🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4202. -- باب:: الولاء للكبر من عصبة المعتق، وهو الأقرب فالأقرب منهم بالمعتق، إذا كان قد مات المعتق.
-- باب: آزاد کرنے والے کے عصبہ (رشتہ داروں) میں سے جو سب سے بڑا (اور قریبی) ہو ولاء اسی کا حق ہے، یعنی آزاد کرنے والے کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے زیادہ قریب ہو پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو، جبکہ آزاد کرنے والا فوت ہو چکا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21497
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنِ النَّخَعِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا، وَزَيْدًا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا فِي رَجُلٍ تَرَكَ أَخًا لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ وَأَخًا لِأَبِيهِ، فَجَعَلَا الْوَلَاءَ لِأَخِيهِ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَإِنْ مَاتَ الْأَخُ مِنْ أَبٍ رَجَعَ الْوَلَاءُ إِلَى بَنِي الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ".
(٢١٤٩٧) نخعی فرماتے ہیں کہ حضرت علی اور زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ آدمی جس نے حقیقی اور باپ کی جانب سے بھائی کو چھوڑا تو ولاء کا فیصلہ حقیقی بھائی کے لیے کیا جاتا ہے۔ اگر باپ کی جانب سے بھائی فوت ہوجائے تو ولاء کا تعلق پھر بھی حقیقی بھائی کے ساتھ ہی رہے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21497]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21498
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا أَعْتَقَتِ الْمَرْأَةُ عَبْدًا، أَوْ أَمَةً فَهَلَكَتْ وَتَرَكَتْ وَلَدًا ذَكَرًا فَوَلَاءُ ذَلِكَ الْمَوْلَى لِوَلَدِهَا مَا كَانُوا ذُكُورًا، فَإِذَا انْقَطَعَتِ الذُّكُورُ رَجَعَ الْوَلَاءُ إِلَى أَوْلِيَائِهَا". وَقَالَ شُرَيْحٌ:" يَمْضِي الْوَلَاءُ عَلَى وَجْهِهِ كَمَا يَمْضِي الْمِيرَاثُ، وَلَكِنْ لَا يُورَّثُ الْوَلَاءَ أُنْثَى إِلَّا شَيْئًا أَعْتَقَتْهُ"..
(٢١٤٩٨) شعبی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب عورت غلام یا لونڈی کو آزاد کرے، وہ ہلاک ہوجائے اور چھوڑے تو ولاء غلام کے بچوں کے لیے محفوظ ہے جو مذکر ہیں۔ اولاد اگر مذکرنہ ہوں تو وراثت اولیاء کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21498]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21499
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَاخْتَصَمَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ جُهَيْنَةَ، وَنَفَرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ كُلَيْبٍ، فَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ، وَتَرَكَتْ مَالًا وَمَوَالِيَ، فَوَرِثَهَا ابْنُهَا وَزَوْجُهَا، ثُمَّ مَاتَ ابْنُهَا فَقَالَ وَرَثَةُ ابْنِهَا: لَنَا وَلَاءُ الْمَوَالِي، قَدْ كَانَ ابْنُهَا أَحْرَزَهُ، قَالَ الْجُهَنِيُّونَ: لَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّمَا هُمْ مَوَالِي صَاحِبَتِنَا، فَإِذَا مَاتَ وَلَدُهَا فَلَنَا وَلَاؤُهُمْ وَنَحْنُ نَرِثُهُمْ، فَقَضَى أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ لِلْجُهَنِيِّينَ بِوَلَاءِ الْمَوَالِي..
(٢١٤٩٩) عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ وہ ابان بن عثمان بن عفان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان کے پاس جہینہ اور بنو حارث بن خزرج کے گروہوں کا جھگڑا آگیا۔ جہینہ قبیلہ کی عورت بنو حارث بن خزرج کے ایک شخص کے نکاح میں تھیجس کا نام ابراہیم بن کلیب تھا، وہ عورت فوت ہوگئی۔ اس نے مال اور غلام چھوڑے تو اس کے ورثاء میں سے ایک بیٹا اور خاوند تھے۔ پھر اس کا بیٹا بھی فوت ہوگیا، فرماتے ہیں: اس کے بیٹے کی وراثت، ہمارے لیے اور غلاموں کی ولاء کا تعلق، اس کے بیٹے نے اس کو محفوظ کیا گیا ہوا تھا۔ جہینی کہنے لگے: اس طرح نہیں، بلکہ اس کے غلام جب اس کا بچہ فوت ہوگیا ان کی ولاء ہمارے پاس ہے، ہم ان کے وارث ہے تو ابان بن عثمان نے بھی جہینی اور خزرجی کے درمیان اس طرح فیصلہ کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21499]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21500
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ فِي رَجُلٍ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنِينَ ثَلَاثَةً، وَتَرَكَ مَوَالِيَ أَعْتَقَهُمْ هُوَ عَتَاقَةً، ثُمَّ إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِيهِ هَلَكَا وَتَرَكَا وَلَدًا، قَالَ سَعِيدٌ:" يَرِثُ الْمَوَالِي الْبَاقِيَ مِنَ الثَّلَاثَةِ، فَإِذَا هَلَكَ فَوَلَدُهُ وَوَلَدَا إِخْوَتِهِ فِي الْمَوَالِي شَرْعًا سَوَاءٌ". وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، يُؤَكِّدُ مَا مَضَى مِنَ الْآثَارِ..
(٢١٥٠٠) امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کو خبر ملی کہ سعید بن مسیب نے ایک آدمی کے بارے میں کہا جو ہلاک ہوگیا اور اس نے تین بیٹے اور غلام چھوڑے، ان کو آزاد کردیا، پھر دو آدمی اس کی اولاد میں سے (یعنی بیٹے) ہلاک ہوگئے اور ایک بچہ چھوڑا۔ سعید کہتے ہیں کہ وہ باقی ماندہ غلاموں کا وارث ہوگا، جب وہ ہلاک ہوجائے، اس کی اولاد اور اس کے بھائیوں کی اولاد غلاموں میں شرعاً مشترک ہوں گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21500]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ ثنا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، ثنا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ ⦗٥١٢⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيِّ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَوْلَى أَخٌ فِي الدِّينِ، وَنِعْمَةٌ، وَأَحَقُّ النَّاسِ بِمِيرَاثِهِ أَقْرَبُهُمْ مِنَ الْمُعْتِقِ".
(٢١٥٠١) زہری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آزاد کردہ غلام دینی بھائی ہے اور نعمت ہے۔ لوگوں میں سے سب سے زیادہ وراثت کا حق دار وہ ہے آزاد کرنے والے کا قریبی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21501]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4203. -- باب:: من قال: من أحرز الميراث أحرز الولاء.
-- باب: جس نے کہا: ”جو وراثت کا حق دار بنا، وہی ولاء کا حق دار بنے گا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21502
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رِئَابَ بْنَ حُذَيْفَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَوَلَدَتْ لَهُ ثَلَاثَةَ أَغْلِمَةٍ، فَمَاتَتْ أُمُّهُمْ، فَوَرِثُوا رِبَاعَهَا وَوَلَاءَ مَوَالِيهَا، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَصَبَةَ بَنِيهَا، فَأَخْرَجَهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَمَاتُوا، فَقَدِمَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَمَاتَ مَوْلًى لَهَا، وَتَرَكَ مَالًا، فَخَاصَمَهُ إِخْوَتُهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ أَوِ الْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ"، قَالَ: فَكَتَبْتُ لَهُ كِتَابًا فِيهِ شَهَادَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَرَجُلٍ آخَرَ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ اخْتَصَمُوا إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ أَوْ إِلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ هِشَامٍ، فَرَفَعَهُمْ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ، فَقَالَ: هَذَا مِنَ الْقَضَاءِ الَّذِي مَا كُنْتُ أَرَاهُ، قَالَ: فَقَضَى لَنَا بِكِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَنَحْنُ فِيهِ إِلَى السَّاعَةِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَقَدْ رُوِّينَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَإِنَّهُمَا قَالَا:" الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ". وَمُرْسَلُ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ⦗٥١٣⦘ وَأَمَّا الْحَدِيثُ الْمَرْفُوعُ فِيهِ، فَلَيْسَ فِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ فِي الْوَلَاءِ..
(٢١٥٠٢) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سینقل فرماتے ہیں کہ رتاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی۔ اس کے ہاں تین بچے پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ فوت ہوگئی، وہ چاروں اس کے اور غلاموں کی ولاء کے وارث ہوئے اور عمرو بن عاص اس کے بیٹوں کے عصبہ تھے۔ وہ ان کو شام لے کر گئے جہاں وہ فوت ہوگئے۔ عمرو بن عاص آئے تو اس عورت کا غلام بھی فوت ہوگیا۔ اس نے مال چھوڑا۔ اس کے بھائی جھگڑا لے کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بچہ یا باپ مال محفوظ رکھے، وہ اس کے عصبات کے لیے ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ایک خط لکھا جس میں عبدالرحمن بن عوف، زید بن ثابت اور ایک دوسرے آدمی کی شہادت تھی۔ جب عبدالملک خلیفہ بنا تو انھوں نے اپنا کیس ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے سامنے رکھا تو وہ کیس عبدالملک کے پاس لے گئے۔ کہنے لگے: یہ فیصلہ ہے جو سمجھ کے مطابق ہے، کہتے ہیں: انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خط کے مطابق فیصلہ فرمایا اور آج تک ہم بھی اس پر ہیں۔
(ب) سعید بن مسیب حضرت عمر بن خطاب، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دونوں سے نقل فرماتے ہیں کہ ولاء کا تعلق بڑی عمر سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21502]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21503
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشَرِيكٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" الْوَلَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ النَّسَبِ، فَمَنْ أَحْرَزَ الْمِيرَاثَ فَقَدْ أَحْرَزَ الْوَلَاءَ". كَذَا وَجَدْتُهُ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَهُوَ خَطَأٌ، وَكَأَنَّ يَزِيدَ حَمَلَ رِوَايَةَ الثَّوْرِيِّ عَلَى رِوَايَةِ شَرِيكٍ، وَشَرِيكٌ وَهِمَ فِيهِ، أَوْ وَهِمَ فِيهِ يَزِيدُ، فَمَنْ دُونَهُ..
(٢١٥٠٣) عبداللہ بن معقل فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا، فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی شاخ ہی ہے، جس نے میراث کو محفوظ کرلیا اس نے ولاء کو بھی محفوظ کرلیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21503]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21504
وَإِنَّمَا لَفْظُ الْحَدِيثِ كَمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" الْوَلَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الرِّقِّ، مَنْ أَحْرَزَ الْوَلَاءَ أَحْرَزَ الْمِيرَاثَ". هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِسْعَرٌ، عَنْ عِمْرَانَ، وَإِنَّمَا مَعْنَاهُ: مَنْ كَانَ لَهُ الْوَلَاءُ كَانَ لَهُ الْمِيرَاثُ بِالْوَلَاءِ..
(٢١٥٠٤) عبداللہ بن معقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ولاء غلامی کی ایک شاخ ہے، جس نے ولاء کی حفاظت کی اس نے میراث کی بھی حفاظت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21504]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21505
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" يَحُوزُ الْوَلَاءَ الَّذِي يَحُوزُ الْمِيرَاثَ". وَهَذَا يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ أَنَّ الَّذِي يَحُوزُ الْمِيرَاثَ وَهُوَ الْعَصَبَةُ الَّذِي يَأْخُذُ جَمِيعَ الْمِيرَاثِ، هُوَ الَّذِي يَأْخُذُ بِالْوَلَاءِ دُونَ أَصْحَابِ الْفُرُوضِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
(٢١٥٠٥) عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ زبیر بن عوام کہتے ہیں: ولاء کو وہی شخص اکٹھا کرتا ہے جو میراث کو جمع کرتا ہے۔
یعوز المیراث سے مراد وہ عصبہ ہے جو اصحاب الفروض کے بعد سارا مال لے جاتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21505]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21506
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: خَاصَمَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي مِيرَاثِ مَوْلًى لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَضَى بِمِيرَاثِهِ لِابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخُو عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ⦗٥١٤⦘ لِأُمِّهَا وَأَبِيهَا، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَخُوهَا لِأَبِيهَا دُونَ أُمِّهَا، فَقَضَى بِهِ لِابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لِأَنَّ عَبْدَ اللهِ مَاتَ بَعْدَ عَائِشَةَ، فَأَحْرَزَ ابْنُهُ مَا كَانَ أَحْرَزَ أَبُوهُ مِنَ الْوَلَاءِ.. وَمَنْ قَالَ: الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ جَعَلَهُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَقَدْ رُوِيَ، عَنِ الْقَاسِمِ أَنَّهُ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ..
(٢١٥٠٦) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کے بیٹے نے قاسم بن محمد سے جھگڑا کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام کی وراثت کے بارے میں تو ابن زبیر نے فیصلہ عبداللہ بن عبدالرحمن کے حق میں کردیا۔ عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا حقیقی بھائی تھا اور محمد بن ابی بکر باپ کی جانب سے بھائی تھے، ماں کی طرف نہیں تو فیصلہ عبداللہ بن عبدالرحمن کے لیے ہوا۔ اس لیے کہ عبداللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے بعد فوت ہوئے تو اس کے بیٹے نے محفوظ رکھا جو اس کے باپ نے ولاء سے محفوظ رکھا تھا۔ جس نے کہا کہ ولاء بڑے کے لیے ہے تو اس نے قاسم بن محمد کے لیے مقرر کی۔ قاسم بن محمد نے ابن زبیر کے اس فیصلہ کو رد کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21506]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں