مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا 3230 عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَالْحَسَنَ يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ الْإِمَامُ قَالَ: وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ جَاءَ فَجَلَسَ وَلَمْ يُصَلِّ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى .
عید سے پہلے اور اس کے بعد (نفل) نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 3239
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْعِيدَ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَكَانَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجِلْسَةٍ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وِجَادَةً، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت کے بغیر عید کی نماز ادا کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خطبے ارشاد فرمائے تھے، جن کے درمیان آپ نے بیٹھ کر فصل کیا تھا۔
یہ روایت امام بزار نے ”وجادہ“ کے طور پر نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3239]
یہ روایت امام بزار نے ”وجادہ“ کے طور پر نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3239]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3240
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِيدَ رَكْعَتَيْنِ لَا يَقْرَأُ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِمَا رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز میں دو رکعات ادا کرتے تھے آپ ان دونوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے، مزید کچھ نہیں پڑھتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3240]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3240]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، اس کی سند میں شہر بن حوشب راوی ضعیف ہے، نیز یہ روایت دیگر صحیح اور مستند احادیث کے معارض
حدیث نمبر: 3241
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكِ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں سورت الاعلیٰ اور سورت الغاشیہ کی تلاوت کرتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3241]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3241]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 3242
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ بِعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سَيَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں سورت عم یتسائلون او سورت والشمس کی تلاوت کرتے تھے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سیار ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3242]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سیار ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3242]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3243
عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: الْجَهْرُ فِي صَلَاةِ الْعِيدِ مِنَ السُّنَّةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْحَارِثُ ضَعِيفٌ
حارث نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے: عید کی نماز میں بلند آواز سے تلاوت کرنا سنت ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے حارث نامی راوی ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3243]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے حارث نامی راوی ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3243]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3244
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُخْرَجُ لَهُ الْعَنَزَةُ فِي الْعِيدَيْنِ حَتَّى يُصَلِّيَ إِلَيْهَا، وَكَانَ يُكَبِّرُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا - يَفْعَلَانِ ذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْبَجَلِيُّ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ وَقَدْ ذَكَرَهُ الْمِزِّيُّ لِلتَّمْيِيزِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عیدین کے موقع پر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک نیزہ لے جایا جاتا تھا، جس کی طرف رُخ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرتے تھے، آپ تیرہ تکبیریں کہتے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حماد بجلی ہے، اسے کسی نے ضعیف قرار نہیں دیا، اور کسی نے اس کی توثیق نہیں کی، مزی نے اس کا ذکر امتیاز کے لئے کیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3244]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حماد بجلی ہے، اسے کسی نے ضعیف قرار نہیں دیا، اور کسی نے اس کی توثیق نہیں کی، مزی نے اس کا ذکر امتیاز کے لئے کیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3244]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3245
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً فِي الْأُولَى سَبْعًا وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا، وَكَانَ يَذْهَبُ فِي طَرِيقٍ وَيَرْجِعُ فِي أُخْرَى رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نمازوں میں بارہ تکبیریں کہا: کرتے تھے، پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے تھے، اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہتے تھے، آپ ایک راستے سے تشریف لے جاتے تھے، اور دوسرے راستے سے واپس تشریف لاتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3245]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3245]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف، لكن الحديث صحيح لوجود شاهدٍ له
حدیث نمبر: 3246
وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ وَعَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِالنَّاسِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى فَكَبَّرَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى سَبْعًا وَقَرَأَ: ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ، وَفِي الثَّانِيَةِ خَمْسًا وَقَرَأَ: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي وَاقِدٍ فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ الْقِرَاءَةُ خَالِيَةٌ عَنِ التَّكْبِيرِ، وَحَدِيثُ عَائِشَةَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ خَلَا الْقِرَاءَةَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتیں ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن عید کی نماز پڑھاتے ہوئے پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہی تھیں اور سورت ق کی تلاوت کی تھی، جب کہ دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہی تھیں، اور سورت اقتربت الساعۃ کی تلاوت کی تھی۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا ابوواقد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ”صحیح“ میں مذکور ہے، اور اس میں تلاوت کا ذکر ہے، تکبیر کا ذکر نہیں ہے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول حدیث کو امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے، اور انہوں نے قرأت کا ذکر نہیں کیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3246]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا ابوواقد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ”صحیح“ میں مذکور ہے، اور اس میں تلاوت کا ذکر ہے، تکبیر کا ذکر نہیں ہے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول حدیث کو امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے، اور انہوں نے قرأت کا ذکر نہیں کیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3246]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لغیرہ؛ قراءت کا حصہ صحیح مسلم
حدیث نمبر: 3247
وَعَنْ كُرْدُوسٍ قَالَ: أَرْسَلَ الْوَلِيدُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَأَبِي مَسْعُودٍ بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا عِيدٌ لِلْمُسْلِمِينَ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ فَقَالُوا: سَلْ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! فَسَأَلَهُ فَقَالَ: يَقُومُ فَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا ثُمَّ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا يَرْكَعُ فِي آخِرِهِنَّ فَتِلْكَ تِسْعٌ فِي الْعِيدَيْنِ، فَمَا أَنْكَرَهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ
کردوس بیان کرتے ہیں: ولید نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کو شام ہو جانے کے بعد پیغام بھیجا؟ اُس نے کہا: اب مسلمانوں کی عید آ گئی ہے، تو نماز کیسے ادا کی جائے؟ تو ان حضرات نے کہا: تم ابوعبدالرحمن (یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے سوال کرو! اس نے اُن سے سوال کیا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ کھڑا ہو کر چار تکبیریں کہے گا، پھر سورت فاتحہ کی اور مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی ایک سورت کی تلاوت کرے گا، پھر وہ چار تکبیریں کہے گا، جن میں سے آخری تکبیر کے ساتھ وہ رکوع میں چلا جائے گا، تو یہ عیدین میں نو تکبیریں ہوں گی، تو اُن حضرات میں سے کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3247]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3247]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 3248
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَابْنُ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةُ وَأَبُو مُوسَى فِي عَرْصَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ الْوَلِيدُ: إِنَّ الْعِيدَ قَدْ حَضَرَ فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ وَتَحْمَدُ اللَّهَ وَتُثْنِي عَلَيْهِ وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَدْعُو اللَّهَ ثُمَّ تُكَبِّرُ اللَّهَ وَتَحْمَدُهُ وَتُثْنِي عَلَيْهِ وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَدْعُو اللَّهَ ثُمَّ تُكَبِّرُ اللَّهَ وَتَحْمَدُهُ وَتُثْنِي عَلَيْهِ وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَدْعُو اللَّهَ ثُمَّ تُكَبِّرُ اللَّهَ وَتَحْمَدُهُ وَتُثْنِي عَلَيْهِ وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَدْعُو، ثُمَّ كَبِّرْ وَاقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ثُمَّ كَبِّرْ وَارْكَعْ وَاسْجُدْ ثُمَّ قُمْ فَاقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ثُمَّ كَبِّرْ وَاحْمَدِ اللَّهَ وَاثْنِ عَلَيْهِ وَصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ وَادْعُ ثُمَّ كَبِّرْ، وَاحْمِدِ اللَّهَ، وَأَثْنِ عَلَيْهِ، وَصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] وَارْكَعْ وَاسْجُدْ قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مُوسَى: أَصَابَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكْ وَاحِدًا مِنْ هَؤُلَاءِ الصَّحَابَةِ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں: ولید بن عقبہ مسجد میں داخل ہوا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری مسجد کے صحن میں موجود تھے، ولید نے کہا: عید آ گئی ہے، تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم یہ پڑھو: اللہ اکبر، پھر تم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو، اُس کی ثنا بیان کرو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو! اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، پھر تم اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو، اس کی حمد بیان کرو، اس کی ثناء بیان کرو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو! پھر تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، پھر تم اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو، اس کی حمد بیان کرو، اس کی ثناء بیان کرو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو! اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، پھر تم اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو، اس کی حمد بیان کرو، اس کی ثناء بیان کرو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور دعا کرو! پھر تم تکبیر کہو اور سورت فاتحہ اور ایک سورت کی تلاوت کرو پھر تم تکبیر کہو اور رکوع میں چلے جاؤ اور سجدہ کرو پھر تم اٹھو اور سورت فاتحہ اور ایک سورت کی تلاوت کرو پھر تکبیر کہو اس کی حمد بیان کرو اس کی ثناء بیان کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو پھر تکبیر کہو اس کی حمد بیان کرو اس کی ثناء بیان کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور رکوع میں چلے جاؤ اور سجدہ کرو! راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہوں نے ٹھیک کہا: ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، ابراہیم نامی راوی نے ان صحابہ کرام میں سے کسی کا زمانہ بھی نہیں پایا ہے،
یہ روایت مرسل ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3248]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، ابراہیم نامی راوی نے ان صحابہ کرام میں سے کسی کا زمانہ بھی نہیں پایا ہے،
یہ روایت مرسل ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3248]
الحكم على الحديث: إسنادہ مرسل ورجالہ ثقات۔