السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3535. -- باب: مبتدأ الخلق
-- باب: تخلیق (کائنات) کی ابتدا کا بیان۔
حدیث نمبر: 17711
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ إِدْرِيسَ السَّامِرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَمِ النَّبِيُّونَ؟، قَالَ:" مِائَةُ أَلْفِ نَبِيٍّ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفَ نَبِيٍّ". قُلْتُ: كَمِ الْمُرْسَلُونَ مِنْهُمْ؟ قَالَ:" ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ". تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ.
(١٧٧١١) ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مسجد میں داخل ہوا۔ پھر انھوں نے حدیث بیان کی حتیٰ کہ کہا کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! کتنے نبی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار۔ میں نے کہا ان میں رسول کتنے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین سو تیرہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17711]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17712
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلِيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَغَيْرِهِ، عَنِ اللَّيْثِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ خَاصَّتِهِ صَفْوَتَهُ، فَقَالَ: {إِنَّ اللهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ} [آل عمران: ٣٣] ، وَسَاقَ الشَّافِعِيُّ الْكَلَامَ عَلَيْهِ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ اصْطَفَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْرِ آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَنْزَلَ كُتُبَهُ قَبْلَ إِنْزَالِهِ الْفُرْقَانَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِفَتِهِ وَفَضِيلَةِ مَنْ تَبِعَهُ، فَقَالَ: {مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تُرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ} [الفتح: ٢٩] الْآيَةَ.
(١٧٧١٢) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے کوئی ایسا نبی نہیں مگر یہ کہ جتنے لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اسی قدر اللہ تعالیٰ اسے اپنی نشانیاں اور معجزات عطاء فرماتے ہیں اور جو مجھے نشانی اور معجزہ دیا گیا ہے وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف کی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ان سب سے زیادہ میرے پیرو کار ہوں گے۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ خاص بندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: { اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٓی اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرَھِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ۔ } [آل عمران ٣٣] ”بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہانوں پر چن لیا“ اور اس آیت پر امام شافعی اپنا کلام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کے منتخب لوگوں میں سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتخاب کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فرقان حمید نازل کرنے سے پہلے اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے پیرو کاروں کی فضیلت کا وصف اس طرح بیان کیا: { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُودِ ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیلِ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ۔۔۔ الخ } [الفتح ٢٩] ”محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور آپ کے ساتھی کافروں پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں رحیم و کریم۔ آپ ان کو کبھی رکوع میں اور کبھی سجدے میں اللہ کا فضل تلاش کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ ان کی علامات ان کے چہروں میں کثرت سجود کی وجہ سے نمایاں ہوں گی۔ یہ ان کی مثال توراۃ میں ہے اور انجیل میں۔ وہ ایک کھیتی کی طرح ہیں جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر وہ اس پر کھڑی ہوئی اور مضبوط ہو کر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17712]
امام شافعی (رح) نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ خاص بندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: { اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٓی اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرَھِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ۔ } [آل عمران ٣٣] ”بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہانوں پر چن لیا“ اور اس آیت پر امام شافعی اپنا کلام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کے منتخب لوگوں میں سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتخاب کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فرقان حمید نازل کرنے سے پہلے اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے پیرو کاروں کی فضیلت کا وصف اس طرح بیان کیا: { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُودِ ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیلِ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ۔۔۔ الخ } [الفتح ٢٩] ”محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور آپ کے ساتھی کافروں پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں رحیم و کریم۔ آپ ان کو کبھی رکوع میں اور کبھی سجدے میں اللہ کا فضل تلاش کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ ان کی علامات ان کے چہروں میں کثرت سجود کی وجہ سے نمایاں ہوں گی۔ یہ ان کی مثال توراۃ میں ہے اور انجیل میں۔ وہ ایک کھیتی کی طرح ہیں جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر وہ اس پر کھڑی ہوئی اور مضبوط ہو کر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17712]
حدیث نمبر: 17713
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ ⦗٨⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا سَيِّدُ بَنِي آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
(١٧٧١٣) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن بنی آدم کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میری قبر پھٹے گی (اور میں نکلوں گا) اور سب سے پہلے میں ہی شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17713]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ٢٢٧٨»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17714
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بُرْهَانٍ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَمَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا مَعَهُ مُصَدِّقٌ غَيْرُ وَاحِدٍ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ.
(١٧٧١٤) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں ہی سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا اور قیامت کے دن تمام انبیاء سے زیادہ میرے ہی پیروکار ہوں گے اور انبیاء میں سے بعض ایسے بھی ہوں گے کہ قیامت کے دن ان کا صرف ایک ہی آدمی تصدیق کرنے والا ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17714]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٦»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17715
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ سَيَّارٌ، ثنا يَزِيدُ الْفَقِيرُ، أنبأ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الرَّبِيعِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ هُشَيْمٍ.
(١٧٧١٥) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں عطاء کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں عطا کی گئیں: میری رعب کے ساتھ ایک مہینے کی مسافت پر (دشمن پر) مدد کی گئی اور میرے لیے مال غنیمت کو حلال کیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا اور میرے لیے زمین کو مسجد اور پاک بنادیا گیا تو میری امت کے جس آدمی کو بھی جہاں پر بھی نماز کا وقت ہوجائے تو وہ وہیں نماز پڑھ لے اور مجھے شفاعتِ (کبریٰ) عطا کی گئی اور ہر نبی کو ایک خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کے لیے بھیجا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17715]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17716
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ عَلَى عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُورَةَ الْفَتْحِ، فَلَمَّا بَلَغَ {كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ} [الفتح: ٢٩] ، قَالَ: لِيَغِيظَ اللهُ بِالنَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ الْكُفَّارَ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ:" أَنْتُمُ الزَّرْعُ وَقَدْ دَنَا حَصَادُهُ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ لِأُمَّتِهِ: {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} [آل عمران: ١١٠] الْآيَةَ، فَفَضَّلَهُمْ بِكَيْنُونَتِهِمْ مِنْ أُمَّتِهِ دُونَ أُمَمِ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَهُ.
(١٧٧١٦) حضرت خیثمہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے پر سورة الفتح کی تلاوت کی۔ جب وہ اس مقام پر پہنچا: { کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ۔۔۔} [الفتح ٣٩] تو انھوں نے کہا: لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ سے مراد ہے کہ اللہ نبی اور اس کے اصحاب سے کفار کو غصہ دلائے۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ((انتم الزرع قددنا حصادہ)) کہ تم کھیتی ہو جس کے کاٹنے کا وقت قریب آگیا ہے۔
امام شافعی (رح) نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق فرمایا: { کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ } [آل عمران ١١٠] اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اس لیے فضیلت دی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہے نہ کہ سابقہ انبیاء کی امتوں کی وجہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17716]
امام شافعی (رح) نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق فرمایا: { کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ } [آل عمران ١١٠] اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اس لیے فضیلت دی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہے نہ کہ سابقہ انبیاء کی امتوں کی وجہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17716]
حدیث نمبر: 17717
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ⦗٩⦘ أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّكُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: ثُمَّ أَخْبَرَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَنَّهُ جَعَلَهُ فَاتِحَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ فَتْرَةِ رُسُلِهِ، فَقَالَ: {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ} [المائدة: ١٩] ، وَقَالَ: {هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ} [الجمعة: ٢] ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ بَعَثَهُ إِلَى خَلْقِهِ لِأَنَّهُمْ كَانُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَالْأُمِّيِّينَ، وَأَنَّهُ فَتَحَ بِهِ رَحْمَتَهُ وَخَتَمَ بِهِ نُبُوَّتَهُ، فَقَالَ: {مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ، وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ} [الأحزاب: ٤٠] .
(١٧٧١٧) حضرت بہز بن حکیم بن معاویہ قشیری اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”تم ستر سے زیادہ امتوں میں تقسیم ہو جاؤ گے اور تم ان سب سے بہتر اور اللہ کے ہاں مکرم ہو گے۔“
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ پہلے والے رسل کی رسالت کے منقطع ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی (رسالت) اور آپ کی ذات کو فاتح رحمت قرار دیا ہے۔ لہٰذا فرمایا: { یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآئَ نَا مِنْ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ فَقَدْ جَآئَ کُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ} [المائدۃ ١٩] ”اے اہل کتاب! یقیناً ہمارا رسول تمہارے پاس رسول کی آمد کے ایک وقفے کے بعد پہنچا ہے۔ جو تمہارے لیے صاف صاف بیان کررہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ رہ جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی، برائی سنانے والا آیا ہی نہیں۔ پس اب تو یقیناً خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا آپہنچا۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: { ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ } [الجمعۃ ٢] ”وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔۔۔“ ان آیات میں اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی تمام مخلوق کے لیے بھیجا ہے، کیونکہ ان میں اہل کتاب بھی تھے اور ناخواندہ بھی اور آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو کھولا اور سلسلہ نبوت کو ختم کیا اور اس بارے میں فرمان بھی جاری کردیا: { مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ } [الاحزاب ٤٠] ”(لوگو!) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17717]
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ پہلے والے رسل کی رسالت کے منقطع ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی (رسالت) اور آپ کی ذات کو فاتح رحمت قرار دیا ہے۔ لہٰذا فرمایا: { یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآئَ نَا مِنْ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ فَقَدْ جَآئَ کُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ} [المائدۃ ١٩] ”اے اہل کتاب! یقیناً ہمارا رسول تمہارے پاس رسول کی آمد کے ایک وقفے کے بعد پہنچا ہے۔ جو تمہارے لیے صاف صاف بیان کررہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ رہ جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی، برائی سنانے والا آیا ہی نہیں۔ پس اب تو یقیناً خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا آپہنچا۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: { ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ } [الجمعۃ ٢] ”وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔۔۔“ ان آیات میں اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی تمام مخلوق کے لیے بھیجا ہے، کیونکہ ان میں اہل کتاب بھی تھے اور ناخواندہ بھی اور آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو کھولا اور سلسلہ نبوت کو ختم کیا اور اس بارے میں فرمان بھی جاری کردیا: { مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ } [الاحزاب ٤٠] ”(لوگو!) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17717]
حدیث نمبر: 17718
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
(١٧٧١٨) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے انبیاء پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی: مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے اور میری رعب، دبدبہ کے ساتھ مدد کی گئی۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا اور میرے لیے زمین کو پاک اور مسجد بنادیا گیا اور مجھے تمام مخلوق کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا اور میرے ساتھ سلسلہ نبوت کو ختم کیا گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17718]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ٥٢٣»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17719
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح، قَالَ: وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى دَارًا"، وَقَالَ يَزِيدُ:" بَنَى دَارًا" فَأَحْسَنَهَا وَأَكْمَلَهَا إِلَّا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا وَيَقُولُونَ لَوْلَا مَوْضِعُ هَذِهِ اللَّبِنَةِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَنَا مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ سُلَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ عَفَّانَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَضَى أَنْ أَظْهَرَ دِينَهُ عَلَى الْأَدْيَانِ، فَقَالَ: {هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ ⦗١٠⦘ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ} [التوبة: ٣٣] الْآيَةَ، قَالَ: وَقَدْ وَصَفْنَا بَيَانَ كَيْفَ يَظْهَرُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ.
(١٧٧١٩) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی ماند ہے جس نے گھر بنایا اور اسے بڑا خوبصورت بنایا اور اسے ایک اینٹ کی جگہ کے سوا مکمل بنایا۔ لوگ اس میں داخل ہونے لگے اور اس سے تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے: کیوں نہیں اس اینٹ کی جگہ کو پر کیا گیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پس وہ اینٹ کی جگہ میں ہوں۔ میں آیا اور میرے ساتھ انبیاء کا سلسلہ ختم ہوگیا۔“
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرے۔ جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: { ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } [التوبۃ ٣٣] ”وہی اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کرے“ اور امام صاحب نے اس کے غالب ہونے کی کیفیت کو دوسری جگہ بیان کردیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17719]
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرے۔ جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: { ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } [التوبۃ ٣٣] ”وہی اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کرے“ اور امام صاحب نے اس کے غالب ہونے کی کیفیت کو دوسری جگہ بیان کردیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17719]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17720
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقُلْنَا: أَلَا تَدْعُو اللهَ لَنَا أَلَا تَسْتَنْصِرُ اللهَ لَنَا قَالَ: فَجَلَسَ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، قَالَ:" وَاللهِ إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَيُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ الْحُفْرَةُ فَيُوضَعُ الْمِنْشَارُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَتَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ، أَوْ يُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا بَيْنَ عَصَبِهِ وَلَحْمِهِ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ، وَلَيُتِمَّنَّ اللهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْكُمْ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخْشَى إِلَّا اللهَ أَوِ الذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ.
(١٧٧٢٠) حضرت خباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (تنگ دستی) کی شکایت کی اور آپ اپنی چادر سے کعبہ کے سایہ میں تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا: آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں کرتے، ہمارے لیے اللہ سے مدد کیوں نہیں مانگتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا اور آپ سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میں سے جو پہلے (ایمان دار) لوگ تھے ان میں سے کسی ایک کو پکڑا جاتا اور اس کے لیے گڑھا کھودا جاتا۔ پھر اس کے سر پر آرا رکھا جاتا اور اس کے دو ٹکڑے کردیے جاتے۔ یہ چیز بھی ان کو ان کے دین سے نہ پھیر سکی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے پٹھوں اور گوشت کے درمیان سے نوچا جاتا اور یہ تکلیف بھی اسے اس کے دین سے نہ روک سکتی اور اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور ضرور غالب اور پورا کرے گا حتیٰ کہ تم میں سے ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا اور اسے اللہ کے علاوہ کسی کا ڈر نہ ہوگا، نہ بھیڑیے کا اپنی بکریوں پر لیکن تم جلدی کرتے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17720]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح