مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا 3230 عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَالْحَسَنَ يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ الْإِمَامُ قَالَ: وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ جَاءَ فَجَلَسَ وَلَمْ يُصَلِّ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى .
عید سے پہلے اور اس کے بعد (نفل) نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 3230
عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَالْحَسَنَ يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ الْإِمَامُ قَالَ: وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ جَاءَ فَجَلَسَ وَلَمْ يُصَلِّ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى.
ایوب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حسن بصری کو دیکھا ہے کہ وہ عید کے دن امام کے آنے سے پہلے (نفل) نماز ادا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے محمد بن سیرین کو دیکھا ہے کہ وہ آ کر بیٹھ گئے تھے انہوں نے (نفل نماز) ادا نہیں کی تھی۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ نقل کیا ہے: کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے چار رکعات ادا کی تھیں۔ امام ابویعلیٰ کی روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3230]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ نقل کیا ہے: کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے چار رکعات ادا کی تھیں۔ امام ابویعلیٰ کی روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3230]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح، اس کے راوی صحیح بخاری ومسلم کے راوی ہیں۔
حدیث نمبر: 3230M
وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ: أَنَّ أَنَسًا كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ
امام طبرانی رحمہ اللہ نے (المعجم) الکبیر میں روایت کیا ہے: ”سیدنا انس رضی اللہ عنہ چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے“، اور (مسند) ابویعلیٰ کے راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3230M]
حدیث نمبر: 3231
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ وَقَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ ثَمَانٍ وَكَانَ لَا يُصَلِّي قَبْلَهَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ صَحِيحَةٍ إِلَّا أَنَّهَا مُرْسَلَةٌ
ابن سیرین اور قتادہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد چار، یا شاید آٹھ رکعات ادا کی تھیں، وہ اس (یعنی نماز عید) سے پہلے نوافل ادا نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مستند اسانید کے ساتھ نقل کی ہے، تاہم یہ روایت مرسل ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3231]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مستند اسانید کے ساتھ نقل کی ہے، تاہم یہ روایت مرسل ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3231]
الحكم على الحديث: مرسل
حدیث نمبر: 3232
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ الصَّلَاةُ قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ يَوْمَ الْعِيدِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
سیدنا ابومسعود صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: عید کے دن امام کے آنے سے پہلے نفل پڑھنا سنت نہیں ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3232]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3232]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله من اسمه عقيل الاسود بن هلال 14528»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3233
وَعَنْ فَائِدٍ أَبِي الْوَرْقَاءِ قَالَ: قُدْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى إِلَى الْجَبَّانِ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَقَالَ: أَدْنِنِي مِنَ الْمِنْبَرِ فَأَدْنَيْتُهُ فَجَلَسَ فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، وَأَخْبَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفَائِدٌ مَتْرُوكٌ
فائدہ ابوورقاء بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر عید کے دن میدان کی طرف جا رہا تھا انہوں نے فرمایا: تم مجھے منبر کے قریب لے جانا، جب میں نے انہیں قریب کر دیا تو وہ بیٹھ گئے اور انہوں نے نماز عید سے پہلے، یا اس کے بعد نوافل ادا نہیں کیے، اور یہ بات بیان کی: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے یا اس کے بعد (نفل) نماز ادا نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے فائد نامی راوی متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3233]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے فائد نامی راوی متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3233]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3234
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ كَانَا يَنْهَيَانِ النَّاسَ - أَوْ قَالَ - يُجْلِسَانِ مَنْ يَرَيَاهُ يُصَلِّي قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ [ فِي الْعِيدِ ] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ، وَفِي بَعْضِهَا قَالَ: أُنْبِئْتُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ فَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ
ابن سیرین بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو منع کرتے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ان افراد کو بٹھا دیتے تھے، جنہیں وہ امام کے آنے سے پہلے نوافل پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے ایسا عید کے دن ہوتا تھا)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض میں یہ بات مذکور ہے: مجھے یہ بات بتائی گئی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ (ایسا کرتے تھے) تو
یہ روایت ”مرسل“ ہے، اور سند کے اعتبار سے صحیح ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3234]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض میں یہ بات مذکور ہے: مجھے یہ بات بتائی گئی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ (ایسا کرتے تھے) تو
یہ روایت ”مرسل“ ہے، اور سند کے اعتبار سے صحیح ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3234]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح ولکنہ مرسل۔
حدیث نمبر: 3235
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ يَوْمَ الْعِيدِ إِلَى الْمُصَلَّى فَجَلَسَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْإِمَامُ وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى انْصَرَفَ الْإِمَامُ وَالنَّاسُ ذَاهِبُونَ كَأَنَّهُمْ عُنُقٌ نَحْوَ الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ: أَلَا تَرَى؟ فَقَالَ: هَذِهِ بِدْعَةٌ وَتَرْكُ السُّنَّةِ وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ كَثِيرًا مِمَّا نَرَى جَفَاءٌ وَقِلَّةُ عِلْمٍ، إِنَّ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ سُبْحَةُ هَذَا الْيَوْمِ حَتَّى تَكُونَ هَذِهِ الصَّلَاةُ تَدْعُوكَ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ
عبدالملک بن کعب بن عجرہ بیان کرتے ہیں: میں عید کے دن سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ کی طرف گیا، وہ امام کے آنے سے پہلے بیٹھ گئے، اور انہوں نے (کوئی نفل نماز) ادا نہیں کی، یہاں تک کہ امام اور لوگوں نے نماز عید ادا کر لی، تو وہ لوگ مسجد کی طرف یوں روانہ ہوئے، جیسے وہ ”عنق“ (شاید یہاں مراد ہر اول دستہ ہے) ہوں، میں نے کہا: کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ بدعت ہے، اور سنت کو ترک کرنا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: بہت سی چیزیں جو ہم دیکھتے ہیں، وہ زیادتی ہوتی ہیں، اور علم کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہیں، آج کے دن میں یہ دو رکعات ہی نفل ہیں، یہاں تک کہ یہی نماز تمہیں بلائے (یعنی تمہیں صرف اسی نماز کی ادائیگی کے لیے آنا چاہیے)۔
یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں، عبدالملک کا ذکر ابن حبان نے کتاب ”الثقات“ میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3235]
یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں، عبدالملک کا ذکر ابن حبان نے کتاب ”الثقات“ میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3235]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3236
وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَسَأَلَهُ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا ثُمَّ جَاءَ قَوْمٌ فَسَأَلُوا كَمَا سَأَلُوهُ - الَّذِينَ كَانُوا قَبْلَهُمْ - فَمَا رَدَّ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الصَّلَاةِ وَصَلَّى بِالنَّاسِ فَكَبَّرَ سَبْعًا وَخَمْسًا ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ نَزَلَ فَرَكِبَ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ يُصَلُّونَ؟ قَالَ: فَمَا عَسَيْتُ أَنْ أَصْنَعَ؟ سَأَلْتُمُونِي عَنِ السُّنَّةِ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا فَمَنْ شَاءَ فَعَلَ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ أَتَرَوْنِي أَمْنَعُ قَوْمًا يُصَلُّونَ فَأَكُونُ بِمَنْزِلَةِ مَنْ مَنَعَ عَبْدًا إِذَا صَلَّى؟ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ قُلْتُ: وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ
ولید بن سریع بیان کرتے ہیں: ہم لوگ امیرالمؤمنین سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عید کے دن (نماز عید کی ادائیگی کے لئے نکلے) آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے آپ سے سوال کرتے ہوئے عرض کی: اے امیرالمؤمنین! عید کے دن نماز عید سے پہلے، یا اس کے بعد (نفل) نماز ادا کرنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو کوئی جواب نہیں دیا، پھر کچھ اور لوگ آئے انہوں نے بھی پہلے لوگوں کی مانند سوال کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی کوئی جواب نہیں دیا، جب ہم عیدگاہ پہنچے تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے سات اور پانچ تکبیریں کہیں، پھر انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور پھر منبر سے نیچے اترے اور سوار ہو گئے، لوگوں نے عرض کی: اے امیرالمؤمنین! یہ کچھ لوگ (نفل) نماز ادا کر رہے ہیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کیا کر سکتا ہوں؟ تم لوگوں نے مجھ سے سنت کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز سے پہلے، یا اس نماز کے بعد کوئی نفل نماز ادا نہیں کی ہے، جو شخص چاہے وہ ایسا کرے اور جو شخص چاہے وہ اسے ترک کر دے، کیا تم لوگ میرے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو؟ کہ میں نماز پڑھنے والوں کو منع کروں گا، اور میں اس شخص کی مانند ہو جاؤں گا (جس کا ذکر قرآن میں ہے) کہ اس نے بندے کو روکا، جب وہ نماز پڑھ رہا تھا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3236]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3236]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3237
عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدَيْنِ مَاشِيًا يُصَلِّي بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ: يُصَلِّي بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز کے لئے پیدل چل کر جاتے تھے اور آپ اذان اور اقامت کے بغیر نماز عید ادا کرتے تھے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت امام این ماجہ نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں: ”آپ اذان اور اقامت کے بغیر نماز ادا کرتے تھے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں محمد بن عبداللہ بن ابورافع کے حوالے سے نقل کی ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ”اثقات“ میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3237]
یہ روایت امام این ماجہ نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں: ”آپ اذان اور اقامت کے بغیر نماز ادا کرتے تھے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں محمد بن عبداللہ بن ابورافع کے حوالے سے نقل کی ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ”اثقات“ میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3237]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح ولہ شاہد فی الصحیحین
حدیث نمبر: 3238
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي يَوْمِ الْأَضْحَى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَخَطَبَ الرِّجَالَ ثُمَّ مَالَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ وَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ حَتَّى كَثُرَ مَعَ بِلَالٍ الْمَتَاعُ قُلْتُ: لِلْبَرَاءِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کے دن اذان اور اقامت کے بغیر نماز ادا کی، پھر آپ نے مردوں کو خطبہ دیا، پھر آپ خواتین کی طرف تشریف لے گئے انہیں خطبہ دیا اور انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دی، یہاں تک کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس بہت سا سامان اکٹھا ہو گیا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا براء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ”صحیح“ اور دوسری کتابوں میں ایک حدیث منقول ہے، جو اس حدیث کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عمر بن ابان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3238]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عمر بن ابان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3238]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لغیرہ