🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4202. -- باب:: الولاء للكبر من عصبة المعتق، وهو الأقرب فالأقرب منهم بالمعتق، إذا كان قد مات المعتق.
-- باب: آزاد کرنے والے کے عصبہ (رشتہ داروں) میں سے جو سب سے بڑا (اور قریبی) ہو ولاء اسی کا حق ہے، یعنی آزاد کرنے والے کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے زیادہ قریب ہو پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو، جبکہ آزاد کرنے والا فوت ہو چکا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21497
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنِ النَّخَعِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا، وَزَيْدًا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا فِي رَجُلٍ تَرَكَ أَخًا لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ وَأَخًا لِأَبِيهِ، فَجَعَلَا الْوَلَاءَ لِأَخِيهِ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَإِنْ مَاتَ الْأَخُ مِنْ أَبٍ رَجَعَ الْوَلَاءُ إِلَى بَنِي الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ".
نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ آدمی جس نے حقیقی اور باپ کی جانب سے بھائی کو چھوڑا تو ولاء کا فیصلہ حقیقی بھائی کے لیے کیا جاتا ہے۔ اگر باپ کی جانب سے بھائی فوت ہو جائے تو ولاء حقیقی بھائی کے بیٹوں کی طرف لوٹ جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21497]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21498
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا أَعْتَقَتِ الْمَرْأَةُ عَبْدًا، أَوْ أَمَةً فَهَلَكَتْ وَتَرَكَتْ وَلَدًا ذَكَرًا فَوَلَاءُ ذَلِكَ الْمَوْلَى لِوَلَدِهَا مَا كَانُوا ذُكُورًا، فَإِذَا انْقَطَعَتِ الذُّكُورُ رَجَعَ الْوَلَاءُ إِلَى أَوْلِيَائِهَا". وَقَالَ شُرَيْحٌ:" يَمْضِي الْوَلَاءُ عَلَى وَجْهِهِ كَمَا يَمْضِي الْمِيرَاثُ، وَلَكِنْ لَا يُورَّثُ الْوَلَاءَ أُنْثَى إِلَّا شَيْئًا أَعْتَقَتْهُ"..
شعبی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب عورت غلام یا لونڈی کو آزاد کرے، پھر وہ (عورت) فوت ہو جائے اور نرینہ اولاد چھوڑے تو اس آزاد کردہ کی ولاء اس عورت کی اولاد کے لیے ہے جب تک وہ مذکر ہوں۔ جب مذکر اولاد ختم ہو جائے تو ولاء اس عورت کے اولیاء (عصبہ) کی طرف لوٹ جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21498]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21499
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَاخْتَصَمَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ جُهَيْنَةَ، وَنَفَرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ كُلَيْبٍ، فَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ، وَتَرَكَتْ مَالًا وَمَوَالِيَ، فَوَرِثَهَا ابْنُهَا وَزَوْجُهَا، ثُمَّ مَاتَ ابْنُهَا فَقَالَ وَرَثَةُ ابْنِهَا: لَنَا وَلَاءُ الْمَوَالِي، قَدْ كَانَ ابْنُهَا أَحْرَزَهُ، قَالَ الْجُهَنِيُّونَ: لَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّمَا هُمْ مَوَالِي صَاحِبَتِنَا، فَإِذَا مَاتَ وَلَدُهَا فَلَنَا وَلَاؤُهُمْ وَنَحْنُ نَرِثُهُمْ، فَقَضَى أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ لِلْجُهَنِيِّينَ بِوَلَاءِ الْمَوَالِي..
عبداللہ بن ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ وہ ابان بن عثمان بن عفان رحمہ اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان کے پاس جہینہ اور بنو حارث بن خزرج کے گروہوں کا جھگڑا آگیا۔ جہینہ قبیلہ کی عورت بنو حارث بن خزرج کے ایک شخص کے نکاح میں تھی، جس کا نام ابراہیم بن کلیب تھا، وہ عورت فوت ہوگئی۔ اس نے مال اور غلام چھوڑے تو اس کے ورثاء میں سے ایک بیٹا اور خاوند تھے۔ پھر اس کا بیٹا بھی فوت ہوگیا تو اس کے بیٹے کے ورثاء نے کہا: غلاموں کی «الْوَلَاءُ» ”ولاء“ ہماری ہے، اس کے بیٹے نے اسے محفوظ کر لیا تھا۔ جہینی کہنے لگے: اس طرح نہیں، بلکہ یہ ہماری عورت کے آزاد کردہ غلام ہیں، جب اس کا بچہ فوت ہوگیا تو ان کی «الْوَلَاءُ» ”ولاء“ ہمارے لیے ہے، ہم ان کے وارث ہیں؛ تو ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے غلاموں کی ولاء کا فیصلہ جہینیوں کے حق میں کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21499]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21500
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ فِي رَجُلٍ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنِينَ ثَلَاثَةً، وَتَرَكَ مَوَالِيَ أَعْتَقَهُمْ هُوَ عَتَاقَةً، ثُمَّ إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِيهِ هَلَكَا وَتَرَكَا وَلَدًا، قَالَ سَعِيدٌ:" يَرِثُ الْمَوَالِي الْبَاقِيَ مِنَ الثَّلَاثَةِ، فَإِذَا هَلَكَ فَوَلَدُهُ وَوَلَدَا إِخْوَتِهِ فِي الْمَوَالِي شَرْعًا سَوَاءٌ". وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، يُؤَكِّدُ مَا مَضَى مِنَ الْآثَارِ..
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو خبر ملی کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ایک آدمی کے بارے میں کہا جو فوت ہو گیا اور اس نے تین بیٹے اور غلام چھوڑے، جن کو اس نے آزاد کر دیا تھا، پھر اس کی اولاد میں سے دو آدمی (یعنی بیٹے) فوت ہو گئے اور ایک بچہ چھوڑا۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ باقی ماندہ (بیٹا) ان غلاموں کا وارث ہو گا، پھر جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی اولاد اور اس کے بھائیوں کی اولاد ان غلاموں میں شرعاً مشترک ہوں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21500]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ ثنا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، ثنا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ ⦗٥١٢⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيِّ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَوْلَى أَخٌ فِي الدِّينِ، وَنِعْمَةٌ، وَأَحَقُّ النَّاسِ بِمِيرَاثِهِ أَقْرَبُهُمْ مِنَ الْمُعْتِقِ".
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آزاد کردہ غلام دینی بھائی ہے اور نعمت ہے۔ لوگوں میں سے سب سے زیادہ وراثت کا حق دار وہ ہے جو آزاد کرنے والے کا قریبی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21501]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4203. -- باب:: من قال: من أحرز الميراث أحرز الولاء.
-- باب: جس نے کہا: ”جو وراثت کا حق دار بنا، وہی ولاء کا حق دار بنے گا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21502
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رِئَابَ بْنَ حُذَيْفَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَوَلَدَتْ لَهُ ثَلَاثَةَ أَغْلِمَةٍ، فَمَاتَتْ أُمُّهُمْ، فَوَرِثُوا رِبَاعَهَا وَوَلَاءَ مَوَالِيهَا، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَصَبَةَ بَنِيهَا، فَأَخْرَجَهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَمَاتُوا، فَقَدِمَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَمَاتَ مَوْلًى لَهَا، وَتَرَكَ مَالًا، فَخَاصَمَهُ إِخْوَتُهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ أَوِ الْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ"، قَالَ: فَكَتَبْتُ لَهُ كِتَابًا فِيهِ شَهَادَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَرَجُلٍ آخَرَ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ اخْتَصَمُوا إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ أَوْ إِلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ هِشَامٍ، فَرَفَعَهُمْ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ، فَقَالَ: هَذَا مِنَ الْقَضَاءِ الَّذِي مَا كُنْتُ أَرَاهُ، قَالَ: فَقَضَى لَنَا بِكِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَنَحْنُ فِيهِ إِلَى السَّاعَةِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَقَدْ رُوِّينَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَإِنَّهُمَا قَالَا:" الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ". وَمُرْسَلُ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ⦗٥١٣⦘ وَأَمَّا الْحَدِيثُ الْمَرْفُوعُ فِيهِ، فَلَيْسَ فِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ فِي الْوَلَاءِ..
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی۔ اس کے ہاں تین بچے پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ فوت ہو گئی، وہ (تینوں) اس کے گھروں اور اس کے غلاموں کی ولاء کے وارث ہوئے اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اس کے بیٹوں کے عصبہ تھے۔ وہ ان کو شام لے کر گئے جہاں وہ فوت ہو گئے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ آئے تو اس عورت کا غلام بھی فوت ہو گیا۔ اس نے مال چھوڑا۔ اس کے بھائی جھگڑا لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بچہ یا باپ مال محفوظ رکھے، وہ اس کے عصبات کے لیے ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ایک خط لکھا جس میں عبدالرحمن بن عوف اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک دوسرے آدمی کی شہادت تھی۔ جب عبدالملک خلیفہ بنا تو انہوں نے اپنا کیس ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے سامنے رکھا تو وہ کیس عبدالملک کے پاس لے گئے۔ کہنے لگے: یہ ایسا فیصلہ ہے جو میری رائے میں نہ تھا، کہتے ہیں: انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خط کے مطابق فیصلہ فرمایا اور آج تک ہم بھی اس پر ہیں۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں اسی طرح ہے، جبکہ ہم نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما دونوں نے فرمایا: ولاء بڑے کے لیے ہے۔ اور ابن مسیب کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت عمرو بن شعیب کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، اور جہاں تک اس بارے میں مرفوع حدیث کا تعلق ہے تو اس میں یہ نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ولاء کے بارے میں فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21502]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21503
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشَرِيكٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" الْوَلَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ النَّسَبِ، فَمَنْ أَحْرَزَ الْمِيرَاثَ فَقَدْ أَحْرَزَ الْوَلَاءَ". كَذَا وَجَدْتُهُ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَهُوَ خَطَأٌ، وَكَأَنَّ يَزِيدَ حَمَلَ رِوَايَةَ الثَّوْرِيِّ عَلَى رِوَايَةِ شَرِيكٍ، وَشَرِيكٌ وَهِمَ فِيهِ، أَوْ وَهِمَ فِيهِ يَزِيدُ، فَمَنْ دُونَهُ..
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی شاخ ہی ہے، جس نے میراث کو محفوظ کرلیا اس نے ولاء کو بھی محفوظ کرلیا۔
میں نے اس روایت میں اسی طرح پایا ہے، اور یہ غلطی ہے۔ گویا یزید نے ثوری کی روایت کو شریک کی روایت پر محمول کر دیا، اور اس میں شریک کو وہم ہوا، یا یزید یا اس سے نیچے کسی راوی کو وہم ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21503]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21504
وَإِنَّمَا لَفْظُ الْحَدِيثِ كَمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" الْوَلَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الرِّقِّ، مَنْ أَحْرَزَ الْوَلَاءَ أَحْرَزَ الْمِيرَاثَ". هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِسْعَرٌ، عَنْ عِمْرَانَ، وَإِنَّمَا مَعْنَاهُ: مَنْ كَانَ لَهُ الْوَلَاءُ كَانَ لَهُ الْمِيرَاثُ بِالْوَلَاءِ..
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ولاء غلامی کی ایک شاخ ہے، جس نے ولاء کی حفاظت کی اس نے میراث کی بھی حفاظت۔“
یہی صحیح ہے، اور مسعر نے بھی عمران سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس کے لیے ولاء ہو، ولاء کی بنا پر میراث بھی اسی کی ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21504]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21505
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" يَحُوزُ الْوَلَاءَ الَّذِي يَحُوزُ الْمِيرَاثَ". وَهَذَا يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ أَنَّ الَّذِي يَحُوزُ الْمِيرَاثَ وَهُوَ الْعَصَبَةُ الَّذِي يَأْخُذُ جَمِيعَ الْمِيرَاثِ، هُوَ الَّذِي يَأْخُذُ بِالْوَلَاءِ دُونَ أَصْحَابِ الْفُرُوضِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ولاء کو وہی شخص اکٹھا کرتا ہے جو میراث کو جمع کرتا ہے۔
«يَحُوزُ الْمِيرَاثَ» سے مراد وہ عصبہ ہے جو اصحاب الفروض کے بعد سارا مال لے جاتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21505]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21506
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: خَاصَمَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي مِيرَاثِ مَوْلًى لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَضَى بِمِيرَاثِهِ لِابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخُو عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ⦗٥١٤⦘ لِأُمِّهَا وَأَبِيهَا، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَخُوهَا لِأَبِيهَا دُونَ أُمِّهَا، فَقَضَى بِهِ لِابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لِأَنَّ عَبْدَ اللهِ مَاتَ بَعْدَ عَائِشَةَ، فَأَحْرَزَ ابْنُهُ مَا كَانَ أَحْرَزَ أَبُوهُ مِنَ الْوَلَاءِ.. وَمَنْ قَالَ: الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ جَعَلَهُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَقَدْ رُوِيَ، عَنِ الْقَاسِمِ أَنَّهُ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ..
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کے بیٹے نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام کی وراثت کے بارے میں جھگڑا کیا، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فیصلہ عبداللہ بن عبدالرحمن کے بیٹے کے حق میں کر دیا۔ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حقیقی بھائی تھے اور محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ باپ کی جانب سے بھائی تھے، ماں کی طرف سے نہیں، تو فیصلہ عبداللہ بن عبدالرحمن کے بیٹے کے لیے ہوا۔ اس لیے کہ عبداللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد فوت ہوئے تو اس کے بیٹے نے محفوظ رکھا جو اس کے باپ نے ولاء سے محفوظ رکھا تھا۔ جس نے کہا کہ ولاء بڑے کے لیے ہے تو اس نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ کے لیے مقرر کی۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے اس فیصلے کو رد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21506]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں