السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3537. -- باب: مبتدأ الفرض على النبي صلى الله عليه وسلم ثم على الناس، وما لقي النبي صلى الله عليه وسلم من أذى قومه في تبليغ الرسالة على وجه الاختصار
-- باب: نبی ﷺ اور پھر لوگوں پر فرائض عائد ہونے کی ابتدا، اور نبی ﷺ کو تبلیغِ رسالت میں اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں کا مختصر بیان۔
حدیث نمبر: 17731
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَزِينٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ} [الحجر: ٩٥] ، قَالَ: الْمُسْتَهْزِئُونَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ الزُّهْرِيُّ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ، وَأَبُو زَمْعَةَ، مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَالْحَارِثُ بْنُ عَيْطَلٍ السَّهْمِيُّ، وَالْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ شَكَاهُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَاهُ الْوَلِيدَ أَبَا عَمْرِو بْنَ الْمُغِيرَةِ، فَأَوْمَأَ جِبْرِيلُ إِلَى أَبْجَلِهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: كُفِيتُهُ، ثُمَّ أَرَاهُ الْأَسْوَدَ بْنَ الْمُطَّلِبِ فَأَوْمَى جِبْرِيلُ إِلَى عَيْنَيْهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: كُفِيتُهُ، ثُمَّ أَرَاهُ الْأَسْوَدَ بْنَ عَبْدِ يَغُوثَ الزُّهْرِيَّ فَأَوْمَأَ إِلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ ⦗١٥⦘ كُفِيتُهُ، وَمَرَّ بِهِ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ فَأَوْمَأَ إِلَى أَخْمَصِهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: كُفِيتُهُ، فَأَمَّا الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ فَمَرَّ بِرَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ وَهُوَ يَرْيِشُ نَبْلًا لَهُ فَأَصَابَ أَبْجَلَهُ فَقَطَعَهَا، وَأَمَّا الْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ فَعَمِيَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: عَمِيَ هَكَذَا وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: نَزَلَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَجَعَلَ يَقُولُ: يَا بَنِيَّ أَلَا تَدْفَعُونَ عَنِّي؟ قَدْ قُتِلْتُ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: مَا نَرَى شَيْئًا، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى عَمِيَتْ عَيْنَاهُ، وَأَمَّا الْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ الزُّهْرِيُّ فَخَرَجَ فِي رَأْسِهِ قُرُوحٌ فَمَاتَ مِنْهَا، وَأَمَّا الْحَارِثُ بْنُ عَيْطَلٍ فَأَخَذَهُ الْمَاءُ الْأَصْفَرُ فِي بَطْنِهِ حَتَّى خَرَجَ خُرْؤُهُ مِنْ فِيهِ فَمَاتَ مِنْهَا، وَأَمَّا الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ يَوْمًا إِذْ دَخَلَ فِي رَأْسِهِ شِبْرِقَةٌ حَتَّى امْتَلَأَتْ مِنْهَا فَمَاتَ مِنْهَا، وَقَالَ غَيْرُهُ: فَرَكِبَ إِلَى الطَّائِفِ عَلَى حِمَارٍ فَرَبَضَ بِهِ عَلَى شِبْرِقَةٍ فَدَخَلَتْ فِي أَخْمَصِ قَدَمِهِ شَوْكَةٌ فَقَتَلَتْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ [سورة الحجر: 95] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذاق کرنے والے یہ لوگ تھے: ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث زہری، اسود بن مطلب (ابو زمعہ) بنی اسد بن عبدالعزی، حارث بن عیطل سہمی اور عاص بن وائل۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ان لوگوں کی شکایت بیان کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ولید بن مغیرہ دکھایا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے ہاتھ کی موٹی رگ کی طرف اشارہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے کیا کیا؟“ انہوں نے کہا کہ آپ کی اس سے کفایت کر دی گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسود بن مطلب دکھایا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے کیا کیا؟“ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ (ان کے شر اور ایذاء سے) بچا لیے گئے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسود بن عبد یغوث زہری دکھایا تو انہوں نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟“ تو انہوں نے کہا کہ آپ اس سے بچا لیے گئے ہیں۔ پھر عاص بن وائل گزرا تو انہوں نے اس کے قدم کی خالی جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کیا؟“ انہوں نے کہا کہ آپ بے فکر ہو جائیں (اور ان کا انجام دیکھیں)۔ اس کے بعد ولید بن مغیرہ بنی خزاعہ کے ایک آدمی کے قریب سے گزرا جو اپنے تیر کے پھالے کو درست کر رہا تھا اور یہ تیر ولید بن مغیرہ کی رگ میں لگا اور اسے کاٹ دیا، اور رہا اسود بن مطلب تو وہ اندھا ہو گیا؛ بعض لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ایسے اندھا ہوا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ ببول کے درخت کے نیچے اترا اور اپنے بیٹوں سے کہنے لگا: مجھے بچاؤ! میں مر گیا، وہ کہنے لگے: ہمیں کوئی چیز نظر نہیں آتی جس سے آپ کو بچائیں۔ اس کی یہی حالت رہی حتیٰ کہ وہ آنکھوں سے اندھا ہو گیا، اور رہا اسود بن عبد یغوث زہری، تو اس کے سر میں دانے نکلے اور وہ انہی دانوں کے ساتھ مر گیا۔ اور اسی طرح حارث بن عیطل کے پیٹ میں زرد رنگ کا پانی (پیپ وغیرہ) پڑ گیا کہ اس کا پاخانہ اس کے منہ سے نکل آیا اور وہ بھی اسی سے مر گیا۔ اور رہا عاص بن وائل، تو اس کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا کہ اس (گستاخ) کے سر میں کانٹا لگا جو پورے سر میں پھیل گیا اور وہ اسی سے مر گیا، اور بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ اپنے گدھے پر سوار ہو کر طائف کی طرف جانے لگا، راستے میں گدھا اسے لے کر کانٹے دار بوٹی میں بیٹھ گیا تو اسے اس کے پاؤں کے تلوے میں کانٹا لگا اور وہ کانٹا ہی اس کی موت کا سبب بن گیا (اور یہ ملعون بھی مر گیا)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17731]
حدیث نمبر: 17732
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا وَنُؤْمِنَ بِكَ، قَالَ: أَتَفْعَلُونَ؟، قَالُوا: نَعَمْ، فَدَعَا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: إِنْ اللهُ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَيَقُولُ:" إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ الصَّفَا ذَهَبًا، فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ"، قَالَ: بَلْ يَا رَبِّ التَّوْبَةَ وَالرَّحْمَةَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لیے سونا بنا دے تو تب ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا دیکھ لو تم ایسا ہی کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ہاں! (ہم ایمان لے آئیں گے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو آپ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور آ کر کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتے ہیں اور ساتھ فرماتے ہیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں تو صفا کو سونا بنا دیں گے اور پھر اس کے بعد بھی جس نے کفر کیا تو میں اس کو ایسا سخت عذاب دوں گا کہ مخلوق میں سے کسی ایک کو بھی ایسا عذاب نہ دوں گا اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اے اللہ) تو توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دے (صفا کو سونا نہ بنا)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17732]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17733
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ التَّمِيمِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، {فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ} نُوحٌ وَهودٌ وَإِبْرَاهِيمُ أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصْبِرَ كَمَا صَبَرَ هَؤُلَاءِ فَكَانُوا ثَلَاثَةً، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَابِعُهُمْ، قَالَ نُوحٌ: {إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقَامِي وَتَذْكِيرِي بِآيَاتِ اللهِ} [يونس: ٧١] إِلَى آخِرِهَا، فَأَظْهَرَ لَهُمُ الْمُفَارَقَةَ، وَقَالَ هُودٌ حِينَ قَالُوا: {إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ} [هود: ٥٤] الْآيَةَ، فَأَظْهَرَ لَهُمُ الْمُفَارَقَةَ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: {قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ} [الممتحنة: ٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَأَظْهَرَ لَهُمُ الْمُفَارَقَةَ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: {إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ} [الأنعام: ٥٦] ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَؤُهَا عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَأَظْهَرَ لَهُمُ الْمُفَارَقَةَ".
ابوعالیہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ﴿فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ﴾ [سورة الأحقاف: 35] ”آپ بھی ایسے ہی صبر کیجیے جیسے رسولوں میں سے اولوا العزم رسولوں نے صبر کیا“ اولوا العزم رسول یہ ہیں: نوح، ہود، ابراہیم علیہم السلام۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ بھی صبر کریں جس طرح انہوں نے صبر کیا اور وہ تین تھے اور چوتھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کہا: ﴿إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِي وَتَذْكِيرِي بِآيَاتِ اللَّهِ فَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَلَا تُنظِرُونِ﴾ [سورة يونس: 71] ”اے میری قوم! اگر تم کو میرا رہنا اور احکامِ الٰہی سے نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے تو میرا اللہ ہی پر بھروسہ ہے... تم نے میرے ساتھ جو کچھ کرنا ہے کر گزرو اور مجھ کو مہلت نہ دو“ حضرت نوح علیہ السلام نے ان کو بھرپور جواب دیتے ہوئے ان پر جدائی کا مقام واضح کر دیا اور اسی طرح ہود علیہ السلام نے بھی ان کو جواب دیا: جب انہوں نے آپ سے یہ کہا تھا: ﴿إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ﴾ [سورة هود: 54] ”بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے برے جھپٹے میں آگیا ہے“ تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ بن جاؤ کہ میں ہوں اور تم سب مل کر میرے حق میں بدی کر لو اور میں نے نقطہ انفصال واضح کرتے ہوئے انہیں منہ توڑ جواب دیا اور ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ﴾ [سورة الممتحنة: 4] ”(مسلمانو! تمہارے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بیزار ہیں)“ اور ان پر اپنی بات کو واضح کر دیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ﴿قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ﴾ [سورة الأنعام: 56] ”آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان کی عبادت کروں جن کو تم لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔“ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے قریب کھڑے ہوئے اور مشرکین پر اس آیتِ کریمہ کو پڑھنے لگے اور اپنا نقطہ انفصال ان پر واضح کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17733]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3538. -- باب: الإذن بالهجرة
-- باب: ہجرت کی اجازت ملنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17734
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا ضَاقَتْ عَلَيْنَا مَكَّةُ وَأُوذِيَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفُتِنُوا وَرَأَوْا مَا يُصِيبُهُمْ مِنَ الْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ فِي دِينِهِمْ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَطِيعُ دَفْعَ ذَلِكَ عَنْهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَعَةٍ مِنْ قَوْمِهِ وَعَمِّهِ، لَا يَصِلُ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا يَكْرَهُ مَا يَنَالُ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مَلِكًا لَا يُظْلَمُ أَحَدٌ عِنْدَهُ فَالْحَقُوا بِبِلَادِهِ حَتَّى يَجْعَلَ اللهُ لَكُمْ فَرَجًا وَمَخْرَجًا مِمَّا أَنْتُمْ فِيهِ"، فَخَرَجْنَا إِلَيْهَا أَرْسَالًا حَتَّى اجْتَمَعْنَا وَنَزَلْنَا بِخَيْرِ دَارٍ إِلَى خَيْرِ جَارٍ أَمِنَّا عَلَى دِينِنَا، وَلَمْ نَخْشَ مِنْهُ ظُلْمًا. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
ام المؤمنین سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم پر مکہ تنگ ہو گیا اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو طرح طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اپنے دین پر عمل کرنے کی وجہ سے آزمائشوں اور فتنوں کو دیکھا اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے یہ تکلیفیں دور کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی قوم اور اپنے چچا کی حمایت میں محفوظ تھے اور جو تکلیفیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو پہنچتی تھیں ان میں سے کوئی ناگوار چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حبشہ کی سرزمین میں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے پاس کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا، لہٰذا تم ان کے شہر میں چلے جاؤ، جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے متبادل تمہارے لیے کوئی اور راستہ نہ نکال دے۔“ پھر ہم آہستہ آہستہ وہاں سے نکلے حتیٰ کہ ہم حبشہ میں جمع ہو گئے اور ہم اچھے گھر اور اچھے پڑوس میں تھے، وہاں ظلم و زیادتی کا ڈر بھی نہ تھا، پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17734]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17735
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَارُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ الْحَاجَّ فِي مَنَازِلِهِمْ فِي الْمَوَاسِمِ بمَجَنَّةَ وَعُكَاظٍ وَمَنَازِلِهِمْ بِمِنًى؟ مَنْ يُؤْوِينِي وَيَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالِاتِ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ فَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا يُؤْوِيهِ وَيَنْصُرُهُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْخِلُ صَاحِبَهُ مِنْ مِصْرَ وَالْيَمَنِ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ أَوْ ذَوُو رَحِمِهِ، فَيَقُولُونَ: احْذَرْ فَتَى قُرَيْشٍ لَا يُصِيبُكَ، يَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ، يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِأَصَابِعِهِمْ حَتَّى يَبْعَثَ اللهُ مِنْ يَثْرِبَ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ، ويُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ يَثْرِبَ إِلَّا فِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ فَائْتَمَرْنَا وَاجْتَمَعْنَا سَبْعِينَ رَجُلًا مِنَّا، فَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَالُ، أَوْ قَالَ: وَيَخَافُ، فَرَحَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ الْمَوْسِمَ فَوَعَدَنَا شِعْبَ الْعَقَبَةِ فَاجْتَمَعْنَا فِيهِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ حَتَّى تَوَافَيْنَا فِيهِ عِنْدَهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَامَ نُبَايِعُكَ؟، قَالَ:" تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللهِ لَا يَأْخُذُكُمْ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي إِنْ قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ يَثْرِبَ، وَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمُ الْجَنَّةُ"، فَقُلْنَا: نُبَايِعُكَ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ ⦗١٧⦘ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِينَ رَجُلًا إِلَّا أَنَا، فَقَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ، إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ، وَأَنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ، وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ، وَأَمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى عَضِّ السُّيُوفِ وَقَتْلِ خِيَارِكُمْ وَمُفَارَقَةِ الْعَرَبِ كَافَّةً، فَخُذُوهُ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللهِ، وَأَمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً فَذَرُوهُ فَهُوَ أَعْذَرُ لَكُمْ عِنْدَ اللهِ، فَقَالُوا: أَخِّرْ عَنَّا يَدَكَ يَا أَسْعَدُ بْنَ زُرَارَةَ، فَوَاللهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا، فَقُمْنَا إِلَيْهِ رَجُلًا رَجُلًا يَأْخُذُ عَلَيْنَا شَرْطَهُ وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال ٹھہرے اور موسمِ حج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاجیوں کے پیچھے ان کے گھروں میں جاتے جو مجنہ اور عکاظ میں تھے اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں بھی ان کے گھروں میں جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”جو مجھے ٹھکانا دے گا اور میری مدد کرے گا حتیٰ کہ میں اللہ کے پیغامات کی تبلیغ کروں اور ان کو لوگوں تک پہنچا دوں تو اس کے لیے جنت ہے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکانا دینے اور مدد کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہ ہوا حتیٰ کہ مضر اور یمن سے کوئی آدمی آتا تو اس کی قوم اور اس کے عزیز و اقارب کے لوگ اسے کہتے کہ قریش کے ایک جوان سے بچنا اور اس سے ملاقات نہ کرنا۔ وہ لوگوں کے گھروں میں جا کر ان کو اللہ کے دین کی دعوت دیتا ہے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف انگلیوں سے اشارے کرتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ میں منتخب فرمایا اور ہم میں سے کوئی آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اور وہ آپ پر ایمان لے آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن کی تعلیم دیتے۔ پھر وہ آدمی اپنے گھر لوٹتا تو اس کے اسلام کی وجہ سے اس کے اہل و عیال بھی اسلام قبول کر لیتے حتیٰ کہ یثرب (مدینہ) میں کوئی ایسا گھر نہیں تھا جس میں مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور یہ لوگ اسلام کی تبلیغ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے ہمیں چنا اور ہم ستر آدمیوں نے اکٹھے ہو کر مشاورت کی اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کب تک مکہ کے پہاڑوں میں دھکیلا جائے گا اور کب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوف کی زندگی ان پہاڑوں میں گزاریں گے؟ اس کے بعد ہم نے وہاں سے کوچ کیا اور موسمِ حج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبِ عقبہ میں ہمارے ساتھ ملاقات کا وعدہ کیا حتیٰ کہ ہم اس میں ایک ایک اور دو دو ہو کر داخل ہوئے حتیٰ کہ ہم سب اکٹھے ہو گئے اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کی کس بات پر بیعت کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میری بیعت اطاعت و فرماں برداری پر کرو، خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی، اور خوش حالی اور تنگ دستی میں خرچ کرنے پر، اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے پر، اور اللہ کے دین کی دعوت دینے یا عمل کرنے پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرنے پر، اور اس بات پر کہ اگر میں تمہارے پاس یثرب آؤں تو تم نے میری مدد کرنی ہے اور تم نے مجھے بھی اس چیز سے بچانا ہے جس چیز سے تم اپنے آپ کو، اپنی بیویوں کو اور اپنی اولادوں کو بچاتے ہو، تو ایسی صورت میں تمہارے لیے جنت ہے۔“
ہم نے کہا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرتے ہیں اور ہم بیعت کے لیے اٹھے تو سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے، جو ان ستر آدمیوں میں سب سے کم عمر تھے سوائے میرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے: اہل یثرب! ذرا ٹھہر جاؤ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹوں کے کلیجے مار کر (یعنی لمبا چوڑا سفر کر کے) اس یقین کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؛ آج آپ کو یہاں سے لے جانے کا معنی ہے سارے عرب سے دشمنی، تمہارے چیدہ سرداروں کا قتل اور تلواروں کی مار۔ لہٰذا اگر یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہو تب تو انھیں لے چلو اور تمہارا اجر اللہ پر ہے اور اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہے تو انھیں ابھی سے چھوڑ دو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ قابل قبول عذر ہو گا۔ تو لوگوں نے بیک آواز کہا: اے اسعد بن زرارہ! اپنا ہاتھ ہٹاؤ! اللہ کی قسم! ہم اس بیعت کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ توڑ سکتے ہیں۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک ایک کر کے اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور اس کے عوض ہمیں جنت کی بشارت دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17735]
ہم نے کہا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرتے ہیں اور ہم بیعت کے لیے اٹھے تو سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے، جو ان ستر آدمیوں میں سب سے کم عمر تھے سوائے میرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے: اہل یثرب! ذرا ٹھہر جاؤ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹوں کے کلیجے مار کر (یعنی لمبا چوڑا سفر کر کے) اس یقین کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؛ آج آپ کو یہاں سے لے جانے کا معنی ہے سارے عرب سے دشمنی، تمہارے چیدہ سرداروں کا قتل اور تلواروں کی مار۔ لہٰذا اگر یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہو تب تو انھیں لے چلو اور تمہارا اجر اللہ پر ہے اور اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہے تو انھیں ابھی سے چھوڑ دو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ قابل قبول عذر ہو گا۔ تو لوگوں نے بیک آواز کہا: اے اسعد بن زرارہ! اپنا ہاتھ ہٹاؤ! اللہ کی قسم! ہم اس بیعت کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ توڑ سکتے ہیں۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک ایک کر کے اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور اس کے عوض ہمیں جنت کی بشارت دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17735]
تخریج الحدیث: «حسن۔ حديث حاكم»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17736
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَأُمِرَ بِالْهِجْرَةِ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ: {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا} [الإسراء: ٨٠] ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾ [سورة الإسراء: 80] ”اور اس طرح دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لیے اپنے پاس سے غلبہ اور مددگار مقرر فرما۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17736]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17737
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ لِلْمُسْلِمِينَ:" قَدْ رَأَيْتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ، أُرِيتُ سَبْخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ وَهُمَا الْحَرَّتَانِ"، فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَكَرَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُهَاجِرًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى رِسْلِكَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَتَرْجُو ذَلِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ:" نَعَمْ"، فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَفْسَهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَحَابَتِهِ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ عِنْدَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ بِطُولِهِ، مِنْ حَدِيثِ عَقِيلٍ وَيُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: ”مجھے تمہارا مقامِ ہجرت دکھایا گیا ہے، یہ لاوے کی دو پہاڑیوں کے درمیان واقع ایک نخلستانی علاقہ ہے۔“ اس کے بعد لوگوں نے مدینہ کی جانب ہجرت کی، عام مہاجرینِ حبشہ بھی مدینہ ہی آگئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی سفرِ مدینہ کے لیے ساز و سامان تیار کر لیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ذرا رکے رہو، کیونکہ توقع ہے مجھے بھی اجازت دے دی جائے گی۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا! کیا آپ کو اس پر امید ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ رکے رہے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کریں، ان کے پاس دو اونٹنیاں تھیں، انہیں بھی چار ماہ تک ببول کے پتوں کا خوب چارہ کھلایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17737]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٢٢٩٨»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17738
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْبَاهِلِيُّ، وَأَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمِرِيُّ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَا يُقْرِئَانِ الْقُرْآنَ، ثُمَّ جَاءَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَبِلَالٌ وَسَعْدٌ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ ⦗١٨⦘ عَنْهُ فِي عِشْرِينَ وَبَيْنَهُمْ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ فَرَحَهُمْ بِهِ، حَتَّى رَأَيْتُ الْوَلَائِدَ وَالصِّبْيَانَ يَسْعَوْنَ فِي الطَّرَائِقِ، يَقُولُونَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتَّى قَرَأْتُ: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: ١] فِي سُوَرٍ مِثْلِهَا مِنَ الْمُفَصَّلِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس آنے والے (یعنی مدینہ میں) حضرت مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما تھے۔ وہ دونوں قرآن کریم کی تعلیم دیتے تھے، پھر عمار بن یاسر، بلال اور سعد رضی اللہ عنہم آئے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس ساتھیوں کے ساتھ آئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اہل مدینہ نے اتنی خوشی منائی کہ میں نے اس سے پہلے انہیں اتنا خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ حتی کہ میں نے لڑکوں اور بچوں کو دیکھا کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں دوڑتے ہوئے یہ آواز بلند کر رہے تھے: ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے تو میں نے ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور اس جیسی مفصل سورتیں پڑھ لی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17738]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
3539. -- باب: مبتدأ الإذن بالقتال
-- باب: قتال (جہاد) کی اجازت کے آغاز کا بیان۔
حدیث نمبر: 17739
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أنبأ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى إِكَافٍ عَلَى قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَسَارَ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ، فَإِذَا بِالْمَجْلِسِ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبْدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ وَفِي الْمُسْلِمِينَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ ابْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ: أَيُّهَا الْمَرْءُ، إِنَّهُ لَا أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ إِنْ كَانَ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا بِهِ فِي مَجْلِسِنَا، ارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَاغْشَنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا، فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ. فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَثَاوَرُونَ، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا، ثُمَّ رَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَابَّتَهُ فَسَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ". يُرِيدُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ،" قَالَ كَذَا وَكَذَا"، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ اعْفُ عَنْهُ وَاصْفَحْ، فَوَالَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَاءَ اللهُ بِالْحَقِّ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكَ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ، فَلَمَّا رَدَّ اللهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ شَرَّقَ بِذَلِكَ، فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ. فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ وَأَصْحَابُهُ يَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ وَأَهْلِ الْكِتَابِ، كَمَا أَمَرَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَصْبِرُونَ عَلَى الْأَذَى، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ} [آل عمران: ١٨٦] ، وَقَالَ اللهُ: {وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى ⦗١٩⦘ يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [البقرة: ١٠٩] ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَأَوَّلُ فِي الْعَفْوِ مَا أَمَرَ اللهُ بِهِ حَتَّى أُذِنَ لَهُمْ فِيهِمْ، فَلَمَّا غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا فَقَتَلَ اللهُ بِهِ مَنْ قَتَلَ مِنْ صَنَادِيدِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، قَالَ ابْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ عَبْدَةِ الْأَوْثَانِ: هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ. فَبَايَعُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَعُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بٹھایا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا حتیٰ کہ ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا اور یہ اس کے اسلام لانے سے پہلے کا واقعہ ہے اور اسی طرح اس مجلس کے اندر مسلمان، مشرکین، بت پرست اور یہودی سب شریک تھے اور مسلمانوں میں سے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر سے اپنی ناک چھپالی اور پھر کہا: ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور وہاں رک گئے اور اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کو قرآن مجید کی تلاوت بھی سنائی۔ عبداللہ بن ابی بن سلول بولا: میاں میں ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہوں اور اگر وہ چیز جو تو کہتا ہے حق ہے تو ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں تکلیف نہ دیا کرو، اپنے گھر جاؤ اور ہم سے جو تمہارے پاس آئے اس سے بیان کرو۔ اس پر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں، کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ پھر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں میں تو تو میں میں ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کردیتے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برابر خاموش کرتے رہے اور جب وہ خاموش ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھ کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”اے سعد! کیا تم نے نہیں سنا کہ ابو حباب نے آج کیا بات کہی؟“ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یوں یوں باتیں کہی ہیں۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اسے معاف کردیجیے اور درگزر فرمائیے، اس ذات کی قسم جس نے کتاب کو نازل فرمایا: اللہ تعالیٰ نے وہ حق آپ کو عطا فرمایا ہے جو عطا فرمانا تھا۔ اس بستی (مدینہ منورہ) کے لوگ (آپ کی تشریف آوری سے پہلے) اس بات پر متفق ہوگئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کردیا جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو اسے حق سے حسد ہوگیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا، تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کردیا اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنهم بھی مشرکین اور اہل کتاب کو معاف کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا اور وہ ان کی تکلیفوں پر صبر کیا کرتے تھے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾ [سورة آل عمران: 186] ”اور تمہیں ضرور بالضرور تمہارے مالوں اور تمہاری جانوں میں آزمایا جائے گا اور جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور جو مشرک ہیں ان سے تمہیں بہت سی ایذا دہ باتیں سننا پڑیں گی اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے“ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ [سورة البقرة: 109] ”اہلِ کتاب کے بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کفر میں لوٹا دیں اپنی طرف سے حسد کرتے ہوئے اور حق واضح ہوجانے کے بعد۔ پس ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرتے رہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم آجائے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عفو و درگزر سے کام لیتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے بارے میں اجازت دے دی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی لڑی تو اس میں اللہ تعالیٰ نے کفارِ قریش کے بڑے بڑے سرداروں کو قتل کروا دیا تو عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ اب یہ (دین) غالب آجائے گا، لہٰذا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرلی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17739]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17740
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَخْرَجَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ؛ لَيَهْلِكُنَّ". قَالَ: فَقَرَأَ: {أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ} [الحج: ٣٩] . وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْرَؤُهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَعَلِمْتُ أَنَّهَا قِتَالٌ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَهِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب اہل مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا اور کہا کہ انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا ہے تو یہ ضرور ضرور ہلاک ہو جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهمْ لَقَدِيرٌ﴾ [سورة الحج: 39] ”اجازت دی گئی ہے ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی گئی (جنگ کرنے کی) کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقیناً ان کی مدد کرنے پر اللہ تعالیٰ قادر ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے «أُذِنَ» کی قرآت سے پڑھتے تھے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے جان لیا کہ اس سے مراد قتال ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سب سے پہلے قتال کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17740]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح