السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3603. -- باب: المرأة تقاتل فتقتل
-- باب: اگر عورت جنگ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18104
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَرَأَى النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى شَيْءٍ، فَبَعَثَ رَجُلًا، فَقَالَ:" انْظُرْ عَلَى مَا اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ". فَجَاءَ، فَقَالَ: عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ، فَقَالَ:" مَا ⦗١٤٠⦘ كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ". قَالَ: وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَبَعَثَ رَجُلًا، فَقَالَ:" قُلْ لِخَالِدٍ: لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا".
سیدنا رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کسی چیز پر اکٹھے ہوتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا کہ: ”دیکھو، لوگ کس چیز پر جمع ہیں؟“ اس نے آ کر بتایا کہ وہ ایک مقتولہ عورت پر جمع ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو لڑنے والی نہ تھی۔“ راوی کہتے ہیں کہ مقدمہ (ہراول دستے) پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھیجا اور فرمایا: ”خالد سے کہو کہ کسی عورت اور مزدور کو قتل نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18104]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18105
وَفِيمَا رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مَقْتُولَةً بِالطَّائِفِ، فَقَالَ:" أَلَمْ أَنْهَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ؟ مَنْ صَاحِبُ هَذِهِ الْمَرْأَةِ الْمَقْتُولَةِ؟". قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ أَرْدَفْتُهَا فَأَرَادَتْ أَنْ تَصْرَعَنِي فَتَقْتُلَنِي. فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُوَارَى".
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں ایک مقتولہ عورت دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے عورتوں کے قتل سے منع نہیں کیا؟ اس مقتولہ عورت کو کس نے قتل کیا ہے؟“ ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اسے قتل کیا ہے، میں نے اس کو اپنے پیچھے سوار کیا تھا، اس نے مجھے گرا کر قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دفن کر دینے کا حکم فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18105]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18106
وَعَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ وُهَيْبٍ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ أَشْرَفَتِ امْرَأَةٌ فَكَشَفَتْ قُبُلَهَا، فَقَالَتْ: هَا دُونَكُمْ فَارْمُوا، فَرَمَاهَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَمَا أَخْطَأَ ذَلِكَ مِنْهَا، وَفِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ فَمَا أَخْطَأَهَا أَنْ قَتَلُوهَا، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُوَارَى. أَخْبَرَنَا بِهِمَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْفَسَوِيُّ الدَّاوُدِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَيْنِ.
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں کا محاصرہ کیا تو اوپر سے ایک عورت نے جھانک کر کہا: (اس کا پردہ کھل گیا) تم ان پر تیر اندازی کرو، تو ایک مسلمان نے تیر مارا جس کا نشانہ خطا نہ گیا۔ وہیب کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کرنے میں غلطی نہ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دفن کردینے کا حکم فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18106]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18107
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا قَتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً، وَاللهِ إِنَّهَا عِنْدِي لَتَضْحَكُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّوقِ إِذْ هَتَفَ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا أَيْنَ فُلَانَةُ؟ فَقَالَتْ: أَنَا وَاللهِ. فَقُلْتُ: وَيْلَكِ مَا لَكِ؟. فَقَالَتْ: أُقْتَلُ وَاللهِ. قُلْتُ: وَلِمَ؟. قَالَتْ: لِحَدَثٍ أَحْدَثْتُهُ. فَانْطُلِقَ بِهَا فَضُرِبَ عُنُقُهَا، فَمَا أَنْسَى عَجَبًا مِنْهَا طِيبَةَ نَفْسِهَا، وَكَثْرَةَ ضَحِكِهَا، وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ. ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ، عَنْهُ عَنْ أَصْحَابِهِ، أَنَّهَا كَانَتْ دَلَّتْ عَلَى مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَةَ دَلَّتْ عَلَيْهِ رَحًى فَقَتَلَتْهُ، فَقُتِلَتْ بِذَلِكَ. قَالَ: وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ أَسْلَمَتْ وَارْتَدَّتْ وَلَحِقَتْ بِقَوْمِهَا، فَقَتَلَهَا لِذَلِكَ، وَيُحْتَمَلُ غَيْرُ ذَلِكَ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمْ يَصِحَّ الْخَبَرُ لِأِيِّ مَعْنًى قَتَلَهَا، وَقَدْ قِيلَ إِنَّ مَحْمُودَ بْنَ مَسْلَمَةَ قُتِلَ بِخَيْبَرَ وَلَمْ يُقْتَلْ يَوْمَ بَنِي قُرَيْظَةَ".
عروہ، سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی صرف ایک عورت قتل کی۔ اللہ کی قسم! وہ میرے پاس خوب ہنس رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو قتل کر رہے تھے۔ اچانک آواز دینے والے نے اس کا نام لے کر آواز دی: فلاں عورت کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں ہوں۔ میں نے کہا: تجھے کیا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں قتل کر دی جاؤں گی۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: ایسے کام کی وجہ سے جس کا میں سبب بنی، اس کو لے جا کر گردن اتار دی گئی۔ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں اس عجیب واقعہ کو نہیں بھولی کہ وہ اتنی خوش اور ہنس رہی تھی حالانکہ اسے معلوم تھا کہ وہ قتل کر دی جائے گی۔ (ب) امام شافعی رحمہ اللہ ابو عبدالرحمن بغدادی کی روایت میں اپنے اصحاب سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ ایسی عورت تھی جس نے محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ پر چکی گرا کر قتل کر دیا تھا جس کے عوض اس کو قتل کیا گیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اسلام لانے کے بعد مرتد ہو کر اپنی قوم سے جا ملی، اس وجہ سے قتل کیا گیا اس کے علاوہ بھی احتمال ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کوئی حدیث صحیح نہیں کہ کس وجہ سے اس عورت کو قتل کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ خیبر میں قتل کیے گئے۔ وہ بنو قریظہ کے دن قتل نہ ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18107]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کوئی حدیث صحیح نہیں کہ کس وجہ سے اس عورت کو قتل کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ خیبر میں قتل کیے گئے۔ وہ بنو قریظہ کے دن قتل نہ ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18107]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18108
وَاحْتَجَّ بِمَعْنَى الْحَدِيثِ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ أَحَدُ بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ مَرْحَبٌ الْيَهُودِيُّ مِنْ حِصْنِ ⦗١٤١⦘ خَيْبَرَ قَدْ جَمَعَ سِلَاحَهُ وَهُوَ يَرْتَجِزُ، وَيَقُولُ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لِهَذَا؟". فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا وَاللهِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ، قَتَلُوا أَخِي بِالْأَمْسِ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَالْمَنْقُولُ عِنْدَنَا فِي قِصَّةِ هَذِهِ الْمَرْأَةِ مَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خیبر کے قلعہ سے مرحب یہودی نکلا، اس نے اپنا اسلحہ پہن رکھا تھا اور رجزیہ اشعار پڑھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ کون میرا مقابلہ کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون اس کے مدمقابل آئے گا؟“ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں، اللہ کی قسم! میں ہی وہ ہوں جس پر ظلم ہوا اور جو بدلہ لینے والا ہے، انہوں نے کل میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک یہ اس عورت کے قصہ کے بارے میں منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18108]
شیخ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک یہ اس عورت کے قصہ کے بارے میں منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18108]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18109
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، فِيمَا حَدَّثَهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَالْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْوَاقِدِيِّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: إِنَّ خَلَّادَ بْنَ سُوَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْخَزْرَجِيَّ دَلَّتْ عَلَيْهِ فُلَانَةُ، امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، رَحًا فَشَدَخَتْ رَأْسَهُ، فَذُكِرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ". فَقَتَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذُكِرَ، وَكَانَ خَلَّادُ بْنُ سُوَيْدٍ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَأُحُدًا، وَالْخَنْدَقَ، وَبَنِي قُرَيْظَةَ". وَهَذَا مِنْ قَوْلِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَالْوَاقِدِيِّ مُنْقَطِعٌ.
محمد بن سعد رحمہ اللہ واقدی سے نقل فرماتے ہیں کہ خلاد بن سوید بن ثعلبہ خزرجی رضی اللہ عنہ پر بنو قریظہ کی عورت نے چکی گرا کر ان کا سر کچل دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ ہوا تو فرمایا: ”اس کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے۔“ پھر اس کے عوض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو قتل کیا تھا اور خلاد بن سوید رضی اللہ عنہ بدر، احد، خندق اور بنو قریظہ کے موقع پر حاضر ہوئے۔
یہ ابن اسحاق اور واقدی کا قول ہے اور منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18109]
یہ ابن اسحاق اور واقدی کا قول ہے اور منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18109]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3604. -- باب: قطع الشجر وحرق المنازل
-- باب: درخت کاٹنے اور مکانات جلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18110
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَ: يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وَقَالُوا: ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ} [الحشر: ٥] . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةَ، وَابْنِ رُمْحٍ.
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بویرہ نامی جگہ پر بنو نضیر کی کھجوریں جلائیں اور کاٹی تھیں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ﴾ [سورة الحشر: 5] ”جو تم نے کاٹ دیا یا تم نے ان کے تنوں پر کھڑا رہنے دیا، یہ اللہ کے حکم سے ہے تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل و رسوا کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18110]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18111
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ ⦗١٤٢⦘ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی کھجوریں کاٹ کر جلا دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18111]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18112
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ"، وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ:.
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی کھجوریں کاٹ کر جلا دیں۔ اس کے لیے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ بنو لوی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجوروں کو جلانا آسان ہے۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا﴾ [سورة الحشر: 5] ”جو تم نے کاٹ دیا یا تم نے ان کے تنوں پر کھڑا رہنے دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18112]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18113
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ بَعْضَ نَخْلِ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ بَعْضًا"، وَقِيلَ فِي ذَلِكَ شِعْرٌ:.
نافع رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی بعض کھجوروں کے درخت جلا دیے اور بعض کاٹ دیے، اس بارے میں یہ شعر بھی کہا گیا:
بنو لؤی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجور کے درختوں کو جلانا آسان ہو گیا۔ تم نے اپنی ہنڈیاں اس طرح چھوڑیں کہ ان میں کچھ بھی نہ تھا اور لوگوں کی ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18113]
بنو لؤی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجور کے درختوں کو جلانا آسان ہو گیا۔ تم نے اپنی ہنڈیاں اس طرح چھوڑیں کہ ان میں کچھ بھی نہ تھا اور لوگوں کی ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18113]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح