السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4247. -- باب: ميراث المكاتب وولائه
-- باب: مکاتب کی وراثت اور اس کی ولاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 21748
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ وَلَهُ عَبْدٌ مُكَاتَبٌ وَلِلْمُتَوَفَّى بَنُونَ وَبَنَاتٌ؟ قَالَ:" يَرِثُونَ مِمَّا عَلَى ظَهْرِهِ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ، وَلَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا كَاتَبْنَ أَوْ أَعْتَقْنَ".
عبدالملک بن ابی سلیمان رحمہ اللہ، حضرت عطاء رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ وہ فوت ہو گیا، اس کا مکاتب غلام تھا، فوت ہونے والے کے بیٹے اور بیٹیاں تھیں تو جو کچھ اس (مکاتب) کے ذمہ ہے اس کے وارث عورتیں اور مرد سب ہوں گے، لیکن عورتیں ولاء کی وارث صرف اسی کی ہو سکتی ہیں جس سے انہوں نے خود کتابت کی ہو یا جسے آزاد کیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21748]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21749
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا فِي الرَّجُلِ يُكَاتِبُ مَمْلُوكَهُ ثُمَّ يَمُوتُ وَيَتْرُكُ بَنِينَ رِجَالًا وَنِسَاءً فَيؤَدِّي الْمُكَاتَبُ إِلَيْهِمْ كِتَابَتَهُ، قَالَا:" الْوَلَاءُ لِلرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ" وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقُولُ ذَلِكَ..
سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہما اللہ ایک ایسے آدمی کے متعلق فرماتے ہیں جو اپنے غلام سے مکاتبت کرتا ہے، پھر وہ فوت ہو جاتا ہے اور اپنے پیچھے بیٹے اور عورت چھوڑتا ہے، تو مکاتب اپنی کتابت ان کو ادا کرتا ہے۔ وہ دونوں فرماتے ہیں کہ ولاء صرف مردوں کو ملے گی، عورتوں کو نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21749]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21750
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ كَاتَبَ عَبْدًا لَهُ ثُمَّ مَاتَ الرَّجُلُ الَّذِي كَاتَبَ وَتَرَكَ رِجَالًا وَنِسَاءً، قَالَ:" لَيْسَ لِلنِّسَاءِ مِنْ وَلَاءِ ⦗٥٧٢⦘ الْمُكَاتَبِ شَيْءٌ، وَالْمِيرَاثُ بَيْنَهُمْ"، يَعْنِي الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ..
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام سے کتابت کی۔ مکاتبت کرنے والا شخص مر گیا، اس نے مرد اور عورتیں چھوڑیں۔ فرماتے ہیں کہ مکاتب کی ولاء سے عورتوں کو کچھ بھی نہ ملے گا، لیکن میراث مردوں اور عورتوں میں تقسیم ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21750]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21751
قَالَ: وَأنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ مُكَاتَبًا فَأَعْتَقَ الْوَرَثَةُ الْمُكَاتَبَ بِمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، لِمَنِ الْوَلَاءُ؟ قَالَ:" لِلْمُكَاتَبِ الْمَيِّتِ".
مغیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ آدمی فوت ہو جائے، اس کے مکاتب کو چھوڑا تو ورثاء نے مکاتب کو آزاد کر دیا تو ولاء کس کا حق ہے؟ فرمایا: میت کا حق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21751]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4248. -- باب:: عجز المكاتب.
-- باب: مکاتب کے (ادائیگی سے) عاجز آ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ، ثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: كَاتَبَ مُكَاتَبًا لَهُ، فَأَدَّى تِسْعَمِائَةٍ، وَبَقِيَتْ مِائَةُ دِينَارٍ فَعَجِزَ، فَرَدَّهُ فِي الرِّقِّ..
عطاء بن ابی رباح حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مکاتب ٩٠٠ تو ادا کر دے لیکن ایک سو دینار دینے سے عاجز آ گیا تو وہ دوبارہ غلام ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21752]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21753
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ مُكَاتَبًا لَهُ عَجِزَ فَرَدَّهُ مَمْلُوكًا وَأَمْسَكَ مَا أَخَذَ مِنْهُ..
سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا ایک غلام تھا، وہ اپنی کتابت ادا کرنے سے قاصر ہو گیا، جو لے لیا سو لے لیا، اس کو دوبارہ غلام بنا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21753]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21754
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ: كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ عَلَى ثَلَاثِينَ أَلْفًا، ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: قَدْ عَجِزْتُ، فَقَالَ:" إِذًا امْحُ كِتَابَتَكَ"، فَقَالَ: قَدْ عَجِزْتُ فَامْحُهَا أَنْتَ، قَالَ نَافِعٌ: فَأَشَرْتُ إِلَيْهِ امْحُهَا، وَهُوَ يَطْمَعُ أَنْ يُعْتِقَهُ، فَمَحَاهَا الْعَبْدُ وَلَهُ ابْنَانِ أَوِ ابْنٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" اعْتَزِلْ جَارِيَتِي"، قَالَ: فَأَعْتَقَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَهُ بَعْدُ..
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک مکاتب غلام تھا، اس کی کتابت ۳۰ ہزار تھی۔ پھر اس نے آکر کہا: میں عاجز آ گیا ہوں۔ فرمایا: تب اپنی کتابت ختم کر دو۔ وہ کہنے لگا: میں عاجز آ گیا ہوں، آپ خود ہی اس کو مٹا ڈالیں۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اس کو اشارہ کیا کہ مٹا دو، وہ غلام آزادی کا لالچی تھا۔ غلام نے مٹا دیا۔ اس کے ایک یا دو بیٹے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میری لونڈی کو جدا کر لو، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے بعد اس کے بیٹے کو آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21754]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21755
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ وَوَلَدَهُ وَأُمَّ وَلَدِهِ، وَأَنَّهُ أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ: إِنِّي قَدْ عَجِزْتُ، فَاقْبَلْ كِتَابَتِي، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" إِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِمْ"، قَالَ: فَأَتَاهُ بِهِمْ فَرَدَّهُمْ فِي الرِّقِّ، فَلَّمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِمَّا بِيَوْمٍ وَإِمَّا بِثَلَاثَةٍ أَعْتَقَهُمْ..
نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلام سے مکاتبت کی۔ اس کا بچہ اور ام ولد بھی موجود تھی۔ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں عاجز آ چکا، اپنی کتابت واپس لے لو۔ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تجھ سے قبول نہ کروں گا جب تک تو ان کو لے کر نہ آئے گا۔ جب وہ ان کو لے کر آیا، تو انہوں نے ان کو غلامی میں واپس کر دیا۔ اس کے ایک یا تین دن کے بعد ان کو آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21755]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21756
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيِّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ: كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ: شَرَفٌ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا، فَخَرَجَ إِلَى الْكُوفَةِ، فَكَانَ يَعْمَلُ عَلَى حُمُرٍ لَهُ، حَتَّى أَدَّى خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفًا، فَجَاءَهُ إِنْسَانٌ فَقَالَ: مَجْنُونٌ أَنْتَ؟ أَنْتَ هَاهُنَا تُعَذِّبُ نَفْسَكَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَشْتَرِي الرَّقِيقَ يَمِينًا وَشِمَالًا ثُمَّ يُعْتِقُهُمْ ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ: قَدْ عَجِزْتُ، فَجَاءَ إِلَيْهِ بِصَحِيفَتِهِ، ⦗٥٧٣⦘ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَدْ عَجِزْتُ، وَهَذِهِ صَحِيفَتِي فَامْحُهَا، فَقَالَ:" لَا، وَلَكِنْ امْحُهَا إِنْ شِئْتَ"، فَمَحَاهَا، فَفَاضَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ"، قَالَ: أَصْلَحَكَ اللهُ، أَحْسِنْ إِلَى ابْنِيَّ، قَالَ:" هُمَا حُرَّانِ"، قَالَ: أَصْلَحَكَ اللهُ، أَحْسِنْ إِلَى أُمَّيْ وَوَلَدِيَّ، قَالَ:" هُمَا حُرَّتَانِ"، فَأَعْتَقَهُمْ خَمْسَتَهُمْ جَمِيعًا فِي مَقْعَدٍ..
عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک غلام سے چالیس ہزار میں مکاتبت کی، اس کا نام شرف تھا، وہ کوفہ گیا اور وہاں گدھوں پر کام کرنے لگا، تو اس نے پندرہ ہزار کما کر دے دیے، پھر ایک شخص اس کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیا تم پاگل ہو؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تو غلام خرید کر آزاد کرتے ہیں اور تم نے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے، ان کے پاس جاؤ اور جا کر کہو کہ میں عاجز آ گیا ہوں، وہ اپنے ساتھ تحریر بھی لے کر آیا اور کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! میں عاجز آ گیا ہوں، یہ تحریر ہے، اسے ختم کر دیں، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: اگر تم چاہو تو اسے مٹا دو، میں اسے نہیں مٹاؤں گا، چنانچہ اس نے اسے مٹا دیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں اور فرمانے لگے: جاؤ، تم آزاد ہو، اس نے کہا: اللہ آپ کو بھلائی دے، میرے بیٹوں پر بھی احسان فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: وہ دونوں بھی آزاد ہیں، اس نے کہا: میری والدہ اور میرے بچوں کی والدہ کو بھی (آزاد کر دیں)، تو آپ نے فرمایا: وہ دونوں بھی آزاد ہیں، چنانچہ آپ نے ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے ان پانچوں کو آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21756]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21757
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُ كَاتَبَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى ثَلَاثِينَ أَلْفًا، فَعَجِزَ، فَرَدَّهُ فِي الرِّقِّ وَقَدْ أَدَّى النِّصْفَ أَوْ قَرِيبًا مِنَ النِّصْفِ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَ وَلَدَهُ، وَكَانُوا وُلِدُوا مِنْ مُكَاتَبَتِهِ، فَأَعْتَقَهُ وَأَعْتَقَ وَلَدَهُ، وَرَدَّ إِلَيْهِ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ..
اسحاق جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام تھے، فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ۳۰ ہزار میں مکاتبت کر لی۔ وہ عاجز آ گیا تو اس کو غلامی میں لوٹا دیا۔ اس نے نصف یا تقریباً نصف ادا کر دی تھی۔ اس نے مطالبہ کر دیا کہ میرے بچوں کو آزاد کر دیں جو ان کی مکاتبت کے درمیان پیدا ہوئے، اس کو اور اس کے بچوں کو بھی آزاد کر دیا اور ۱۵۰۰ درہم بھی واپس کر دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21757]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف