🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4. بَابُ الْخُرُوجِ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدِ 3256 عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: الْخُرُوجُ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدَيْنِ مِنَ السُّنَّةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
عید کے لئے کھلی جگہ پر جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3259
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيْنَا جَارِيَةٌ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ فِطْرٍ نَاشِرَةً شَعْرَهَا مَعَهَا دُفٌّ تُغَنِّي فَزَجَرَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" دَعِيهَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حسان بن ثابت کی کنیز، عید کے دن ہمارے پاس آئی، اس نے بال پھیلائے ہوئے تھے، اور اس کے پاس دف تھی، وہ گا رہی تھی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسے ڈانٹا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ام سلمہ! اسے رہنے دو، کیونکہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور یہ ہماری عید ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3259]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3260
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ اللَّعَّابِينَ كَانُوا يَلْعَبُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قُلْتُ: هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْهَا، وَلَا يُعْرَفُ عَمْرٌو وَلَا أَبُوهُ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کھیل کود کرنے والے لوگ کھیل کود کر رہے ہوتے تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجود ہوتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح عمرو بن عطیہ کے حوالے سے، اُن کے والد کے حوالے سے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے، عمرو اور اُس کے باپ کی شناخت نہیں ہو سکی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3260]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3261
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ [ بْنِ عَفَّانَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: فَخَرَجَ عُثْمَانُ ] فَصَلَّى بِالنَّاسِ تِلْكَ الصَّلَاةَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ دَارَهُ وَجَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدْ أَصَابَهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتِ الَّذِي تَحْذَرُونَ كَانَتْ وَأَنْتُمْ عَلَى غَيْرِ غَفْلَةٍ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ كُنْتُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا وَاكْتَسَبْتُمُوهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں سورج گرہن ہو گیا، اس وقت مدینہ منورہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نکلے انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جس میں ہر رکعت میں دو مرتبہ رکوع کیا، اور دو مرتبہ سجدہ کیا، راوی کہتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے نماز ختم کی، تو وہ اپنے گھر تشریف لے گئے، جب کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھ گئے اور ہم بھی اُن کے پاس بیٹھ گئے، انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج اور چاند گرہن کے وقت نماز ادا کرنے کا حکم دیتے تھے، جب تم دیکھو کہ انہیں گرہن لگ گیا ہے، تو تم نماز کی طرف جاؤ، کیونکہ اگر یہ وہ صورت حال ہوئی جس سے تم بچنا چاہ رہے ہو، تو تم غفلت کی حالت میں نہیں ہو گے، اور اگر وہ صورت حال نہ ہوئی، تو تم بھلائی حاصل کر لو گے، اور اسے کما لو گے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3261]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3262
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ لِلنَّاسِ فَقَرَأَ يس [ أ ] وَنَحْوَهَا ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ [ السُّورَةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ الْ] سُورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ أَيْضًا [ قَدْرَ السُّورَةِ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا ] حَتَّى صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَذَلِكَ فَعَلَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: راوی بیان کرتے ہیں: سورج گرہن ہوا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں سورت یسین اور اس جیسی سورت کی تلاوت کی، پھر وہ رکوع میں گئے اور اتنی دیر رکوع میں رہے، جتنی دیر انہوں نے تلاوت کی تھی، پھر انہوں نے اپنے سر کو اٹھایا اور «سمع الله لِمَنْ حَمِدَه» پڑھا، اور پھر اتنی دیر تک کھڑے ہوئے دعا کرتے رہے، اور تکبیر کہتے رہے، جتنی دیر انہوں نے اس سورت کی تلاوت کی تھی، پھر وہ رکوع چلے گئے اور وہ رکوع بھی اُن کی قرأت جتنا تھا، پھر انہوں نے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه» کہا:، پھر وہ اتنی دیر کھڑے رہے جتنی دیر میں اس سورت تلاوت ہوتی ہے، پھر وہ رکوع میں اتنی دیر تک گئے یہاں تک کہ انہوں نے چار مرتبہ رکوع کیا، پھر انہوں نے «سمع اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه» پڑھا اور پھر سجدے میں چلے گئے، پھر وہ دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی، جس طرح پہلی رکعت ادا کی تھی، پھر وہ بیٹھ کر دعا کرتے رہے، اور رغبت کا اظہار کرتے رہے، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا، پھر انہوں نے لوگوں کو بتایا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3262]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3263
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ [ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَلَا وَإِنَّهُمَا لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا كَذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ" ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بَعْضَ الذَّارِيَاتِ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْأُولَى رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا نتقال ہوا، تو سورج گرہن ہو گیا، لوگوں نے کہا: سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ہیں، اُن کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک سورج اور چاند، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، خبردار! یہ دونوں کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، جب تم انہیں گرہن کی حالت میں دیکھو، تو مساجد کی طرف آ جاؤ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور سورت الذاریات کا کچھ حصہ تلاوت کیا پھر آپ رکوع میں چلے گئے، پھر آپ سیدھے کھڑے ہو گئے پھر آپ نے دو مرتبہ سجدہ کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، پھر آپ نے ویسا ہی کیا جس طرح آپ نے پہلی رکعت میں کیا تھا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3263]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح ورجالہ رجال الصحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3264
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْخُسُوفِ فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ فِيهَا حَرْفًا قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ خَالِيًا عَنْ قَوْلِهِ: فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ حَرْفًا رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز خسوف ادا کی، تو میں نے آپ کے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ایک حرف بھی نہیں سنا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان کے حوالے سے صحیح میں ایک حدیث منقول ہے، جس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حرف بھی نہیں سنا۔
یہ روایت امام أحمد نے، اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3264]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3265
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ عَلِيٌّ فَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ: مَا صَلَّاهَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدٌ غَيْرِي رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَلِيٍّ مِنْ مُسْنَدِ أَحْمَدَ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: سورج گرہن ہوا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے پانچ مرتبہ رکوع کیا اور دو مرتبہ سجدہ کیا پھر انہوں نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی، پھر یہ بات بیان کی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، یہ نماز میرے علاوہ اور کسی نے ادا نہیں کی ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس سے پہلے مسند أحمد میں مذکور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3265]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3266
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسُلَّمَ -:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ" فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ أَوَّلَ الْبَابِ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ حَسَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس دن سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، سورج گرہن ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک چاند اور سورج، یہ دونوں نشانیاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے، جو باب کے آغاز میں گزر چکی ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن حسان ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3266]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لغیرہ بشواھدہ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3267
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا" رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يُدْرِكْ بِلَالًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو، تو اس نماز کی مانند نماز ادا کرو، جو نماز تم نے سب سے قریب ترین ادا کی تھی۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، عبدالرحمن بن ابولیلی نامی راوی نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3267]

الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع، ورجالہ ثقات۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3268
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى قِيلَ: لَا يَرْكَعُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ حَتَّى قِيلَ: لَا يَرْفَعُ مِنْ طُولِ الرُّكُوعِ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ كَنَحْوِ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ" رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِي الْأُخْرَى عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَرَوَى الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ مِنْهُ مِنْ رِوَايَةِ قَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک عظیم شخصیت کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے طویل قیام کیا، یہاں تک کہ آپ کے طویل قیام کی وجہ سے یہ بات کہی گئی کہ آپ شاید رکوع میں نہیں جائیں گے، پھر آپ رکوع میں چلے گئے، اور طویل رکوع کیا، یہاں تک کہ آپ کے طویل رکوع کی وجہ سے یہ کہا: گیا: کہ آپ رکوع سے اٹھیں گے نہیں، پھر آپ اُٹھے تو طویل قیام کیا، جو آپ کے پہلے والے قیام جتنا تھا، پھر آپ نے رکوع کیا تو طویل رکوع کیا، جو آپ کے پہلے رکوع جتنا تھا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا، یوں آپ نے چار رکوع کیے اور چار سجدے کیے، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جب تم ان دونوں کو (گرہن کی حالت میں) دیکھو، تو نماز کی طرف آ جاؤ!
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے، جن میں سے ایک کی سند میں مسلم بن خالد نامی راوی ہے، اور وہ ضعیف ہے، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے، جب کہ دوسری سند میں علی بن فضل ہے، اور وہ متروک ہے، امام بخاری رحمہ اللہ، امام مسلم اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت میں سے وہ حصہ نقل کیا ہے، جو قاسم بن محمد نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے: بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، جب تم ان دونوں کو دیکھو، تو نماز ادا کرو!۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3268]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، البتہ اصل متن صحیح بخاری و مسلم میں مروی ہونے کی وجہ سے صحیح ہے۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں