🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3580. -- باب: العبيد والنساء والصبيان يحضرون الوقعة
-- باب: غلاموں، عورتوں اور بچوں کا جنگ میں حاضر ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17966
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأُمَوِيُّ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ ⦗٩١⦘ عَطَاءٍ، أنبأ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ح، قَالَ: وَأنبأ أَبُو الْفَضْلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ بْنَ عَامِرٍ، كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنِ اكْتُبْ إِلِيَّ مَنْ ذَوُو الْقُرْبَى الَّذِينَ ذَكَرَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَرَضَ لَهُمْ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ، وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ، وَهَلْ يُقْتَلُ صِبْيَانُ الْمُشْرِكِينَ، وَهَلْ لِلنِّسَاءِ وَالْعَبِيدِ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ مِنْ سَهْمٍ مَعْلُومٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَقَعَ فِي شَيْءٍ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ وَأَنَا شَاهِدٌ: أَمَّا ذَوُو الْقُرْبَى فَإِنَّا كُنَّا نَرَى أَنَّهُمْ قَرَابَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا، وَأَمَّا صِبْيَانُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا، فَلَا تَقْتُلْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ، وَأَمَّا مَا سَأَلْتَ عَنِ انْقِضَاءِ يُتْمِ الْيَتِيمِ فَإِذَا بَلَغَ الْحُلُمَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدُهُ، فَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ فَادْفَعْ إِلَيْهِ مَالَهُ، وَأَمَّا النِّسَاءُ وَالْعَبِيدُ فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ، وَلَكِنْ يُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
نجدہ بن عامر نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا کہ مجھے بتاؤ وہ کون سے رشتہ دار ہیں جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ان کو مالِ فئی میں سے دیا جائے گا جو اللہ نے رسول کو بغیر جنگ کے عطا کیا ہے اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہو گی؟ کیا مشرکین کے بچوں کو قتل کیا جائے گا؟ اگر عورتیں اور غلام جنگ میں جائیں تو کیا ان کے لیے حصہ مقرر ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ یہ اس میں مبتلا ہو جائے تو میں نہ لکھتا، تو انہوں نے لکھا: میں وہاں موجود تھا کہ رشتہ داروں سے مراد ہمارے نزدیک صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار ہیں جبکہ ہماری قوم نے اس کا انکار بھی کیا ہے۔ رہے مشرکین کے بچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بچے کو قتل نہیں کیا تو تم بھی قتل نہ کرو، ہاں! اگر تم وہ جان لو جو خضر علیہ السلام نے جانا تھا اس بچے کے متعلق جس کو انہوں نے قتل کیا تھا اور یتیمی کی آخری مدت احتلام کا آنا اور سمجھداری کا پتا چلنا ہے، تو اس کی یتیمی ختم ہو گئی، اب ان کا مال ان کو دے دو اور اگر عورتیں اور غلام جنگ میں جائیں تو ان کے لیے مقرر حصہ تو نہیں ہے، ہاں! ان کو غنیمت میں سے کچھ تحفۃً دے دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17966]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17967
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الزَّاهِدُ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرَ وَالزُّهْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ فِيمَا كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ فِي كِتَابِهِ ذَلِكَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَخْرُجُ مِنَ الْيُتْمِ وَيَقَعُ حَقُّهُ فِي الْفَيْءِ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَنَّهُ إِذَا احْتَلَمَ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْيُتْمِ وَوَقَعَ حَقُّهُ فِي الْفَيْءِ".
یزید بن ہرمز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نجدہ نے ان کی طرف خط لکھا تھا، اس میں یہ بھی تھا کہ یتیم کب یتیمی کی عمر سے نکل جاتا ہے اور اس کا حق مالِ فئی میں ثابت ہو جاتا ہے؟ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو لکھا کہ بالغ ہونے پر یتیم کی یتیمی ختم ہو جاتی ہے اور مالِ فئی میں اس کا حق ثابت ہو جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17967]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17968
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي، فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِي، فَقُلِّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ، فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ".
ابولحم کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے سرداروں کے ساتھ خیبر میں موجود تھا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے بارے میں بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا، مجھے تلوار پہنائی گئی، میں اس کو کھینچ رہا تھا، میرے بارے میں خبر دی گئی کہ میں غلام ہوں، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے مال میں سے کچھ ردی مال دینے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17968]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17969
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَخَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَا:" أَسْهَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفَارِسِ لِفَرَسِهِ سَهْمَيْنِ، وَلِصَاحِبِهِ سَهْمًا، فَصَارَ لَهُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا، وَأَسْهَمَ لِلنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ". فَهَذَا مُنْقَطِعٌ وَحَدِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ مَوْصُولٌ صَحِيحٌ فَهُوَ أَوْلَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
خالد بن معدان اور مکحول رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گھوڑ سوار کے گھوڑے کے دو حصے اور سوار کا ایک حصہ مقرر کیا، اس طرح اس کے تین حصے ہو گئے اور پیدل کو ایک حصہ ملا اور آپ نے عورتوں اور بچوں کے لیے بھی حصہ مقرر کیا“۔
یہ روایت منقطع ہے، جبکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث موصول اور صحیح ہے، اس لیے وہی اولیٰ ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17969]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3581. -- باب: الرضخ لمن يستعان به من أهل الذمة على قتال المشركين
-- باب: ذمیوں میں سے جن لوگوں سے مشرکین کے خلاف جنگ میں مدد لی جائے انہیں مالِ غنیمت میں سے کچھ حصہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17970
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ:" اسْتَعَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَرَضَخَ لَهُمْ، وَلَمْ يُسْهِمْ لَهُمْ"." تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَلَمْ يَبْلُغْنَا فِي هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَينَا قَبْلُ هَذَا فِي كَرَاهِيَةِ الِاسْتِعَانَةِ بِالْمُشْرِكِينَ، وَاللهُ أَعْلَمُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قینقاع کے یہود سے مدد لی اور ان کو اس کا بدلہ کچھ مال عطیۃً دیا، لیکن ان کو حصہ مقرر کر کے نہیں دیا۔
اس روایت کو بیان کرنے میں حسن بن عمارہ منفرد ہے اور وہ متروک ہے، اور اس بارے میں ہمیں کوئی صحیح حدیث نہیں پہنچی، اور ہم اس سے پہلے مشرکین سے مدد لینے کی کراہت کے بارے میں روایات بیان کر چکے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17970]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17971
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" غَزَا بِنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ فَأَسْهَمَ لَهُمْ"." فَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ" قَالَ الشَّافِعِيُّ:" وَالْحَدِيثُ الْمُنْقَطِعُ عِنْدَنَا لَا يَكُونُ حُجَّةً. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَى الْوَاقِدِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ فُطَيْرٍ الْحَارِثِيِّ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ مِنَ الْيَهُودِ مِنْ يَهُودِ الْمَدِينَةِ إِلَى خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَهُمْ كَسُهْمَانِ الْمُسْلِمِينَ". وَهَذَا مُنْقَطِعٌ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ یہودی لوگوں کو ساتھ ملا کر جہاد کیا ہے اور ان کا حصہ بھی مقرر کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منقطع ہے، اس لیے حجت نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فطیہ حارثی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے دس یہودیوں کو ساتھ لے کر خیبر کی طرف گئے اور ان کے لیے مسلمانوں کی طرح حصہ بھی مقرر کیا۔ یہ بھی منقطع ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17971]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ منقطع»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3582. -- باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب
-- باب: دار الحرب میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ قَبْلَ الْقِتَالِ، قَالَ: فَكَتَبَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ". قَالَ يَحْيَى: أَحْسِبُهُ قَالَ: جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ. وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے لڑائی سے پہلے (اسلام کی) دعوت دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لکھا: یہ ابتداے اسلام میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر اچانک حملہ کیا جبکہ وہ غافل تھے، ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا۔ ان کے لڑائی کے قابل لوگوں کو قتل کر دیا گیا اور ان کے بال بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ملیں (یحییٰ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے جویریہ بنت حارث کہا)۔ (نافع کہتے ہیں:) یہ حدیث مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی اور وہ اس لشکر میں شامل تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17972]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17973
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّوفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ وَهَذَا حَدِيثُهُ، ثنا قُتَيْبَةُ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرَ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةُ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْعَزْلَ؟ قَالَ: نَعَمْ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْمُصْطَلِقِ فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ وَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَاءِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ، فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَلَا نَسْأَلُهُ، فَسَأَلْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، مَا كَتَبَ اللهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَتَكُونُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةَ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ قَسَّمَ بَيْنَهُمْ غَنَائِمَهُمْ قَبْلَ الرُّجُوعِ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَادَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَظَهَرَ عَلَيْهِمْ، فَصَارَتْ بِلَادُهُمْ دَارَ الْإِسْلَامِ، وَبَعَثَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ يَأْخُذُ صَدَقَاتِهِمْ. قَالَ الشَّافِعِيُّ مُجِيبًا لَهُ عَنْ ذَلِكَ:" أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ غَارُّونَ فِي نِعَمِهِمْ، فَقَتَلَهُمْ وَسَبَاهُمْ، وَقَسَمَ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فِي دَارِهِمْ سَنَةَ خَمْسٍ، وَإِنَّمَا أَسْلَمُوا بَعْدَهَا بِزَمَانٍ، وَإِنَّمَا بَعَثَ إِلَيْهِمُ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ مُصَدِّقًا سَنَةَ عَشْرٍ، وَقَدْ رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ، وَدَارُهُمْ دَارُ حَرْبٍ". قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا قَوْلُهُ:" إِنَّ ذَلِكَ كَانَ سَنَةَ خَمْسٍ فَكَذَلِكَ قَالَهُ عُرْوَةُ، وَابْنُ شِهَابٍ".
ابو صرمہ رضی اللہ عنہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم غزوہ بنی مصطلق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم نے معززین عرب کو قیدی بنایا اور اپنے گھر سے دوری طویل ہو رہی تھی اور ہمیں فدیہ کی رغبت تھی، تو ہم چاہتے تھے کہ فائدہ حاصل کریں اور عزل کریں، تو ہم نے کہا: ہم عزل کریں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہم ان سے سوال نہ کریں؟ ہم نے سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر کوئی حرج نہیں اگر نہ کرو، جس جان کے پیدا ہونے کا اللہ نے لکھ دیا کہ وہ پیدا ہونے والی ہے، قیامت تک وہ پیدا ہو کر رہے گی۔“
اس میں دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے سے پہلے مال غنیمت کو تقسیم کیا ہے جیسا کہ امام اوزاعی اور امام شافعی رحمہما اللہ کا موقف ہے۔ ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو مصطلق کو فتح کیا اور ان پر غالب ہوئے تو ان کا علاقہ دار الاسلام میں شامل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے روانہ کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو یوسف رحمہ اللہ کا رد کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر حملہ کیا جبکہ وہ اپنے جانوروں میں مشغول تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کیا اور قیدی بنایا اور مالوں اور قیدیوں کو تقسیم کیا گیا۔ یہ ان کے علاقہ میں پانچ ہجری میں ہوا، جبکہ وہ اس کے کافی عرصہ بعد مسلمان ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور یہ دس ہجری کا وقت ہے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فارغ ہو کر لوٹے تو وہ ابھی دشمن کا علاقہ تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ پانچ ہجری کو ہوا، اسی طرح عروہ اور ابن شہاب رحمہما اللہ کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17973]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17974
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، ح، قَالَ: وَثَنَا يَعْقُوبُ، وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي ذِكْرِ مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ قَاتَلَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَبَنِي لِحْيَانَ فِي شَعْبَانَ سَنَةَ خَمْسٍ. وَهَذَا أَصَحُّ مِمَّا رُوِيَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ سَنَةَ سِتٍّ".
ابن شہاب رحمہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بنو مصطلق اور بنو لحیان کے غزوات شعبان پانچ ہجری کو ہوئے ہیں۔ یہ ابن اسحاق رحمہ اللہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں چھ ہجری بتایا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17974]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17975
وَأَمَّا بَعْثُهُ الْوَلِيدَ مُصَدِّقًا فَفِيمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ ⦗٩٤⦘ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ لِيَأْخُذَ مِنْهُمُ الصَّدَقَاتِ، وَأَنَّهُ لَمَّا أَتَاهُمُ الْخَبَرُ فَرِحُوا وَخَرَجُوا لِيَتَلَقَّوْا رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ لَمَّا حُدِّثَ الْوَلِيدُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا يَتَلَقَّوْنَهُ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ قَدْ مَنَعُوا الصَّدَقَةَ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا، فَبَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنْ يَغْزُوَهُمْ إِذْ أَتَاهُ الْوَفْدُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ رَسُولَكَ رَجَعَ مِنْ نِصْفِ الطَّرِيقِ، وَإِنَّا خَشِينَا أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا رَدَّهُ كِتَابٌ جَاءَهُ مِنْكَ لِغَضَبٍ غَضِبْتَهُ عَلَيْنَا، وَإِنَّا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْتَبَهُمْ وَهَمَّ بِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عُذْرَهُمْ فِي الْكِتَابِ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: ٦] ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ولید بن عقبہ کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجنے کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب ان کے پاس ان کے آنے کی خبر آئی تو وہ خوش ہوئے اور اس کا استقبال کرنے کے لیے نکلے تاکہ اللہ کے رسول کے قاصد کا استقبال کریں، جب ولید رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ وہ استقبال کے لیے آ رہے ہیں تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے زکوۃ کو روک لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ سن کر) ناراض ہوئے، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے لڑائی کا سوچ رہے تھے کہ بنو مصطلق کا وفد آگیا۔ انہوں نے کہا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کا قاصد آدھا سفر کر کے واپس چلا گیا ہے، ہم ڈرے کہ اس کا لوٹنا آپ کے کسی غصے کی وجہ سے ہے جو آپ کو ہم پر آیا ہو، اور ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے (اپنا ارادہ) چھپا رہے تھے اور ان پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا عذر نازل فرما دیا، ارشاد فرمایا: ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ﴾ [سورة الحجرات: 6] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17975]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»

الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں