🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3536. -- باب: مبتدأ البعث والتنزيل
-- باب: بعثت (نبوت) اور نزولِ وحی کے آغاز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17721
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: كَانَ أَوَّلَ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللهِ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حَبَّبَ اللهُ إِلَيْهِ الْخَلَاءَ، فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ أُولَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ بِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجَأَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقَالَ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، قَالَ: فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ، الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} [العلق: ٢] ، فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ:" زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي"، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ:" أَيْ خَدِيجَةُ مَا لِي"، وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ، قَالَ:" لقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي"، قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: كَلَّا ⦗١١⦘ أَبْشِرْ فَوَاللهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا، وَاللهِ إِنَّكَ لِتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ ابْنُ أَخِي أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَكْتُبُ مِنَ الْإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: أَيْ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ: ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى؟، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَى، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللهُ عَلَى مُوسَى، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ؟"، قَالَ وَرَقَةُ: نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ.
(١٧٧٢١) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی ابتداء نیند کی حالت میں اچھے خوابوں سے ہوئی اور جو بھی آپ خواب دیکھتے وہ حالت بیداری میں صبح کی روشنی کی طرح پورا ہوجاتا۔ پھر آپ کو تنہائی اچھی لگنے لگی اور غار حرا میں اکیلے رہنے لگے اور کئی راتوں تک وہاں عبادت کرتے۔ اس سے پہلے پہلے جب تک کہ آپ کے دل میں گھر آنے کا شوق پیدا ہوتا اور اس کام کے لیے اپنے ساتھ زاد راہ لے جاتے۔ پھر جب (زاد راہ ختم ہوجاتا) تو اتنا ہی زاد راہ پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے لے جاتے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی غار حرا میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اچانک وحی آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: پڑھیے! آپ نے فرمایا: میں تو پڑھا (لکھا) نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھ کو پکڑ کر ایسا دبایا کہ میں بےطاقت ہوگیا۔ پھر انھوں نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے میں نے کہا کہ میں تو پڑھ نہیں سکتا۔ پھر انھوں نے مجھے پکڑ لیا اور دوسری بار زور سے دبایا کہ میں بےسکت ہوگیا۔ پھر انھوں نے مجھے چھوڑا اور کہا: پڑھ، میں نے کہا: (کیسے پڑھوں) میں تو پڑھا (لکھا) نہیں ہوں۔ پھر انھوں نے مجھے پکڑ لیا اور تیسری بار پھر زور سے بھینچا حتیٰ کہ میری طاقت نے جواب دے دیا۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے { اِقْرأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اِقْرَأْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ } [العلق ١-٤] اس پروردگار کے نام سے پڑھ جس نے (تمام چیزیں) بنائیں۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آیات سن کر لوٹے اور آپ کا دل (ڈر کے مارے) کانپ رہا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔ انھوں نے کمبل اوڑھا دیا حتیٰ کہ آپ سے خوف جاتا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے خدیجہ! مجھے کیا ہوگیا ہے اور پورا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ مجھے اپنی جان کے بارے میں ڈر ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: ہرگز نہیں آپ خوش ہو جاؤ۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچ بات بیان کرتے ہیں اور ناتواؤں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور جن کا کوئی کمانے والا نہیں ہوتا ان کے لیے کماتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور حادثوں (اور جھگڑوں) میں حق کی مدد کرتے ہیں۔ پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی جو حضرت خدیجہ کے چچا زاد بھائی تھے اور وہ بت پرستی چھوڑ کر جاہلیت کے زمانے میں عیسائی بن گئے تھے اور وہ کتاب کو عربی زبان میں لکھتے تھے اور انجیل جو اللہ نے ان سے لکھوانا چاہی عربی میں لکھتے تھے اور وہ بوڑھے ضعیف ہو کر اندھے ہوگئے تھے تو انھیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے چچا (زاد بھائی)! اپنے بھتیجے سے کی بات تو سنو! حضرت ورقہ بن نوفل نے کہا: اے میرے بھتیجے! (کہو) تم نے کیا دیکھا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو دیکھا تھا وہ ان سے بیان کیا تو ورقہ بن نوفل نے آپ سے کہا: یہ وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا گیا۔ کاش! میں اس وقت نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کو آپ کی قوم جلا وطن کرتی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھ کو نکال دیں گے۔ ورقہ نے کہا: ہاں! (بےشک وہ آپ کو نکال دیں گے) جب کبھی کسی شخص نے ایسی بات کہی جیسی آپ کہتے ہو تو لوگ اس کے دشمن بن گئے اور اگر میں آپ کے اس دن کو پالوں تو میں تمہاری پوری قوت سے مدد کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17721]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17722
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي، فَبَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَخَشِيتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ، فَجِئْتُ أَهْلِي، فَقُلْتُ لَهُمْ:" زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي"، فَزَمَّلُونِي فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَأَنْذِرْ، وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ، وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ، وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} [المدثر: ٢] "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَالرُّجْزُ: الْأَوْثَانُ، قَالَ:" ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ"..
(١٧٧٢٢) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: پھر کچھ دیر مجھ سے وحی کا توقف ہوگیا اور اسی دوران میں ایک بار (راستے میں) جا رہا تھا۔ اتنے میں میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، آنکھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان میں ایک کرسی پر (معلق) بیٹھا ہے۔ میں یہ دیکھ کر ڈر گیا حتیٰ کہ میں زمین کی طرف جھکا اور میں گھر کو لوٹا اور ان سے کہا: مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو کمبل اوڑھا دو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: { یاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ۔ قُمْ فَاَنذِرْ۔ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ۔ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ۔ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ۔ وَلاَ تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ۔ } [المدثر ١-٦] اے کپڑا اوڑھنے والے! کھڑا ہوجا اور لوگوں کو ڈرا اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ اور ناپاکی کو چھوڑ دے اور احسان کر کے زیادہ لینے کی خواہش نہ کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17722]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17723
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَقِيلٍ هُوَ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، أَخْبَرَنِي عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، ⦗١٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبٍ.
(١٧٧٢٣) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر ایک مدت کے لیے مجھ پر وحی کا نزول بند ہوگیا۔ اس کے بعد اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17723]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17724
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، إِمْلَاءً، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: ١] ".
(١٧٧٢٤) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ قرآن مجید میں جس چیز کا پہلے نزول ہوا، وہ { اِقْرأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ } [العلق ١] ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17724]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3537. -- باب: مبتدأ الفرض على النبي صلى الله عليه وسلم ثم على الناس، وما لقي النبي صلى الله عليه وسلم من أذى قومه في تبليغ الرسالة على وجه الاختصار
-- باب: نبی ﷺ اور پھر لوگوں پر فرائض عائد ہونے کی ابتدا، اور نبی ﷺ کو تبلیغِ رسالت میں اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں کا مختصر بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] ، وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ" وَاصَبَاحَاهُ"، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ؟، قَالُوا: مُحَمَّدٌ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ:" يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟"، قَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا، قَالَ:" فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٌ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ مَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: (تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ) . كَذَا قَرَأَ الْأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
(١٧٧٢٥) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: { وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ } کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے اور ان میں سے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخلص جماعت ہے ان کو بھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور صفا (پہاڑی) پر چڑھ کر آپ نے ((وَا صَبَاحَاہْ)) کی زور دار آواز سے بلایا تو لوگوں نے کہا: یہ کون بلانے والا ہے (بعض) نے کہا محمد ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تمام لوگ جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنی فلاں! اے بنی فلاں! اے بنی عبد مناف! اے بنی عبدالمطلب! تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے ایک لشکر آ رہا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے۔ انھوں نے کہا: ہم نے کبھی بھی آپ کو جھوٹا نہیں پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں تمہیں آنے والے سخت عذاب سے ڈرانے والا ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو لہب نے کہا تو ہلاک ہوجائے، کیا اسی کام کے لیے تو نے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورة کو نازل کیا { تَبَّتْ یَدَا أَبِی لَہَبٍ } [اللہب ١] ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ خود بھی ہلاک ہوگیا۔ اسی طرح اعمش نے آخر سورة تک تلاوت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17725]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17726
وأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ، وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [الشعراء: ٢١٥] ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَرَفْتُ أَنِّي إِنْ بَادَأْتُ بِهَا ⦗١٣⦘ قَوْمِي رَأَيْتُ مِنْهُمْ مَا أَكْرَهُ فَصَمَتُّ عَلَيْهَا، فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَكَ بِهِ رَبُّكَ عَذَّبَكَ رَبُّكَ. ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً فِي جَمْعِهِمْ وَإِنْذَارِهِ إِيَّاهُمْ.
(١٧٧٢٦) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: { وَاَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنْ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ } [الشعراء ٢١٤- ٢١٥] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جان لیا کہ اگر اس کے ساتھ میں نے اپنی قوم سے ابتدا کی تو میں وہ چیز دیکھوں گا جسے میں ناپسند کرتا ہوں اور اس لیے میں اس کے بیان کرنے سے خاموش رہا۔ میرے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انھوں نے کہا کہ اے محمد! اگر آپ نے اپنے رب کے اس حکم کو پورا نہ کیا تو وہ آپ کو عذاب دے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جمع ہونے کا اور ڈرانے کا قصہ بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17726]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17727
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحَمَّامِيِّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عِبَادٍ الدُّؤَلِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْمَجَازِ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ عَنْ دِينِكُمْ وَدِينِ آبَائِكُمْ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ.
(١٧٧٢٧) حضرت ربیعہ بن عباد دولی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ذی الحجاز میں لوگوں کے پیچھے ان کے گھروں میں جاتے اور ان کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے اور آپ کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا جو لوگوں کو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اے لوگو! یہ تمہیں تمہارے آباء و اجداد کے دین کے متعلق دھوکے میں نہ ڈال دے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو لہب ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17727]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17728
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي بِأَشَدِّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَلَوَى ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ، فَخَنَقَهُ خَنْقًا شَدِيدًا، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبَيْهِ فَدَفَعَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ؟". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
(١٧٧٢٨) عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا کہ مجھے مشرکین کی سب سے زیادہ سخت تکلیف بیان کریں جو انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچائی۔ انھوں نے کہا کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے آپ کی گردن میں کپڑا لپیٹ کر زور سے دبایا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے اس کے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کیا اور کہا: ((اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَ قَدْ جَائَ کُمْ بِالْبَیِّنَاتِ مِنْ رَّبِّکُمْ)) کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ اس پر تمہارے رب کی طرف سے دلائل بھی لایا ہے؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17728]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17729
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ وَجَمِيعُ قُرَيْشٍ فِي مَجَالِسِهِمْ يَنْظُرُونَ، إِذْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى هَذَا الْمُرَائِي؟ أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَعْمِدُ إِلَى فَرْثِهَا وَدَمِهَا وَسَلَاهَا فَيَجِيءُ بِهِ، ثُمَّ يُمْهِلُهُ حَتَّى إِذَا سَجَدَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ؟ فَانْبَعَثَ أَشْقَاهَا فَجَاءَ بِهِ، فَلَمَّا سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَثَبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗١٤⦘ سَاجِدًا، وَضَحِكُوا حَتَّى مَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنَ الضَّحِكِ، فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهِيَ جُوَيْرِيَةٌ، فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى حَتَّى أَلْقَتْهُ عَنْهُ، وَأَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَسُبُّهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ:" اللهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ" ثَلَاثًا، ثُمَّ سَمَّى" اللهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، وَبِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ"، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ يُسْحَبُونَ إِلَى قَلِيبِ بَدْرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَتْبِعْ أَصْحَابَ الْقَلِيبِ لَعْنَةً". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، وَأَخْرَجَهُ هُوَ وَمُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
(١٧٧٢٩) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے کہ مشرکین اپنی مجالس میں جمع ہو کر دیکھنے لگے۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: کیا تم اس ریا کار کی طرف نہیں دیکھتے ہو تم میں سے کون آل فلاں کے اونٹ کی طرف جائے گا اور اس کی گوبر، خون اور اوجھڑی لائے اور پھر ان کے سجدے میں جانے کا انتظار کرے اور جب وہ سجدے میں چلا جائے تو اس کے کندھوں کے درمیان میں رکھ دے تو قوم کا سب سے زیادہ بدبخت انسان اٹھا اور وہ اوجھڑی وغیرہ لے آیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں گئے تو اس بدبخت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے درمیان میں رکھ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں ہی ٹھہرے رہے تو وہ یہ منظر دیکھ کر ہنسنے لگے حتیٰ کہ شدید ہنسی کی وجہ سے ان کا بعض بعض پر گرنے لگ گیا تو ایک جانے والا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی طرف گیا اور وہ اس وقت بچی تھیں تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ اوجڑی دور کی اور پھر ان کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ختم کرلی تو تین دفعہ کہا: اے اللہ! قریش کو پکڑ لے، پھر ان لوگوں کے نام لے کر دعا کی: اے اللہ! عمرو بن حشام، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید ان سب کو پکڑ لے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے بدر کے دن ان سب کو (میدان میں) گرے ہوئے دیکھا، پھر ان کو بدر کے کنویں میں گھسیٹ کر پھینک دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اصحاب قلیب (کنویں والوں) پر لعنت بھی مسلط کردی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17729]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17730
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْرَسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ} [المائدة: ٦٧] فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الْقُبَّةِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ انْصَرِفُوا فَقَدْ عَصَمَنِي اللهُ". وَرِوَايَةُ الْهِلَالِيِّ فَقَالَ لَهُمْ:" أَيُّهَا النَّاسُ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْصِمُكَ مِنْ قَتْلِهِمْ أَنْ يَقْتُلُوكَ حَتَّى تُبَلِّغَهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ، فَبَلَّغَ مَا أُمِرَ بِهِ فَاسْتَهْزَأَ بِهِ قَوْمٌ، فَنَزَلَ {فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ} [الحجر: ٩٥] .
(١٧٧٣٠) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگرانی کی جاتی تھی حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی: { یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ وَ اللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ } [المائدۃ ٦٧] اے رسول! جو آپ کی طرف آپ کے رب نے نازل کیا ہے اس کی تبلیغ کیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اپنے رب کے پیغام کو نہ پہنچایا اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچانے والا ہے تو آپ نے اپنا سر اپنے خیمے سے نکال کر کہا: اے لوگو! اب تم چلے جاؤ، اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے قتل سے بچائے گا کہ وہ آپ کو قتل کریں جب تک کہ آپ اس چیز کی تبلیغ کرتے رہیں گے جو چیز آپ کی طرف نازل کی گئی ہے تو آپ نے اس چیز کی تبلیغ کی جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا تو قوم نے اس پر آپ کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ { فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ۔ اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِئِ یْنَ۔ } [الحجر ٩٤-٩٥] پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جا رہا ہے کھول کر بیان کریں اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجیے آپ سے جو لوگ مسخرا پن کرتے ہیں ان کی سزا کے لیے ہم کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17730]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں