السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4105. -- باب:: من كان منكشف الكذب مظهره غير مستتر به، لم تجز شهادته
-- باب: جس کا جھوٹ ظاہر ہو چکا ہو، وہ اسے اعلانیہ بولتا ہو اور اس سے پردہ پوشی نہ کرتا ہو تو اس کی گواہی جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 20826
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" إِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ مُجَانِبٌ لِلْإِيمَانِ". هَذَا مَوْقُوفٌ، وَهُوَ الصَّحِيحُ، وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا.
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: ”تم جھوٹ سے بچو؛ کیونکہ جھوٹ ایمان سے دور کرتا ہے۔“
یہ موقوف ہے اور یہی صحیح ہے، اور یہ مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20826]
یہ موقوف ہے اور یہی صحیح ہے، اور یہ مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20826]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20827
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" الْمُسْلِمُ يُطْبَعُ عَلَى كُلِّ الطَّبِيعَةِ، غَيْرَ الْخِيَانَةِ وَالْكَذِبِ". هَذَا مَوْقُوفٌ، وَهُوَ الصَّحِيحُ، وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا.
مصعب بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مسلمان کی طبیعت میں ہر خصلت ہو سکتی ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔“
یہ موقوف ہے اور یہی صحیح ہے، اور یہ مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20827]
یہ موقوف ہے اور یہی صحیح ہے، اور یہ مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20827]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20828
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَفْصٍ الْوَكِيلُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ".
مصعب بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”مومن کی طبیعت میں جھوٹ اور خیانت کے علاوہ ہر خصلت ہو سکتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20828]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
4106. -- باب:: من جرب بشهادة زور لم تقبل شهادته
-- باب: جسے جھوٹی گواہی دینے میں آزمایا جا چکا ہو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20829
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَوْلُ الزُّورِ" أَوْ قَالَ:" شَهَادَةُ الزُّورِ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑا کبیرہ گناہ شرک، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی بات یا جھوٹی گواہی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20829]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20830
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ:" الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا مَجْلُودٌ فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبٌ فِي شَهَادَةِ زُورٍ، أَوْ ظَنِينٌ فِي وَلَاءٍ أَوْ قَرَابَةٍ".
ابو ملیح ہُذلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا، اس میں ہے کہ ”مسلمان ایک دوسرے کے حق میں عادل (معتبر گواہ) ہیں، سوائے اس کے جس کو حد میں کوڑے لگے ہوں، یا جس پر جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو، یا جو ولاء یا قرابت داری کے معاملے میں متہم ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20830]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 20283»
الحكم على الحديث: صحيح
4107. -- باب:: من يظن به الكذب، وله مخرج منه، لم يلزمه اسم كذاب
-- باب: جس پر جھوٹ کا گمان ہو، مگر اس کے پاس اس سے نکلنے کی تاویل (یا عذر) موجود ہو تو اس پر جھوٹے کا نام چسپاں نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 20831
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ الْكَاذِبُ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ مَعْمَرٍ.
حمید بن عبدالرحمن اپنی والدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے، جو ابتدائی مہاجرین میں سے ہیں، نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”وہ انسان جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے، وہ بھلائی کی بات کہتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20831]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20832
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ كُلْثُومِ بِنْتَ عُقْبَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَنْمِي خَيْرًا أَوْ يَقُولُ خَيْرًا"، وَقَالَتْ: لَمْ أَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: فِي الْحَرْبِ، وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ، وَحَدِيثِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ، وَحَدِيثِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا، قَالَ: وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومِ بِنْتُ عُقْبَةَ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ مُخْتَصَرًا، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، عَنْ يَعْقُوبَ بِتَمَامِهِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ إِلَى قَوْلِهِ:" وَيَنْمِي خَيْرًا" ثُمَّ جَعَلَ الْبَاقِيَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ.
حمید بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”وہ آدمی جھوٹا نہیں ہوتا جو بھلائی کو آگے پھیلاتا ہے یا بھلائی کی بات کرتا ہے۔“ اور وہ بیان کرتی ہیں کہ جھوٹ کی اجازت صرف تین مواقع میں ملتی ہے: 1 لڑائی میں، 2 لوگوں کے درمیان صلح کروانے میں، 3 عورت کا اپنے خاوند اور خاوند کا اپنی عورت کے لیے۔ ام کلثوم رضی اللہ عنہا ابتدائی مہاجرین میں سے ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20832]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20833
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ، قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخِّصُ ⦗٣٣٤⦘ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكَذِبِ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا أَعُدُّهُ كَاذِبًا: الرَّجُلُ يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ يَقُولُ الْقَوْلَ لَا يُرِيدُ بِهِ إِلَّا الْإِصْلَاحَ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ الْقَوْلَ فِي الْحَرْبِ، وَالرَّجُلُ يُحَدِّثُ امْرَأَتَهُ، وَالْمَرْأَةُ تُحَدِّثُ زَوْجَهَا". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ.
حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ اپنی والدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف تین موقعوں پر جھوٹ کی اجازت دیتے تھے اور فرماتے تھے: ”میں اس کو جھوٹ شمار نہیں کرتا: 1 لوگوں کے درمیان صلح کروانے والا جو صرف اصلاح کا ارادہ رکھتا ہے۔ 2 لڑائی کے موقع پر 3 عورت کا خاوند کے لیے یا خاوند کا اپنی بیوی کے لیے کچھ بیان کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20833]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20834
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَا: ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ لَمْ يَكْذِبْ قَطُّ إِلَّا ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ: قَوْلُهُ فِي آلِهَتِهِمْ: {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} [الأنبياء: ٦٣] وَقَوْلُهُ حِينَ دَعَوْهُ إِلَى أَنْ يُحَاجَّ آلِهَتَهُمْ: {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: ٨٩] وَقَوْلُهُ لِسَارَةَ:" أُخْتِي". هَذَا حَدِيثٌ ثَابِتٌ قَدْ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَوْلُهُ: {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ} [الأنبياء: ٦٣] هَذَا خَرَجَ مَخْرَجَ التَّقْرِيعِ وَالْبَيَانِ أَنَّ آلِهَتَهُمْ لَا صُنْعَ لَهَا، وَقَوْلُهُ: {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: ٨٩] عَلَى مَعْنَى أَنَّهُ سَيَسْقَمُ، وَقَوْلُهُ لِسَارَةَ:" أُخْتِي"، عَلَى مَعْنَى أُخُوَّةِ الْإِسْلَامِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے: 1: ان کے معبودوں کے بارے میں فرمایا: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ [سورة الأنبياء: 63] ”بلکہ ان کے بڑے نے کیا ہے۔“ 2: جس وقت انہوں نے ان کو اپنے معبودوں کی طرف دعوت دی تو فرمانے لگے: ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ [سورة الصافات: 89] ”میں بیمار ہوں۔“ 3: سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہا۔“
یہ حدیث ثابت ہے۔ اور ان کا قول: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ [سورة الأنبياء: 63] ”بلکہ ان کے بڑے نے کیا ہے۔“ ڈانٹ کے طور پر اور یہ واضح کرنے کے لیے تھا کہ ان کے معبود کچھ بنا نہیں سکتے۔ (اور ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ [سورة الصافات: 89] کا معنی کہ وہ عنقریب بیمار ہو جائیں گے، سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو بہن قرار دیا تو وہ اسلامی رشتہ تھا۔) واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20834]
یہ حدیث ثابت ہے۔ اور ان کا قول: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ [سورة الأنبياء: 63] ”بلکہ ان کے بڑے نے کیا ہے۔“ ڈانٹ کے طور پر اور یہ واضح کرنے کے لیے تھا کہ ان کے معبود کچھ بنا نہیں سکتے۔ (اور ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ [سورة الصافات: 89] کا معنی کہ وہ عنقریب بیمار ہو جائیں گے، سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو بہن قرار دیا تو وہ اسلامی رشتہ تھا۔) واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20834]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
4108. -- باب:: من وعد غيره شيئا، ومن نيته أن يفي به، ثم وفى به، أو لم يف به لعذر، ومن وعد ومن نيته أن لا يفي به
-- باب: جس شخص نے کسی سے کسی چیز کا وعدہ کیا اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی ہو، پھر اس نے اسے پورا کر دیا یا کسی عذر کے باعث پورا نہ کر سکا، اور جس نے وعدہ کیا اور اس کی نیت اسے پورا نہ کرنے کی تھی۔
حدیث نمبر: 20835
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ بِبَغْدَادَ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْحَمْسَاءِ، قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَقِيَتْ لَهُ بَقِيَّةٌ، فَوَعَدْتُهُ أَنْ آتِيَهُ بِهَا فِي مَكَانِهِ ذَلِكَ، قَالَ: فَنَسِيتُهُ يَوْمِي ذَاكَ، وَالْغَدَ، فَأَتَيْتُهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ وَهُوَ فِي مَكَانِهِ، فَقَالَ لِي:" يَا فَتًى، لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ، أَنَا هَهُنَا مِنْ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ". هَكَذَا قَالَ فِي عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِيهِ.
سیدنا عبداللہ بن ابی حمساء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خرید و فروخت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ (مال) میرے ذمے باقی رہ گیا، میں نے وعدہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پر رہیں، میں ابھی (لے کر) آتا ہوں۔ کہتے ہیں: میں دو دن مسلسل بھول گیا اور تیسرے دن آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوان! تو نے میرے اوپر مشقت ڈالی، میں تین دن سے تیرا انتظار کر رہا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20835]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف