السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4244. -- باب:: المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع.
-- باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
حدیث نمبر: 21738
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" إِذَا رَضِيَ أَهْلُهَا بِالْبَيْعِ وَرَضِيَتِ الْمُكَاتَبَةُ بِالْبَيْعِ فَإِنَّ ذَلِكَ تَرْكٌ لِلْكِتَابَةِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ:" فَقَالَ لِي بَعْضُ النَّاسِ: فَمَا مَعْنَى إِبْطَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرْطَ عَائِشَةَ لِأَهْلِ بَرِيرَةَ؟ قُلْتُ: إِنَّ بَيِّنًا، وَاللهُ أَعْلَمُ، فِي الْحَدِيثِ نَفْسِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ قَضَى أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَقَالَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: ٥] ، وَأَنَّهُ نَسَبَهُمْ إِلَى مَوَالِيهِمْ كَمَا نَسَبَهُمْ إِلَى آبَائِهِمْ، فَكَمَا لَمْ يَجُزْ أَنْ يُحَوَّلُوا عَنْ آبَائِهِمْ، فَكَذَلِكَ لَا يَجُوزُ أَنْ يُحَوَّلُوا عَنْ مَوَالِيهِمُ الَّذِينَ وُلُّوا أَمَانَتَهُمْ، وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ} [الأحزاب: ٣٧] وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ، وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، النَّسَبُ لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ"، فَلَمَّا بَلَغَهُمْ هَذَا كَانَ مَنِ اشْتَرَطَ خِلَافَ مَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاصِيًا، وَكَانَتْ فِي الْمَعَاصِي حُدُودٌ وَآدَابٌ، فَكَانَ مِنْ أَدَبِ الْعَاصِينَ أَنْ يُعَطَّلَ عَلَيْهِمْ شُرُوطُهُمْ لِيَنْتَكِلُوا عَنْ مِثْلِهِ، أَوْ يَنْتَكِلَ بِهَا غَيْرُهُمْ، وَكَانَ هَذَا مِنْ أَسْنَى الْأَدَبِ. وَرَوَى الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنِ الشَّافِعِيِّ مَعْنَى هَذَا وَأَبَيْنَ مِنْهُ..
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اس کے گھر والے فروخت کرنے پر راضی ہو گئے اور مکاتبہ فروخت ہونے پر راضی ہو گئی تو مکاتبت ختم۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کے گھر والوں کی شرط کو باطل قرار دیا اس کا کیا معنیٰ؟ فرمایا: واللہ اعلم، خود حدیث میں واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتا دیا تھا کہ اللہ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ ”ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے“۔ اور فرمایا: ﴿ٱدْعُوهُمْ لِءَابَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف کرو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف والی بات ہے۔ اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور مولیٰ ہیں۔ ان کی نسبت آزاد کرنے والے کی طرف کی جاتی جیسے ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف ہوتی ہے۔ جس طرح باپ سے نسبت پھیرنا جائز نہیں، اس طرح آزاد کرنے والے سے نسبت تبدیل کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ جو ان کی اس نعمت کے والی بنے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِيٓ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ﴾ [سورة الأحزاب: 37] ”اور جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے کہا کہ آپ اللہ نے اور آپ نے بھی اس پر انعام و احسان کیا تھا۔ اپنی بیوی کو روکے رکھو۔“
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو فروخت اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ”ولاء ایسا رشتہ ہے جیسا نسب کا رشتہ ہوتا ہے تو نسب کو فروخت یا ہبہ نہیں کیا جاتا۔“ جب ان لوگوں کو یہ بات پہنچ گئی تو جس نے شرط لگائی اس کے خلاف جو اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے وہ گناہ گار ہے تو اس کی شرط کو باطل ہی قرار دیا جائے گا، تاکہ اس جیسے اور دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21738]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو فروخت اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ”ولاء ایسا رشتہ ہے جیسا نسب کا رشتہ ہوتا ہے تو نسب کو فروخت یا ہبہ نہیں کیا جاتا۔“ جب ان لوگوں کو یہ بات پہنچ گئی تو جس نے شرط لگائی اس کے خلاف جو اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے وہ گناہ گار ہے تو اس کی شرط کو باطل ہی قرار دیا جائے گا، تاکہ اس جیسے اور دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21738]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21739
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ الرَّازِيَّ، ثنا أَبِي، ثنا حَرْمَلَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ قَالَ لَهَا:" اشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ": مَعْنَاهُ اشْتَرِطِي عَلَيْهِمُ الْوَلَاءَ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ} [الرعد: ٢٥] ، يَعْنِي: عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَالْجَوَابُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، وَفِي صِحَّةِ هَذِهِ اللَّفْظَةِ نَظَرٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حرملہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”تو ان کے لیے ولاء کی شرط رکھ،“ اس کا معنی ہے کہ تو ان کے خلاف ولاء کی شرط رکھ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ﴾ ”یہی لوگ ہیں جن کے لیے لعنت ہے“ [سورة الرعد: 25] یعنی ان پر لعنت ہے۔
پہلا جواب زیادہ صحیح ہے، اور اس لفظ کی صحت میں کلام ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21739]
پہلا جواب زیادہ صحیح ہے، اور اس لفظ کی صحت میں کلام ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21739]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21740
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: كَانَ يَكْرَهُ بَيْعَ الْمُكَاتَبِ..
عطاء، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مکاتبہ کی بیع کو ناپسند فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21740]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4245. -- باب:: كتابة اليهودي والنصراني.
-- باب: یہودی اور نصرانی کو مکاتب بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21741
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ، فَذَكَرَ قِصَّتَهُ وَقَالَ فِيهَا: قَدِمَ وَادِيَ الْقُرَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ مِنْ يَهُودَ، فَابْتَاعَنِي مِنْ صَاحِبِي الَّذِي كُنْتُ عِنْدَهُ فَخَرَجَ بِي حَتَّى قَدِمَ بِي الْمَدِينَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَأَنَّهُ حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَاتِبْ يَا سَلْمَانُ"، فَكَاتَبْتُ..
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنا قصہ بیان کیا، اس میں ہے کہ وادی القری میں بنو قریظہ کا ایک یہودی آیا، اس نے مجھے خریدا جس کے پاس میں موجود تھا، وہ مجھے مدینہ لے کر آیا، انہوں نے اپنی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کی، جب فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سلمان! کتابت کر لو۔“ تو میں نے کتابت کر لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21741]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
4246. -- باب:: جناية المكاتب والجناية عليه.
-- باب: مکاتب کے جرم کرنے اور اس پر جرم کیے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21742
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ:" جِنَايَةُ الْمُكَاتَبِ فِي رَقَبَتِهِ، يَبْدَأُ بِهَا".
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکاتب کا جرم اس کے ذمہ ہے، اسی سے ابتدا کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21742]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21743
وَبِإِسْنَادِهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ:" جِرَاحَتُهُ جِرَاحَةُ عَبْدٍ".
ابراہیم رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب کا زخمی کرنا غلام کے زخمی کرنے کی مانند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21743]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21744
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" جِرَاحَةُ الْمُكَاتَبِ جِرَاحَةُ عَبْدٍ".
قتادہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مکاتب کا زخمی کرنا، غلام کے زخمی کرنے کی مانند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21744]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21745
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ:" إِذَا أُصِيبَ الْمُكَاتَبُ لَهُ قَوَدُهُ"، وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَأَنَّهُ مِنْ مَالِهِ، يُحْرِزُهُ كَمَا يُحْرِزُ مَالَهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ". ⦗٥٧١⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: كَمَا قَالَ عَطَاءٌ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ:" الْجِنَايَةُ عَلَيْهِ مَالٌ مِنْ مَالِهِ، لَا يَكُونُ لِسَيِّدِهِ أَخْذُهَا بِحَالٍ، إِلَّا أَنْ يَمُوتَ قَبْلَ أَنْ يُؤَدِّيَ"..
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء رحمہ اللہ نے کہا کہ جب مکاتب کو زخمی کیا گیا تو اس کا قصاص ہے، اور عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا۔ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اس کا مال ہے، اس کی بھی حفاظت کرنا اس کے ذمہ تھا جیسے وہ اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جیسا کہ عطاء اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ نے کہا: اس پر ہونے والے جرم کا معاوضہ اس کے مال میں سے ایک مال ہے، اس کے مالک کو کسی حال میں اسے لینے کا حق نہیں، الا یہ کہ وہ مکاتبت ادا کرنے سے پہلے فوت ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21745]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جیسا کہ عطاء اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ نے کہا: اس پر ہونے والے جرم کا معاوضہ اس کے مال میں سے ایک مال ہے، اس کے مالک کو کسی حال میں اسے لینے کا حق نہیں، الا یہ کہ وہ مکاتبت ادا کرنے سے پہلے فوت ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21745]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4247. -- باب: ميراث المكاتب وولائه
-- باب: مکاتب کی وراثت اور اس کی ولاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 21746
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْنَا لِابْنِ طَاوُسٍ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُكَاتِبُ الرَّجُلَ ثُمَّ يَمُوتُ فَتَرِثُ ابْنَتُهُ ذَلِكَ الْمُكَاتَبَ فَيؤَدِّي كِتَابَتَهُ ثُمَّ يُعْتَقُ، ثُمَّ يَمُوتُ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ:" وَلَاؤُهُ لَهَا"، وَيَقُولُ:" مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يُخَالِفَ عَنْ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ"، وَيَعْجَبُ مِنْ قَوْلِهِمْ: لَيْسَ لَهَا وَلَاءٌ..
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن طاؤس رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ کے والد (طاؤس رحمہ اللہ) کیا فرماتے ہیں کہ جب آدمی غلام سے مکاتبت کرتا ہے، پھر وہ فوت ہو جاتا ہے، اس مکاتبت کی بچی وارث ہو گی، وہ اپنی کتابت اس کو ادا کرے گا، پھر وہ آزاد کیا جائے گا، پھر وہ فوت ہو جاتا ہے، تو وہ فرماتے ہیں کہ ولاء اس بچی کی ہو گی۔ میرا گمان ہے کہ کوئی بھی اس کی مخالفت نہ کرے گا اور ان کے قول سے تعجب ہے کہ اس کی ولاء نہ ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21746]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21747
وَبِإِسْنَادِهِ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: رَجُلٌ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ ابْنَيْنِ لَهُ، وَتَرَكَ مُكَاتَبًا، فَصَارَ الْمُكَاتَبُ لِأَحَدِهِمَا، ثُمَّ قَضَى كِتَابَتَهُ لِلَّذِي صَارَ لَهُ فِي الْمِيرَاثِ، ثُمَّ مَاتَ الْمُكَاتَبُ، مَنْ يَرِثُهُ؟ قَالَ:" يَرِثَانِهِ جَمِيعًا". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ عَطَاءٌ:" رَجَعَ وَلَاؤُهُ إِلَى الَّذِي كَاتَبَهُ"، فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِ، وَقَالَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَبِقَوْلِ عَطَاءٍ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ نَقُولُ فِي الْمُكَاتَبِ يُكَاتِبُهُ الرَّجُلُ ثُمَّ يَمُوتُ السَّيِّدُ ثُمَّ يُؤَدِّي الْمُكَاتَبُ فَيُعْتَقُ بِالْكِتَابَةِ: إِنَّ وَلَاءَهُ لِلَّذِي عَقَدَ كِتَابَتَهُ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَقُلْ بِقَوْلِهِ فِي قِسْمَةِ الْمُكَاتَبِ، قَالَ مِنْ قَبْلُ: إِنَّ الْقَسْمَ بَيْعٌ، وَبَيْعُ الْمُكَاتَبِ لَا يَجُوزُ..
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: ایک آدمی فوت ہو گیا، اس نے دو بیٹے اور ایک مکاتب کو چھوڑا۔ پھر مکاتب دونوں میں سے ایک کے حصے میں آیا، اس نے اپنی کتابت اسی کو ادا کی جس کے حصے میں وہ میراث میں آیا تھا۔ پھر مکاتب فوت ہو گیا، اس کا وارث کون ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: وہ دونوں اس کے وارث ہیں، اور عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا۔ عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی ولاء اس کی طرف لوٹے گی جس نے اس سے کتابت کی تھی۔ میں نے یہ بات ان کے سامنے دوبارہ دہرائی تو انہوں نے کئی مرتبہ یہی کہا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم عطاء اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ کے قول کے مطابق کہتے ہیں کہ جب ایک شخص نے کسی سے مکاتبت کی، پھر مالک فوت ہو گیا، پھر مکاتب نے اپنی کتابت ادا کر کے آزادی حاصل کی تو ولاء اس کی ہو گی جس نے کتابت کا معاہدہ کیا تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ نے مکاتب کی تقسیم کے بارے میں ان کا قول اختیار نہیں کیا، کیونکہ وہ پہلے فرما چکے ہیں کہ تقسیم تو بیع ہے اور مکاتب کی بیع جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21747]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم عطاء اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ کے قول کے مطابق کہتے ہیں کہ جب ایک شخص نے کسی سے مکاتبت کی، پھر مالک فوت ہو گیا، پھر مکاتب نے اپنی کتابت ادا کر کے آزادی حاصل کی تو ولاء اس کی ہو گی جس نے کتابت کا معاہدہ کیا تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ نے مکاتب کی تقسیم کے بارے میں ان کا قول اختیار نہیں کیا، کیونکہ وہ پہلے فرما چکے ہیں کہ تقسیم تو بیع ہے اور مکاتب کی بیع جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21747]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح