🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4244. -- باب:: المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع.
-- باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21728
قَالَ: وَحَدَّثَنَا قَاسِمٌ الْمُطَرِّزُ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ..
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ، حضرت عمرہ رحمہا اللہ سے ایسے ہی روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21728]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21729
قَالَ: وَحَدَّثَنَا قَاسِمٌ الْمُطَرِّزُ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِنَحْوِهِ.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21729]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21730
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ"، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً فَتُعْتِقَهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ..
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے گھر والوں نے کہا کہ ولاء ہمارے نام ہی ہو گی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی چیز تجھے نہ روکے کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہی ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21730]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21731
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: أَحْسِبُ حَدِيثَ نَافِعٍ أَثْبَتَهَا كُلِّهَا، لِأَنَّهُ مُسْنَدٌ، وَأَنَّهُ أَشْبَهُ، وَكَأَنَّ عَائِشَةَ فِي حَدِيثِ نَافِعٍ كَانَتْ شَرَطَتْ لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَأَعْلَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا إِنْ أَعْتَقَتْ فَالْوَلَاءُ لَهَا، فَإِنْ كَانَ هَكَذَا فَلَيْسَ أَنَّهَا شَرَطَتْ لَهُمُ الْوَلَاءَ بِأَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَعَلَّ هِشَامًا أَوْ عُرْوَةَ حِينَ سَمِعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ"، رَأَى أَنَّهُ أَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِطَ لَهُمُ الْوَلَاءَ فَلَمْ يَقِفْ مِنْ حِفْظِهِ عَلَى مَا وَقَفَ ابْنُ عُمَرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَلِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ شَوَاهِدُ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں نافع کی حدیث ان سب میں زیادہ ثابت ہے، کیونکہ یہ مسند ہے اور زیادہ قرین قیاس ہے۔ گویا نافع کی حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے ولاء کی شرط رکھی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ اگر وہ آزاد کریں گی تو ولاء انہی کی ہوگی۔ اگر ایسا ہے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے لیے ولاء کی شرط نہیں رکھی تھی۔ شاید کہ ہشام یا عروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد ”کوئی چیز تجھے نہ روکے“ سے سمجھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے لیے ولاء کی شرط رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے حافظے نے وہ بات محفوظ نہیں رکھی جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے محفوظ رکھی۔ واللہ اعلم۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کے معنی کے شواہد موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21731]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21732
مِنْهَا مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، إِمْلَاءً، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ ⦗٥٦٧⦘ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَرَادَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَأَبَى أَهْلُهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلَاءُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا، اس کے گھر والوں نے انکار کر دیا، لیکن ولاء ان کی ہو تب راضی ہیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی چیز اس لونڈی کو خریدنے سے رکاوٹ نہ بنے؛ کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21732]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1505»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21733
وَمِنْهَا مَا، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، وَأَنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنًّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ. وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
قاسم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے خریدنے کا ارادہ کیا، اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید کر آزاد کرو، کیونکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21733]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21734
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَهُ مِائَةَ مَرَّةٍ، شَرْطُ اللهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا..
سیدنا عروہ رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، وہ اپنی کتابت میں مدد طلب کر رہی تھیں۔ ابھی انہوں نے کتابت سے کچھ ادا نہ کیا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں تو میں رقم ادا کر دیتی ہوں، لیکن ولاء میری ہو گی تو میں ایسا کرتی ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں کے سامنے تذکرہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہنے لگے: اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ پر احسان کرنا چاہتی ہیں تو ایسا کر لیں، لیکن ولاء ہمارے لیے ہو گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدو اور آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے، ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں نہیں ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگرچہ وہ سو شرائط بھی ہوں۔ اللہ کی شرائط پورا کرنے کے اعتبار سے زیادہ حق دار ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21734]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21735
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَيُّوبَ الْمَتُّوثِيُّ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا الْوَلَاءَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِيهَا، الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ". ⦗٥٦٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خرید کر آزاد کرنا چاہا تو اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید لو، ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21735]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21736
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ"، قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا، قَالَتْ: فَدَعَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، فَقَالَتْ: لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا ثَبَتُّ عِنْدَهُ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ دُونَ قَوْلِهِ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، وَقَدْ بَيَّنَّا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِ الْأَسْوَدِ، مَيَّزَهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ الْأَسْوَدِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَوْلُ الْأَسْوَدِ مُنْقَطِعٌ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُهُ عَبْدًا أَصَحُّ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ أَيْمَنُ، عَنْ عَائِشَةَ.
اسود رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے بریرہ کو خریدا، اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آزاد کرو کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ میں نے اس کو آزاد کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا اور اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دے دیا، وہ کہنے لگی: اگر وہ مجھے فلاں فلاں چیز دے دے تو میں اس کے پاس نہ رہوں۔ اس نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا اور اس کا خاوند بھی آزاد تھا۔
بخاری کی صحیح روایت عثمان بن ابی شیبہ کی اس قول کے بغیر ہے: «وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا» ”اور اس کا خاوند آزاد تھا“، یہ اسود کا قول ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسود کا قول منقطع ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول کہ ”میں نے اسے غلام دیکھا“ زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21736]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21737
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي أَيْمَنُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِيُّ الْهَرَوِيُّ بِهَا، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ الْمَكِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي كُنْتُ غُلَامًا لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، وَإِنَّ عُتْبَةَ مَاتَ، وَوَرِثَنِي بَنُوهُ، وَإِنَّهُمْ بَاعُونِي مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْمَخْزُومِيِّ، فَأَعْتَقَنِي ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَاشْتَرَطُوا وَلَائِي، فَمَوْلَى مَنْ أَنَا؟ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَكَانَ لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَمَاتَ عُتْبَةُ، فَوَرِثَهُ بَنُوهُ، وَاشْتَرَاهُ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، فَأَعْتَقَهُ، وَاشْتَرَطَ بَنُو عُتْبَةَ الْوَلَاءَ، فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ فَقَالَتْ: اشْتَرِينِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّ أَهْلِي يَبِيعُونَنِي، فَأَعْتِقِينِي، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ، اشْتَرِينِي فَأَعْتِقِينِي، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي لَا يَبِيعُونِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلَائِي، فَقَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي بِكِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ بَلَغَهُ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُ بَرِيرَةَ؟"، فَأَخْبَرَتْهُ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ مَا قَالَتْ لَهَا، فَقَالَ:" اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، وَلْيَشْتَرِطُوا مَا شَاءُوا". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ:" فَدَعِيهِمْ، فَلْيَشْتَرِطُوا مَا ⦗٥٦٩⦘ شَاءُوا"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَعْتَقْتُهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا الْوَلَاءَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ فَاشْتَرَتْهَا عَائِشَةُ فَأَعْتَقَتْهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا الْوَلَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ شَرْطٍ".. زَادَ خَلَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ:" فَأَنْتَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي عَمْرٍو". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ قُرَيْبَةٌ مِنْ رِوَايَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَالْعَدَدُ بِالْحِفْظِ أَوْلَى مِنَ الْوَاحِدِ..
عبدالواحد بن ایمن مکی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، میں نے کہا: اے ام المؤمنین! میں عتبہ بن ابی لہب کا غلام ہوں، عتبہ مر گیا۔ اس کے بیٹے میرے وارث ہیں، انہوں نے مجھے عبداللہ بن ابی عمرو مخزومی کے ہاتھوں فروخت کر دیا، اس نے مجھے آزاد کر دیا لیکن انہوں نے میری ولاء کی شرط رکھی۔ میں اب کس کا آزاد کردہ ہوں؟ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میں عتبہ بن ابی لہب کا غلام تھا، وہ مر گیا تو اس کی اولاد میری وارث ہوئی تو ابن ابی عمرو رضی اللہ عنہما نے مجھے خرید لیا اور آزاد کر دیا۔ لیکن عتبہ کی اولاد نے ولاء کی شرط رکھی تو اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو آکر بتایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: بریرہ رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں، وہ مکاتبہ تھیں۔ وہ کہنے لگیں: اے ام المؤمنین! مجھے خرید لیں۔ میرے گھر والے مجھے فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے آزاد کر دیں، میں نے کہا: ہاں۔ کہنے لگی: میرے گھر والے ولاء کی شرط لگا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”بریرہ کی کیا حالت ہے؟“ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تذکرہ کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ بیان کر دیا، جو اس نے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ اس کو خرید لیں اور آزاد کر دیں، وہ جو بھی شرط رکھیں۔“ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ ”آپ ان کو چھوڑ دیں، وہ جو چاہیں شرط رکھیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس کو آزاد کر دیا اور اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خریدا اور اس کو آزاد کر دیا۔ اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے، اگر وہ سو شرطیں بھی لگا لیں۔“ خلاد نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ ابن ابی عمرو کے غلام ہیں۔
یہ روایت ہشام بن عروہ کی روایت کے قریب ہے، اور (راویوں کی) جماعت حفظ میں ایک راوی سے زیادہ لائق اعتماد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21737]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں