🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4203. -- باب:: من قال: من أحرز الميراث أحرز الولاء.
-- باب: جس نے کہا: ”جو وراثت کا حق دار بنا، وہی ولاء کا حق دار بنے گا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21507
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَنَّهُ حَضَرَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَطَلْحَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي مِيرَاثِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ وَارِثَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دُونَ الْقَاسِمِ، لِأَنَّ أَبَاهُ كَانَ أَخَاهَا لِأَبِيهَا وَأُمِّهَا، وَكَانَ مُحَمَّدٌ أَخَاهَا لِأَبِيهَا، ثُمَّ تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ فَوَرِثَهُ ابْنُهُ طَلْحَةُ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو عَمْرٍو، فَقَضَى بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لِطَلْحَةَ قَالَ: فَسَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ:" سُبْحَانَ اللهِ، إِنَّ الْمَوْلَى لَيْسَ بِمَالٍ مَوْضُوعٍ يَرِثُهُ مَنْ وَرِثَهُ، إِنَّمَا الْمَوْلَى عَصَبَةٌ" وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ تَوْرِيثَ ابْنِ الزُّبَيْرِ ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ دُونَ الْقَاسِمِ. قَالَ عَطَاءٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ رَحِمَهُمُ اللهُ تَعَالَى.
محمد بن زید بن مہاجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ اور طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ دونوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابو عمرو کی میراث کا جھگڑا لے کر ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور عبداللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا وارث تھا، قاسم نہیں؛ کیونکہ عبداللہ کے والد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حقیقی بھائی تھے، جبکہ (قاسم کے والد) محمد صرف باپ کی جانب سے بھائی تھے۔ عبداللہ فوت ہوئے تو ان کا وارث طلحہ بنا۔ پھر ابو عمرو فوت ہو گیا تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فیصلہ طلحہ کے حق میں کر دیا، کہتے ہیں: میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہنے لگے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”اللہ پاک ہے!“ آزاد کردہ غلام کوئی رکھا ہوا مال نہیں کہ جو بھی وارث بنے وہ اس کا وارث ہو جائے، آزاد کردہ غلام (کی ولاء) تو صرف عصبہ کے لیے ہے۔
(ب) عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما پر اس کا عیب لگاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21507]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4204. -- باب: الجد والأخ إذا اجتمعا.
-- باب: جب دادا اور بھائی (وراثت میں) جمع ہو جائیں تو اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21508
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي رَجُلٍ مَاتَ وتَرَكَ أَخَاهُ وَجَدَّهُ، قَالَ:" الْوَلَاءُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأَخِ".
ابن جریج رحمہ اللہ، حضرت عطاء رحمہ اللہ سے اس آدمی کے متعلق نقل فرماتے ہیں جو فوت ہو گیا اور اس نے بھائی اور دادا کو چھوڑا تو ولاء دادا اور بھائی کے درمیان ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21508]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21509
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، وَرَاشِدٌ، وَضَمْرَةُ، وَعَطِيَّةُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" الْجَدُّ أَوْلَى مِنَ ابْنِ الْأَخِ وَالْعَمِّ، وَالنَّاسُ عَلَى ذَلِكَ".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دادا، بھتیجے اور چچا سے زیادہ حق دار ہے، اور لوگوں کا یہی عمل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21509]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4205. -- باب:: لا ترث النساء الولاء إلا من أعتقن، أو أعتق من أعتقن.
-- باب: عورتیں ولاء کی وارث نہیں ہوتیں مگر صرف اس صورت میں جب وہ خود کسی کو آزاد کریں، یا ان کا آزاد کردہ غلام کسی اور کو آزاد کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21510
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ وُهَيْبٍ، وَرَوَاهُ ⦗٥١٥⦘ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ فَأَخْبَرَنَا أَنَّ مَنْ يَأْخُذُ بِالتَّعْصِيبِ إِنَّمَا هُوَ رَجُلٌ، إِلَّا مَا خَصَّتْهُ سُنَّةٌ لَهُ أُخْرَى، وَقَدْ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِعْتَاقِ عَائِشَةَ بَرِيرَةَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، فَدَلَّ أَنَّهَا تَرِثُ بِالْوَلَاءِ..
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرض والوں کو فرائض دیں، جو باقی بچے وہ سب سے قریبی مرد کے لیے ہے۔“
(ب) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی کہ عصبہ ہونے کی بنا پر لینے والا صرف مرد ہوگا، سوائے اس کے جس کی تخصیص کسی دوسری سنت نے کر دی ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بریرہ کو آزاد کرنے کے بارے میں فرمایا: ”ولاء صرف اس کے لیے ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ وہ ولاء کی بنا پر وارث ہوں گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21510]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21511
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَجْعَلُونَ الْوَلَاءَ لِلْكُبْرِ مِنَ الْعَصَبَةِ، وَلَا يُوَرِّثُونَ النِّسَاءَ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ، أَوْ أَعْتَقَ مَنْ أَعْتَقْنَ..
سیدنا علی، سیدنا عبداللہ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم عصبہ میں سے بڑے کے لیے ولاء مقرر کرتے تھے اور عورتوں میں سے ولاء کی وارث صرف وہ عورتیں ہوتیں جو آزاد کرتیں، یا وہ آزاد کرے جس کو وہ آزاد کرتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21511]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21512
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ السَّلَامِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَلِيٌّ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: لَا يُوَرِّثُونَ النِّسَاءَ مِنَ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ..
حضرت عمر، علی اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ان عورتوں کو ولاء کا وارث بناتے تھے جو (غلام) آزاد کرتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21512]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21513
قَالَ: وَأنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ عَبْدُ السَّلَامِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21513]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21514
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ:" لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلَاءِ شَيْئًا إِلَّا مَا كَاتَبَتْهُ أَوْ أَعْتَقَتْهُ، قَالَ يَزِيدُ: وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ:" لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلَاءِ شَيْئًا إِلَّا مَا كَاتَبْنَ، أَوْ أَعْتَقْنَ، أَوْ أَعْتَقَ مَنْ أَعْتَقْنَ، أَوْ جَرَّ وَلَاءَهُ مَنْ أَعْتَقْنَ".
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورتیں ولاء میں سے کسی چیز کی وارث نہیں ہوتیں، صرف اس کی جس سے انہوں نے مکاتبت کی یا اسے آزاد کر دیا۔
(ب) سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عورتیں ولاء میں سے کسی چیز کی بھی وارث نہیں ہوتیں، مگر یہ کہ وہ مکاتبت کر لیں، یا آزاد کر دیں، یا وہ اسے آزاد کرے جس کو انہوں نے آزاد کیا ہو، یا وہ ولاء کو منتقل کرے جس کو انہوں نے آزاد کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21514]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21515
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ:" لَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنَ الْوَلَاءِ لِأَحَدٍ مِنْ أَقَارِبِهَا، وَلَا تَرِثُ مِنَ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقَتْ هِيَ نَفْسُهَا، أَوْ مَنْ كَاتَبَتْ، فَعَتَقَ مِنْهَا، أَوْ وَلَاءَ مَوْلَى مَنْ أَعْتَقَتْ".
ابن ابی زناد فرماتے ہیں کہ مدینہ کے فقہاء کہتے ہیں کہ عورت اپنے قریبی رشتہ داروں میں سے کسی کی ولاء کی وارث نہ ہوگی، وہ صرف اس کی ولاء کی وارث ہوگی جس کو اس نے بذاتِ خود آزاد کیا یا جس نے اس سے مکاتبت کر کے آزادی حاصل کی یا اس کے آزاد کردہ غلام کے آزاد کردہ کی ولاء۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21515]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4206. -- باب:: ما جاء في جر الولاء.
-- باب: جرِ ولاء (ولاء کے منتقل ہونے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21516
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِذَا كَانَتِ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ فَوَلَدَتْ لَهُ وَلَدًا، فَإِنَّهُ يَعْتِقُ بِعِتْقِ أُمِّهِ، وَوَلَاؤُهُ لِمَوَالِي أُمِّهِ، فَإِذَا أَعْتَقَ الْأَبُ جَرَّ الْوَلَاءَ إِلَى مَوَالِي أَبِيهِ". ⦗٥١٦⦘ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ..
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو، بچے کو بھی جنم دیا ہو، وہ بچہ اپنی ماں کی آزادی کے ساتھ ہی آزاد ہو جائے گا اور اس کی ولاء اس کی ماں کو آزاد کرنے والوں کے پاس ہو گی، جب اس کا باپ آزاد کر دیا گیا تو اس بچے کی ولاء پھر باپ کو آزاد کرنے والوں کی طرف منتقل ہو جائے گی۔
یہ روایت منقطع ہے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ متصل سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الولاء/حدیث: 21516]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں