السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3535. -- باب: مبتدأ الخلق
-- باب: تخلیق (کائنات) کی ابتدا کا بیان۔
حدیث نمبر: 17701
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهَقِيُّ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ:" اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ"، قَالُوا: قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ:" اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ"، قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْنَا لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ مَا كَانَ؟ قَالَ:" كَانَ اللهُ عَزَّ وَجلَّ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ"، قَالَ: وَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ بْنَ حُصَيْنٍ رَاحِلَتَكَ أَدْرِكْ نَاقَتَكَ، فَقَدْ ذَهَبَتْ فَانْطَلَقْتُ فِي طَلَبِهَا فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُوْنَهَا، وَايْمُ اللهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا ذَهَبَتْ وَأَنِّي لَمْ أَقُمْ.
(١٧٧٠١) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ آپ کے پاس بنی تمیم کے لوگ آئے۔ آپ نے فرمایا: اے بنو تمیم! خوش ہو جاؤ، انھوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت تو سنا دی۔ کچھ عطاء بھی کریں۔ حضرت عمران بن حصین نے کہا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اہل یمن میں سے کچھ لوگ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اہل یمن! تم بشارت قبول کرو، جبکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کی بشارتِ (اسلام) کو قبول کیا اور ہم آپ کے پاس دین سیکھنے کے لیے آئے ہیں۔ سب سے پہلے تو ہم آپ سے کائنات کی ابتداء کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہاں پر پہلے کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے اللہ عزوجل ہی کی ذات تھی اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اور اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں ایک آدمی نے آ کر کہا کہ اے عمران بن حصین! اپنی سواری کا خیال کرو۔ وہ بھاگ گئی ہے۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اونٹنی کی تلاش میں نکلا اور وہ ریتلا علاقہ پار کرچکی تھی۔ پھر کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نے یہ خواہش کی کہ کاش میں اونٹنی کے پیچھے نہ جاتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سنتا رہتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17701]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣١٩٠، ٣١٩٢، ٤٣٦٠، ٤٣٨٦»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17702
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوْبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: قَالُوا: جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ:" كَانَ اللهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرَهُ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ، وَخَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، وَالْمُرَادُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، ثُمَّ خَلَقَ الْمَاءَ، وَخَلَقَ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ، وَخَلَقَ الْقَلَمَ، وَأَمَرَهُ فَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ.
(١٧٧٠٢) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا۔ پھر انھوں نے حدیث بیان کی اور اس میں یہ الفاظ اس طرح تھے کہ انھوں نے کہا: ہم آپ سے عالم کی پیدائش کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ ہی تھا اور اس کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا اور آسمان و زمین کو پیدا کیا۔
اس حدیث کو امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں عمر بن حفص بن غیاث سے روایت کیا ہے اور اس سے مراد اللہ بہتر جانتا ہے یہ ہے پھر پانی کو پیدا کیا اور پانی پر عرش کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا اور اسے لکھنے کا حکم دیا۔ پھر اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17702]
اس حدیث کو امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں عمر بن حفص بن غیاث سے روایت کیا ہے اور اس سے مراد اللہ بہتر جانتا ہے یہ ہے پھر پانی کو پیدا کیا اور پانی پر عرش کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا اور اسے لکھنے کا حکم دیا۔ پھر اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17702]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ كما تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17703
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنبأ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ ⦗٥⦘ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ شَيْءٍ الْقَلَمُ، فقَالَ:" اكْتُبْ"، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَا أَكْتُبُ؟، قَالَ:" اكْتُبِ الْقَدَرَ"، قَالَ: فَجَرَى بِمَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ، قَالَ: ثُمَّ خَلَقَ النُّونَ فَدَحَا الْأَرْضَ عَلَيْهَا، فَارْتَفَعَ بُخَارُ الْمَاءِ فَفَتَقَ مِنْهُ السَّمَاوَاتِ، وَاضْطَرَبَ النُّونُ فَمَادَتِ الْأَرْضُ فَأُثْبِتَتْ بِالْجِبَالِ، وَإِنَّ الْجِبَالَ لَتُفَجَّرُ عَلَى الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
(١٧٧٠٣) حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چیزوں میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے کہا: لکھ۔ اس نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: تقدیر کو لکھو۔ پس اس نے جو کچھ اس دن سے لے کر قیامت تک ہونا تھا لکھ دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو پیدا کیا اور اس پر زمین کو پھیلا دیا۔ اس طرح پانی سے بخارات بلند ہوئے تو اس سے آسمان الگ ہوگئے اور مچھلی نے حرکت کی تو زمین کے اندر پھیلاؤ اور جنبش آئی تو اس کو پہاڑوں سے ثابت اور مضبوط کردیا گیا اور اسی وجہ سے پہاڑ زمین پر قیامت تک فخر کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17703]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17704
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ خَلَقَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ الْقَلَمُ وَأَمَرَهُ فَكَتَبَ كُلَّ شَيْءٍ يَكُونُ". وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا فِي حَدِيثِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ مَرْفُوعًا.
(١٧٧٠٤) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے اللہ عزوجل نے قلم کو پیدا کیا اور اسے ہر وہ چیز جو ہونے والی تھی لکھنے کا حکم دیا۔ اور یہی چیز عبادہ بن صامت کی مرفوع حدیث میں بیان ہوئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17704]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17705
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانَ وَأَنَا أَسْمَعُ، أنبأ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَقَالَ:" خَلَقَ اللهُ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُرَيْجِ بْنِ يُونُسَ، وَهَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
(١٧٧٠٥) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن اور درختوں کو پیر کے دن اور مکروہ چیزوں کو منگل کے دن اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور جانداروں کو زمین پر جمعرات کے دن پھیلایا اور جمعہ کے دن عصر کے بعد آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا جو آخری مخلوق ہیں اور جمعہ کی گھڑیوں میں آخری گھڑی عصر اور مغرب کے درمیان ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17705]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17706
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامَغَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكرٍ الِإسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ الطُّوسِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأَظُنُّهُ عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يَسْأَلُ اللهَ فِيهَا عَبْدٌ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: إِنَّ اللهَ تَعَالَى بَدَأَ الْخَلْقَ فَخَلَقَ الْأَرْضَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَيَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَخَلَقَ الْأَقْوَاتَ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ ⦗٦⦘ شَيْءٍ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ فَرَغَ مِنْ ذَلِكَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَتِلْكَ السَّاعَةُ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ.
(١٧٧٠٦) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے کہ جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے جس میں کوئی بندہ اپنے رب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ وہ اسے عطا کردیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کی ابتدا کی۔ اتوار کو اور پھر زمین کو پیدا کیا اور منگل اور بدھ کو آسمانوں کو پیدا کیا اور جمعرات اور جمعہ کو خوراک اور جو کچھ زمین میں ہے ان کو پیدا کیا اور ان چیزوں کی پیدائش سے عصر کی نماز کے قریب فارغ ہوئے پس یہ ہے گھڑی جو عصر اور غروب شمس کے درمیان ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17706]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17707
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مُعْتَمِرٌ، أَخْبَرَنِي عَوْفٌ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَلَقَ اللهُ آدَمَ مِنْ أَدِيمِ الْأَرْضِ كُلِّهَا، فَخَرَجَتْ ذُرِّيَّتُهُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ، مِنْهُمُ الْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَسْمَرُ وَالْأَحْمَرُ، وَمِنْهُمْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَمِنْهُمُ السَّهْلُ وَالْحَزْنُ، وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ".
(١٧٧٠٧) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو روئے زمین کی تمام مٹی سے پیدا فرمایا اور پھر اس کی اولاد اسی مناسبت سے پیدا ہوئی۔ ان میں سے بعض سفید ہیں اور بعض سیاہ، اور کچھ سانولے (گندمی) رنگ کے ہیں تو کچھ سرخ ہیں اور اسی طرح ان میں سے کچھ نرم مزاج ہیں اور کچھ خبیث النفس ہیں اور کچھ اچھے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17707]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17708
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُلِقَ آدَمُ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ، مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَسْوَدُ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ، وَبَيْنَ ذَلِكَ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ".
(١٧٧٠٨) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا جو اس نے تمام زمین سے لی تھی تو آدم کی اولاد بھی اسی زمین کی مناسبت سے پیدا ہوئی۔ ان میں کچھ سرخ ہیں اور کچھ سیاہ اور کچھ نرم ہیں اور کچھ سخت اور اسی طرح کچھ اچھے ہیں اور کچھ برے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17708]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17709
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْأَزْهَرِيِّ، وَحَمْدَانُ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ} [الذاريات: ٥٦] ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: خَلَقَ اللهُ الْخَلْقَ لِعِبَادَتِهِ َيَعْنِي مَا شَاءَ مِنْ عِبَادِهِ، أَوْ لِيَأْمُرَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ بِعِبَادَتِهِ، وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ.
(١٧٧٠٩) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے نور سے پیدا ہوئے اور جن آگ کے شعلے سے اور آدم کی پیدائش کا وصف بیان کردیا گیا ہے (وہ تم جانتے ہی ہو)۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: { وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْن } [الذاریات ٥٦] کہ ”میں نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔“
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا، یعنی اپنے بندوں میں سے جسے چاہا یا اپنی عبادت کا حکم دیا اور وہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم پر چلا کر منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17709]
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: { وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْن } [الذاریات ٥٦] کہ ”میں نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔“
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا، یعنی اپنے بندوں میں سے جسے چاہا یا اپنی عبادت کا حکم دیا اور وہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم پر چلا کر منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17709]
حدیث نمبر: 17710
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيُّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ" خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ يَوْمَئِذٍ شَيْءٌ اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَنْ عِلْمِ اللهِ"، ⦗٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ أَبَانَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَنَّ خِيرَتَهُ مِنْ خَلْقِهِ أَنْبِيَاؤُهُ، فَقَالَ: {كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ} [البقرة: ٢١٣] ، فَجَعَلَ نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَصْفِيَائِهِ دُونَ عِبَادِهِ بِالْأَمَانَةِ عَلَى وَحْيِهِ وَالْقِيَامِ بِحُجَّتِهِ فِيهِمْ.
(١٧٧١٠) عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا اور پھر ان پر اپنا نور ڈالا۔ جس کو اس دن اس نور میں سے کچھ مل گیا تو اس نے تو ہدایت پا لی اور جس کو یہ نور نہ ملا تو وہ گمراہ ہوگیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ قلمیں لکھ کر خشک ہوگئی ہیں اللہ کے علم کے مطابق۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: پھر اللہ عزوجل نے واضح کردیا کہ اس کی مخلوق میں سے بہترین مخلوق انبیاء ہیں جیسا کہ اس کا فرمان ہے: { کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ } [البقرۃ ٢١٣] کہ ”پہلے سب لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا“ پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے بندوں میں سے اپنی وحی پر امانت کے لیے اور ان میں اپنی حجت قائم کرنے کے لیے چن لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17710]
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: پھر اللہ عزوجل نے واضح کردیا کہ اس کی مخلوق میں سے بہترین مخلوق انبیاء ہیں جیسا کہ اس کا فرمان ہے: { کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ } [البقرۃ ٢١٣] کہ ”پہلے سب لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا“ پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے بندوں میں سے اپنی وحی پر امانت کے لیے اور ان میں اپنی حجت قائم کرنے کے لیے چن لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17710]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الديلمي»
الحكم على الحديث: صحيح