🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3608. -- باب: الأسير يوثق
-- باب: قیدی کو مضبوطی سے باندھا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18144
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ غَالِبٍ اللَّيْثِيَّ فِي سَرِيَّةٍ، فَكُنْتُ فِيهِمْ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشُنُّوا الْغَارَةَ عَلَى بَنِي الْمُلَوِّحِ فِي الْكَدِيدِ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ لَقِينَا الْحَارِثَ بْنَ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيَّ فَأَخَذْنَاهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ أُرِيدُ الْإِسْلَامَ، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا:" إِنْ تَكُ مُسْلِمًا لَمْ يَضُرَّكَ رِبَاطُنَا يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ نَسْتَوْثِقْ مِنْكَ، فَشَدَدْنَاهُ وِثَاقًا".
سیدنا جندب بن ابی مکیث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر میں روانہ کیا، میں بھی ان میں شامل تھا اور ان کو حکم دیا کہ ”وہ بنو ملوح پر کدید نامی جگہ پر چاروں اطراف سے حملہ کردیں۔“ ہم نکلے تو ہماری ملاقات کدید میں حارث بن برصاء سے ہوگئی، ہم نے اسے پکڑ لیا، اس نے کہا: ”میں اسلام کے ارادے سے آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہتا ہوں۔“ ہم نے کہا: ”اگر تو مسلمان ہے تو ایک دن، رات کا باندھنا تجھے نقصان نہ دے گا، اگر تم مسلم نہیں تو پھر ہم تجھے مضبوطی سے باندھیں گے۔“ ہم نے اس کو باندھ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18144]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18145
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا أَمْسَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ وَالْأُسَارَى مَحْبُوسُونَ بِالْوَثَاقِ، بَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاهِرًا أَوَّلَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ لَا تَنَامُ وَقَدْ أَسَرَ الْعَبَّاسَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَمِعْتُ أَنِينَ عَمِّيَ الْعَبَّاسِ فِي وَثَاقِهِ". فَأَطْلَقُوهُ، فَسَكَتَ، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بدر کے دن شام کے وقت جب قیدیوں کو زنجیروں سے باندھا جا رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کا پہلا حصہ بیدار رہ کر گزارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ سو کیوں نہیں رہے؟ اور عباس کو ایک انصاری نے قیدی بنا رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے چچا عباس کے رونے کی آواز سنی ہے“، انہوں نے اس کو کھول دیا۔ وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18145]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18146
وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: قُدِمَ بِالْأُسَارَى حِينَ قُدِمَ بِهِمُ الْمَدِينَةُ، وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ آلِ عَفْرَاءَ فِي مُنَاخِِهِمْ عَلَى عَوْفٍ وَمُعَوِّذٍ ابْنَيْ عَفْرَاءَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِمُ الْحِجَابُ، قَالَتْ سَوْدَةُ: فَوَاللهِ إِنِّي لَعِنْدَهُمْ إِذْ أُتِينَا، فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى قَدْ أُتِيَ بِهِمْ، فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، وَإِذَا أَبُو يَزِيدَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي نَاحِيَةِ الْحُجْرَةِ يَدَاهُ مَجْمُوعَتَانِ إِلَى عُنُقِهِ بِحَبْلٍ، فَوَاللهِ مَا مَلَكْتُ حِينَ رَأَيْتُ أَبَا يَزِيدَ كَذَلِكَ أَنْ قُلْتُ: أَيْ أَبَا يَزِيدَ أَعْطَيْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَّا مِتُّمْ كِرَامًا، فَمَا انْتَهَيْتُ إِلَّا ⦗١٥٢⦘ بِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَيْتِ:" يَا سَوْدَةُ أَعَلَى اللهِ وَعَلَى رَسُولِهِ؟". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا مَلَكْتُ حِينَ رَأَيْتُ أَبَا يَزِيدَ مَجْمُوعَةً يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ بِالْحَبْلِ أَنْ قُلْتُ مَا قُلْتُ.
یحییٰ بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن اسعد بن زرارہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب قیدیوں کو مدینہ لایا گیا اور سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی) آل عفراء کے پاس عفراء کے دونوں بیٹوں عوف اور معوذ کی تعزیت کی مجلس میں تھیں۔ یہ پردہ سے پہلے کی بات ہے۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! میں ان کے پاس تھی کہ ہمیں خبر آئی اور کہا گیا: یہ قیدی ہیں جنہیں لایا گیا ہے۔ میں اپنے گھر واپس آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے۔ اچانک ابو یزید سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ حجرہ کے ایک کونے میں پڑے تھے کہ ان کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ ایک رسی سے باندھے گئے تھے۔ اللہ کی قسم! میں نے قابو نہ پایا جس وقت میں نے ابو یزید کو اس حالت میں دیکھا۔ میں نے کہہ دیا: اے ابو یزید! تم نے اپنے ہاتھ پکڑوا دیے۔ خبردار! عزت کی موت مر جاتے۔ میں ابھی باز نہ آئی تھی کہ گھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی: ”اے سودہ! کیا اللہ اور رسول پر؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! جب میں نے ابو یزید کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے دیکھے تو میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی، جو کہنا تھا میں نے کہہ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18146]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18147
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِأَسِيرٍ وَعِنْدَهَا نِسْوَةٌ، فَلَهَيْنَهَا عَنْهُ، فَذَهَبَ الْأَسِيرُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ أَيْنَ الْأَسِيرُ؟". فَقَالَتْ: نِسْوَةٌ كُنَّ عِنْدِي فَلَهَيْنَنِي عَنْهُ فَذَهَبَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَطَعَ اللهُ يَدَكِ". وَخَرَجَ فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِهِ فَجِيءَ بِهِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَدْ أَخْرَجَتْ يَدَيْهَا، فَقَالَ:" مَا لَكِ؟". قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ. إِنَّكَ دَعَوْتَ عَلَيَّ بِقَطْعِ يَدِيَّ وَإِنِّي مُعَلِّقَةٌ يَدِيَّ أَنْتَظِرُ مَنْ يَقْطَعُهَا. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجُنِنْتِ؟". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ:" اللهُمَّ مَنْ كُنْتُ دَعَوْتُ عَلَيْهِ فَاجْعَلْهُ لَهُ كَفَّارَةً وَطَهُورًا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قیدی کو لے کر ان کے پاس آئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتیں تھیں تو ان عورتوں نے قیدی سے غافل کر دیا۔ قیدی چلا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے عائشہ! قیدی کہاں ہے؟“ فرماتی ہیں: میرے پاس عورتیں تھیں جنہوں نے مجھے اس سے غافل کر دیا، وہ چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قَطَعَ اللّٰهُ يَدَكِ» ”اللہ تیرا ہاتھ کاٹ دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے اور اس قیدی کے پیچھے کسی کو روانہ کیا تو اسے واپس لایا گیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے ہاتھوں کو نکال کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کیا ہے؟“ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! آپ نے میرے خلاف ہاتھ کاٹنے کی بددعا فرمائی، میں ہاتھ لٹکا کر بیٹھی ہوں اس انتظار میں کہ کون میرے ہاتھ کاٹتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو پاگل ہو گئی ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اَللّٰهُمَّ مَنْ كُنْتُ دَعَوْتُ عَلَيْهِ فَاجْعَلْهُ لَهُ كَفَّارَةً وَطَهُورًا» ”اے اللہ! جس کے خلاف میں نے بددعا کی ہو، اسے اس کے لیے کفارہ اور پاکیزگی کا ذریعہ بنا دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18147]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3609. -- باب: ترك قتل من لا قتال فيه من الرهبان والكبير وغيرهما
-- باب: راہبوں، بوڑھوں اور ان جیسے دیگر افراد کو قتل نہ کرنے کا بیان جو جنگ میں حصہ نہیں لیتے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18148
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ جُيُوشًا إِلَى الشَّامِ، فَخَرَجَ يَمْشِي مَعَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَ أَمِيرَ رُبْعٍ مِنْ تِلْكَ الْأَرْبَاعِ، فَزَعَمُوا أَنَّ يَزِيدَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ. فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَلَا أَنَا بِرَاكِبٍ، إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ". قَالَ:" إِنَّكَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ لِلَّهِ فَذَرْهُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ لَهُ، وَسَتَجِدُ قَوْمًا فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُءُوسِهِمْ مِنَ الشَّعْرِ، فَاضْرِبْ مَا فَحَصُوا عَنْهُ بِالسَّيْفِ، وَإِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ: لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً، وَلَا صَبِيًّا، وَلَا كَبِيرًا هَرِمًا، وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا، وَلَا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا، وَلَا تَعْقِرَنَّ شَاةً وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ، وَلَا تَحْرِقَنَّ نَخْلًا وَلَا تُغَرِّقَنَّهُ، وَلَا تَغْلُلْ، وَلَا تَجْبُنْ". وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا مَضَى فِي مَسْأَلَةِ التَّحْرِيقِ،.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی جانب لشکر روانہ کیے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چلے، وہ لشکر کے چوتھائی حصے پر امیر مقرر تھے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سیدنا یزید رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ سوار ہو جائیں یا پھر میں بھی پیدل چلتا ہوں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہ تم سواری سے اترو گے اور نہ ہی میں سوار ہوں گا، میں تو ان قدموں کے ذریعے اللہ کی راہ میں ثواب کی نیت کرتا ہوں۔“ پھر فرمایا: ”عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جن کا گمان ہوگا کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے وقف کر رکھا ہے، ان کو چھوڑ دینا اور جس حال پر ان کا گمان ہو کہ انہوں نے اپنے آپ کو الگ کیا ہوا ہے اسے بھی رہنے دینا۔ اور تم ایسی قوم کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے سروں پر بالوں کے گھونسلے بنا رکھے ہوں گے تو ان (حصوں) کو تلوار سے کاٹ ڈالنا۔ اور میں تجھے دس نصیحتیں کرتا ہوں: تم کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا، کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا، آباد زمین کو برباد و ویران نہ کرنا، کسی بکری یا اونٹ کو صرف کھانے کے لیے ذبح کرنا، کھجور کے درختوں کو نہ جلانا اور نہ ڈبونا، نہ خیانت کرنا اور نہ بزدلی دکھانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18148]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18149
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ رَوْحُ بْنُ ⦗١٥٣⦘ الْقَاسِمِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الشَّامِيِّ، قَالَ: جَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، بِعْثَةً إِلَى الشَّامِ أَمِيرًا فَمَشَى مَعَهُ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ.
یزید بن ابی مالک شامی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو لشکر کا امیر بنا کر شام کی جانب روانہ فرمایا اور خود ان کے ساتھ پیدل چلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18149]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18150
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ عَلَى رُبْعٍ مِنَ الْأَرْبَاعِ، خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَهُ يُوصِيهِ، وَيَزِيدُ رَاكِبٌ وَأَبُو بَكْرٍ يَمْشِي، فَقَالَ يَزِيدُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ. فَقَالَ:" مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَمَا أَنَا بِرَاكِبٍ، إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، يَا يَزِيدُ إِنَّكُمْ سَتَقْدَمُونَ بِلَادًا تُؤْتَوْنَ فِيهَا بِأَصْنَافٍ مِنَ الطَّعَامِ، فَسَمُّوا اللهَ عَلَى أَوَّلِهَا، وَاحْمَدُوهُ عَلَى آخِرِهَا، وَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَقْوَامًا قَدْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ فِي هَذِهِ الصَّوَامِعِ فَاتْرُكُوهُمْ وَمَا حَبَسُوا لَهُ أَنْفُسَهُمْ، وَسَتَجِدُونَ أَقْوَامًا قَدِ اتَّخَذَ الشَّيْطَانُ عَلَى رُءُوسِهِمْ مَقَاعِدَ - يَعْنِي الشَّمَامِسَةَ - فَاضْرِبُوا تِلْكَ الْأَعْنَاقَ، وَلَا تَقْتُلُوا كَبِيرًا هَرِمًا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا وَلِيدًا، وَلَا تُخْرِبُوا عُمْرَانًا، وَلَا تَقْطَعُوا شَجَرَةً إِلَّا لِنَفْعٍ، وَلَا تَعْقِرُنَّ بَهِيمَةً إِلَّا لِنَفْعٍ، وَلَا تَحْرِقُنَّ نَخْلًا، وَلَا تُغَرِّقُنَّهُ، وَلَا تَغْدِرْ، وَلَا تُمَثِّلْ، وَلَا تَجْبُنْ، وَلَا تَغْلُلْ، {وَلِيَعْلَمَ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ} [الحديد: ٢٥] ، أَسْتَوْدِعُكَ اللهَ وَأُقْرِئُكَ السَّلَامَ". ثُمَّ انْصَرَفَ.
صالح بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو چار گروہوں میں سے ایک کا امیر بنا کر شام کی جانب بھیجا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وصیت کی غرض سے ان کے ساتھ پیدل چلے، جبکہ یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سوار تھے۔ یزید رضی اللہ عنہما نے کہا: اے خلیفہ رسول! یا تو آپ سوار ہو جائیں یا میں بھی نیچے اتر آتا ہوں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اترو نہ میں سوار ہوتا ہوں، میں تو اللہ کے راستے میں پیدل چلنے کی نیت کیے ہوئے ہوں۔ اے یزید! تم ایسے شہروں میں آؤ گے جن میں مختلف قسم کے کھانے ہوں گے، ابتدا میں اللہ کا نام لو اور آخر میں اللہ کی تعریف کرو، حمد بیان کرو۔ اور عنقریب تم ایسے لوگ بھی پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو معبد خانوں میں روک رکھا ہوگا، ان کو اور جس کام کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو روک رکھا ہے اسے چھوڑ دو۔ اور عنقریب تم ایسی قوم کو پاؤ گے کہ شیطان نے ان کے سروں پر اپنے بیٹھنے کی جگہیں بنا رکھی ہوں گی (یعنی شمامسہ: کنیسہ کے خادم)، ان کی گردنیں اڑا دو۔ کسی بوڑھے، عورت اور بچے کو قتل نہ کرنا، کسی آباد جگہ کو ویران نہ کرنا، درخت اور چوپائے کو فائدہ کے لیے کاٹنا، کھجور کے درختوں کو نہ جلانا اور نہ ڈبونا، دھوکا، مثلہ، بزدلی اور خیانت نہ کرنا۔ ﴿وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [سورة الحديد: 25] ”اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون بن دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بے شک اللہ قوت والا، غالب ہے۔“ میں تجھے «أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ» ”اللہ کے سپرد کرتا ہوں“ اور میری طرف سے سلام۔ پھر وہ چلے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18150]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18151
وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ لِي: هَلْ" تَدْرِي لِمَ فَرَّقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَمَرَ بِقَتْلِ الشَّمَامِسَةِ، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ الرُّهْبَانِ؟". فَقُلْتُ: لَا أُرَاهُ إِلَّا لِحَبْسِ هَؤُلَاءِ أَنْفُسَهُمْ. فَقَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّ الشَّمَامِسَةَ يَلْقَوْنَ الْقِتَالَ فَيُقَاتِلُونَ دُونَ الرُّهْبَانِ، وَإِنَّ الرُّهْبَانَ دَأْبُهُمْ أَنْ لَا يُقَاتِلُوا، وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ} [البقرة: ١٩٠] ".
ابن اسحاق، محمد بن جعفر بن زبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیوں تفریق کروائی کہ خادمِ کنیسہ جو کنیسہ پرور ہو، اسے قتل کرنے کا حکم دیا جبکہ راہب کے قتل سے منع فرمایا؟ کہتے ہیں: میرے خیال کے مطابق صرف انہوں نے اپنے آپ کو روک رکھا ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں! لیکن شماسمہ یہ لڑائی کی ابتدا کرواتے ہیں اور خود لڑائی کرتے ہیں اور راہب لوگوں کی رائے یہ ہوتی ہے کہ لڑائی نہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 190] ”اور تم اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے جہاد کرو جو تم سے لڑائی کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18151]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18152
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ، فَمَشَى مَعَهُ يُشَيِّعُهُ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ: إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَكُونَ مَاشِيًا وَأَنَا رَاكِبٌ. قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّكَ خَرَجْتَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنِّي أَحْتَسِبُ فِي مَشْيِي هَذَا مَعَكَ. ثُمَّ أَوْصَاهُ، فَقَالَ:" لَا تَقْتُلُوا صَبِيًّا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا شَيْخًا كَبِيرًا، وَلَا مَرِيضًا، وَلَا رَاهِبًا، وَلَا تَقْطَعُوا مُثْمِرًا، وَلَا تُخْرِبُوا عَامِرًا، وَلَا تَذْبَحُوا بَعِيرًا وَلَا بَقَرَةً إِلَّا لِمَأْكَلٍ، وَلَا تُغْرِقُوا نَخْلًا، وَلَا تُحْرِقُوهُ".
ابو عمران جونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو شام کی جانب روانہ کیا تو ان کے ساتھ پیدل چلے۔ یزید نے کہا: مجھے اچھا نہیں لگتا کہ آپ پیادہ ہوں اور میں سوار ہوں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ اللہ کے راستے میں غزوہ کے لیے جا رہے ہیں جبکہ میں پیادہ چلنے میں ثواب کی نیت کیے ہوئے ہوں۔ پھر ان کو وصیت فرمائی کہ بچے، عورت، بہت زیادہ بوڑھے، بیمار اور راہب کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا، آباد زمین کو ویران نہ کرنا، گائے اور اونٹ صرف کھانے کے لیے ذبح کرنا اور کھجور کے درختوں کو ڈبونا اور جلانا نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18152]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18153
وَقَدْ رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ ⦗١٥٤⦘ مُوسَى، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفِزْرِ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللهِ وَبِاللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ، لَا تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِيًا، وَلَا طِفْلًا، وَلَا صَغِيرًا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا تَغُلُّوا، وَضُمُّوا غَنَائِمَكُمْ، وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا، إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نام و نصرت کے ساتھ چلو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر کسی بزرگ بوڑھے، بچے، چھوٹے اور عورت کو قتل نہ کرو، خیانت نہ کرو اور مالِ غنیمت اکٹھا کرو، اصلاح کرو اور احسان کرو، ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ [سورة البقرة: 195] ”اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18153]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں