🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3469. -- باب: ما جاء في من سرق عبدا صغيرا من حرز
-- باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان جس نے کسی محفوظ جگہ (حرز) سے کوئی چھوٹا غلام چرایا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17233
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَهُوَ كَثِيرُ الْخَطَأِ عَلَى هِشَامٍ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
حافظ ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن محمد بن یحییٰ بن عروہ، ہشام بن عروہ سے نقل کرنے میں اکیلے ہیں اور وہ ہشام سے روایت میں بہت خطا کرتا ہے، ضعیف الحدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17233]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3470. -- باب: ما جاء في العبد الآبق إذا سرق
-- باب: مفرور (بھاگے ہوئے) غلام کے چوری کرنے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17234
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدًا لِابْنِ عُمَرَ سَرَقَ وَهُوَ آبِقٌ، فَأَرْسَلَ بِهِ عَبْدُ اللهِ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، لِيَقْطَعَ يَدَهُ، فَأَبَى سَعِيدٌ أَنْ يَقْطَعَ يَدَهُ، وَقَالَ: لَا تُقْطَعُ يَدُ الْآبِقِ إِذَا سَرَقَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ:" فِي أِيِّ كِتَابِ اللهِ وَجَدْتَ هَذَا؟ فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عُمَرَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ".
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بھاگے ہوئے غلام نے چوری کی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس کو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، وہ مدینہ کے امیر تھے (اس کے پاس اس لیے بھیجا) تاکہ وہ اس کا ہاتھ کاٹے، سعید رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹنے سے انکار کر دیا اور کہا: بھاگا ہوا غلام جب چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو نے یہ بات اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کہاں پائی ہے؟ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17234]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17235
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ غُلَامًا لِابْنِ عُمَرَ أَبَقَ فَسَرَقَ فِي إِبَاقِهِ، فَأُتِيَ بِهِ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ:" لَنْ يُنْجِيَكَ إِبَاقُكَ مِنْ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ، قَالَ: فَقَطَعَهُ".
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نے چوری کی اور بھاگ گیا، اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس لایا گیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو کہا: ہرگز تیرا بھاگنا اللہ تعالیٰ کی حدوں سے نجات نہیں دے سکتا، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ کاٹا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17235]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17236
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَكِيمٍ، أَنَّهُ أَخَذَ عَبْدًا آبِقًا قَدْ سَرَقَ فَكَتَبَ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: إِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّ الْعَبْدَ الْآبِقَ إِذَا سَرَقَ لَمْ يُقْطَعْ، فَكَتَبَ عُمَرُ:" إِنَّ اللهَ يَقُولُ: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللهِ وَاللهُ عَزِيزٌ ⦗٤٦٧⦘ حَكِيمٌ} [المائدة: ٣٨] ، فَإِنْ بَلَغَتْ سَرِقَتُهُ رُبْعَ دِينَارٍ أَوْ أَكْثَرَ فَاقْطَعْهُ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا قَوْلُ قَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَغَيْرِهِمْ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَذْهَبُ إِلَى أَنْ لَيْسَ عَلَى الْآبِقِ الْمَمْلُوكِ قَطْعٌ إِذَا سَرَقَ، وَقَدْ تَرَكْنَا عَلَيْهِ قَوْلَهُ إِلَى قَوْلِ غَيْرِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ؛ لِأَنَّهُ أَشْبَهُ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَا تَزِيدُهُ مَعْصِيَةُ اللهِ بِالْإِبَاقِ خَيْرًا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَفَعَهُ بَعْضُ الضُّعَفَاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
رزیق بن حکیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک غلام کو پکڑا جو بھاگ گیا تھا اور چوری کر چکا تھا۔ اس غلام کے متعلق عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی طرف خط لکھا کہ میں نے سنا ہے جو بھاگا ہوا غلام چوری کرے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ پھر عمر رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان لکھا: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ [سورة المائدة: 38] ”چاہے مرد چوری کرے یا عورت، دونوں کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بدلہ ہے جو انھوں نے کمایا اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔“ اگر اس کی چوری کی قیمت ربع دینار یا اس سے زیادہ ہو تو اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ قول قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اور ان کے علاوہ کا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذہب یہ ہے کہ بھاگا ہوا غلام جب چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہم نے اس میں ان کا قول چھوڑ کر دوسرے صحابہ کا قول اختیار کیا ہے، کیونکہ وہ اللہ عزوجل کی کتاب کے زیادہ مشابہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بھاگ کر اللہ کی نافرمانی کرنا اسے کوئی بھلائی نہیں دیتا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض ضعیف راویوں نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور یہ کچھ بھی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17236]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3471. -- باب: الطرار يقطع
-- باب: جیب کترے کا ہاتھ کاٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17237
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: عَلَى الطَّرَّارِ الْقَطْعُ، وَكَانُوا يَقُولُونَ: لَا قَطْعَ إِلَّا فِيمَا بَلَغَتْ قِيمَتُهُ رُبْعَ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.
عبد الرحمن بن ابی الزناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ اہل مدینہ کے فقہاء سے روایت کرتے ہیں کہ جیب کترے کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور ربع دینار یا اس سے زیادہ قیمت والی چیز میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17237]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3472. -- باب: النباش يقطع إذا أخرج الكفن من جميع القبر
-- باب: کفن چور کا ہاتھ اس صورت میں کاٹے جانے کا بیان جب وہ پورے کفن کو قبر سے نکال لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q17238
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لِأَنَّ هَذَا حِرْزٌ مِثْلُهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ یہ اس جیسی چیز کے لیے (مناسب) حفاظت کی جگہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: Q17238]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17238
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٤٦٨⦘ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنِ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ؟" يَعْنِي الْقَبْرَ، قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، أَوْ مَا خَارَ اللهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ عرض کیا: میں حاضر ہوں اور میں بار بار حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری کیا کیفیت ہو گی جب لوگوں کو ایسی موت پہنچے گی کہ ایک گھر یعنی قبر ایک غلام کے بدلے میں ملے گی؟“ عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں، یا (کہا:) جو اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم (میرے لیے) پسند فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو صبر کو لازم پکڑ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17238]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17239
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُسَاوِرِ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ:" النَّبَّاشُ سَارِقٌ".
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17239]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17240
قَالَ: وَحَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَهُ وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْحَسَنِ، مِثْلَهُ.
ابراہیم رحمہ اللہ سے اسی کی مثل روایت ہے اور حسن رحمہ اللہ بھی اسی کے مثل روایت کرتے ہیں کہ کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17240]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17241
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:" يُقْطَعُ فِي أَمْوَاتِنَا كَمَا يُقْطَعُ فِي أَحْيَائِنَا".
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے مردوں میں اس طرح کاٹا جائے گا جیسے ہمارے زندوں میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17241]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں