروں۔ آپ نے فرمایا: تیری بیوی کہتی ہے: تو مجھے کھلایا مجھے جدا کردے تیرا خادم کہتا ہے: مجھے کھلا اور مجھ سے کام لے یا مجھے دے، تیرا بیٹا کہے گا: کس چیز کو تو نے میرے لیے چھوڑا۔ اسی طرح اس کو سعید بن ابو ایوب نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے اور اس کو ابن عیینہ اور اس کے علاوہ نے ابن عجلان سے مقبری سے، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں ابوہریرہ کا قول ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15710]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15711
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، نا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، نا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَقُولُ امْرَأَتُكَ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَطَلِّقْنِي، وَيَقُولُ: خَادِمُكَ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَبِعْنِي وَيَقُولُ: وَلَدُكَ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ مِنْ رَأْيِكَ أَوْ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا بَلْ هَذَا مِنْ كَيْسِي، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْأَعْمَشِ.
(١٥٧١١) ابو صالح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: افضل صدقہ وہ ہے جو بندے کو غنی چھوڑے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور ان سے ابتداکر جن کی تو دیکھ بھال کرتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تیری بیوی کہیگی: تو مجھے کھلا وگرنہ مجھے طلاق دے دے۔ تیرا خادم تجھے کہے گا: مجھے کھلا یا مجھے بیچ دے اور تیرا بیٹا کہے گا: مجھے تو نے کس کے سپرد کیا ہے۔ انھوں نے کہا: اے ابوہریرہ! یہ تو نے اپنی رائے سے کہا ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں بلکہ یہ میرا قیاس ہے۔ اس کو بخاری نے عمر بن حفص بن غیاث سے اور اس کے والداعمش سے صحیح میں نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15711]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3200. -- باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا
-- باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q15712
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 6] فَجَعَلَ لَهُنَّ نَفَقَةً بِصِفَةٍ.
اللہ تعالیٰ کا فرمان: { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: Q15712]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهَا:" لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ"، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ فَقَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
(١٥٧١٢) ابو سلمہ بن عبدالرحمن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عمرو بن حفص نے اسے طلاق بائنہ دے دی اور وہ غائب ہوگیا۔ اس نے عمرو بن حفص کی طرف فاطمہ بنت قیسکو اپنا وکیل بنا کر بھیجا، وہ اس پر ناراض ہوئی۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میرے ذمے تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی۔ اس نے یہ تمام قصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے اور اس کو حکم دیا کہ وہ عدت ام شریک کے گھر میں گزارے، پھر فرمایا: وہ عورت ہے جس کو میرا صحابی ڈھانپتا ہے تو ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے تو اپنے کپڑے بھی تبدیل کرے گی اور جب تو حلال ہوجائے تو مجھے اطلاع دینا۔ وہ کہتی ہے: جب میں حلال ہوگئی تو میں نے آپ سے ذکر کیا کہ معاویہ بن ابو سفیان اور ابو جہم نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو جہم اپنا ڈنڈا اپنے کندھے پر ہی رکھتا ہے اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے تو اسامہ بن زید سے نکاح کرلے۔ کہتی ہیں: میں اس کو ناپسند کرتی تھی۔ آپ نے فرمایا: تو اسامہ بن زید سے نکاح کرلے۔ میں نے اس سے نکاح کرلیا۔ اللہ نے اس میں خیر کردی اور میں رشک کیا کرتی۔ اس کو مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے مالک سے صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15712]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 1480»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15713
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ فَأَخْبَرَتْنِي: أَنَّ زَوْجَهَا الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا فَأَبَى أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَفَقَةَ لَكِ فَانْتَقِلِي وَاذْهَبِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُونِي عِنْدَهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
(١٥٧١٣) ابو سلمہ نے فاطمہ بنت قیس سے سوال کیا، اس نے مجھے خبر دی کہ اس کے مخزومی خاوندنے اسے طلاق دے دی اور اس پر خرچ کرنے سے انکار کردیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے خرچہ نہیں ہے تو منتقل ہوجا اور ابن ام مکتوم کی طرف چلی جا اور اسی کے پاس رہ۔ وہ نابینا آدمی ہے تو اس کے پاس اپنے کپڑے بھی اتارسکے گی۔ اس کو مسلم نے قتیبۃ بن سعید سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15713]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ نَفَقَ عَلَيْهَا نَفَقَةً دُونَ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ قَالَتْ: وَاللهِ لَأُكَلِّمَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَتْ لِي ⦗٧٧٦⦘ نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِي يُصْلِحُنِي وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِي نَفَقَةٌ لَمْ آخُذْ شَيْئًا، قَالَتْ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا نَفَقَةَ لَكِ وَلَا سُكْنَى" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ جَمِيعًا.
(١٥٧١٤) فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے کہ اس کو اس کے شوہر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں طلاق دی اور وہ اس پر کہ خرچہ کرتا تھا جب اس نے یہ دیکھا تو اس نے کہا: میں رسول اللہ سے ضرور بات کروں گی۔ پس اگر میرے لیے خرچہ ہوا تو میں وہ پکڑوں کی، جو میرے لیے درست ہے اور اگر میرے لیے خرچہ نہ ہوا میں کچھ بھی نہیں لوں گی۔ وہ کہتی ہے: میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: تیرے لیے خرچہ نہیں ہے اور تیرے لیے رہائش بھی نہیں ہے۔ اس کو مسلم نے قتیبہ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح اس کو یحییٰ بن کثیر نے ابو سلمہ سے رہائش اور خرچہ کے بارے میں بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15714]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَهْلِهِ تَبْتَغِي النَّفَقَةَ فَقَالُوا: لَيْسَتْ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ:" لَيْسَتْ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ، وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِخْوَتُهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينِ الْأَوَّلِينَ فَانْتَقِلِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى إِنْ وَضَعْتِ ثَوْبَكِ لَمْ يَرَ شَيْئًا وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكَ" قَالَتْ: فَلَمَّا أَحَلَّتْ ذَكَرَهَا رِجَالٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيْنَ أَنْتِ عَنْ أُسَامَةَ؟" قَالَ: فَكَأَنَّ أَهْلَهَا كَرِهُوا ذَلِكَ قَالَتْ: لَا وَاللهِ لَا أَنْكِحُ إِلَّا الَّذِي قَالَ فَنَكَحَتْهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ: يَا فَاطِمَةُ اتَّقِي اللهَ فَقَدْ عَرَفْتُ مِنْ أِيِّ شَيْءٍ كَانَ ذَلِكَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ دُونَ قَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
(١٥٧١٥) فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ محمد بن عمرو سے وہ بنو مخزوم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی۔ اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی۔ اس نے اس کے اہل کی طرف قاصد بھیجا کہ یہ خرچہ مانگتی تھی۔ انھوں نے کہا: نہیں ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی۔ اس نے آپ (علیہ السلام) کو خبر دی، آپ نے فرمایا: تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے اور تیرے ذمے عدت ہے، تو ام شریک کی طرف منتقل ہوجا۔ پھر فرمایا: ام شریک عورت ہے اس پر اس کی پہلی مہاجر بہنوں میں سے داخل ہوتی ہیں تو ابن ام مکتوم کی طرف منتقل ہوجا۔ وہ نابینا آدمی ہے اگر تو اپنے کپڑے اتارے گی تو وہ کچھ نہیں دیکھ سکے گا اور تو ہم سے اپنے نفس کو گم نہیں پائے گی کہتی ہے: جب وہ حلال ہوگئی تو اس نے آدمیوں کا ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اسامہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ کہا: گویا کہ اس کے اہل یہ ناپسند کرتے ہیں۔ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میں نہیں نکاح کروں گی مگر اس سے جس کے بارے میں آپ نے کہا: میں اس سے نکاح کروں۔ محمد بن عمرو نے کہا: مجھے محمد بن ابراہیم نے حدیث بیان کی کہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: اے فاطمہ! اللہ سے ڈر تو نے پہچانا ہے یہ کس چیز سے ہے۔ اس کو مسلم نے علی بن حجر اور اس کے علاوہ سے عائشہ رضی اللہ عنہ کے قول کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15715]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں