السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4198. -- باب:: المسلم يعتق نصرانيا أو النصراني يعتق مسلما
-- باب: مسلمان کسی نصرانی کو آزاد کرے یا نصرانی کسی مسلمان کو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: Q21469
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَالْوَلَاءُ ثَابِتٌ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ"..
امام شافعی (رح) نے فرمایا: دونوں کے لیے ولاء ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: Q21469]
حدیث نمبر: 21469
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي عُمَرَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" لَمْ يَخُصَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا مِنْهُمَا دُونَ الْآخَرِ، وَإِنْ مَاتَ الْمُعْتِقُ لَمْ يَرِثْهُ مَوْلَاهُ بِاخْتِلَافِ الدِّينَيْنِ"..
(٢١٤٦٩) اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بریرہ کے قصہ کے بارے میں فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ خرید لیں ولاء تو آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تخصیص نہیں کی۔ اگر آزاد کرنے والا مرجائے تو یہ غلام اس کا وارث نہ ہوگا، دین کے اختلاف کی وجہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21469]
امام شافعی (رح) نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تخصیص نہیں کی۔ اگر آزاد کرنے والا مرجائے تو یہ غلام اس کا وارث نہ ہوگا، دین کے اختلاف کی وجہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21469]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21470
وَاحْتَجَّ بِمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَرِثُ الْكَافِرَ، وَأَنَّ الْكَافِرَ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
(٢١٤٧٠) اسامہ بن زید فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ان کو خبر ملی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلم کافر کا وارث نہ ہوگا اور کافر مسلم کا وارث نہ ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21470]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21471
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ نَصْرَانِيًّا، فَتُوُفِّيَ، فَقَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَأَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ آخُذَ مِيرَاثَهُ، فَأَجْعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ..
(٢١٤٧١) اسماعیل بن ابی حکیم فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک عیسائی غلام آزاد کیا۔ وہ فوت ہوگیا، اسماعیل کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھے حکم دیا کہ اس کی میراث لے کر بیت المال میں جمع کروا دو۔
(٨) باب مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا لَہُ سَائِبَۃً
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَالْعِتْقُ مَاضٍ وَلَہُ وَلاَؤُہُ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21471]
(٨) باب مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا لَہُ سَائِبَۃً
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَالْعِتْقُ مَاضٍ وَلَہُ وَلاَؤُہُ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21471]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21472
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ وَابْنُ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ ⦗٥٠٥⦘ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا، فَذَكَرْتَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ، شَرْطُ اللهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
(٢١٤٧٢) عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ بریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اپنی مکاتبت میں مدد چاہی۔ ابھی تک اس نے کچھ ادا بھی نہ کیا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ جاؤ اگر وہ پسند کریں تو میں تمہاری کاتبت ادا کردیتی ہوں اور ولاء میرے لیے ہوگی تو بریرہ نے ذکر کیا لیکن انھوں نے اس سے انکار کردیا اور کہا: اگر وہ ثواب چاہتی ہیں تو یہ کام کریں، لیکن ولاء ہمارے لیے ہوگی۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خریدو اور آزاد کرو ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں! جس نے ایسی شرط لگائی جو اللہ کی کتاب میں نہیں، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اگرچہ وہ سو شرطیں بھی لگائیں، اللہ کی شرائط وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21472]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21473
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: إِنِّي أَعْتَقْتُ غُلَامًا لِي، وَجَعَلْتُهُ سَائِبَةً، فَمَاتَ وَتَرَكَ مَالًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" إِنَّ أَهْلَ الْإِسْلَامِ لَا يُسَيِّبُونَ، إِنَّمَا كَانَتْ تُسَيِّبُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَنْتَ وَارِثُهُ وَوَلِيُّ نِعْمَتِهِ، فَإِنْ تَحَرَّجْتَ مِنْ شَيْءٍ، فَأَدِّنَاهُ نَجْعَلْهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا، عَنْ قَبِيصَةَ، عَنْ سُفْيَانَ وَرَوَاهُ الشَّعْبِيُّ وَالنَّخَعِيُّ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مُرْسَلًا مُخْتَصَرًا. وَرُوِيَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مَوْصُولًا، وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ:" فَإِنْ أَبَيْتَ فَهَاهُنَا وَارِثُونَ كَثِيرٌ، فَجَعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ"..
(٢١٤٧٣) ہزیل بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنا ایک غلام آزاد کردیا ہے اور میں نے اس کو سائبہ مقرر کیا تھا۔ وہ فوت ہوگیا اور اس نے مال چھوڑا ہے۔ عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ مسلمان سائبہ نہ چھوڑتے تھے بلکہ جاہلیت میں سائبہ چھوڑا جاتا تھا، آپ اس کے وارث ہیں اور اس کی ولاء کے بھی حق دار ہیں۔ اگر آپ کو گناہ یا حرج محسوس ہوتا ہے تو ہم اس کو بیت المال میں جمع کرا دیتے ہیں۔
(ب) علقمہ حضرت عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر آپ انکار کرتے ہیں تو یہاں وارث بہت ہیں، انھوں نے بیت المال میں جمع کروا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21473]
(ب) علقمہ حضرت عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر آپ انکار کرتے ہیں تو یہاں وارث بہت ہیں، انھوں نے بیت المال میں جمع کروا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21473]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6753»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21474
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي أَبُو طُوَالَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، قَالَ: كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا عَمْرَةُ بِنْتُ يَعَارٍ أَعْتَقَتْهُ سَائِبَةً، فَقُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِيرَاثِهِ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ عَمْرَةَ"، فَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَهُ..
(٢١٤٧٤) عبدالرحمن بن معمر فرماتے ہیں کہ سالم ابوحذیفہ کے غلام تھے اور ان کی بیوی لونڈی تھی، جس کا نام عمرۃ بنت یعار تھا۔ اس نے سائبہ بنا کر آزاد کردی۔ وہ یمامہ کے دن شہید ہوگئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی میراث لائی گئیتوفرمانے لگے: عمرۃ کو دو تو اس نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21474]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21475
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَيُّوبَ، وَسَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ سَالِمًا، مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ أَعْتَقَتْهُ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَالَتِ:" اذْهَبْ فَوَالِ مَنْ شِئْتَ"، فَوَالَى أَبَا حُذَيْفَةَ، فَلَمَّا أُصِيبَ اخْتَصَمُوا فِي مِيرَاثِهِ، فَجُعِلَ مِيرَاثُهُ لِلْأَنْصَارِ..
(٢١٤٧٥) محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ سالم جو ابوحذیفہ کے غلام تھے انصار کی ایک عورت نے ان کو آزاد کردیا، اس نے کہا: جاؤ جس کو چاہو والی بنا لو۔ اس نے ابو حذیفہ کو والی مقرر کرلیا، جب وہ شہید ہوگیا تو اس کی وراثت میں جھگڑا کیا گیا تو اس کی وراثت انصار کے لیے رکھ دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21475]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21476
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، أنبأ أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَدِيعَةَ بْنِ خِدَامِ بْنِ خَالِدٍ أَخِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا: سَلْمَى بِنْتُ يَعَارٍ، أَعْتَقَتْهُ سَائِبَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا أُصِيبَ بِالْيَمَامَةِ أَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِيرَاثِهِ، فَدَعَا وَدِيعَةَ بْنَ خِدَامٍ، فَقَالَ:" هَذَا مِيرَاثُ مَوْلَاكُمْ، وَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهِ"، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ أَغْنَانَا اللهُ عَنْهُ، قَدْ أَعْتَقَتْهُ صَاحِبَتُنَا سَائِبَةً، فَلَا نُرِيدُ أَنْ نَنْدَى مِنْ أَمْرِهِ شَيْئًا، أَوْ قَالَ: نَرْزَأَ، فَجَعَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ...
(٢١٤٧٦) عبداللہ بن ودیعۃ بن خدام بن خالد بنو عمرو بن عوف کے بھائی ہیں فرماتے ہیں کہ سالم جو ابوحذیفہ کے غلام تھے، حقیقت میں ہمارے قبیلہ کی عورت سلمی بنت یعار کے غلام تھے۔ اس نے سائبہ جاہلیت میں بنا کر آزاد کردیا، جب جنگِ یمامہ میں وہ مارا گیا تو اس کی وراثت حضرت عمر بن خطاب کے پاس لائی گئی۔ انھوں نے ودیعہ بن خدام کو بلوایا اور فرمایا: یہ تمہارے آزاد کردہ غلام کی وراثت ہے، تم اس کے زیادہ حقدار ہو، وہ کہنے لگے اے امیرالمومنین اللہ نے ہمیں اس سے غنی کردیا ہے۔ ہمارے قبیلہ کی عورت نے ان کو سائبہ بنا کر آزاد کردیا تھا۔ ہمیں اس سے کسی چیز کی ضرورت نہ تھی تو انھوں نے بیت المال میں جمع کروا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21476]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21477
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ عَالِيًا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَدَعَا أَبَا وَدِيعَةَ بْنَ خِدَامٍ، وَكَانَ وَارِثَ سَلْمَى بِنْتِ يَعَارٍ، فَقَالَ:" هَذَا مِيرَاثُ مَوْلَاكُمْ فَخُذُوهُ"، فَقَالَ وَدِيعَةُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَعْتَقَتْهُ صَاحِبَتُنَا سَائِبَةً لِأَبَوَيْهَا، وَقَدْ أَغْنَاهَا اللهُ عَنْهُ، فَلَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ، قَالَ: فَجَعَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ. وَرَوَاهُ بِمَعْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ.
(٢١٤٧٧) یعقوب بن ابراہیم بن سعد اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں۔ اس کے آخر میں ہے کہ انھوں نے ابو ودیعۃ بن خدام کو طلب کیا اور وہ سلمی بنت یعار کے وارث تھے۔ کہنے لگے: یہ تمہارے آزاد کردہ غلام کی وراثت ہے لے لو۔ ودیعۃ کہنے لگے: اے امیرالمومنین! ہمارے قبیلہ کی عورت نے اس کو سائبہ اپنے والدین کے نام پر آزاد کیا تھا، اللہ نے ہمیں اس سے مستغنی کیا ہے، ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المال میں جمع کروا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21477]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف