السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3536. -- باب: مبتدأ البعث والتنزيل
-- باب: بعثت (نبوت) اور نزولِ وحی کے آغاز کا بیان۔
حدیث نمبر: 17721
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: كَانَ أَوَّلَ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللهِ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حَبَّبَ اللهُ إِلَيْهِ الْخَلَاءَ، فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ أُولَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ بِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجَأَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقَالَ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، قَالَ: فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ، الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} [العلق: ٢] ، فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ:" زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي"، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ:" أَيْ خَدِيجَةُ مَا لِي"، وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ، قَالَ:" لقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي"، قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: كَلَّا ⦗١١⦘ أَبْشِرْ فَوَاللهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا، وَاللهِ إِنَّكَ لِتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ ابْنُ أَخِي أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَكْتُبُ مِنَ الْإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: أَيْ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ: ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى؟، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَى، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللهُ عَلَى مُوسَى، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ؟"، قَالَ وَرَقَةُ: نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا نیند کی حالت میں اچھے خوابوں سے ہوئی اور جو بھی آپ خواب دیکھتے وہ حالت بیداری میں صبح کی روشنی کی طرح پورا ہو جاتا۔ پھر آپ کو تنہائی اچھی لگنے لگی اور غارِ حرا میں اکیلے رہنے لگے اور کئی راتوں تک وہاں عبادت کرتے۔ اس سے پہلے پہلے جب تک کہ آپ کے دل میں گھر آنے کا شوق پیدا ہوتا اور اس کام کے لیے اپنے ساتھ زادِ راہ لے جاتے۔ پھر جب (زادِ راہ ختم ہو جاتا) تو اتنا ہی زادِ راہ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے لے جاتے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی غارِ حرا میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اچانک وحی آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: ”پڑھیے!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو پڑھا (لکھا) نہیں ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر جبرائیل علیہ السلام نے مجھ کو پکڑ کر ایسا دبایا کہ میں بے طاقت ہو گیا۔ پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ”پڑھیے!“ میں نے کہا: ”میں تو پڑھ نہیں سکتا۔“ پھر انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور دوسری بار زور سے دبایا کہ میں بے سکت ہو گیا۔ پھر انہوں نے مجھے چھوڑا اور کہا: ”پڑھیے!“ میں نے کہا: ”(کیسے پڑھوں) میں تو پڑھا (لکھا) نہیں ہوں۔“ پھر انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور تیسری بار پھر زور سے بھینچا حتیٰ کہ میری طاقت نے جواب دے دیا۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾ [سورة العلق: 1-4] ”اس پروردگار کے نام سے پڑھ جس نے (تمام چیزیں) بنائیں۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیات سن کر لوٹے اور آپ کا دل (ڈر کے مارے) کانپ رہا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: ”مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔“ انہوں نے کمبل اوڑھا دیا حتیٰ کہ آپ سے خوف جاتا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اے خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا ہے؟“ اور پورا واقعہ بیان کیا اور کہا: ”مجھے اپنی جان کے بارے میں ڈر ہے۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”ہرگز نہیں، آپ خوش ہو جائیں۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچ بات بیان کرتے ہیں اور ناتوانوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور جن کا کوئی کمانے والا نہیں ہوتا ان کے لیے کماتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور حادثوں (اور جھگڑوں) میں حق کی مدد کرتے ہیں۔“ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی جو سیدہ خدیجہ کے چچا زاد بھائی تھے اور وہ بت پرستی چھوڑ کر جاہلیت کے زمانے میں عیسائی بن گئے تھے اور وہ کتاب کو عربی زبان میں لکھتے تھے اور انجیل جو اللہ نے ان سے لکھوانا چاہی عربی میں لکھتے تھے اور وہ بوڑھے ضعیف ہو کر اندھے ہو گئے تھے تو انہیں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے میرے چچا (زاد بھائی)! اپنے بھتیجے کی بات تو سنو!“ ورقہ بن نوفل نے کہا: ”اے میرے بھتیجے! (کہو) تم نے کیا دیکھا ہے؟“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا تھا وہ ان سے بیان کیا تو ورقہ بن نوفل نے آپ سے کہا: ”یہ وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا گیا۔ کاش! میں اس وقت نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کو آپ کی قوم جلا وطن کرتی۔“ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ مجھ کو نکال دیں گے؟“ ورقہ نے کہا: ”ہاں! (بےشک وہ آپ کو نکال دیں گے) جب کبھی کسی شخص نے ایسی بات کہی جیسی آپ کہتے ہو تو لوگ اس کے دشمن بن گئے اور اگر میں آپ کے اس دن کو پالوں تو میں تمہاری پوری قوت سے مدد کروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17721]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17722
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي، فَبَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَخَشِيتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ، فَجِئْتُ أَهْلِي، فَقُلْتُ لَهُمْ:" زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي"، فَزَمَّلُونِي فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَأَنْذِرْ، وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ، وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ، وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} [المدثر: ٢] "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَالرُّجْزُ: الْأَوْثَانُ، قَالَ:" ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ"..
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کچھ دیر مجھ سے وحی کا توقف ہو گیا اور اسی دوران میں ایک بار (راستے میں) جا رہا تھا۔ اتنے میں میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، آنکھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غارِ حرا میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان میں ایک کرسی پر (معلق) بیٹھا ہے۔ میں یہ دیکھ کر ڈر گیا حتیٰ کہ میں زمین کی طرف جھکا اور میں گھر کو لوٹا اور ان سے کہا: مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ [سورة المدثر: 1-5] ”اے کپڑا اوڑھنے والے! کھڑا ہو جا اور لوگوں کو ڈرا اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ اور ناپاکی کو چھوڑ دے۔“ ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: «الرُّجْز» سے مراد بت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد وحی کا سلسلہ تیز ہو گیا اور لگاتار آنے لگی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17722]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17723
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَقِيلٍ هُوَ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، أَخْبَرَنِي عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، ⦗١٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایک مدت کے لیے مجھ پر وحی کا نزول بند ہو گیا،“ اس کے بعد اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17723]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17724
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، إِمْلَاءً، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: ١] ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قرآن مجید میں جس چیز کا پہلے نزول ہوا، وہ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17724]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3537. -- باب: مبتدأ الفرض على النبي صلى الله عليه وسلم ثم على الناس، وما لقي النبي صلى الله عليه وسلم من أذى قومه في تبليغ الرسالة على وجه الاختصار
-- باب: نبی ﷺ اور پھر لوگوں پر فرائض عائد ہونے کی ابتدا، اور نبی ﷺ کو تبلیغِ رسالت میں اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں کا مختصر بیان۔
حدیث نمبر: 17725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] ، وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ" وَاصَبَاحَاهُ"، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ؟، قَالُوا: مُحَمَّدٌ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ:" يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟"، قَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا، قَالَ:" فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٌ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ مَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: (تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ) . كَذَا قَرَأَ الْأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] نازل ہوئی کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے اور ان میں سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخلص جماعت ہے ان کو بھی، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور صفا (پہاڑی) پر چڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَا صَبَاحَاهْ» ”ہائے صبح کا خطرہ (پکار)!“ کی زور دار آواز سے بلایا تو لوگوں نے کہا: یہ کون بلانے والا ہے؟ (بعض) نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تمام لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی فلاں! اے بنی فلاں! اے بنی عبد مناف! اے بنی عبدالمطلب! تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے ایک لشکر آ رہا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ہم نے کبھی بھی آپ کو جھوٹا نہیں پایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں تمہیں آنے والے سخت عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابو لہب نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، کیا اسی کام کے لیے تو نے ہمیں اکٹھا کیا تھا؟ پھر وہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو نازل کیا ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورة المسد: 1] ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔“ اسی طرح اعمش نے آخر سورت تک تلاوت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17725]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17726
وأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ، وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [الشعراء: ٢١٥] ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَرَفْتُ أَنِّي إِنْ بَادَأْتُ بِهَا ⦗١٣⦘ قَوْمِي رَأَيْتُ مِنْهُمْ مَا أَكْرَهُ فَصَمَتُّ عَلَيْهَا، فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَكَ بِهِ رَبُّكَ عَذَّبَكَ رَبُّكَ. ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً فِي جَمْعِهِمْ وَإِنْذَارِهِ إِيَّاهُمْ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ * وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214-215] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جان لیا کہ اگر اس کے ساتھ میں نے اپنی قوم سے ابتدا کی تو میں وہ چیز دیکھوں گا جسے میں ناپسند کرتا ہوں اور اس لیے میں اس کے بیان کرنے سے خاموش رہا۔ میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا کہ اے محمد! اگر آپ نے اپنے رب کے اس حکم کو پورا نہ کیا تو وہ آپ کو عذاب دے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جمع ہونے کا اور ڈرانے کا قصہ بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17726]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17727
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحَمَّامِيِّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عِبَادٍ الدُّؤَلِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْمَجَازِ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ عَنْ دِينِكُمْ وَدِينِ آبَائِكُمْ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ.
سیدنا ربیعہ بن عباد دؤلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ذی الحجاز میں لوگوں کے پیچھے ان کے گھروں میں جاتے اور ان کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے اور آپ کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا جو لوگوں کو پکار پکار کر کہہ رہا تھا: ”اے لوگو! یہ تمہیں تمہارے آباء و اجداد کے دین کے متعلق دھوکے میں نہ ڈال دے۔“ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابولہب ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17727]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 17728
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي بِأَشَدِّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَلَوَى ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ، فَخَنَقَهُ خَنْقًا شَدِيدًا، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبَيْهِ فَدَفَعَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ؟". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سوال کیا اور کہا کہ مجھے مشرکین کی سب سے زیادہ سخت تکلیف بیان کریں جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ انہوں نے کہا کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے آپ کی گردن میں کپڑا لپیٹ کر زور سے دبایا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اس کے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کیا اور کہا: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة غافر: 28] ”کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ اس پر تمہارے رب کی طرف سے دلائل بھی لایا ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17728]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17729
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ وَجَمِيعُ قُرَيْشٍ فِي مَجَالِسِهِمْ يَنْظُرُونَ، إِذْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى هَذَا الْمُرَائِي؟ أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَعْمِدُ إِلَى فَرْثِهَا وَدَمِهَا وَسَلَاهَا فَيَجِيءُ بِهِ، ثُمَّ يُمْهِلُهُ حَتَّى إِذَا سَجَدَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ؟ فَانْبَعَثَ أَشْقَاهَا فَجَاءَ بِهِ، فَلَمَّا سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَثَبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗١٤⦘ سَاجِدًا، وَضَحِكُوا حَتَّى مَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنَ الضَّحِكِ، فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهِيَ جُوَيْرِيَةٌ، فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى حَتَّى أَلْقَتْهُ عَنْهُ، وَأَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَسُبُّهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ:" اللهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ" ثَلَاثًا، ثُمَّ سَمَّى" اللهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، وَبِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ"، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ يُسْحَبُونَ إِلَى قَلِيبِ بَدْرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَتْبِعْ أَصْحَابَ الْقَلِيبِ لَعْنَةً". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، وَأَخْرَجَهُ هُوَ وَمُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے کہ مشرکین اپنی مجالس میں جمع ہو کر دیکھنے لگے۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: کیا تم اس ریا کار کی طرف نہیں دیکھتے ہو؟ تم میں سے کون آلِ فلاں کے اونٹ کی طرف جائے گا اور اس کا گوبر، خون اور اوجھڑی لائے گا، پھر ان کے سجدے میں جانے کا انتظار کرے گا اور جب وہ سجدے میں چلے جائیں تو اسے ان کے کندھوں کے درمیان رکھ دے گا؟ تو قوم کا سب سے زیادہ بدبخت انسان اٹھا اور وہ اوجھڑی وغیرہ لے آیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس بدبخت نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے ہی کی حالت میں رہے تو وہ یہ منظر دیکھ کر ہنسنے لگے حتیٰ کہ شدید ہنسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ پھر ایک جانے والا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف گیا اور وہ اس وقت بچی تھیں، وہ دوڑتی ہوئی آئیں اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ اوجھڑی دور کی اور پھر ان (مشرکین) کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو تین مرتبہ فرمایا: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ» ”اے اللہ! قریش کو پکڑ لے۔“ پھر ان لوگوں کے نام لے کر دعا کی: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ» ”اے اللہ! عمرو بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید، ان سب کو پکڑ لے۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے بدر کے دن ان سب کو (میدان میں) گرے ہوئے دیکھا، پھر ان کو بدر کے کنویں میں گھسیٹ کر پھینک دیا گیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اصحابِ قلیب (کنویں والوں) پر لعنت مسلط کر دی گئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17729]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17730
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْرَسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ} [المائدة: ٦٧] فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الْقُبَّةِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ انْصَرِفُوا فَقَدْ عَصَمَنِي اللهُ". وَرِوَايَةُ الْهِلَالِيِّ فَقَالَ لَهُمْ:" أَيُّهَا النَّاسُ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْصِمُكَ مِنْ قَتْلِهِمْ أَنْ يَقْتُلُوكَ حَتَّى تُبَلِّغَهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ، فَبَلَّغَ مَا أُمِرَ بِهِ فَاسْتَهْزَأَ بِهِ قَوْمٌ، فَنَزَلَ {فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ} [الحجر: ٩٥] .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی کی جاتی تھی حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ [سورة المائدة: 67] ”اے رسول! جو آپ کی طرف آپ کے رب نے نازل کیا ہے اس کی تبلیغ کیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اپنے رب کے پیغام کو نہ پہنچایا اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچانے والا ہے“ تو آپ نے اپنا سر اپنے خیمے سے نکال کر کہا: ”اے لوگو! اب تم چلے جاؤ، اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے قتل سے بچائے گا کہ وہ آپ کو قتل کریں جب تک کہ آپ اس چیز کی تبلیغ کرتے رہیں گے جو چیز آپ کی طرف نازل کی گئی ہے تو آپ نے اس چیز کی تبلیغ کی جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا تو قوم نے اس پر آپ کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ ﴿فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ * إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ [سورة الحجر: 94-95] ”پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جا رہا ہے کھول کر بیان کریں اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجیے آپ سے جو لوگ مسخرا پن کرتے ہیں ان کی سزا کے لیے ہم کافی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17730]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے قتل سے بچائے گا کہ وہ آپ کو قتل کریں جب تک کہ آپ اس چیز کی تبلیغ کرتے رہیں گے جو چیز آپ کی طرف نازل کی گئی ہے تو آپ نے اس چیز کی تبلیغ کی جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا تو قوم نے اس پر آپ کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ ﴿فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ * إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ [سورة الحجر: 94-95] ”پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جا رہا ہے کھول کر بیان کریں اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجیے آپ سے جو لوگ مسخرا پن کرتے ہیں ان کی سزا کے لیے ہم کافی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17730]