مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ الْأَكْلِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الْخُرُوجِ 3209 عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ فَلْيَفْعَلْ قَالَ: فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَآكُلَ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيقَةِ الْأَكْلَةَ وَأَشْرَبُ اللَّبَنَ أَوِ الْمَاءَ فَقُلْتُ: عَلَى مَا تَأَوَّلَ هَذَا؟ قَالَ: سَمِعَهُ أَظُنُّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضُّحَى فَيَقُولُونَ: نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
عید الفطر کے دن (نماز کے لئے) نکلنے سے پہلے کچھ کھانا
حدیث نمبر: 3220
وَعَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلْ تَخْرُجُ النِّسَاءُ فِي الْعِيدِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قِيلَ: فَالْعَوَاتِقُ؟ قَالَ:" نَعَمْ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا ثَوْبٌ تَلْبَسُهُ فَلْتَلْبَسْ ثَوْبَ صَاحِبَتِهَا" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَهُ حَدِيثَانِ غَيْرُ مَحْفُوظَيْنِ، وَقَالَ ابْنُ الْمَدِينِي: ثِقَةٌ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا عید کے موقع پر خواتین بھی نکلیں گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! عرض کی گئی، لڑکیاں بھی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اگر کسی عورت کے پاس لباس (یعنی سر پر اوڑھنے کے لیے چادر نہ ہو) جسے وہ پہن سکتی ہو، تو پھر وہ اپنی ساتھی عورت کی چادر لے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مطیع بن میمون ہے، ابن عدی کہتے ہیں: اس کے حوالے سے دو حدیثیں منقول ہیں، اور وہ دونوں محفوظ نہیں ہیں، علی بن مدینی کہتے ہیں: وہ ”ثقہ“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3220]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مطیع بن میمون ہے، ابن عدی کہتے ہیں: اس کے حوالے سے دو حدیثیں منقول ہیں، اور وہ دونوں محفوظ نہیں ہیں، علی بن مدینی کہتے ہیں: وہ ”ثقہ“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3220]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح، اس کا شاہد صحیح بخاری
حدیث نمبر: 3221
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَيْسَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ فِي الْخُرُوجِ إِلَّا مُضْطَرَّةً [ يَعْنِي ] لَيْسَ لَهَا خَادِمٌ، إِلَّا فِي الْعِيدَيْنِ الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ، وَلَيْسَ لَهُمْ نَصِيبٌ فِي الطَّرِيقِ إِلَّا الْحَوَاشِي" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”خواتین کے لئے نکلنے میں کوئی حصہ نہیں ہے، البتہ اگر وہ مجبور ہو تو معاملہ مختلف ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر عورت کا خادم نہ ہو، تو البتہ عیدالاضحی اور عیدالفطر دونوں عیدوں کا معاملہ مختلف ہے، اور مردوں کو راستے میں، صرف کنارے کا حق ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے، اور وہ متروک الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3221]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے، اور وہ متروک الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3221]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3222
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ عِيدٍ فَقَالَ:" ادْعُوا لِي سَيِّدَ الْأَنْصَارِ" فَدَعَوْا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقَالَ:" يَا أُبَيُّ ائْتِ الْمُصَلَّى فَأْمُرْ بِكَنْسِهِ وَأْمُرِ النَّاسَ فَلْيَخْرُجُوا" فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ رَجَعَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالنِّسَاءُ؟ فَقَالَ:" وَالْعَوَاتِقُ وَالْحُيِّضُ يَكُنَّ فِي النَّاسِ يَشْهَدْنَ الدَّعْوَةَ" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَزِيدُ [ بْنُ شَدَّادٍ ] الْهَنَّائِيُّ مَجْهُولٌ وَكَذَلِكَ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَجْهُولٌ
عتبہ بن عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں: میرے والد نے، میرے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عید کے دن موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصار کے سردار کو میرے پاس بلا کے لاؤ! لوگوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بلایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابی! تم عیدگاہ جاؤ اور وہاں جھاڑو دینے کا حکم دو، اور لوگوں کو ہدایت کرو کہ وہ نکلیں، جب وہ دروازے تک پہنچے، تو واپس آ گئے اور بولے: یا رسول اللہ! کیا خواتین بھی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جوان لڑکیاں اور حیض والی خواتین بھی لوگوں کے ساتھ ہوں گی، اور وہ دعا میں شریک ہوں گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن شداد ہنائی ہے، جو مجہول ہے، اسی طرح عتبہ بن عبداللہ بن عمرو بن العاص نامی راوی بھی مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3222]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن شداد ہنائی ہے، جو مجہول ہے، اسی طرح عتبہ بن عبداللہ بن عمرو بن العاص نامی راوی بھی مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3222]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3223
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا وَيَرْجِعُ فِي طَرِيقٍ غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي خَرَجَ فِيهِ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لئے پیدل تشریف لے جاتے تھے، اور واپس آتے ہوئے دوسرے راستے سے آتے تھے، جو اس راستے سے مختلف ہوتا تھا، جس سے آپ تشریف لے گئے تھے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3223]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3223]
تخریج الحدیث: «البحر الزخار مسند البزار ومما روى مهاجر بن مسمار، 994»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً، اس میں خالد بن الیاس متروک ہے، البتہ دیگر صحیح شواہد
حدیث نمبر: 3224
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي الْعِيدَ يَذْهَبُ فِي طَرِيقٍ وَيَرْجِعُ فِي أُخْرَى رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ يَأْتِي
سیدنا عبدالرحمن بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ (عید گاہ) کے لئے تشریف لے گئے، آپ تشریف ایک راستے سے لے کر گئے تھے، اور دوسرے راستے سے واپس تشریف لائے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے، اور وہ متروک ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث آگے آئے گی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3224]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے، اور وہ متروک ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث آگے آئے گی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3224]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3225
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدِ الْفِطْرِ وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الطَّرِيقِ فَنَادَوُا: اغْدُوا يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَبٍّ كَرِيمٍ يَمُنُّ بِالْخَيْرِ ثُمَّ يُثِيبُ عَلَيْهِ الْجَزِيلَ، لَقَدْ أُمِرْتُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَقُمْتُمْ، وَأُمِرْتُمْ بِصِيَامِ النَّهَارِ فَصُمْتُمْ وَأَطَعْتُمْ رَبَّكُمْ فَاقْبِضُوا جَوَائِزَكُمْ، فَإِذَا صَلَّوْا نَادَى مُنَادٍ: أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ فَارْجِعُوا رَاشِدِينَ إِلَى رِحَالِكُمْ، فَهُوَ يَوْمُ الْجَائِزَةِ وَيُسَمَّى ذَلِكَ الْيَوْمُ فِي السَّمَاءِ يَوْمَ الْجَائِزَةِ" - وَفِي رِوَايَةٍ:" رَبٍّ رَحِيمٍ" بَدَلَ" رَبٍّ كَرِيمٍ" - فَقَالَ:" قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ كُلَّهَا" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَرَوَى عَنْهُ هُوَ وَشُعْبَةُ وَضَعَّفَهُ النَّاسُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
سعید بن اوس انصاری، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب عیدالفطر کا دن ہوتا ہے، تو فرشتے راستوں میں ٹھہر جاتے ہیں اور وہ بلند آواز میں پکار کر کہتے ہیں: اے مسلمانوں کے گروہ! اپنے معزز پروردگار کی طرف جاؤ! جو بھلائی کا احسان کر رہا ہے، اور اس کی جزا عطا کرے گا، تمہیں رات کے وقت نوافل ادا کرنے کا حکم دیا گیا، تم نے وہ ادا کیے، تمہیں دن کے وقت روزے رکھنے کا حکم دیا گیا، تم نے روزہ رکھا اور اپنے پروردگار کی اطاعت کی، تو اب اپنا بدلہ وصول کر لو! جب لوگ نماز ادا کر لیتے ہیں، تو ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے: خبردار! تمہارے پروردگار نے تمہاری مغفرت کر دی ہے، تو اب تم ایسی حالت میں اپنے گھروں کو واپس جاؤ کہ تم ہدایت یافتہ ہو، تو یہ بدلے کا دن ہے، آسمان میں اس دن کو ”بدلے کا دن“ کہا: گیا ہے“۔ ایک روایت میں لفظ ”کریم پروردگار“ کی بجائے ”رحیم پروردگار“ کے الفاظ ہیں، وہ فرماتا ہے: ”میں نے تم لوگوں کے تمام گناہوں کی مغفرت کر دی ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے، جسے سفیان ثوری نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے انہوں نے اس سے روایت بھی نقل کی ہے، اور شعبہ نے بھی نقل کی ہے، لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3225]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے، جسے سفیان ثوری نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے انہوں نے اس سے روایت بھی نقل کی ہے، اور شعبہ نے بھی نقل کی ہے، لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3225]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً؛ اس روایت کی سند میں جابر الجعفی راوی 'متروک' ہے، جس کی وجہ سے یہ سخت ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 3226
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ دُعَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعِيدَيْنِ:" اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ عِيشَةً تَقِيَّةً وَمِيتَةً سَوِيَّةً وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ وَلَا فَاضِحٍ، اللَّهُمَّ لَا تُهْلِكْنَا فَجْأَةً وَلَا تَأْخُذْنَا بَغْتَةً وَلَا تُعْجِلْنَا عَنْ حَقٍّ وَلَا وَصِيَّةٍ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ الْعَفَافَ وَالْغِنَى وَالتُّقَى وَالْهُدَى وَحُسْنَ عَاقِبَةِ الْآخِرَةِ وَالدُّنْيَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّكِّ وَالشِّقَاقِ وَالرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ فِي دِينِكَ، يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے موقع پر یہ دعا کرتے تھے: ”اے اللہ! بے شک ہم تجھ سے یہ سوال کرتے ہیں: کہ ایسی زندگی ہو، جو محفوظ ہو اور ایسی موت ہو، جو ٹھیک ہو، اور ایسی واپسی جس میں رسوائی نہ ہو اور شرمندگی نہ ہو، اے اللہ! تو ہمیں اچانک ہلاکت کا شکار نہ کرنا، اور اچانک ہماری پکڑ نہ کرنا، اور ہمیں اتنی جلدی موت نہ دینا، کہ کوئی حق رہ گیا ہو، یا وصیت نہ کی جا سکے، اے اللہ! بے شک ہم تجھ سے۔ پاکدامنی کا، خوشحالی، پرہیزگاری، ہدایت کا، دنیا اور آخرت میں اچھے انجام کا سوال کرتے ہیں، اور شک سے، اختلاف سے، اور تیرے دین کے بارے میں ریاکاری اور دکھاوے سے تیری پناہ مانگتے ہیں، اے دلوں کو پھیرنے والے! تو ہمیں ہدایت نصیب کرنے کے بعد، ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر دینا، اور ہمیں اپنے فضل سے رحمت عطا کرنا، بے شک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی نہشل مستقل بن سعید ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3226]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی نہشل مستقل بن سعید ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3226]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3227
عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَوْمَ الْعِيدِ يَقُولُ حِينَ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ قَامَ يَخْطُبُ النَّاسَ: أَيُّهَا النَّاسُ كُلٌّ سُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
وہب بن کیسان بیان کرتے ہیں: میں نے عید کے دن سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز ادا کی تھی، اور پھر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا تھا (تو یہ فرمایا تھا:) اے لوگو! یہ سب اللہ تعالیٰ کی (مقرر کردہ) سنت ہے، اور اس کے رسول کی سنت ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”اللہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3227]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”اللہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3227]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 3228
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَبْدَؤُونَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِلَفْظِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز ادا کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں اور یہ ”صحیح“ میں ان الفاظ میں منقول ہے: ”قربانی کے دن، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر آپ نے خطبہ دیا“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3228]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں اور یہ ”صحیح“ میں ان الفاظ میں منقول ہے: ”قربانی کے دن، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر آپ نے خطبہ دیا“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3228]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح، ورجالہ ثقات، ولہ أصل فی الصحیحین۔
حدیث نمبر: 3229
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن پہلے نماز ادا کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3229]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3229]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح بشواہدہ