🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4248. -- باب:: عجز المكاتب.
-- باب: مکاتب کے (ادائیگی سے) عاجز آ جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي صَدْرًا مِنْ كِتَابَتِهِ وَيَعْجِزُ، أَيُرَدُّ رَقِيقًا؟ قَالَ:" سَيِّدُهُ أَحَقُّ بِشَرْطِهِ الَّذِي شَرَطَ".
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ مکاتب کے بارے میں کہتے تھے جب وہ اپنی کتابت کا ابتدائی حصہ ادا کر چکا ہو اور وہ عاجز آ جائے، کیا وہ غلام ہے؟ فرمایا: ”مالک اپنی شرط کا زیادہ حق دار ہے، جو اس نے شرط لگائی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21758]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21759
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا حَفْصٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" لَهُمْ مَا أَخَذُوا مِنْهُ"، يَعْنِي إِذَا لَمْ يُكْمِلْ، فَرُدَّ فِي الرِّقِّ، فَمَا أَخَذَ فَلَهُ".
ابوزبیر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”(مالکوں نے) اس سے جو کچھ لیا وہ انہی کا ہے“، یعنی جب وہ اپنی پوری کتابت ادا نہ کرے اور اسے غلامی میں واپس کر دیا جائے تو (مالک نے) جو لیا وہ اسی کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21759]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21760
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا تَتَابَعَ عَلَى الْمُكَاتَبِ نَجْمَانِ فَلَمْ يُؤَدِّ نُجُومَهُ رُدَّ فِي الرِّقِّ". وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ:" فَدَخَلَ فِي السَّنَةِ الثَّانِيَةِ"، أَوْ قَالَ:" فِي الثَّالِثَةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب غلام مسلسل دو قسطیں ادا نہ کرے تو دوبارہ غلام بنا لیا جائے گا۔ دوسری روایت میں ہے کہ وہ دوسرے یا تیسرے سال میں ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21760]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21761
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا عَجِزَ الْمُكَاتَبُ اسْتَسْعَى حَوْلَيْنِ، فَإِنْ أَدَّى وَإِلَّا رُدَّ فِي الرِّقِّ". الْإِسْنَادُ الْأَوَّلُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ضَعِيفٌ، وَرِوَايَةُ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا تَصِحُّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، فَإِنْ صَحَّتْ فَهِيَ مَحْمُولَةٌ عَلَى وَجْهِ الْمَعْرُوفِ مِنْ جِهَةِ السَّيِّدِ، فَإِنْ لَمْ يَنْتَظِرْ رُدَّ فِي الرِّقِّ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اگر غلام عاجز آجائے تو دو سال اس سے مزدوری کروائی جائے۔ اگر وہ اپنی کتابت ادا کر دے تو آزاد ہو، ورنہ دوبارہ غلام بنا لیا جائے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلی سند ضعیف ہے، اور خلاس کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت محدثین کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ اگر صحیح ہو تو اسے مالک کی طرف سے احسان پر محمول کیا جائے گا، اور اگر وہ انتظار نہ کرے تو اسے دوبارہ غلامی میں لوٹا دیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21761]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21762
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، قَالَ:" شَهِدْتُ شُرَيْحًا رَدَّ مُكَاتَبًا عَجَزَ فِي الرِّقِّ".
شبیب بن غرقدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس گیا تو انہوں نے ایک مکاتب کو، جو عاجز آ گیا تھا، دوبارہ غلامی میں لوٹا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21762]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4249. -- باب:: الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له
-- باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q21763
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هِيَ مَمْلُوكَةٌ بِحَالِهَا، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِسَيِّدِهَا بَيْعُهَا وَلَا إِخْرَاجُهَا عَنْ مِلْكِهِ بِشَيْءٍ غَيْرِ الْعِتْقِ، وَإِنَّهَا حُرَّةٌ إِذَا مَاتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ. قَالَ: هُوَ تَقْلِيدٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ (ام ولد) اپنی حالت میں مملوکہ (لونڈی) ہی ہے، البتہ اس کے آقا کے لیے اسے بیچنا جائز نہیں اور نہ ہی آزاد کرنے کے سوا کسی اور طریقے سے اسے اپنی ملکیت سے نکالنا جائز ہے، اور جب وہ (آقا) فوت ہو جائے تو وہ (لونڈی) اصل مال (ترکے) میں سے آزاد ہو جائے گی۔“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”یہ (مؤقف) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تقلید میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: Q21763]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21763
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا فَإِنَّهُ لَا يَبِيعُهَا، وَلَا يَهَبُهَا، وَلَا يُوَرِّثُهَا، وَهُوَ يَسْتَمْتِعُ مِنْهَا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس لونڈی نے اپنے آقا کی اولاد کو جنم دیا اس کو فروخت، ہبہ اور وراثت نہ بنایا جائے، مالک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، اس کی موت کے بعد آزاد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21763]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21764
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ الْحَمَّامِيِّ الْمُقْرِئُ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى عُمَرُ عَنْ بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَقَالَ:" لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ وَلَا تُورَثُ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا سَيِّدُهَا مَا بَدَا لَهُ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ"..
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے امہات الاولاد کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نہ فروخت کیا جائے گا، نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ وراثت بنائی جائے گی، اس کا مالک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جب وہ فوت ہو گا تو وہ آزاد ہو جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21764]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21765
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتُمَا؟ قَالَا: مِنْ قِبَلِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَأَحَلَّ لَنَا أَشْيَاءَ كَانَتْ تُحَرَّمُ عَلَيْنَا، قَالَ: مَا أَحَلَّ لَكُمْ مِمَّا كَانَ يَحْرُمُ عَلَيْكُمْ؟ قَالَا: أَحَلَّ لَنَا بَيْعَ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، قَالَ: أَتَعْرِفَانِ أَبَا حَفْصٍ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَهَى أَنْ تُبَاعَ أَوْ تُوهَبَ أَوْ تُورَثَ:" يَسْتَمْتِعُ بِهَا مَا كَانَ حَيًّا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ". هَكَذَا رَوَايَةُ الْجَمَاعَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، وَغَلِطَ فِيهِ بَعْضُ الرُّوَاةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٥٧٥⦘ دِينَارٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ وَهْمٌ لَا يَحِلُّ ذِكْرُهُ..
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہنے لگے: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سے اور انہوں نے ہمارے لیے کچھ اشیاء حلال قرار دی ہیں جو ہم پر حرام تھیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: اس نے تمہارے لیے کیا حلال قرار دیا جو تم پر حرام قرار دی گئی؟ وہ کہنے لگے: اس نے امہات الاولاد کی بیع کو جائز قرار دیا ہے؟ فرمانے لگے: کیا تم ابوحفص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: وہ امہات الاولاد کی فروخت، ہبہ یا وراثت بنانے سے منع کرتے تھے، اس کا مالک اس سے اپنی زندگی میں فائدہ اٹھا سکتا ہے، جب وہ فوت ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔
جماعت نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور بعض راویوں نے عبداللہ بن دینار سے اس میں غلطی کی اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کر دیا، اور یہ وہم ہے جس کا ذکر کرنا جائز نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21765]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ السَّلْمَانِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" اسْتَشَارَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَرَأَيْتُ أَنَا وَهُوَ أَنَّهَا عَتِيقَةٌ، فَقَضَى بِهَا عُمَرُ حَيَاتَهُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَهُ، فَلَمَّا وُلِّيتُ أَنَا، رَأَيْتُ أَنْ أَرِقَّهُنَّ". قَالَ: فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ أَنَّهُ سَأَلَ عُبَيْدَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ"، قَالَ:" رَأْيُ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جَمِيعًا أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ أَدْرَكَ الِاخْتِلَافَ"..
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ «أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ» ”امہاتِ اولاد“ کی بیع کے بارے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے مشورہ کیا، میں اور وہ دونوں اس کو آزاد خیال کرتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اور ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ فرمایا، جب میں خلیفہ بنا تو میں ان کو غلام خیال کرتا تھا، محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے حضرت عبیدہ رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں سوال کیا کہ کون سی رائے آپ کو زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا: حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی (مشترکہ) رائے کو میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی (اکیلی) رائے سے زیادہ محبوب جانتا ہوں، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اختلاف کو پا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21766]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں