السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3582. -- باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب
-- باب: دار الحرب میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
حدیث نمبر: 17976
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ لِيُصَدِّقَهُمْ، فَتَلَقَّوْهُ بِالْهَدِيَّةِ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ قَدْ أَجْمَعُوا لَكَ لِيُقَاتِلُوكَ. فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا} [الحجرات: ٦] الْآيَةَ. قَالَ الشَّيْخُ:" وَالَّذِي يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ بَعْدَ غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ بِمُدَّةٍ كَثِيرَةٍ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ سَنَةَ عَشْرٍ، كَمَا حَفِظَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ كَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ صَبِيًّا، وَذَلِكَ سَنَةَ ثَمَانٍ، وَلَا يَبْعَثُهُ مُصَدِّقًا إِلَّا بَعْدَ أَنْ يَصِيرَ رَجُلًا".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہ کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے تحائف لے کر ان کا استقبال کیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ گئے اور کہا کہ بنو مصطلق نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ [سورة الحجرات: 6] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کرلو“
شیخ نے فرمایا: جس سے دلیل لی گئی کہ یہ غزوہ بنی مصطلق کے کافی عرصہ بعد ہوا ہے اور غالباً یہ دس ہجری کا واقعہ ہے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ذہن میں رکھا وہ یہ ہے کہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے وقت بچے تھے جبکہ فتح مکہ آٹھ ہجری میں ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس وقت بھیجا تھا جب وہ جوان ہو گئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17976]
شیخ نے فرمایا: جس سے دلیل لی گئی کہ یہ غزوہ بنی مصطلق کے کافی عرصہ بعد ہوا ہے اور غالباً یہ دس ہجری کا واقعہ ہے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ذہن میں رکھا وہ یہ ہے کہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے وقت بچے تھے جبکہ فتح مکہ آٹھ ہجری میں ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس وقت بھیجا تھا جب وہ جوان ہو گئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17976]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةِ، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ وَيَدْعُو لَهُمْ، فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَقَدْ خُلِّقْتُ بِالْخَلُوقِ، فَلَمَّا رَآنِي لَمْ يَمْسَسْنِي وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا الْخَلُوقُ الَّذِي خَلَّقَتْنِي أُمِّي". ⦗٩٥⦘.
سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔ مجھے بھی لایا گیا، میرے سر پر زعفران کی خوشبو لگائی گئی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو مجھے نہ چھوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفرانی خوشبو کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ لگایا جو میری ماں نے لگائی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17977]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17978
وَحَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا فَيَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْكِلَابِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ:" لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:" وَقَدْ رُوِيَ أَنَّهُ سَلَحَ يَوْمَئِذٍ فَتَقَذَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَمَسَّهُ، وَلَمْ يَدْعُ لَهُ، وَمُنِعَ بَرَكَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَابِقِ عِلْمِ اللهِ فِيهِ".
ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا (باقی حدیث پہلی سند والی ہے)۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس نے اس دن پاخانہ کر دیا، اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا، پھر اس کو نہ چھوا اور نہ اس کے لیے دعا فرمائی۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے منع کیا گیا کیونکہ اللہ کو اس کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17978]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17979
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، ثُمَّ رَكِبَ، فَقَالَ:" اللهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ". فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ وَهُمْ يَقُولُونَ: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ. قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ حَمَّادٌ: وَالْخَمِيسُ الْجَيْشُ، فَظَهَرَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَى الذَّرَارِيَّ، فَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا. قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا؟ فَقَالَ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا. فَتَبَسَّمَ. ⦗٩٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور فرمایا: «اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» ”اللہ اکبر، خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی یہ صبح بہت بری ہوتی ہے۔“ وہ لوگ نکلے، گلیوں میں چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”محمد اور ان کا لشکر۔“ حماد کہتے ہیں: خمیس لشکر کو کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر غلبہ حاصل کیا اور جوانوں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں، پھر ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں دے دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا اور آزادی کو حق مہر قرار دیا۔ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ثابت رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا تو نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر کیا رکھا؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مہر ان کے نفس کی آزادی رکھا تھا، تو وہ مسکرا دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17979]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17980
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ح، قَالَ: وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا بَهْزٌ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، ثنا أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ، وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي، فَقَالَ: أَصْلِحِيهَا. قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ، نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ". قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ، وَفَضَلِ السَّوِيقِ، وَفَضَلِ السَّمْنِ، حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ، وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ. قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: وَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا. قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ مَشَيْنَا إِلَيْهَا، فَرَفَعْنَا مَطِيَّتَنَا، وَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ. قَالَ: وَصَفِيَّةُ خَلْفَهُ قَدْ أَرْدَفَهَا، فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ. قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُهَا. قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ: لَمْ نُضَرَّ. قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا". لَفْظُ حَدِيثِ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هَاشِمٍ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى وُقُوعِ قِسْمَةِ غَنِيمَةِ خَيْبَرَ بِخَيْبَرَ. قَالَ أَبُو يُوسُفَ: إِنَّهَا حِينَ افْتَتَحَهَا صَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ وَعَامَلَهُمْ عَلَى النَّخْلِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ:" أَمَّا خَيْبَرُ فَمَا عَلِمْتُهُ كَانَ فِيهَا مُسْلِمٌ وَاحِدٌ مَا صَالَحَ إِلَّا الْيَهُودَ، وَهُمْ عَلَى دِينِهِمْ، وَمَا حَوْلَ خَيْبَرَ كُلُّهُ دَارُ حَرْبٍ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غنیمت کی تقسیم میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی تعریف کرنے لگے اور وہ کہتے تھے: ”ہم نے قیدیوں میں ان جیسا نہیں دیکھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا اور انہیں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بدلے میں کچھ عطا فرمایا، پھر انہیں (سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو) میری والدہ کے پاس بھیجا اور فرمایا: ”ان کا معاملہ درست کرو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے نکلے، جب وہ پیچھے رہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ لگایا گیا۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو وہ لائے۔“ پس لوگ چیزیں لانا شروع ہوئے، کھجوریں، ستو اور گھی لایا گیا۔ جب یہ کھانے کا ایک بڑا ڈھیر بن گیا تو لوگ اس میں سے کھانے لگے اور وہ اپنے حوضوں میں جمع شدہ اس پانی سے پینے لگے جو آسمانی بارش سے جمع ہوا تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ولیمہ تھا جو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح پر کیا گیا تھا۔ پھر ہم نکلے یہاں تک کہ ہم نے مدینہ کی دیواروں کو دیکھنا شروع کیا، ہم ان کی طرف بڑھے، ہم نے اپنی سواریوں کو تیز کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی سواری کو تیز کیا، جبکہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پھسل گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا گر پڑے۔ ہم میں سے کسی نے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور نہ ہی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی طرف، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر پردہ ڈال دیا۔ پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں چوٹ نہیں آئی۔“ جب ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کی لونڈیاں نکلیں، وہ انہیں دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں اور ان کے گرنے پر خوش ہو رہی تھیں۔
اس میں دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی غنیمت کو خیبر ہی میں تقسیم کیا تھا۔ ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب خیبر کو فتح کر لیا گیا تو وہ دار الاسلام بن گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں پر ان کو عامل مقرر کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے علم نہیں کہ وہاں کوئی ایک بھی مسلمان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہود سے مصالحت کی تھی، وہ اپنے دین پر قائم تھے اور خیبر کے ارد گرد کا علاقہ بھی دشمن کا علاقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17980]
اس میں دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی غنیمت کو خیبر ہی میں تقسیم کیا تھا۔ ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب خیبر کو فتح کر لیا گیا تو وہ دار الاسلام بن گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں پر ان کو عامل مقرر کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے علم نہیں کہ وہاں کوئی ایک بھی مسلمان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہود سے مصالحت کی تھی، وہ اپنے دین پر قائم تھے اور خیبر کے ارد گرد کا علاقہ بھی دشمن کا علاقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17980]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّا نُخْرِجُهُمْ إِذَا شِئْنَا، فَمَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلْيَلْحَقْ بِهِ، وَإِنِّي مُخْرِجٌ يَهُودَ فَأَخْرَجَهُمْ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے اس بات پر معاملہ طے کیا کہ ”ہم جب چاہیں گے ان کو نکال دیں گے۔“ جس کا کوئی مال ہو وہ اس کو تابع کرلے، میں یہود کو نکال رہا ہوں، پھر آپ نے ان کو نکال دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17981]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17982
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، وَالْحَسَنُ النَّسَوِيُّ، قَالُوا: ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، ⦗٩٧⦘ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي فِي حَجَّتِهِ، عُمْرَةً فِي الْحُدَيْبِيَةِ، أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ". هَذَا حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ. وَقَالَ الْحَسَنُ: عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ. وَقَالَ أَبُو يَعْلَى عُمْرَتَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هُدْبَةَ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَأَمَّا مَا احْتَجَّ بِهِ أَبُو يُوسُفَ مِنْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْسِمْ غَنَائِمَ بَدْرٍ حَتَّى وَرَدَ الْمَدِينَةَ، وَمَا ثَبَتَ مِنَ الْحَدِيثِ بِأَنْ قَالَ: وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْهَمَ لِعُثْمَانَ وَطَلْحَةَ وَلَمْ يَشْهَدَا بَدْرًا، فَإِنْ كَانَ كَمَا قَالَ فَهُوَ يُخَالِفُ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ لِأَنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلْإِمَامِ أَنْ يُعْطِيَ أَحَدًا لَمْ يَشْهَدِ الْوَقْعَةَ وَلَمْ يَكُنْ مَدَدًا، وَلَيْسَ كَمَا قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ بَدْرٍ بِسَيْرِ شِعْبٍ مِنْ شِعَابِ الصَّفْرَاءِ، قَرِيبٍ مِنْ بَدْرٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے، حجۃ الوداع والے عمرہ کے علاوہ سب ذی القعدہ میں تھے؛ ایک عمرہ حدیبیہ میں یا حدیبیہ کی صلح کے موقع پر ذی القعدہ میں ہوا، اور ایک عمرہ آئندہ سال، اور ایک جعرانہ سے لوٹنے پر جب آپ حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے آئے تھے اور ایک عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ابراہیم کی حدیث ہے جبکہ حسن نے بالکل «عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ» ”حدیبیہ سے ایک عمرہ“ کہا ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ کے مقام پر ہی حنین کی غنیمت کا مال تقسیم کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو یوسف نے جو دلیل لی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کا مالِ غنیمت مدینہ میں پہنچ کر تقسیم کیا اور جو حدیث میں ثابت ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہما کے لیے بدر کا حصہ رکھا جبکہ وہ بدر میں نہیں آئے۔ اگر اسی طرح ہے تو یہ سنت کے مخالف ہے کیونکہ امام یا امیر کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو غنیمت سے کچھ دے جبکہ وہ اس میں شامل نہ رہا ہو اور وہ مددگار نہ رہا ہو، جبکہ یہ اس طرح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی غنیمتیں ”سبر“ نامی جگہ پر تقسیم کیں جو صفراء کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی ہے اور بدر کے قریب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17982]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو یوسف نے جو دلیل لی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کا مالِ غنیمت مدینہ میں پہنچ کر تقسیم کیا اور جو حدیث میں ثابت ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہما کے لیے بدر کا حصہ رکھا جبکہ وہ بدر میں نہیں آئے۔ اگر اسی طرح ہے تو یہ سنت کے مخالف ہے کیونکہ امام یا امیر کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو غنیمت سے کچھ دے جبکہ وہ اس میں شامل نہ رہا ہو اور وہ مددگار نہ رہا ہو، جبکہ یہ اس طرح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی غنیمتیں ”سبر“ نامی جگہ پر تقسیم کیں جو صفراء کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی ہے اور بدر کے قریب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17982]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17983
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ:" وَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ مَضِيقٍ يُقَالُ لَهُ الصَّفْرَاءُ، خَرَجَ مِنْهُ إِلَى كَثِيبٍ يُقَالُ لَهُ سَيْرٌ عَلَى مَسِيرَةِ لَيْلَةٍ مِنْ بَدْرٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّفَلَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى ذَلِكَ الْكَثِيبِ".
ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، جب آپ اس درے سے نکلے جسے صفراء کہا جاتا ہے تو آپ وہاں سے اس ٹیلے کی طرف نکلے جسے سبر کہا جاتا ہے، یہ مقام بدر سے ایک رات کی مسافت کے برابر دوری پر ہے یا اس سے بھی زیادہ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ٹیلے کے پاس مال غنیمت تقسیم فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17983]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17984
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ بِثَلَاثِمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ مِنَ الْمُقَاتِلَةِ، كَمَا خَرَجَ طَالُوتُ فَدَعَا لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ، فَقَالَ:" اللهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ، اللهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ، اللهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ". فَفَتَحَ اللهُ لَهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ، فَانْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَكَانَتْ غَنَائِمُ بَدْرٍ كَمَا رَوَى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ غَنِمَهَا الْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْآيَةُ فِي سُورَةِ الْأَنْفَالِ، فَلَمَّا تَشَاحُّوا عَلَيْهَا انْتَزَعَهَا اللهُ مِنْ أَيْدِيهِمْ بِقَوْلِهِ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] الْآيَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین سو پندرہ نفوس کے ساتھ بدر کی طرف نکلے جیسے طالوت نکلا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی، جب وہ نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ» ”اے اللہ! یہ بغیر سواری کے ننگے پاؤں ہیں، اے اللہ! تو ان کو سوار کر دے، اے اللہ! یہ ننگے بدن ہیں ان کو پہنا، اے اللہ! یہ بھوکے ہیں تو ان کو سیر کر دے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کو بدر کے دن فتح دی، وہ واپس آئے تو ہر آدمی ایک یا دو اونٹ لے کر آیا، انہوں نے پہنا اور سیر ہوئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق بدر کی غنیمتیں جو مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، یہ سورہ انفال کی آیت کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے۔ جب انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ ان سے چھین لیا ﴿یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17984]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق بدر کی غنیمتیں جو مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، یہ سورہ انفال کی آیت کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے۔ جب انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ ان سے چھین لیا ﴿یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17984]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17985
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ، فَلَقِيَ بِهَا الْعَدُوَّ فَلَمَّا هَزَمَهُمُ اللهُ اتَّبَعَهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُونَهُمْ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى النَّهْبِ وَالْعَسْكَرِ، فَلَمَّا رَجَعَ الَّذِينَ طَلَبُوا الْعَدُوَّ، قَالُوا: لَنَا النَّفَلُ؛ نَحْنُ طَلَبْنَا الْعَدُوَّ، وَبِنَا نَفَاهُمُ اللهُ وَهَزَمَهُمْ. وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا بَلْ هُوَ لَنَا؛ نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنَالَهُ مِنَ الْعَدُوِّ غِرَّةٌ. وَقَالَ الَّذِينَ اسْتَوْلَوْا عَلَى الْعَسْكَرِ وَالنَّهْبِ: مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا بَلْ هُوَ لَنَا؛ نَحْنُ اسْتَوْلَيْنَا عَلَيْهِ وَأَحْرَزْنَاهُ. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] الْآيَةَ، فَقَسَمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ عَنْ فُوَاقٍ".
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے۔ دشمن سے آمنا سامنا ہوا۔ جب اللہ نے دشمن کو شکست دے دی تو مسلمانوں کے ایک لشکر نے دشمن کا پیچھا کیا۔ وہ ان کو قتل کرتا تھا اور ایک دستہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لیے ہوئے تھا۔ ایک دستہ مال غنیمت اور لشکر پر قبضہ کر رہا تھا۔ جب دشمن کا تعاقب کرنے والے لوٹے تو انہوں نے کہا: ”غنیمت ہمارے لیے ہے کیونکہ ہم نے دشمن کا تعاقب کیا ہے اور ہمارے ذریعے اللہ نے ان کو بھگا دیا اور ان کو شکست دی۔“ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لے رکھا تھا انہوں نے کہا: ”تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو؟ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے رکھا کہ کہیں ان کو دشمن نقصان نہ پہنچائے۔“ اور جنہوں نے مال غنیمت اور لشکر پر قبضہ کیا انہوں نے کہا: ”تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں۔ ہم نے اس پر قبضہ کیا اور اس کی حفاظت کی ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔“ کچھ دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کو ان میں برابر تقسیم کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17985]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف